پاکستان کی معیشت
تحریر:اللہ نوازخان
allahnawazk012@gmail.com
ایک خبر کے مطابق آئی ایم ایف نے پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کر لیا ہے۔آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے واشنگٹن میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں معیشت بہتر ہوئی ہے اورآئی ایم ایف کا وفد25 فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا۔اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے؟حکومت کی طرف سے جواب ہوگا کہ ہاں بہتر ہو چکی ہے لیکن عوام کی طرف سے جواب ہوگا کہ نہیں۔حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ بھاری سود پر کیسے قرض حاصل جائے۔قرض کی حصول کے لیے شرائط بھی تسلیم کر لی جاتی ہیں،حالانکہ وہ شرائط عوام کا خون نچوڑ لیتی ہیں۔آئی ایم ایف اوردیگر قرض دینے والے ادارے یا ممالک مختلف قسم کی شرائط تسلیم کروانے پر زور دیتے ہیں جو کہ حکومت آسانی سے ان شرائط کو تسلیم کر لیتی ہے۔مختلف قسم کے ٹیکسز لگا کر عوام سے وصولیاں کی جاتی ہیں۔صرف واپڈا ہی عوام کا کچومر نکالنے کے لیے کافی ہے۔بجلی کی قیمتوں میں روز بروز اضافہ کیا جا رہا ہے۔آج کل بجلی کی اہمیت بہت ہی بڑھ چکی ہے،یہ کہنا درست ہے کہ بجلی ایک اہم ضرورت بن گئی ہے۔بجلی فی یونٹ کے حساب سے بہت زیادہ قیمت پر فروخت کر دی جاتی ہے نیز مختلف طریقوں سے عوام کی جیبوں سے اضافی رقم نکال لی جاتی ہے۔مثال کے طور پر 200 یونٹ سےزائدبجلی کے یونٹ استعمال کرنے والاصارف تقریبا چھ مہینے تک ادائیگی کرتا رہتا ہے۔دیگر کئی طریقوں سے صارف کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ رقم کی ادائیگی کرے۔علاوہ ازیں دیگر مسائل بھی بے شمار ہیں۔مثال کے طور پر ایک فرد اگر میٹر لگوانا چاہے تو اس کو فائل بنانے کے نام پر بھاری ادائیگی کرنا پڑتی ہے اور رشوت بھی لازمی دینا ہوتی ہے۔بجلی کے علاوہ تیل،گیس اور دیگر ضروریات زندگی کی قیمتیں بھی بہت بڑھ چکی ہیں۔ایک عام پاکستانی ضروریات زندگی کی اشیاخریدنے سے عاجزآچکا ہے۔مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔صحت اور تعلیم کے مسائل بھی بہت بڑھ چکے ہیں۔تعلیم کا حصول کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ضروری ہے لیکن پاکستان میں یہ شعبہ بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں اس وقت کروڑوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگیاں گزارنےرہے ہیں۔لوگ غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔بےروزگاری بھی مسلسل بڑھ رہی ہے اور حکومت کی طرف سے ایسی پالیسیاں نہیں بنائی جا رہی جس سے غربت میں کمی ہوسکے۔بڑھتی غربت نے عوام کا سکون چھین لیا ہے۔بہت سے ادارے سرکاری بیچے جا رہے ہیں اور سرکاری ملازمین پریشان ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا؟دیہاڑی دار مزدور بھی سخت پریشانی میں مبتلا ہو چکے ہیں کہ وہ کس طرح زندگی گزاریں گے؟سرکاری اعدادوشمار تو بتاتے ہیں کہ ملک میں غربت کم ہو رہی ہے لیکن حقائق اس کےبرعکس ہیں.کیا حکومت کو یہ ادراک نہیں کہ ایک عام پاکستانی کس طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے؟غربت نے کس طرح عام آدمیوں کی زندگیاں اجیرن کر رکھی ہیں؟حکومت تو ایسے اعداد و شمار جاری کرتی رہتی ہے جس سے معیشت بہت ہی بہتر نظرآتی ہے لیکن جاری کیے جانے والے اعدادوشمار درست نہیں ہوتے۔ایسی پالیسیاں بنانی ہوں گی جس سے روزگار میں اضافہ ہو۔
