دور خلافت راشدہ خلیفہ دوم مراد رسول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ” (قسط نمبر 8) تحریر و پیشکش محمد نوید
دمشق کی شکست نے رومیوں کو سخت برہم کر دیا اور وہ ہر طرف سے جمع ہر کر بڑے زور اور قوت کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلے کے لئے آمادہ ہوئے۔ دمشق کی فتح کے بعد چونکہ مسلمانوں نے اردن کا رخ کیا تھا۔ اس لئے انہوں نے اسی صوبے کے ایک مشہور شہر وسان میں فوجیں جمع کرنی شروع کیں۔ شہنشاہ ہرقل نے دمشق کی امداد کے لئے جو فوجیں بھیجی تھیں اور دمشق تک نہ پہنچ سکی تھیں، وہ بھی اس میں آ کر شامل ہو گئیں۔ اس طرح تیس چالیس ہزار کا مجمع جمع ہو گیا۔ جس کا سپہ سالار سکار نام کا ایک رومی افسر تھا۔
موقعِ جنگ سمجھنے کے لئے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ شام کا ملک چھ ضلعوں میں منقسم ہے جن میں دمشق، حمص، اردن، فلسطین مشہور اضلاع ہیں۔ اردن کا صدر مقام طبریہ ہے جو دمشق سے چار منزل ہے۔ طبریہ کے مشرقی جانب بارہ میل کی لمبی ایک جھیل ہے جس کے قریب چند میل پر ایک چھوٹا سا شہر جس کا پرانا نام سلا اور نیا یعنی عربی نام فحل ہے۔ یہ لڑائی اسی شہر کے نام سے مشہور ہے۔ یہ مقام اب بالکل ویران ہے۔ تاہم اس کے کچھ کچھ آثار اب بھی سمندر کی سطح سے چھ سو فٹ بلندی پر محسوس ہوتے ہیں۔ ہیسان طبریہ کی جنوبی طرف 18 میل پر واقع ہے۔
غرض رومی فوجیں جس طرح ہیسان میں جمع ہوئیں، اور مسلمانوں نے ان کے سامنے فحل پر پڑاؤ ڈالا۔ رومیوں نے اس ڈر سے کہ مسلمان دفعتاً نہ آ پڑیں، آس پاس جس قدر نہریں تھیں سب کے بند توڑ دیئے۔ اور فحل سے ہیسان تک تمام عالم آب ہو گیا۔ کیچڑ اور پانی کی وجہ سے تمام راستے رک گئے لیکن اسلام کا سیلاب کب رک سکتا تھا۔ مسلمانوں کا استقلال دیکھ کر عیسائی صلح پر آمادہ ہوئے اور حضرت ابو عبیدہ کے پاس پیغام بھیجا کہ کوئی شخص سفیر بن کر آئے۔ حضرت ابو عبیدہ نے حضرت معاذ بن جبل کو بھیجا۔ حضرت معاذ رومیوں کے لشکر میں پہنچے تو دیکھا کہ خیمے میں دیبائے زریں کا فرش بچھا ہے وہیں ٹھہر گئے۔ ایک عیسائی نے آ کر کہا کہ گھوڑا میں تھام لیتا ہوں آپ دربار میں جا کر بیٹھئے۔ حضرت معاذ کی بزرگی اور تقدس کا عام چرچا تھا۔ اور عیسائی تک اس سے واقف تھے۔ اس لئے وہ واقعی ان کی عزت کرنا چاہتے تھے اور ان کا باہر کھڑے رہنا ان کو گراں گزرتا تھا۔ حضرت معاذ نے کہا کہ میں اس فرش پر جو غریبوں کا حق چھین کر تیار ہوا ہے بیٹھنا نہیں چاہتا۔ یہ کہہ کر زمین پر بیٹھ گئے۔ عیسائیوں نے افسوس کیا اور کہا کہ ہم تمہاری عزت کرنا چاہتے تھے۔ لیکن تم خود کو اپنی عزت کا خیال نہیں تو مجبوری ہے۔ حضرت معاذ کو غصہ آیا۔ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے اور کہا کہ جس کو تم عزت سمجھتے ہو مجھ کو اس کی پرواہ نہیں۔ اگر زمین پر بیٹھنا غلاموں کا شیوہ ہے تو مجھ سے بڑھ کر کون اللہ کا غلام ہو سکتا ہے ؟
