کورونا وائرس۔ ایک آزمائش۔
اور مسلمانوں کا ردعمل۔۔۔۔۔،
تحریر۔۔راےانصرصدیقی۔گڑھ مہاراجہ جھنگ
کورونا وائرس جو کہ وقعی ایک خطرناک بیماری ہے اور اس میں کوئ شک نہیں کہ اس خطرناک بیماری سے کافی لوگ جان بحق ہوئے۔ احتیاظ و پرہیز حضور پر نور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت مبارک ہئے۔ اور رسول عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک سنت پر عمل بہت بڑا اجر ہے۔ اس بیماری سے محفوظ رہنے کے لیے پرہیز بھی کرنا چاہیے احتیاط بھی ضروری ہے۔
مگر اس قدر احتیاط کہ خانہ کعبہ کا طواف روک دیا جائے اس خانہ کعبہ کا طواف جس کا غلاف پکڑ کر ہمارے آقاکریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ کو مانگا حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دعا کا نتیجہ کہ سیدنا عمر رضہ نے اسلام قبول کیا۔ آج حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سچا امتی خانہ کعبہ میں جاکر دعائیہ کلمات ادا کرے توبہ استغفار کرے تو یہ آزمائش ختم ہو سکتی ہے۔ الٹا ہوا کیا کہ خانہ کعبہ کا طواف روک دیا گیا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ پرندوں نے خانہ کعبہ کا طواف کیا پر ابن آدم موت سے ڈر گیا حانکہ ابن آدم جانتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے اس دنیا سے ہر ایک نے کوچ کر جانا ہے۔ اگر اللہ عزوجل کے محبوب پیغمبر جناب حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم رحلت فرما گئے تو اور کون رہ سکتا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے موت کے ڈر سے خانہ کعبہ کا طواف روک دینا اور نماز جمعہ کا منظر دیکھ کر امام کعبہ کا رونا ابن آدم کے لیے عبرت کا مقام ہے
حالانکہ اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو عبادت کے لیے پیدہ کیا ہے انسان موت کے ڈر سے عبادت سے دور ہوئے تو پرندوں نے عبادت کر کے بتا دیا کہ اے ابن آدم تم خانہ کعبہ کا طواف روک سکتے ہو بیشک اللہ بہت بڑا ہے۔
اللہ عزوجل کی عبادت اور رسول عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اطاعت کرنا جان پر کھیل کر کرنا فرض ہے۔
جسکی مثال پیش کی نواسہ رسول جگر گوشہ بتول سیدنا حضرت حسین ابن علی رضہ نے جنہوں نے سر تو کٹا دیا پر نماز قضا نہ کی۔
کورونا وائرس سے ڈر کھانے والے اسلام کے لیے میدان میں کیسے آ سکتے ہیں ۔ کورونا وائرس سےڈرنے والے ملک پاکستان کے دفاغ کے لیے جان قربان کیسے کریں گے ۔
وہ انسان جو کورونا وائرس کے ڈر سے مدارس بند کر رہے ۔ مساجد میں جانے کے لیے سوچ و بچار کر رہے ۔ وہ کشمیری ماؤں. بہنوں کے دفاغ کے لیے کیسے نکل سکتے ہیں۔؟
ہمیں معلوم ہے کہ کورونا وائرس سے اموات ہو رہی ہیں تو جناب والا کیا اس سے پہلے اموات نہیں ہوئ کون ہے جنکے آباواجداد ذندہ ہیں۔
اگر ایک ڈر اللہ عزوجل کا دل سے نکلے گا تو کئ کورونا کا ڈر آئے گا۔
ہمارے پاک پیغمبر جناب حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان اقدس ہے کہ جب کوئ مصیبت آئے آزمائش آئے تو اللہ عزوجل کے گھر مساجد میں جاکر عبادت کیا کرو توبہ استغفار کیا کرو تو آپکی وہ مصیبت ختم ہو جائے گی بیشک اللہ بہت بڑا ہے۔
جو حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو آگ سے محفوظ رکھ سکتا یے۔ جو یونس علیہ اسلام کو مچھلی کے پیٹ میں ذندہ رکھ سکتا ہے۔
جو حضرت موسی علیہ اسلام کو دریا سے راستہ دے کر بچا سکتا ہے اور عین اس وقت فرعون کو اس دریا میں ہی غرق کر سکتا ہے۔
تو امام الانبیاء جناب رسول عربی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت کو کورونا وائرس سے محفوظ نہیں رکھ سکتا بیشک اللہ بہت بڑا ہے اللہ ہی ہر میدان میں کامیاب فرماتا ہے
خدارا اللہ عزوجل کا خوف دل میں رکھو باقی تمام خوف نکل جائیں گے۔
تعلیمی ادراے بند۔ مدارس بند جہاں قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے ۔
چاہیے تو یہ تھا کہ
مسلمان مساجد و مدارس کی طرف زیادہ جاتے تاکہ یہ جو آزمائش آئی ہے اسکا مقابلہ کر سکتے ۔
موت تو بستر پر بھی آ سکتی ہے ۔ راستہ میں بھی آسکتی ہے. کسی بھی جگہ کسی بھی وقت آسکتی ہے۔
تمام احباب سے دردمندانہ درخواست ہے کہ اللہ عزوجل سے دعا مانگیں ۔ توبہ استغفار کریں بیشک اللہ غفور و رحیم ہے۔
دعا گو۔۔۔۔. راےانصرصدیقی۔۔۔









