لاہور، صوبہ پنجاب میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا ہے کہ پنجاب میں کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ہیلتھ ایمرجنسی لگادی گئی ہے جس کے بعد پنجاب بھر کے بڑے ہوٹل اور شاپنگ مالز کو رات 10 بجے بندکردیے جائیں گے جبکہ مری کو بھی سیاحوں کیلئے بند کردیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی محکمہ صحت کو 23کروڑ 60لاکھ روپے مہیا کردیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے مزید کہا ہے کہ صوبے میں میڈیکل سٹور اور منڈیاں کھلی رہیں گی اور ایک ہزار بیڈ کا عارضی فیلڈ ہسپتال تفتان میں پنجاب حکومت قائم کرے گی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے مزید کہا کہ اس وقت پنجاب میں 28کورونا وائرس مریض موجود ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے جس میں عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ کوشش کی جا رہی ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت کو کم سے کم کر دیا جائے کیونکہ اس سے وائرس کے پھیلنے کے خطرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
ان کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ شہریوں کی نقل و حرکت کو ایک دم سے روکا نہیں جا سکتا، مرحلہ وار اس سلسلے میں کوشش کی جا رہی ہے۔یاد رہے کہ دنیا بھر میں 2 لاکھ افراد کو متاثر کرنے اور 8 ہزار افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے کورونا وائرس نے اب پاکستان میں اپنے قدم جما لئے ہیں جس کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے اس وائرس کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے ۔
پاکستان میں اب تک کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد261 تک پہنچ گئی ہے جس کے بعد ملک بھر میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ شہریوں میں کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکاجائے۔اسی سلسلے میں گزشتہ روز سندھ حکومت نے صوبے میں لاک ڈاون کر دیا تھا اور آج وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی اس با ت کا اعلان کیا ہے کہ پنجاب بھر کے ہوٹل اور شاپنگ مالزز کو رات 10 بجے بند کر دیا جائے گا۔ مقررہ وقت کے بعد کسی قسم کی کمرشل سرگرمی کی اجازت نہیں ہو گی۔
لاہور، صوبہ پنجاب میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی گئی وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، اہم ترین خبر کی مکمل تفصیلات جاننے کیلئے لنک پر کلک کریں
512












