دور خلافت راشدہ امام عدل و انصاف حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ”
(قسط نمبر06)
جنگ قادسیہ
===========تحریر و پیشکش محمد نوید

حضرت مغیرہؓ کے رخصت ہوتے ہی رستم نے اپنی فوج کوتیاری کا حکم دے دیا، دونوں لشکروں کے درمیان ایک نہر حائل تھی، رستم کے پاس پیغام بھیجا کہ تم نہر کے اس طرف آکر لڑو گے یا ہم کو نہر کے اس طرف آنا چاہئے، حضرت سعدؓ نے کہلا بھجوایا کہ تم ہی نہر کے اس طرف آجاؤ؛ چنانچہ تمام ایرانی لشکر نہر کو عبور کرکے میدان میں آکرجم گیا، میمنہ و میسرہ اور ہر اول وساقہ وغیرہ لشکر کے ہر ایک حصہ کو رستم نے جنگی ہاتھیوں اور زرہ پوش سواروں سے ہر طرح مضبوط ومکمل بنایا، خود قلب لشکر میں قیام کیا، یہ ایرانی لشکر جو زیادہ سے زیادہ تیس ہزار کے اسلامی لشکر کے مقابلہ میں آمادہ جنگ ہوا پونے دو لاکھ سے زیادہ اور ہرطرح اسلامی لشکر کی نسبت سامان حرب سے مسلح تھے، سپہ سالار لشکر اسلام حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے دنبل نکل رہے تھے اور عرق النساء کے درد کی بھی آپ کو شکایت تھی، لہذا نہ گھوڑے پر سوار ہوسکتے تھے نہ چل پھر سکتے تھے، میدان جنگ میں اسلامی لشکرگاہ کے سرے پر ایک پرانے زمانہ کی بنی ہوئی پختہ عمارت کھڑی تھی، حضرت سعدؓ خود اس عمارت کی چھت پر گاؤ تکیہ کے سہارے بیٹھ گئے اور اپنی جگہ میدان جنگ کا سردار خالد بن عرفطہؓ کو تجویز کیا، لیکن لڑائی کے نقشے اور میدان جنگ کے اہم تغیر و تبدل کو حضرت سعدؓ نے اپنے ہی ہاتھ میں رکھا، یعنی برابر حضرت خالد بن عرفطہؓ کے پاس ہدایات روانہ کرتے رہے، ایرانی لشکر کی تیاریوں کی خبر سن کر اسلامی لشکر بھی جنگ کی تیاری میں مصروف ہوگیا تھا، حضرت عمرو بن معد یکربؓ حضرت عاصم بن عمروؓ ،حضرت ربعیؓ، حضرت عامرؓ وغیرہ حضرات نے حضرت سعدؓ کے حکم کے موافق تمام لشکر اسلام میں گشت لگا کر لوگوں کو جہاد اورجنگ پر آمادہ کیا، شعراء نے رجز خوانی شروع کی، قاریوں نے سورہِ انفال کی تلاوت سے تمام لشکر میں ایک جوش اورہیجانی کیفیت پیدا کردی۔

بہرحا ل دونوں فوجیں مسلح ہوکر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوگئیں، سب سے پہلے لشکر ایران کی طرف سے ہرمز نامی ایک شہزادہ میدان میں نکلا جو زرین تاج پہنے ہوئے تھا اور ایران کے مشہور پہلوانوں میں شمار ہوتا تھا، اس کے مقابلے کے لئے حضرت غالب بن عبداللہ اسعدؓ اسلامی لشکر سے نکلے، حضرت غالبؓ نے میدان میں جاتے ہی ہرمز کو گرفتار کرلیا اور گرفتار کرکے حضرت سعدؓ کے پاس لاکر ان کے سپرد کرگئے، اس کے بعد ایک اور زبردست شہسوار اہل فارس کی جانب سے نکلا، ادھر حضرت عاصمؓ اُس کے مقابلے کو پہنچے، طرفین سے ایک ایک دو دو وار ہی ہونے پائے تھے کہ ایرانی شہسوار بھاگا، حضرت عاصمؓ نے اس کا تعاقب کیا لشکر فارس کی صف اول کے قریب پہنچ کر اُس کے گھوڑے کی دُم پکڑ کر روک لیا اور سوار کو اُس کے گھوڑے سے اٹھا کر اور اپنے آگے زبردستی بٹھا کر گرفتار کر لائے، یہ بہادری دیکھ کر لشکر ایران سے ایک اور بہادر چاندی کا گرز لئے ہوئے نکلا اس کے مقابلے پر حضرت عمرو بن معدیکربؓ نکلے اور گرفتار کرکے لشکر اسلام میں لے آئے، رستم نے اپنے کئی سرداروں کو اس طرح گرفتار ہوتے ہوئے دیکھ کر فوراً جنگ مغلوبہ شروع کردی اور سب سے پہلے ہاتھیوں کی صف کو مسلمانوں کی طرف ریلا، ہاتھیوں کے اس حملہ کو قبیلہ بحیلہ نے روکا، لیکن ان کا بہت نقصان ہوا، حضرت سعدؓ نے جو بڑے غور سے میدان کا رنگ دیکھ رہے تھے، فورا بنی اسد کے لوگوں کو بحیلہ کی کمک کے لئے حکم دیا، بنو اسد نے آگے بڑھ کر خوب خوب داد مردانگی دی، لیکن جب ان کی بھی حالت نازک ہوئی، توحضرت سعدؓ نے فوراً قبیلہ کندہ کے بہادروں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا، بنو کندہ نے آگے بڑھ کر اس شان سے حملہ کیا کہ اہل فارس کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ پیچھے ہٹنے لگے، رستم نے یہ رنگ دیکھ کر تمام لشکر ایران کو مجموعی طاقت سے یکبارگی حملہ کرنے کا حکم دیا، اس متفقہ سخت حملہ کو دیکھ کر حضرت سعدؓ نے تکبیر کہی اور تمام اسلامی لشکر نے حضرت سعدؓ کی تقلید میں تکبیر کہہ کر ایرانیوں پر حملہ کیا گویا دوسمندر ایک دوسرے پر امنڈ آئے، یا دو پہاڑ ایک دوسرے سے ٹکرائے فریقین کی فوجیں ایک دوسرے میں خلط ملط ہوگئیں، اس حالت میں ایرانیوں کے جنگی ہاتھیوں نے اسلامی لشکر کو سخت نقصان پہنچانا شروع کیا، حضرت سعدؓ نے فوراً تیر اندازوں کو حکم دیا کہ ہاتھیوں پر اور ہاتھیوں کے سواروں پر تیر اندازی کرو، حضرت عاصمؓ نے نیزہ لے کر ہاتھیوں پر حملہ کیا، اُن کی تقلید میں دوسرے بہادروں نے بھی ہاتھیوں کی سونڈھوں پر تلواروں اور نیزوں سے زخم پہنچانے شروع کردئے، تیر اندازوں نے ایسے تیر برسائے کہ فیل نشینوں کو جوابی تیر اندازی کی مہلت ہی نہ ملی، نتیجہ یہ ہوا کہ ہاتھ پیچھے ہٹے اور بہادروں کے لئے میدان میں شمشیر زنی کے جوہر دکھانے کے مواقع ملے صبح سے شام تک میدان کارزار گرم رہا رات کی تاریکی نے لڑائی کو کل کے لئے ملتوی کردیا یہ دوشنبہ کا روز تھا محرم ۱۴ ھ کا واقعہ ہے۔

اگلے دن علی الصبح بعد نماز فجر حضرت سعد بن وقاصؓ نے سب سے پہلے کل کے شہداء کو قادسیہ کے مشرق کی جانب دفن کرایا، کل کے شہداء کی تعداد پانچ سو تھی، زخمیوں کی مرہم پٹی کا سامان رات ہی میں کردیا گیا تھا،شہداء کے دفن سے فارغ ہوکر اسلامی لشکر نے اپنی صفیں مرتب کیں، ایرانی بھی میدان میں آ ڈٹے، ابھی لڑائی شروع نہیں ہوئی تھی کہ ملک شام سے روانہ کئے ہوئے لشکر کے قریب پہنچنے کی خبر پہنچی، ملک شام سے حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ نے حضرت ہاشم بن عتبہؓ کی سرداری میں لشکر عراق کو واپس بھیجا تھا، اس لشکر کے مقدمۃ الجیش پر حضرت قعقاع بن عمروؓ افسر تھے اور وہ ایک ہزار کا مقدمۃ الجیش لئے ہوئے سب سے پہلے قادسیہ پہنچے اورحضرت سعدؓ کو بڑے لشکر کے پہنچنے کی خوشخبری سُنا کر خود اجازت لے کر میدان میں نکلے اور مبارز طلب کیا ان کے مقابلہ پر بہمن جادویہ آیا، طرفین سے داد سپہ گری دی گئی اور جوہر دکھائے گئے، لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت قعقاع کے ہاتھ سے بہمن جادویہ ہلاک ہوا، اس کے بعد کئی مشہور ونامور ایرانی بہادر میدان میں نکلے اور مقتول ہوئے، بالآخر رستم نے عام حملہ کا حکم دیا اور بڑے زورو شور سے لڑائی ہونے لگی، ہاشم بن عتبہؓ نے میدان جنگ کے گرم ہونے کا حال سُن کر اپنی چھ ہزار فوج کے بہت سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردئے اورحکم دیا کہ تھوڑے وقفہ سے ایک ایک حصہ تکبیر کہتا ہوا داخل ہو، اس طرح شام تک یکے بعد دیگرے یہ دستے لشکر اسلام میں داخل ہوتے اور ایرانی اس طرح پیہم کمک دستوں کی آمد دیکھ دیکھ کر خوف زدہ ہوتے رہے، آج بھی ہاتھیوں کا لشکر اسلام کے لئے بہت سخت تھا، لیکن مسلمانوں نے ایک نئی تدبیر یہ کی کہ اونٹوں پر بڑی بڑی جھولیں ڈالیں وہ بھی ہاتھیوں کی طرح مہیب نظر آتے اور ایرانیوں کے گھوڑے ان کو دیکھ دیکھ کر بدکنے لگے، جس قدر ہاتھیوں سے اسلامی لشکر کو نقصان پہنچتا تھا، اسی قدر ایرانی لشکر کو ان مصنوعی ہاتھیوں سے نقصان پہنچنے لگا،آج حضرت قعقاعؓ نے بہت سے ایرانی سرداروں اور مشہور شہسواروں کو قتل کیا، شام تک بازار جنگ گرم رہا آج ایک ہزار مسلمان اور دس ہزار ایرانی میدان جنگ میں کام آئے۔

*جنگ قادسیہ 2:*
============

تیسرے روز حضرت سعد بن وقاصؓ نے نماز فجر سے فارغ ہوتے ہی اول شہداء کی لاشوں کے دفن کرنے کا انتظام کیا، مجروحوں کو عورتوں کے سپرد کیا گیا کہ وہ مرہم پٹی کریں، اس کے بعد دونوں فوجیں میدان جنگ میں ایک دوسرے کے مقابل ہوئیں، آج بھی ایرانیوں نے ہاتھیوں کو آگے رکھا؛ لیکن قعقاعؓ وعاصمؓ نے مل کر فیل سفید پر جو تمام ہاتھیوں کا سردار تھا حملہ کیا اور اُس کو مار ڈالا، فیل سفید کے مارے جانے کے بعد ایک دوسرے ہاتھی پر حملہ ہوا، تو وہ میدان سے اپنی جان بچا کر بھاگا، اس کو بھاگتے ہوئے دیکھ کر دوسرے ہاتھیوں نے بھی تقلید کی اور اس طرح آج ہاتھیوں کا وجود بجائے اس کے کہ اسلامی لشکر کو نقصان پہنچاتا خود ایرانیوں کے لئے نقصان رساں ثابت ہوا، آج بھی بڑے زور کی لڑائی ہوئی اور صبح سے شام تک جاری رہی، غروب آفتاب کے بعد تھوڑی دیر کے لئے دونوں فوجیں ایک دوسرے سے جدا ہوئیں اور پھر فوراً مستعد ہوکر ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوگئیں ۔

مغرب کے وقت سے شروع ہوکر صبح تک لڑائی جاری رہی، تمام رات لڑائی کا شور وغل اور ہنگامہ برپا رہا، نہ پوری کیفیت حضرت سعدؓ کو معلوم ہوسکتی تھی نہ رستم کو، غرض یہ رات بھی ایک عجیب قسم کی رات تھی، سپہ سالار اسلام حضرت سعدؓ رات بھر دُعا میں مصروف رہے، آدھی رات کے بعد انہوں نے میدان جنگ کے شور وغل میں حضرت قعقاعؓ کی آواز سنی کہ وہ اپنے لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ سب سمٹ کر قلب پر حملہ کرو اور رستم کو گرفتار کرلو، اس آواز نے نہ صرف حضرت سعدؓ کو تسکین دی، بلکہ تمام مسلمانوں میں ازسر نو طاقت پیدا کردی، تمام دن اور تمام رات لڑتے ہوئے غازیان اسلام تھک کر چور چور ہوگئے تھے، مگر اب پھر ہر قبیلہ کے سردار نے اپنی اپنی قوم کو مقابلہ کے لئے برانگیختہ کیا، بڑے زور شور سے تلوار چلنے لگی حضرت قعقاع کی رکابی فوج لڑتی ہوئی اس مقام تک پہنچ گئی، جہاں رستم ایک تخت زریں پر بیٹھا ہوا اپنی فوج کو لڑا رہا تھا اور حصہ فوج کو احکام بھیج رہا تھا، اسلامی حملہ آوروں کے قریب پہنچنے پر رستم خود تخت سے اتر کر لڑنے لگا جب زخمی ہوا تو پیٹھ پھیر کر بھاگا۔۔۔ حضرت ہلال بن علقمہؓ نے بڑھ کر بھاگتے ہوئے برچھے کا وار کیا جس سے اس کی کمر ٹوٹ گئی اور نہر میں گرپڑا، ہلال نے فورا گھوڑے سے کود کر اورجھک کر رستم کی ٹانگیں پکڑ کر باہر کھینچ لیا اور اس کا کام تمام کرکے فورا رستم کے تخت پر کھڑے ہوکر بلند آواز سے پکارا کہ خدا کی قسم میں نے رستم کو قتل کر دیا ہے، اس آواز کے سنتے ہی اسلامی فوج نے نعرۂ تکبیر بلند کیا اور ایرانیوں کے ہوش وحواس باختہ ہوگئے، ایرانی میدان سے بھاگے، لشکر ایران میں سواروں کی تعداد تیس ہزار تھی، جن میں بمشکل تیس سوار بھاگ کر اپنی جان بچاسکے، باقی سب میدان جنگ میں مارے گئے، اس لڑائی میں مسلمانوں کے کل چھ ہزار آدمی شہید ہوئے۔

حضرت سعدؓ نے رستم کا تمام سامان اسلحہ ہلال بن علقمہ کو دیا اور قعقاع وشرجیل کو تعاقب کے لئے روانہ کیا؛ لیکن ان سے بھی پہلے حضرت زہرہ بن حیوٰۃ ایک دستہ فوج لے کر مفرور ایرانیوں کے پیچھے روانہ ہوچکے تھے، راستے میں ایک مقام پر جالینوس مفروروں کو روک روک کر مجتمع کررہا تھا حضرت زہرہ نے اس کو قتل کر دیا اور اس کے تمام مال وسامان پر قبضہ کرکے حضرت سعدؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت سعدؓ کو جالینوس کا سامان اُن کے حوالے کرنے میں تامل ہوا اور اس معاملہ میں دربار خلافت سے اجازت طلب کی، فاروق اعظمؓ نے حضرت زہرہؓ کی ستائش کی اور جالینوس کا اسباب انہیں کو دے دینے کا حکم دیا۔

حضرت سعدؓ نے میدان جنگ کا ہنگامہ فرو ہونے کے بعد مال غنیمت فراہم کیا فوراً حضرت فاروقؓ کی خدمت میں فتح کی خوشخبری کا خط لکھا اور ایک تیز رفتار شتر سوار کو دے کر مدینہ کی طرف روانہ کیا ۔۔۔

یہاں فاروق اعظمؓ کا یہ حال تھا کہ روزانہ صبح اُٹھ کر مدینے میں واپس آجاتے تھے، ایک روز حسب دستور باہر تشریف لے گئے دُور سے ایک شتر سوار نظر پڑا اُس کی طرف لپکے، قریب پہنچ کر دریافت کیا کہ کہاں سے آتے ہو؟ اُس نے کہا کہ میں قادسیہ سے آرہا ہوں اور خوشخبری لایا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عظیم عطا کی، فاروق اعظمؓ نے اُس سے لڑائی کی کیفیت اور فتح کے تفصیلی حالات دریافت کرنے شروع کئے اور شہسوار کی رکاب پکڑے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے مدینے میں داخل ہوئے، شتر سوار حالات سناتا جاتا تھا اور اپنے اونٹ پر سوار مدینے میں دربار خلافت کی جانب چلا جاتا تھا، شہر میں داخل ہوکر شتر سوار نے دیکھا کہ ہر شخص جو سامنے آتا ہے فاروق اعظمؓ کو امیر المومنین کہہ کر سلام علیک کرتا ہے، تب اُس کو معلوم ہوا کہ جو شخص میرے ساتھ پیدل چل رہا ہے وہ خلیفہ وقت ہے، یہ معلوم کرکے وہ ڈرا اور اونٹ سے اترنا چاہا، لیکن فاروق اعظمؓ نے کہا کہ تم حالات سناتے جاؤ، اور بدستور اپنے اونٹ پر سوار چلے چلو، اسی طرح گھر تک آئے، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پہنچ کر لوگوں کو جمع کیا اور فتح کی خوشخبری سب کو سُنائی، ایک نہایت پُر اثر تقریر فرمائی جس کا خاتمہ اس طرح تھا:

*”بھائیو! میں بادشاہ نہیں ہوں کہ تم کو اپنا غلام بنانا چاہوں، میں تو خود اللہ تعالیٰ کا غلام ہوں، البتہ خلافت کا کام میرے سپرد ہے، اگر میں یہ کام اس طرح انجام دوں کہ تم آرام سے اپنے گھروں میں اطمینان سے زندگی بسر کرو تو یہ میری خوش نصیبی ہے اور اگر خدانخواستہ میری یہ خواہش ہو کہ تم لوگ میرے دروازے پر حاضری دیا کرو تو یہ میری بد بختی ہوگی میں تم کو تعلیم دیتا ہوں اور نصیحت کرتا ہوں لیکن صرف قول سے نہیں عمل سے بھی۔”*

*فتح بابل و کوثی:*
=============

ایرانیوں نے قادسیہ سے بھاگ کر بابل میں قیام کیا اور کئی نامور سرداروں نے مفرور لوگوں کو مدد فراہم کرکے مقابلہ کی تیاریاں کیں، حضرت سعدؓ نے فتح کے بعد دو مہینے تک قادسیہ میں قیام فرمایا اور فاروق اعظمؓ کے حکم کا انتظار کیا، دربار خلافت سے احکام کے وصول ہونے پر حضرت سعدؓ نے اہل وعیال کو تو قادسیہ ہی میں چھوڑا اور خود لشکر اسلامی کے ساتھ مدائن کی جانب روانہ ہوئے، اپنی روانگی سے پہلے حضرت زہرہ بن حیوٰۃ کو مقدمۃ الجیش بناکر آگے روانہ کیا، زہرہ دشمنوں کو مارتے ہٹاتے محکوم بناتے ہوئے بڑھتے چلے جاتے تھے، یہاں تک کہ بابل کے قریب پہنچے، یہاں حضرت سعدؓ بھی اپنی پوری فوج لے کر آپہنچے، ایرانی سرداروں نے حضرت سعدؓ کے آنے کی خبر سنی، تو وہ بابل میں قیام نہ کرسکے کچھ مدائن کی طرف چل دئے کچھ ہوازن اور نہاوند کی جانب چلے گئے اور راستے میں تمام پلوں کو توڑتے اور دریائے دجلہ اور اس کی نہروں اور ندیوں کو ناقابل عبور بناتے ہوئے گئے۔