ملک کی معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے حکومت کو بہت کچھ کرنا ہوگا۔انڈسٹریز پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔زراعت کا شعبہ بھی زوال پذیر ہو رہا ہے۔اگر زراعت کو پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جائے تو درست ہوگا،لیکن زراعت کو مسلسل نظر انداز کرنا انتہائی افسوس ناک ہے۔زرعی شعبہ میں سبسڈی کی ضرورت ہے۔کھادیں،بیج اور دیگر لوازمات جو زراعت کے لیے ضروری ہیں،ان کو سستا کیا جانا چاہیے تاکہ زراعت کےشعبے میں ترقی ہوسکے۔روپیہ افراط زر کا شکار ہو چکا ہے،اس کو استحکام کی ضرورت ہے۔کرپشن کو بھی سخت کنٹرول کرنا ہوگا ورنہ غربت کم نہیں ہوسکتی۔کرپشن نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا دیا ہے،جب تک کرپشن پر قابو نہیں پایا جا سکتا اس وقت تک ملک کی ترقی مشکل ترین حد تک ناممکن ہے۔پاکستان کی معیشت بہتر بنانے کے لیے اشرافیہ کی مراعات میں بھی کمی کرنا ہوگی،کیونکہ اس طبقے نے ملک کا بہت زیادہ نقصان کیا ہوا ہے۔عام آدمی کو دو وقت کی روٹی بھی مشکل سے دستیاب ہوتی ہے لیکن حکمران اور اشرافیہ طبقہ عیاشیاں کر رہا ہوتا ہے۔
پاکستان کا ایک اور مسئلہ بھی پوری شدت سے موجود ہے اور وہ ہے بین الاقوامی تجارت۔پاکستان آزادانہ تجارت نہیں کر سکتا۔کئی ممالک کم قیمت پر اشیاء فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن پاکستان چند طاقتوں کے دباؤ پر ان سے خریداری کرنے سے قاصرہے۔ایران کے ساتھ گیس کا معاہدہ بھی برسوں سے لٹکا ہوا ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہو رہا کیونکہ امریکہ رکاوٹ بنا ہوا ہے۔حالانکہ ایران گیس کم قیمت پر فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔اس طرح دیگر ممالک سے بھی اشیاء کم قیمت پر حاصل ہو سکتی ہیں لیکن کچھ طاقتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان ان سے تجارت کرے۔معدنیات کے بھی بڑے بڑے ذخائر موجود ہیں،اگر ان کو ہی استعمال میں لایا جائے تو پاکستان کی معیشت بہت ہی بہتر ہو جائے گی۔کتنی قیمتی دھاتیں پاکستان میں موجود ہیں اور ان کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے عوام کو بھی بیدار ہونا ہوگا۔عوامی بیداری حکمرانوں کو مجبور کر دے گی کہ وہ ملک کی ترقی کے لیے بہتر فیصلے کریں۔سیاسی عدم استحکام،دہشت گردی نے بھی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہوا ہے۔کمزور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے آئی ایم ایف اوراس جیسے قرض دینے والوں سے بھی جان چھڑانا ہوگی۔قرض دینے والے بھاری سود پر قرض دیتے ہیں،اگر ان سے جان چھڑا لی جائے تو ملک بہت جلد اورآسانی سے ترقی کرنا شروع کر دے گا۔ملک کی معیشت صرف اعلانات یا اعداد و شمار جاری کرنے سے بہتر نہیں ہوگی بلکہ کچھ کرنا ہوگا تب ہی بہتر ہو سکتی ہے۔