رومی ان کی بے پروائی اور آزادی پر حیرت زدہ تھے ، یہاں تک ایک شخص نے پوچھا کہ مسلمانوں میں تم سے بھی کوئی بڑھ کر ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ” معاذ اللہ یہی بہت ہے کہ میں سب سے کم ترہوں۔ ” رومی چپ ہو گئے۔ حضرت معاذ نے کچھ دیر انتظار کر کے مترجم سے کہا کہ ” ان سے کہہ دو کہ اگر تم کو مجھ سے کچھ نہیں کہنا ہے تو میں واپس جاتا ہوں۔ ” رومیوں نے کہا، ہم کو یہ پوچھنا کہ تم اس طرف کس غرض سے آئے ہو۔ ابی سینا کا ملک تم سے قریب ہے ، فارس کا بادشاہ مر چکا ہے اور سلطنت ایک عورت کے ہاتھ میں ہے۔ ان کو چھوڑ کر تم نے ہماری طرف کیوں رخ کیا؟ حالانکہ ہمارا بادشاہ سب سے بڑا بادشاہ ہے اور تعداد میں ہم آسمان کے ستاروں اور زمین کے ذروں کے برابر ہیں۔ حضرت معاذ نے کہا کہ سب سے پہلے ہماری یہ درخواست ہے کہ تم مسلمان ہو جاؤ۔ ہمارے کعبہ کی طرف نماز پڑھو، شراب پینا چھوڑ دو۔ سور کا گوشت نہ کھاؤ۔ اگر تم نے ایسا کیا تو ہم تمہارے بھائی ہیں۔ اگر اسلام لانا منظور نہیں تو جزیہ دو۔ اس سے بھی انکار ہو تو آگے تلوار ہے۔ اگر تم آسمان کے ستاروں کے برابر ہو تو ہم کو قلت اور کثرت کی پرواہ نہیں۔ ہمارے اللہ نے کہا کہ
*” کم من فئۃِ قلیلۃِ غلبت فئۃً کثیرۃً باذن اللہ “*
تم کو اس پر ناز ہے کہ تم ایسے شہنشاہ کی رعایا ہو جس کو تمہاری جان و مال کا اختیار ہے لیکن ہم نے جس کو اپنا بادشاہ بنا رکھا ہے وہ کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح نہیں دے سکتا۔ اگر وہ زنا کرے تو اس کو درے لگائے جائیں۔ چوری کرے تو ہاتھ کاٹ ڈالے جائیں، وہ پردے میں نہیں بیٹھتا، اپنے آپ کو ہم سے بڑا نہیں سمجھتا، مال و دولت میں اس کو ہم پر ترجیح نہیں۔ ” رومیوں نے کہا ” اچھا ہم تم کو بلقاء کا ضلع اور اردن کا وہ حصہ جو تمہاری زمین سے متصل ہے دیتے ہیں۔ تم یہ ملک چھوڑ کر فارس جاؤ۔ حضرت معاذ نے انکار کیا اور اٹھ کر چلے آئے۔ رومیوں نے براہ راست حضرت ابو عبیدہ ؓ سے گفتگو کرنی چاہی۔ چنانچہ اس غرض سے ایک خاص قافلہ بھیجا۔ جس وقت وہ پہنچا حضرت ابو عبیدہ زمین پر بیٹھے ہوئے تھے اور ہاتھ میں تیر تھے جن کو الٹ پلٹ کر رہے تھے۔ قاصد نے خیال کیا تھا کہ سپہ سالار بڑا جاہ و حشم رکھتا ہو گا۔ اور یہی اس کی شناخت کا ذریعہ ہو گا۔ لیکن وہ جس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا سب ایک رنگ میں ڈوبے نظر آتے تھے۔ آخر گھبرا کر پوچھا کہ تمہارا سردار کون ہے ؟ لوگوں نے حضرت ابو عبیدہ کی طرف اشارہ کیا۔ وہ حیران رہ گیا اور تعجب سے ان کی طرف مخاطب ہو کر کہا کیا درحقیقت تم ہی سردار ہو؟
