عنوان ۔۔۔فتح پور کا سیاسی چراغ

(قرطاس قلم )

تحریر ۔۔۔محمد عرفان اعوان

مخالفین ہر محاز پر راستہ روکتے ہیں لیکن ثابت قدم پختہ حوصلے اور مضبوط ارادے رکھنے والا شخص ہمیشہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں تمام منازل طے کرتے ہوئے تیزی سے اگے بڑھتا ہے انہی نامور شخصیات میں سے ایک نام سابقہ ایم پی اے چوہدری الطاف حسین بھی ہیں جہنوں نے ہمیشہ سیاسی خدمت کو فروغ دیا تمام آسائشیں سہولیات ہونے کے باوجود انسانی خدمت کے لیے اپنے تمام وسائل وقف کررکھے ہیں حکومتی مسائل اور پارٹی پالیسی کی اہمیت اپنی جگہ چوہدری الطاف حسین کا عوامی ایجنڈا اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے ۔یوں نہ صرف حلقہ سیاست میں سیاسی ہلچل ہمیشہ سے انکی دہلیز پر سر جھکاۓ نظر ائی بطور ایم پی اے انہوں حلقہ سیاست میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا فتح پور میں تحصیل پلس ٹراما سینٹر سے لیکر سب تحصیل تک سفر میں سیکنڑوں منصوبے شامل ہیں خاص طور پر فتح پور میں سب سے زیادہ تصاویر میں اہمیت حاصل کرنے والا تاج چوک آج بھی اہم سیاسی سماجی مجالس احتجاج سمیت ہر عوامی مسلے کا محور سمجھا جانے والا تاج چوک بھی عوام کے زندہ مثال سے کم نہیں سیاست میں برد باری فراخ دلانہ فیصلوں کے سبب سیاسی حلقوں میں چوہدری الطاف حسین گہرا اثر روخ رکھتے ہیں مسلم لیگ ق سے درینہ وابستگی رکھنے کے سبب چوہدری برادران خصوصا چوہدری پرویز الہی سابق وزیر اعلی پنجاب (تحریک انصاف )سے انتہائی گہرے مراسم ہیں فتح پور میں موجود تاج گراونڈ جسمیں کرکٹ ہاکی فٹ بال سمیت تمام کھیلوں میں نوجوانوں غیر نصابی سرگرمیوں کو اجاگر کرنے کے مواقع فراہم ہورہے ہیں ۔یہاں اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ مقامی سیاسی نمائندوں کی جانب سے جاری کوئی بھی منصوبہ ذاتی مفادات یا سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ ان منصوبوں کا مقصد اپنے علاقہ کو نوجوانوں کی غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالہ سے ملک بھر میں منوانا مقصود ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج چوہدری الطاف حسین (ایکس )ایم پی اے ہیں لیکن ان کے اہم ترین عوامی فلاحی منصوبوں سے فتح پور میں ہر طبقہ فکر فائدہ حاصل کررہا ہے ممکن بیشتر دوستو کو میرے الفاظ درست سمت نظر نہ آئیں لیکن اس کے باوجود حقیقت کو جھٹلانا میرے لفظی کلنڈر میں شامل نہیں ہے اس لیے جو محسوس کیا وہ تحریر کرنے کی کوشش کی ہے سابقہ ایم پی اے چوہدری الطاف حسین نے ہمیشہ فتح پور کی فلاح اور عوامی سہولیات پر مبنی سیاست کو فروغ دیا میں سمجھتا ہوں انکا طویل سیاسی کریئر میں اپنی مختصر تحریر میں سمیٹنے سے قاصر رہا ہوں کیوں کہ حقیقتی اوراق کو حقیقی لفظوں میں تحریر کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔۔