“دور خلافت راشدہ خلیفہ دوم مراد رسول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ”
(قسط نمبر 7) تحریر و پیشکش محمد نوید
بحر ظلمات میں دوڑا دیئے گھوڑے ہم نے
============================
بہرہ شیر اور مدائن میں صرف دجلہ حائل تھا۔ حضرت سعدؓ بہرہ شیر سے بڑھے تو آگے دجلہ تھا۔ ایرانیوں نے پہلے سے جہاں جہاں پل بندھے تھے توڑ کر بیکار کر دیے تھے۔ حضرت سعدؓ دجلہ کے کنارے پر پہنچے تو نہ پل تھا اور نہ کشتی۔ دوسرے کنارے پر ایرانی فوج بھی متعین تھی جو عبور دریا سے مانع تھی، دوسرے روز حضرت سعدؓ نے گھوڑے پر سوار ہوکر اور تمام فوج کی کمر بندی کراکر فرمایا کہ تم میں کون ایسا بہادر سردار ہے جو اپنی جمعیت کے ساتھ اس بات کا وعدہ کرے کہ وہ ہم کو دریا کے عبور کرنے کے وقت دشمن کے حملے سے بچائے گا، حضرت عاصمؓ بن عمروؓ نے اس خدمت کی ذمہ داری قبول کی اور چھ سو تیر اندازاوں کی ایک جماعت لے کر دریائے دجلہ کے اس کنارے ایک اونچے مقام پر جا بیٹھے حضرت سعدؓ نے *نستعین باللہ ونتوکل علیہ حسبنا اللہ ونعم الوکیل ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم* کہہ کر اپنا گھوڑا دریا میں ڈال دیا ان کی تقلید میں دوسروں نے بھی جرات سے کام لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لشکر اسلام دجلہ کی طوفانی موجوں کا مقابلہ کرتا ہوا دوسرے کنارے کی طرف متوجہ ہوا ۔
دریا اگرچہ نہایت ذخار اور مواج تھا لیکن ہمت اور جوش نے طبیعتوں میں یہ استقلال پیداکر دیا تھا کہ موجیں برابر گھوڑوں سے آ آ کرٹکراتی تھیںَ اور یہ رکاب سے رکاب ملا کر آپس میں باتیں کرتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ کریمین و یسارکی جو ترتیب تھی اس میں بھی فرق نہ آیا۔ دوسرے کنارے پر ایرانی یہ حیرت انگیز تماشا دیکھ رہے تھے۔ جب فوج بالکل کنارے کے قریب آ گئی تو ان کو خیال ہوا کہ یہ آدمی نہیں جن ہیںَ چنانچہ *دیواں آمدند دیواں آمدند* (تاریخ طبری میں بعینہ یہی الفاظ ہیں) کہتے ہوئے بھاگے۔ تاہم سپہ سالار خرزاد تھوڑی سی فوج کے ساتھ جما رہا اور گھا ٹ پر تیر اندازوں کے دستے متعین کیے۔ ایک گروہ دریا میں اتر کر سد راہ ہوا لیکن مسلمان سیلاب کی طرح بڑھتے چلے گئے اور تیر اندازوں کو خس و خاشاک کی طرح ہٹاتے پار نکل گئے۔ یزدگرد نے حرم اور خاندان شاہی کو پہلے ہی حلوان روانہ کر دیا تھا۔ یہ خبر سن کر خود بھی شہر چھوڑ کرنکل گیا حضرت سعدؓ مدائن میں داخل ہوئے تو ہر طرف سناٹا تھا ۔۔۔
*فتح مدائن:*