حضرت ابو عبیدہ نے کہا! ” ہاں ” قاصد نے کہا، ہم تمہاری فوج کو فی کس دو دو اشرفیاں دیں گے ، تم یہاں سے چلے جاؤ۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا۔ قاصد برہم ہو کر اٹھا۔ ابو عبیدہ نے اس کے تیور دیکھ کر فوج کو کمر بندی کا حکم دیا اور تمام حالات حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھ بھیجے (فتوح الشام ازدی میں ہے کہ یہ خط ایک شامی لے کر گیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ترغیب سے مسلمان ہو گیا )۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب مناسب لکھا اور ” حوصلہ دلایا کہ ثابت قدم رہو۔ اللہ تمہارا یاور اور مدد گار ہے۔ ”
حضرت ابو عبیدہ نے اسی دن کمر بندی کا حکم دے دیا تھا۔ لیکن رومی مقابلے میں نہ آئے۔ اگلے دن تنہا حضرت خالد میدان میں گئے۔ صرف سواروں کا رسالہ رکاب میں تھا۔ رومیوں نے بھی تیاری کی اور فوج کے تین حصے کر کے باری باری میدان میں بھیجے۔ پہلا دستہ حضرت خالد ان کی طرف باگیں اٹھائے چلا آتا تھا کہ خالد کے اشارے سے قیس بن ببیرہ نے صف سے نکل کر ان کو روکا اور سخت کشت و خون ہوا۔ یہ معرکہ ابھی سر نہیں ہوا تھا کہ دوسری فوج نکلی۔ حضرت خالد نے سبرۃ بن مسروق کو اشارہ کیا۔ وہ اپنی رکاب کی فوج کو لے کر مقابل ہوئے ، تیسرا لشکر بڑے ساز و سامان سے نکلا۔ ایک مشہور سردار اس کا سپہ سالار تھا۔ اور بڑی تدبیر سے فوج کو بڑھاتا آتا تھا۔ قریب پہنچ کر خود ٹھہر گیا۔ اور ایک افسر کو تھوڑی سی فوج کے ساتھ حضرت خالد کے مقابلہ پر بھیجا۔ حضرت خالد نے یہ حملہ بھی نہایت استقلال سے سنبھالا۔ آخر سپہ سالار نے خود حملہ کیا اور پہلی دونوں فوجیں بھی آ کر مل گئیں، دیر تک معرکہ رہا۔ مسلمانوں کی ثابت قدمی دیکھ کر رومیوں نے زیادہ لڑنا بیکار سمجھا اور الٹا واپس جانا چاہا۔ حضرت خالد نے ساتھیوں کو للکارا کہ رومی اپنا زور صرف کر چکے ہیں۔ اب ہماری باری ہے۔ اس صدا کے ساتھ مسلمان دفعتاً ٹوٹ پڑے اور رومیوں کو برابر دباتے چلے گئے۔
عیسائی مدد کے انتظار میں لڑائی ٹالتے جاتے تھے۔ حضرت خالد ان کی یہ چال سمجھ گئے اور حضرت ابو عبیدہ سے کہا کہ رومی ہم سے مرعوب ہو چکے ہیں۔ حملے کا یہی وقت ہے۔ چنانچہ اسی وقت نقیب فوج میں جا کر پکار آئے کہ کل حملہ ہو گا۔ فوج ساز و سامان سے تیار رہے۔ رات کے پچھلے پہر حضرت ابو عبیدہ بستر خواب سے اٹھے اور فوج کی ترتیب شروع کی۔ حضرت معاذ بن جبل کو میمنہ پر مقرر کیا، ہاشم بن عتبہ کو میسرہ کی افسری دی۔ پیدل فوج پر سعید بن زید متعین ہوئے۔ سوار حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں دیئے گئے۔ فوج آراستہ ہو چکی تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اِس سرے سے اُس سرے تک کا ایک چکر لگایا۔ ایک ایک عَلم کے پاس جا کر کھڑے ہوتے تھے اور کہتے تھے۔
