ٹریفک قوانین اور عوامی مشکلات ایک سنگین مسئلہ

تحریر محمد زاہد مجید انور

*ٹوبہ ٹیک سنگھ میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے احکامات کے مطابق پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد جاری ہے، مگر اس کے اثرات خاص طور پر مقامی کاروباری طبقے، مزدوروں اور عام شہریوں پر انتہائی منفی انداز میں سامنے آرہے ہیں۔ ضلع بھر میں تجارتی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جس کا براہِ راست اثر روزانہ کی بنیاد پر روزی کمانے والوں پر پڑ رہا ہے۔کاروباری طبقے کی مشکلات دوکانداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی نے پہلے ہی زندگی کو مشکل بنا رکھا ہے، اور اب ٹریفک قوانین پر سختی نے صورتحال کو مزید گھمبیر کر دیا ہے۔ شہر میں پولیس کی جانب سے جگہ جگہ ناکے، جرمانے اور سخت کارروائیوں کے باعث دوکانداروں کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ لوگ مارکیٹ آنے سے گریز کر رہے ہیں جس سے تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔دوکاندار اس بات پر سخت احتجاج کر رہے ہیں کہ اس ماحول میں “ایک وقت کی روٹی کمانا بھی مشکل ہوگیا ہے”۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری ضروری ہے، لیکن یکطرفہ سختی نے شہری زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثرمزدور طبقہ جو روزانہ کی اجرت پر محنت کرکے اپنے گھر کا چولہا جلاتا ہے، وہ ٹریفک قوانین کے نفاذ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ ایک مزدور کی یومیہ اجرت بمشکل 1000 روپے ہے اور اس میں بھی پورے دن کی محنت شامل ہوتی ہے۔ ایسے میں ان سے ہیلمٹ خریدنے کی توقع کرنا حقیقت سے بہت دور ہے۔عام شہریوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائیاں بعض اوقات غیرضروری اور بلاوجہ ہوتی ہیں جن سے شریف شہری تنگ آ چکے ہیں۔ جرمانوں کی شرح بھی اتنی زیادہ ہے کہ مزدور طبقہ اسے برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔حکومت کے لیے اہم سوالات ٹریفک قوانین عوام کی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ان قوانین کے نفاذ میں سہولت، نرمی اور عوامی حالات کا خیال رکھا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ قانون پر عملدرآمد کی آڑ میں غریب شہریوں پر بوجھ بڑھ جائے اور ان کی زندگی مزید مشکل ہو جائے۔عوامی حلقوں نے ارکان صوبائی و قومی اسمبلی سے اپیل کی ہے کہ وہ عوام کی حقیقی آواز بنیں۔ عوام نے اپنے نمائندوں کو قیمتی ووٹ دے کر منتخب کیا ہے تاکہ وہ ان کے مسائل حل کریں، نہ کہ ان کی مشکلات میں اضافہ ہو۔اصلاحات کی ضرورت اس امر کی ہے کہ ہیلمٹ اور دیگر حفاظتی سامان میں سبسڈی دی جائے۔جرمانوں میں نرمی اور اقساط کی سہولت دی جائے۔عوامی آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ شہری خود ذمہ داری کے ساتھ قوانین پر عمل کریں۔پولیس اہلکاروں کو شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی اور رہنمائی کی تربیت دی جائے۔ٹریفک قوانین اہم ہیں، مگر ان کا نفاذ انسانی ہمدردی اور زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ہی مؤثر اور دیرپا ثابت ہوسکتا ہے۔ عوام کی سہولت کو مقدم رکھ کر کیے گئے اقدامات ہی حقیقی طور پر فائدہ مند ہوں گے۔*