یزد جرد مسلمانوں کے پہنچنے سے پہلے ہی اپنے اہل وعیال اورخزانوں کو مدائن سے روانہ کرچکا تھا تاہم قصرابیض (شاہی محل) اور دارالسلطنت میں مال و دولت کی کمی نہ تھی، اسلامی لشکر کے دریا عبور کرلینے کا حال سُن کر یزد جرد بھی مدائن سے چل دیا، مسلمانوں نے شہر کی مختلف سمتوں سے شہر میں داخل ہونا شروع کیا، خود باشندگان شہر نے شاہی محلات کی لوٹ مار مسلمانوں کے پہنچنے اور شہر میں داخل ہونے سے پہلے شروع کردی تھی، حضرت سعد قصر ابیض میں داخل ہوئے اور ان کی زبان سے بے اختیار یہ آیتیں نکلیں:
*” كَمْ تَرَكُوا مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ،وَزُرُوعٍ وَمَقَامٍ كَرِيمٍ،وَنَعْمَةٍ كَانُوا فِيهَا فَاكِهِينَ،كَذَلِكَ وَأَوْرَثْنَاهَا قَوْمًا آخَرِينَ”*
حضرت سعدؓ نے وہیں ایک سلام سے آٹھ رکعتیں صلوۃ الفتح کی پڑھیں، جمعہ کاروز تھا، قصرا بیض میں جس جگہ کسرٰی کا تخت تھا، وہاں منبر رکھا گیا اور اسی قصر میں جمعہ ادا کیا گیا، یہ پہلا جمعہ تھا جو دارالسلطنت ایران میں ادا کیا گیا، اس شاہی محل میں جس قدر تصاویر وتماثیل تھیں وہ علیٰ حالہ قائم رہیں، نہ حضرت سعدؓ نے ان کو توڑ ا پھوڑا نہ وہاں سے جدا کیا بوجہ نیت اقامت اس قصر میں نماز کو قصر بھی نہیں کیا گیا، زہرہ بن حیوۃ کو ایرانیوں کے تعاقب میں نہروں کی جانب روانہ کیا گیا، مال غنیمت کے فراہم کرنے پر عمرو بن مقرن کو اور اس کی تقسیم پر سلیمان بن ربیعہ باہلی کو مامور کیا گیا، مال غنیمت میں شہنشاہ ایران کی بہت سی نادر روزگار چیزیں مسلمانوں کے ہاتھ آئیں چاندی سونے اور جواہرات کی مورتیں، کسری کا شاہی لباس اس کا زرنگار تاج، اس کی زرہ اور اسی قسم کی بہت سی چیزیں مسلمانوں نے ان بھاگنے والوں سے چھینیں جوان چیزوں کو لے لے کر ایوان شاہی سے بھاگتے تھے، ایوان شاہی کے خزانے اور عجائب خانے میں خاقان چین، قیصر روم داہرہ شاہِ ہند، بہرام گور، سیاوش ،نعمان بن منذر، کسریٰ، ہرمز فیروز کے خود زر ہیں، تلواریں اور خنجر دستیاب ہوئے، جو عجائب روزگار سمجھ کر شاہی خزانے میں محفوظ رکھے جاتے تھے اور ایرانی ان چیزوں پر فخر کیا کرتے تھے ان چیزوں کے فراہم ہوجانے پر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے حضرت قعقاعؓ کو اجازت دی کہ تلواروں میں سے تلوار کو پسند کر لو، حضرت قعقاع نے یہ سُن کر قیصر روم ہر قل کی تلوار اٹھالی، پھر حضرت سعدؓ نے اپنی طرف سے بہرام گور کی زرہ بھی ان کو مرحمت فرمائی۔
حضرت سعدؓ نے علاوہ خمس کے جو چیزیں نادرات روزگار میں شمار ہوتی تھیں، وہ سب جمع کرکے دربار خلافت کو روانہ کردیں، انہیں نادرات روزگار میں کسریٰ کا فرش تھا جو بہار کے نام سے موسوم تھا، یہ فرش نوے گز لمبا اور دس گز چوڑا تھا، اس میں پھول، پتیاں، درخت، نہریں، تصویریں، غنچے سب سونے چاندی، اور جواہرات سے بنائے گئے تھے۔۔۔ شاہانِ فارس جب موسم بہار گزر جاتا تھا، تو اس کی یاد میں اس فرش پر بیٹھ کر شراب نوشی کیا کرتے تھے، جب یہ تمام چیزیں مدینہ منورہ میں پہنچیں تو لوگ دیکھ کر حیران ہوگئے، فاروق اعظمؓ نے تمام سامان واسباب کو لوگوں میں تقسیم کردیا، فرش کی نسبت عام طور پر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ اس کو تقسیم نہ کیا جائے، لیکن حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ نہیں اس کو بھی تقسیم کردیا جائے؛ چنانچہ فاروق اعظمؓ نے حضرت علیؓ کی رائے سے اس فرش کو بھی کاٹ کاٹ کر لوگوں میں تقسیم کردیا، حضرت علیؓ کے حصے میں جو فرش کا ٹکڑا آیا تھا، وہ بہت نفیس ٹکڑوں میں نہ تھا تاہم انہوں نے اس کو تیس ہزار دینار میں فروخت کردیا۔
*جنگ جلولاء:*
==========
یہ معرکہ فتوحات عراق کا خاتمہ تھا۔ مدائن کی فتح کے بعد ایرانیوں نے جلولاء میں جنگ کی تیاریاں شروع کیں اور ایک بڑی فوج جمع کرلی۔
رستم بن فرخ زاد کے بھائی خرزاد بن فرخ زاد نے مقام جلولاء میں لشکر اور سامان حرب بڑی مقدار میں قابلیت اور حوصلے کے ساتھ فراہم کرنا شروع کیا، قلعہ اور شہر کے گرد خندق کھدوائی کو کھرو بنواکر مسلمانوں کی آمد اور حملے کے راستوں میں بچھوائے، یہ جنگی تیاری اور فوجی اجتماع اس قدر عظیم اور اہم تھا کہ ایک طرف ایرانیوں کی آنکھیں اس طرف لگی ہوئی تھیں تو دوسری طرف مسلمانوں کو بھی اس کا خاص طور پر خیال تھا؛ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے یہ تمام کیفیت مدینہ منورہ میں حضرت فاروق اعظمؓ کے پاس لکھ کر بھیجی، دربار فاروقی سے حکم آیا، کہ ہاشم بن عتبہ بارہ ہزار فوج لے کر جلولاء کی مہم پر روانہ ہوں، مقدمۃ الجیش حضرت قعقاعؓ کو سپرد کیا جائے، معشر بن مالک کو میمنہ کی اور عمرو بن مالک کو میسرہ کی سرداری دی جائے اور ساقہ پر عمرو بن مرہ کو مقرر کیا جائے، اس حکم فاروقی کے موافق حضرت ہاشم مدائن سے روانہ ہوکر چوتھے روز جلولا پہنچے اور شہر کا محاصرہ کیا، یہ محاصرہ کئی مہینے جاری رہا، ایرانی قلعہ سے نکل نکل کر حملہ آور بھی ہوتے رہتے تھے۔
اس طرح مسلمانوں اور ایرانیوں میں جلولاء کے محاصرہ کے ایام میں بہت سے معرکے ہوئے اور ہر معر کے میں ایرانی مغلوب ہوتے رہے، جلولاء میں لاکھوں ایرانی جنگجو موجود تھے، مسلمانوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز نہ تھی، اپنی جمعیت کی کثرت اور سامان حرب کی فراوانی پر اعتماد کرکے ایرانیوں نے خوب جی توڑ کر مقابلہ کیا مگر آخر مسلمانوں کے مقابلہ میں ناکام ونامراد ثابت ہوئے ۔۔ ایک لاکھ ایرانی اس معرکے میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے۔ تین کروڑ کا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا، یزد جرد نے حلوان میں جب جلولاء کے سقوط کا حال سُنا، تو وہ حلوان میں نہ ٹھہر سکا، وہاں سے بھاگ کر رے کی جانب روانہ ہوا، اورحلوان میں خسرو شنوم کو ایک مناسب جنگی جمعیت کے ساتھ چھوڑ گیا، حضرت قعقاعؓ معرکہ جلولاء کے بعد مقام حلوان کی طرف روانہ ہوئے، خسروشنوم نے حلوان سے نکل کر مقابلہ کیا مگر شکست کھا کر بھاگا اور قعقاعؓ نے حلوان پر قبضہ کیا۔