*عباد اللہ استرحوا من اللہ النصر بالصبر فان اللہ مع الصبرین۔*
*”یعنی اللہ سے مدد چاہتے ہو تو ثابت قدم رہو کیونکہ اللہ ثابت قدموں کے ساتھ رہتا ہے۔ “*
رومیوں نے جو تقریباً 50 ہزار تھے آگے پیچھے پانچ صفیں قائم کیں جن کی ترتیب یہ تھی کہ پہلی صف میں ہر ہر سوار کے دائیں بائیں دو دو قدر انداز، میمنہ اور میسرہ پر سواروں کے رسالے ، پیچھے پیادہ فوجیں، اس ترتیب سے نقارہ دمامہ بجاتے مسلمانوں کی طرف بڑھے۔ حضرت خالد چونکہ ہراول پر تھے۔ پہلے انہی سے مقابلہ ہوا۔ رومی قدر اندازوں نے تیروں کا اس قدر مینہ برسایا کہ مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ادھر سے پہلو دے کر میمنہ کی طرف جھکے کیونکہ اس میں سوار ہی سوار تھے ، قدر انداز نہ تھے۔ رومیوں کے حوصلے اس قدر بڑھ گئے کہ میمنہ کا رسالہ فوج سے الگ ہو کر حضرت خالد پر حملہ آور ہوا۔ خالد آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ رسالہ فوج سے دور نکل آیا۔ حضرت خالد نے موقع پا کر اس زور سے حملہ کیا کہ صفیں کی صفیں الٹ دیں۔ گیارہ بڑے بڑے افسر ان کے ہاتھ سے مارے گئے۔ ادھر قیس بن ہبیرہ نے میسرہ پر حملہ کر کے دوسرا بازو بھی کمزور کر دیا۔ تاہم قلب کی فوج تیر اندازوں کی وجہ سے محفوظ تھی۔ ہاشم بن عتبہ نے جو میسرہ کے سردار تھے علم ہلا کر کہا:
*” اللہ کی قسم جب تک قلب میں پہنچ کر عَلم نہ گاڑوں گا، پھرکر نہ آؤں گا۔ “*
یہ کہہ کر گھوڑے سے کود پڑے۔ ہاتھ میں سپر لے کر لڑتے بھڑتے اس قدر قریب پہنچ گئے کہ تیر و خدنگ سے گزر کر تیغ و شمشیر کی نوبت آئی۔ کامل گھنٹہ بھر لڑائی رہی۔ اور تمام میدان خون سے رنگین ہو گیا۔ آخر رومیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور نہایت بدحواسی سے بھاگے۔ حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نامۂ فتح لکھا اور پوچھا کہ مفتوحین کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ (واقعہ محل کی تفصیل فتوح شام ازدی سے لی گئی ہے۔ طبری وغیرہ نے نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے اور واقعہ کی کیفیت میں بھی اختلاف ہے )۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب میں لکھا کہ ” رعایاؤی قرار دی جائے اور زمین بدستور زمینداروں کے قبضے میں چھوڑ دی جائے۔ ”
اس معرکے کے بعد ضلع اردن کے تمام شہر اور مقامات نہایت آسانی سے فتح ہو گئے۔ اور ہر جگہ شرائط صلح میں یہ لکھ دیا گیا کہ مفتوحین کی جان، مال، زمین، مکانات، گرجے ، عبادت گاہیں سب محفوظ رہیں گے۔ صرف مسجدوں کی تعمیر کے لئے کس قدر زمین لی جائے گی۔