ایرانیوں کے فرار و منتشر ہونے کی خبر سُن کر حضرت سعدؓ نے حضرت زہرہ کو حسب دستور آگے روانہ کیا اور خود بھی ان کے پیچھے بڑے لشکر کو لے کر متحرک ہوئے، حضرت زہرہؓ جب مقام کوثی پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ یہاں ایرانیوں کا مشہور سردار شہریار مقابلہ پر آمادہ ہے، کوثی وہ مقام ہے جہاں نمرود نے ابراہیم خلیل اللہ کو قید کیا تھا، قید خانہ کی جگہ اس وقت تک محفوظ تھی، شہر یار حضرت زہرہؓ کے قریب پہنچنے کا حال سُن کر کوثی سے باہر نکلا اور مسلمانوں کے مقابل صف آرا ہوکر میدان میں آگے بڑھ کر للکارا کہ تمہارے سارے لشکر میں جو سب سے زیادہ بہادر جنگ جو ہو وہ میرے مقابلے پر آئے، یہ سُن کر حضرت زہرہؓ نے جواب دیا کہ میں خود تیرے مقابلہ پر آنے کو تیار تھا؛ لیکن اب تیری لن ترانی سن کر تیرے مقابلہ پر اس لشکر میں سے کسی ادنیٰ ترین غلام کو بھیجتا ہوں کہ وہ تیرے غرور کا سر نیچا کردے، یہ کہہ کر آپ نے نائل بن جعثم اعرج کو جو قبیلہ بنو تمیم کا غلام تھا اشارہ کیا، حضرت نائل بن جعثم فوراً گھوڑا نکال کر میدان میں شہر یار کے مقابل پہنچے، شہر یار اُن کو نہایت کمزور دیکھ کر ان کی طرف بڑھا اور گردن پکڑ کر کھینچا اور زمین پر گرا کر ان کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا، اتفاقاً شہریار کا انگوٹھا حضرت نائل کے منہ میں آگیا، انہوں نے اُس کو اس زور سے چبایا کہ شہر یار بے تاب ہوگیا، اور حضرت نائل فوراً اٹھ کر اس کے سینے پر چڑھ بیٹھے اور بلا توقف خنجر نکال کر اس کا پیٹ چاک کردیا، شہر یار کے مارے جاتے ہی تمام ایرانی فوجیں بھاگ پڑیں، شہر یار کی زرہ، قیمتی پوشاک، زرین تاج اور ہتھیار سب نائل کو ملے، حضرت سعدؓ نے کوثی پہنچ کر شہر یار کے مارے جانے اور کوثی کے فتح ہونے کا حال سُنا اور اس مقام کو جاکر دیکھا جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام قید رہے تھے، پھر حضرت نائل کو حکم دیا کہ شہر یار کی پوشاک پہن کر اور شہر یار کے تمام ہتھیار لگا کر آئیں، چنانچہ اس حکم کی تعمیل ہوئی اور لشکرِ اسلام اس نظارہ کو دیکھ کر خدائے تعالیٰ کی حمد و ثنا میں مصروف ہوا۔

*بہرہ شیر کی فتح:*

بہرہ شیر ایک مقام کا نام تھا جو مدائن کے قریب ایک زبردست قلعہ اور شہر تھا، بہرہ شیر میں شاہی باڈی گارڈ کا ایک زبردست رسالہ اور دارالسلطنت کی حفاظت کے لئے نہایت زبردست اور بہادر فوج رہتی تھی، مدائن اور بہرہ شیر کے درمیان دریائے دجلہ حائل تھا، بہرہ شیر اس طرف تھا اور دجلہ کے اُس طرف مدائن تھا، شہنشاہِ ایران کبھی بہرہ شیر میں بھی آکر رہتا تھا، یہاں بھی شاہی ایوان اور شاہی کارخانے موجود تھے، اسلامی لشکر کوثی سے آگے بڑھا تو بہرہ شیر پہنچنے تک کئی مقامات پر ایرانیوں کا مقابلہ کرنا پڑا اور ان کو شکست دے کر راستے سے ہٹانا پڑا، یہاں تک کہ مسلمانوں نے بہرہ شیر کا محاصرہ کرلیا، یہ محاصرہ تین مہینے تک جاری رہا، آخر محصورین سختی سے تنگ آکر مقابلہ پر آمادہ ہوئے، اور شہر پناہ سے باہر مقابلے پرآئے، بالآخر مقتول و مفرور ہوئے اور اسلامی لشکر فاتحانہ بہرہ شیر میں داخل ہوا، بہرہ شیر کے مفتوح ہوتے ہی یزد جرد نے مدائن سے بھاگنے اور اموال وخزائن کے مدائن سے منتقل کرنے کی تدابیر اختیار کیں، مدائن سے یزد جرد کا معہ خزائن کے بھاگ جانا مسلمانوں کے لئے خطرات کا بدستور باقی رہنا تھا۔

================== جاری ہے ۔۔۔