حضرت سعدؓ نے ان فتوحات کے بعد مال غنیمت کا خمس اور فتح کی خوشخبری حضرت زیادؓ کے ہاتھ فاروق اعظمؓ کی خدمت میں بھیجی اور ملکِ ایران میں آگے بڑھنے کی اجازت طلب کی، حضرت زیادؓ یہ مال غنیمت لے کر شام کے وقت مدینہ منورہ میں داخل ہوئے، فاروق اعظم ؓ نے فتوحات کا حال سُن کر لوگوں کو جمع کیا اور زیاد کو حکم دیا کہ اب ان سب کو وہ حالات جو مجھ کو سُنا چکے ہو سُناؤ؛ چنانچہ حضرت زیادؓ نے نہایت طلاقت وفصاحت کے ساتھ مسلمانوں کی بہادریوں کے نقشے کھینچ کر سامعین کے سامنے رکھ دئے، پھر فاروقِ اعظمؓ نے فرمایا کہ مالِ غنیمت کا انبار صحن مسجد میں اسی طرح موجود رہے، اُس کی چوکسی ونگرانی کا انتظام کر دیا، اگلے دن فجر کے بعد آپ نے وہ تمام مال و اسباب لوگوں کو تقسیم فرما دیا، جواہرات کے انبار اور مالِ غنیمت کی پیش قیمتی وکثرت دیکھ کر فاروق اعظمؓ روپڑے، توحضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ امیر المومنین یہ تو مقامِ شکر تھا، آپ روتے کیوں ہیں؟ حضرت فاروق اعظمؓ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ خدائے تعالیٰ جس قوم کو دنیا کی دولت عطا فرماتا ہے، اُس میں رشک وحسد بھی پیدا ہوجاتا ہے اور اس لئے اُس قوم میں تفرقہ پڑجاتا ہے، پس مجھ کو اسی تصور نے اس وقت رُلا دیا۔
اُس کے بعد فاروق اعظمؓ نے حضرت سعدؓ کے جواب میں اُن کے پاس حکم بھیجا کہ مسلمانوں نے پیہم صعوبات برداشت کی ہیں، ابھی چند روز اپنے لشکر کو آرام کرنے کا موقع دو۔
جنگ جلولاء ۱۶ھ میں واقع ہوئی، یہاں تک حالات کے بیان کرنے میں دانستہ تاریخ مہینہ اور سال کا ذکر اس لئے ترک کردیا ہے کہ بعض واقعات کی تاریخ اور سنہ ایک مورخ کچھ بیان کرتا ہے اور دوسرا کچھ ۔۔۔ اندریں صورت واقعات کی ترتیب کا صحیح ہونا کافی سمجھا گیا عراق کے حالات ۱۶ ھ یعنی معرکہ جلولاء تک اسی ترتیب سے وقوع پذیر ہوئے جو اوپر مذکور ہوئے، اب ان حالات کو یہیں تک چھوڑ کر پھر ملک شام کی طرف متوجہ ہونا چاہئیے۔
۔۔۔
*فتوحاتِ شام و دمشق:*
================
اب تلک ایرانیوں کے ساتھ عراقی معرکوں کا حال پیش کیا گیا تھا، سلسلہ واقعات کے لحاظ سے ہم اس موقع پر رومیوں کے ساتھ لشکر کشی کے ابتدائی حالات پیش کررہے ہیں ، دور فاروقی میں اس کی ابتداء شام سے ہوتی ہے، ہم فتح شام و دمشق پر پہلے تفصیل پیش کرچکے ہیں ، لیکن اس موقع پر یاد دہانی کے لیے شام کی لشکر کشی کے ابتدائی حالات بھی نہایت اجمال کے ساتھ لکھتے ہیں۔
حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آغاز 13 ہجری (634 عیسوی) میں شام پر کئی طرف سے لشکر کشی کی۔ ابو عبیدہ کو حمص پر، یزید بن ابی سفیان کو دمشق پر، شرجیل کو اردن پر، عمرو بن العاص کو فلسطین پر مامور کیا۔ فوجوں کی مجموعی تعداد 4000 تھی، عرب کی سرحد سے نکل کر ان افسروں کو ہر قدم پر رومیوں کے بڑے بڑے جتھے ملے جو پہلے سے مقابلہ کے لئے تیار تھے ، ان کے علاوہ قیصر نے تمام ملک سے فوجیں جمع کر کے الگ الگ افسروں کے مقابلے پر بھیجیں۔ یہ دیکھ کر افسران اسلام نے اس پر اتفاق کیا کہ کل فوجیں یکجا ہو جائیں۔ اس کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ اور فوجیں مدد کو روانہ کی جائیں، چنانچہ خالد بن ولید جو عراق کی مہم پر مامور تھے عراق سے چل کر راہ میں چھوٹی چھوتی لڑائیاں لڑتے اور فتح حاصل کرتے دمشق پہنچے اور اس کو صدر مقام قرار دے کر وہاں مقام کیا۔ قیصر نے ایک بہت بڑی فوج مقابلے کے لیے روانہ کی جس نے اجنادین پہنچ کر جنگ کی تیاریاں شروع کیں۔ خالد اور ابو عبیدہ خود پیش قدمی کر کے اجنادین پر بڑھے اور افسروں کو لکھ کر بھیجا کہ وہیں آ کر مل جائیں۔ چنانچہ شرجیل، یزید، عمرو بن العاص وقت مقرر پر اجنادین پہنچ گئے۔ خالد نے بڑھ کر حملہ کیا اور بہت بڑے معرکے کے بعد جس میں تین ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ فتح کامل حاصل ہوئی۔ یہ واقعہ حسب روایت ابن اسحاق 28 جمادی الاول 13 ہجری (634 عیسوی) میں واقع ہوا۔ اس مہم سے فارغ ہو کر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر دمشق کا رخ کیا۔ اور دمشق پہنچ کر ہر طرف سے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ محاصرہ اگرچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں شروع ہوا، چونکہ فتح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں حاصل ہوئی، اس لئے ہم اس معرکہ کی حال تفصیل سے لکھتے ہیں۔
*فتح دمشق:*
یہ شہر شام کا ایک بڑا صدر مقام تھا اور چونکہ جاہلیت میں اہل عرب تجارت کے تعلق سے اکثر وہاں آیا جایا کرتے تھے، اس کی عظمت کا شہرہ تمام عرب میں تھا۔ ان وجوہ سے خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے اہتمام سے محاصرہ کے سامان کئے۔ شہر پناہ کے بڑے بڑے دروازوں پر ان افسروں کو مقرر کیا، جو شام کے صوبوں کی فتح پر مامور ہو کر آئے تھے۔ چنانچہ عمرو بن العاص باب توما پر، شرجیل باب الفرادیس پر، ابو عبیدہ باب الجلیہ پر متعین ہوئے۔ اور خود خالد نے پانچ ہزار فوج ساتھ لے کر باب الشرق کے قریب ڈیرے ڈالے۔ محاصرہ کی سختی دیکھ کر عیسائی ہمت ہارتے جاتے تھے۔ خصوصاً اس وجہ سے کہ ان کے جاسوس جو دریافت حال کے لئے مسلمانوں کی فوج میں آتے جاتے تھے۔ آ کر دیکھتے تھے کہ تمام فوج میں ایک جوش کا عالم ہے۔ ہر شخص پر ایک نشہ سا چھایا ہوا ہے۔ ہر ہر فرد میں دلیری، ثابت قدمی، راستبازی، عزم اور استقلال پایا جاتا ہے۔ تاہم ان کو یہ سہارا تھا کہ ہرقل سر پر موجود ہے اور حمص سے امدادی فوجیں چل چکی ہیں۔ اسی اثناء میں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتقال کیا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے۔
عیسائیوں کو یہ بھی خیال تھا کہ اہل عرب ان ممالک کی سردی کو برداشت نہیں کر سکتے ، اس لئے موسم سرما تک یہ بادل آپ سے آپ چھٹ جائے گا۔ لیکن ان کی دونوں امیدیں بیکار گئیں۔ مسلمانوں کی سرگرمی جاڑوں کی شدت میں بھی کم نہ ہوئی۔ ادھر خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذوالکلاع کو کچھ فوج دے کر دمشق سے ایک منزل کے فاصلے پر متعین کر دیا تھا کہ ادھر سے مدد نہ آنے پائے۔ چنانچہ ہرقل نے حمص سے جو فوجیں بھیجی تھیں وہیں روک لی گئیں۔ دمشق والوں کو اب بالکل یاس ہو گئی۔ اسی اثناء میں اتفاق سے ایک واقعہ پیش آیا جو مسلمانوں کے حق میں ئائید غیبی کا کام دے گیا۔ یعنی بطریق دمشق کے گھر میں لڑکا پیدا ہوا۔ جس کی تقریب میں تمام شہر نے خوشی کے جلسے کئے اور کثرت سے شرابیں پی کر شام سے پڑ کر سو رہے۔ خالد راتوں کو سوتے کم تھے اور محصورین کی ذرا ذرا سی بات کی خبر رکھتے تھے۔ اس سے عمدہ موقع کہاں ہاتھ آ سکتا تھا۔ اسی وقت اٹھے اور چند بہادر افسروں کو ساتھ لیا۔ شہر پناہ کے نیچے خندق پانی سے لبریز تھی۔ مشک کے سہارے پار اترے اور کمند کے ذریعے سے دیوار پر چڑھ گئے اور جا کر رسی کی سیڑھی کمند سے اٹکا کر نیچے لٹکا دی۔ اور اس ترکیب سے تھوڑی دیر میں بہت سے جانثار (یہ طبری کی روایت ہے۔ بلاذری کا بیان ہے کہ خالد کو عیسائیوں کے جشن کی خبر خود ایک عیسائی نے دی تھی اور سیڑھی بھی عیسائی لائے تھے ) فصیل پر پہنچ گئے۔ خالد نے اتر کر پہلے دربانوں کو تہ تیغ کیا۔ پھر قفل توڑ کر دروازے کھول دیئے۔ ادھر فوج پہلے سے تیار کھڑی تھی۔ دروازے کھلنے کے ساتھ ہی سیلاب کی طرح گھس آئی اور پہرہ کی فوج کو تہ تیغ کر دیا۔ عیسائیوں نے یہ رنگ دیکھ کر شہر پناہ کے تمام دروازے کھول دیئے اور ابو عبیدہ سے ملتجی ہوئے کہ ہم کو خالد سے بچائیے۔ مقسلاط میں جو ٹھٹھیروں کا بازار تھا۔ ابو عبیدہ اور خالد کا سامنا ہوا۔ خالد نے شہر کا جو حصہ فتح کر لیا تھا۔ اگرچہ لڑ کر فتح کیا تھا۔ لیکن ابو عبیدہ نے چونکہ صلح منظور کر لی تھی۔ مفتوحہ حصے میں بھی صلح کی شرطیں تسلیم کر گئیں۔ یعنی نہ غنیمت کی اجازت دی گئی نہ کوئی شخص لونڈی غلام بنایا گیا۔ یہ مبارک فتح جو تمام بلاد شامیہ کی فتح کا دیباچہ تھی رجب 14 ہجری (635 عیسوی) میں ہوئی۔
================== جاری ہے ۔۔۔۔