*فتح حمص ۱۴ ہجری (635 عیسوی):*
=========================
شام کے اضلاع میں سے یہ ایک بڑا ضلع اور قدیم شہر ہے۔ انگریزی میں اکوامیشا کہتے ہیں۔ قدیم زمانے میں اس کی شہرت زیادہ اس وجہ سے ہوئی کہ یہاں آفتاب کے نام پر ایک بڑا ہیکل تھا جس کے تیرتھ کے لئے دور دور سے لوگ آتے تھے اور اس کی پجاری ہونا بڑے فخر کی بات سمجھی جاتی تھی۔ دمشق اور اردن کے بعد تین بڑے بڑے شہر رہ گئے تھے جن کا مفتوح ہونا شام کا مفتوح ہونا تھا۔ بیت المقدس، حمص اور انطاکیہ، جہاں خود ہرقل مقیم تھا۔ حمص ان دونوں کی بہ نسبت زیادہ قریب اور جمعیت و سامان میں دونوں سے کم تھا۔ اس لئے لشکر اسلام نے اول اسی کا ارادہ کیا۔ راہ میں بعلبک پڑتا تھا وہ خفیف سی لڑائی کے بعد فتح ہو گیا۔ حمص کے قریب رومیوں نے خود بڑھ کر مقابلہ کرنا چاہا۔ چنانچہ فوج کثیر حمص سے نکل کر جوسیہ میں مسلمانوں کے مقابل ہوئی لیکن حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلے ہی حملے میں ان کے پاؤں اکھڑ گئے۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے مبرہ بن مسروق کو تھوڑی سی فوج دے کر حمص کو روانہ کیا۔ راہ میں رومیوں کی ٹوٹی پھوٹی فوجوں سے جو ادھر ادھر پھیلی ہوئی تھیں مڈ بھیڑ ہوئی اور مسلمان کامیاب رہے۔
مبرۃ کے بعد حضرت خالد نے اور حضرت ابو عبیدہ نے بھی حمص کا رخ کیا۔ اور محاصرہ کے سامان پھیلا دیئے۔ چونکہ نہایت شدت کی سردی تھی اور رومیوں کو یقین تھا کہ مسلمان کھلے میدان میں دیر تک نہ لڑ سکیں گے۔ اس کے ساتھ ہرقل کا قاصد آ چکا تھا کہ بہت جلد امدادی فوج بھیجی جاتی ہے۔ چنانچہ اس حکم کے موافق جزیرہ سے ایک جمعیت عظیم روانہ ہوئی۔ لیکن حضرت سعد بن ابی وقاص نے جو عراق کی مہم پر مامور تھے ، یہ خبر سن کر کچھ فوجیں بھیج دیں۔ جس نے ان کو وہیں روک لیا اور آگے بڑھنے نہ دیا۔ (کاکل ابن الاثیر)۔ حمص والوں نے ہر طرف سے مایوس ہو کر صلح کی درخواست کی۔ حضرت ابو عبیدہ نے عبادہ بن صامت کو وہاں چھوڑا اور خود حماۃ (یہ ایک قدیم شہر حمص اور قنسرین کے درمیان واقع ہے ) کی طرف روانہ ہو گئے۔ حماۃ والوں نے ان کے پہنچنے کے ساتھ صلح کی درخواست کی اور جزیہ دینا منظور کیا۔ وہاں سے روانہ ہو کر شیرز اور شیرز سے معرۃ العمان پہنچے اور ان مقامات کے لوگوں نے خود اطاعت قبول کر لی۔
