کندھوں پر بار گراں

طلوع سحر
معروف کالم نگار ۔ حافظ محمد اقبال سحر

شام کی گورنری کے دوران سیدنا حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ظاہری شان و شوکت کے طریقے اختیار فرمائے تاکہ کفار کے دلوں پر مسلمانوں کی شان و شوکت کا دباؤ قائم رہے۔

امیر المومنین سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس ظاہری شان و شوکت کے متعلق باز برس کی، تو آپ رضی اللہ عنہ نے جواب فرمایا:
اے امیر المؤمنین! ہم ایک ایسی سرزمین میں ہیں جہاں دشمن کے جاسوس ہر وقت کثیر تعداد میں رہتے ہیں۔ لہٌذا ان کو مرعوب کرنے کے لیے یہ ظاہری شان و شوکت دکھانا ضروری ہے۔ اسی میں اسلام اور اہلِ اسلام کی بھی عزت ہے۔

اس موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے۔ وہ آپ کے اس حکیمانہ جواب کو سن کر کہنے لگے:
امیرالمومنین! دیکھیے کہ کس طرح بہترین طریقے سے انھوں نے اپنے آپ کو الزام سے بچالیا ہے۔

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: اسی لیے تو ہم نے ان کے کندھوں پر بار گراں ڈالا ہے۔
( حافظ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، جلد: 8)