باخبر نوجوان… ایک ذمہ دار اور صحت مند معاشرے کی بنیاد

تحریر : محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ کی علمی روایت ہمیشہ سے روشن رہی ہے، اور یہاں کے تعلیمی اداروں نے معاشرتی باشعوری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج میں منعقد ہونے والا “باخبر نوجوان، صحت مند معاشرہ” کے عنوان سے سیمینار اسی تسلسل کی ایک اہم کڑی تھا۔ یہ سیمینار نہ صرف وقت کی ضرورت تھا بلکہ نوجوان نسل کی فکری تربیت کے لیے ایک مثبت قدم بھی ہے۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ اینڈ پاپولیشن آفیسر چوہدری محمد نعیم، تحصیل پاپولیشن ویلفیئر آفیسر رانا اظہار احمد اور نامور مذہبی اسکالر علامہ پیر شمس الزماں قادری کی شرکت نے اس سیمینار کو مزید مؤثر بنا دیا۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ سماجی، انتظامی اور مذہبی طبقات نے ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر اُس مسئلے پر بات کی جو آج پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے— بڑھتی ہوئی آبادی اور وسائل میں عدم توازن!مقررین کے خطابات نے اس حقیقت کو نہایت گہرائی سے اُجاگر کیا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ معاشی، سماجی اور انتظامی ڈھانچے کو متاثر کر رہا ہے۔ معاشرے میں غربت، بے روزگاری، تعلیمی بحران، صحت کی ناکافی سہولیات اور بنیادی وسائل کی کمی یہ سب ایک ایسے مسئلے کی علامات ہیں جسے نظرانداز کرنا اب کسی صورت ممکن نہیں رہا۔چوہدری محمد نعیم نے سادہ مگر جامع انداز میں اس طرف توجہ دلائی کہ آبادی کے بڑھنے کا عمل صرف ایک عددی رجحان نہیں بلکہ ایک معاشرتی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وسائل اور آبادی میں توازن برقرار نہ رکھا گیا تو ترقی کے اہداف محض خواب بن کر رہ جائیں گے۔ ان کا پیغام حقیقت پسندانہ بھی تھا اور اصلاحی بھی—کہ مستقبل کی باگ دوڑ انہی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے، اس لیے انہیں باشعور ہونا اور اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ رہنا ضروری ہے۔یہ بھی خوش کن امر ہے کہ سیمینار میں شریک نوجوانوں نے اس موضوع پر گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نئی نسل مسائل کو سمجھنے اور انہیں حل کرنے کے لیے آگے بڑھنے پر آمادہ ہے۔ کالج انتظامیہ اور محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کی جانب سے اس قسم کی تقریبات کا انعقاد نوجوانوں میں سوچ پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔دنیا بھر میں تعلیم یافتہ نوجوان ہی معاشرتی تبدیلی کے ضامن ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اگر ہمیں ایک صحت مند، ترقی یافتہ اور مستحکم معاشرہ تشکیل دینا ہے تو ہمیں نوجوانوں کو علم کے ساتھ ساتھ شعور بھی دینا ہوگا۔ بڑھتی آبادی صرف ایک حکومتی مسئلہ نہیں بلکہ ہر گھر، ہر خاندان اور ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔آخر میں، اس سیمینار نے ایک بات واضح کر دی:جب نوجوان باخبر ہوں گے… تبھی معاشرہ واقعی صحت مند بنے گا۔اور یہی پیغام ہمیں مستقبل کی سمت متعین کرنے میں مدد دیتا ہے۔*