کبیروالا میں تاجروں اور تحصیل انتظامیہ کے مابین بڑھتا ہوا تناؤ
تحریر ۔منور اقبال تبسم
کبیروالا میں ان دنوں تاجروں اور تحصیل انتظامیہ کے درمیان جاری کشیدگی ایک اہم عوامی مسئلہ بن چکی ہے۔ چند روز قبل گوشت فروشوں نے سرکاری نرخنامے کے خلاف احتجاجاً کئی دن ہڑتال جاری رکھی۔ اُن کا مؤقف تھا کہ موجودہ مہنگائی، جانوروں کی بڑھتی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور دیگر اخراجات کے پیشِ نظر سرکاری نرخ پر گوشت فروخت کرنا ممکن نہیں۔ مذاکرات کے بعد ایک درمیانی راستہ نکالا گیا اور معاملات وقتی طور پر سنبھل گئے۔
لیکن ابھی یہ تنازع مکمل طور پر ختم بھی نہ ہوا تھا کہ سبزی منڈی اور غلہ منڈی کے تاجروں نے بھی ہڑتال کا راستہ اختیار کر لیا۔ تحصیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتِ پنجاب کے جاری کردہ نرخناموں پر عمل درآمد کی پابند ہے، جبکہ دکانداروں کا مؤقف ہے کہ وہ خسارے میں کاروبار نہیں کر سکتے۔ یوں دونوں فریق اپنی اپنی جگہ دلائل رکھتے ہیں۔
گزشتہ روز پیرافورس نے کوٹ اسلام میں اشیائے خورد و نوش اور پھل سرکاری نرخ پر فروخت نہ کرنے پر متعدد دکانداروں کو جرمانے کیے۔ بظاہر یہ کارروائیاں عوامی ریلیف کے لیے ہیں، مگر زمینی حقائق کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر آٹے، بجلی، گیس اور دیگر اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو کیا واقعی اچھی کوالٹی کی 100 گرام روٹی 15 روپے میں فروخت کی جا سکتی ہے؟ کیا بڑا گوشت 800 روپے اور مٹن 1500 روپے فی کلو دینا عملی طور پر ممکن ہے؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ نرخنامے اکثر کاغذوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ بازار کی اصل قیمتیں طلب و رسد، منڈی ریٹ اور اخراجات کے تابع ہوتی ہیں۔ اگر سرکاری فہرستیں زمینی حقائق سے ہم آہنگ نہ ہوں تو ان پر عمل درآمد محض جرمانوں اور چھاپوں تک محدود رہ جاتا ہے، جس سے وقتی دباؤ تو پیدا ہوتا ہے مگر دیرپا حل سامنے نہیں آتا۔
ضلعی انتظامیہ کو چاہیے کہ نمائشی مذاکرات کے بجائے سنجیدہ اور جامع مشاورت کا راستہ اختیار کرے۔ ڈسٹرکٹ لیول پر ہر علاقے سے انجمن تاجران کے منتخب عہدیداران کو بلا کر بیٹھک کی جائے۔ اخراجات، منڈی ریٹس اور عوامی استطاعت—ان تینوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر قابلِ عمل اور متوازن نرخنامہ تشکیل دیا جائے۔
عوام بھی اس کشمکش کا براہِ راست فریق ہیں۔ وہ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور سستے داموں اشیائے ضروریہ کے خواہاں ہیں۔ لیکن اگر تاجر خسارے میں جائیں گے تو کاروبار بند ہوگا، جس کا نقصان بھی بالآخر عوام کو ہی ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو فروغ دیا جائے۔ انتظامیہ اور تاجر ایک دوسرے کو مخالف نہیں بلکہ شراکت دار سمجھیں۔ شفافیت، مشاورت اور حقیقت پسندانہ فیصلے ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہیں۔ بصورتِ دیگر ہڑتالوں اور جرمانوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو اٹھانا پڑے گا۔