ان سے فارغ ہو کر لاذقیہ کا رخ کیا۔ یہ ایک نہایت قدیم شہر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عہد میں اس کو اماثنا کہتے تھے۔ حضرت ابو عبیدہ نے یہاں سے کچھ فاصلہ پر مقام کیا۔ اور اس کی مضبوطی اور استواری دیکھ کر ایک نئی تدبیر اختیار کی۔ یعنی میدان میں بہت سے غار کھدوائے۔ یہ غار اس تدبیر اور احتیاط سے تیار ہوئے کہ دشمنوں کو خبر تک نہ ہونے پائی۔ ایک دن فوج کو کوچ کا حکم دیا۔ اور محاصرہ چھوڑ کر حمص کی طرف روانہ ہوئے۔ شہر والوں نے جو مدت کی قلعہ بندی سے تنگ آ گئے تھے اور ان کا تمام کاروبار بند تھا۔ اس کو تائید غیبی خیال کیا۔ اور شہر پناہ کا دروازہ کھول کر کاروبار میں مصروف ہوئے۔ مسلمان اسی رات کو واپس آ کر غاروں میں چھپ رہے تھے۔ صبح کے وقت کمین گاہوں سے نکل کر دفعتہً حملہ کیا اور دم بھر میں شہر فتح ہو گیا۔ حمص کی فتح کے بعد حضرت ابو عبیدہ نے خاص ہرقل کے پائے تخت کا ارادہ کیا اور کچھ فوجیں اس طرف بھیج بھی دیں۔ لیکن دربار خلافت سے حکم پہنچا کہ اس سال اور آگے بڑھنے کا ارادہ نہ کیا جائے۔ چنانچہ اس ارشاد کے موافق فوجیں واپس بلا لی گئیں۔ اور بڑے بڑے شہروں میں افسر اور نائب بھیج دیئے گئے کہ وہاں کسی طرح کی ابتری نہ ہونے پائے۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک ہزار فوج کے ساتھ دمشق چلے گئے۔ حضرت عمرو بن العاص نے اردن میں مقام کیا۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود حمص میں اقامت کی۔
*جنگ یرموک:*
==========
رومی جو شکست کھا کھا کر دمشق و حمص وغیرہ سے نکلے تھے۔ انطاکیہ پہنچے۔ ہرقل سے فریاد کی کہ عرب نے تمام شام کو پامال کر دیا۔ ہرقل نے ان میں سے چند ہوشیار اور معزز آدمیوں کو دربار میں طلب کیا اور کہا کہ ” عرب تم سے زور میں جمعیت میں، ساز و سامان میں کم ہیں پھر تم ان کے مقابلے میں کیوں نہیں ٹھہر سکتے۔ ” اس پر سب نے سر جھکا لیا۔ اور کسی نے کچھ جواب نہ دیا۔ لیکن ایک تجربہ کار بڈھے نے عرض کی کہ ” عرب کے اخلاق ہمارے اخلاق سے اچھے ہیں۔ وہ رات کو عبادت کرتے ہیں، دن کو روزے رکھتے ہیں، کسی پر ظلم نہیں کرتے۔ آپس میں ایک سے ایک برابری کے ساتھ ملتا ہے۔ ہمارا یہ حال ہے کہ شراب پیتے ہیں، بد کاریاں کرتے ہیں، اقرار کی پابندی نہیں کرتے ، اوروں پر ظلم کرتے ہیں۔ اس کا یہ اثر ہے کہ ان کے کام میں جوش اور استقلال پایا جاتا ہے۔ اور ہمارا جو کام ہوتا ہے ہمت اور استقلال سے خالی ہوتا ہے۔ قیصر درحقیقت شام سے نکل جانے کا ارادہ کر چکا تھا۔ لیکن ہر شہر اور ہر ضلع سے جوق در جوق عیسائی فریادی چلے آتے تھے۔ قیصر کو سخت غیرت آئی اور نہایت جوش کے ساتھ آمادہ ہوا کہ شہنشاہی کا پورا زور عرب کے مقابلے میں صرف کر دیا جائے۔ روم، قسطنطنیہ، جزیرہ، آرمینیہ ہر جگہ احکام بھیجے کہ تمام فوجیں پائے تخت انطاکیہ میں ایک تاریخ معین تک حاضر ہو جائیں۔ تمام اضلاع کے افسروں کو لکھ بھیجا کہ جس قدر آدمی جہاں سے مہیا ہو سکیں روانہ کئے جائیں۔ ان احکام کا پہنچنا تھا کہ فوجوں کا ایک طوفان امنڈ آیا۔ انطاکیہ کے چاروں طرف جہاں تک نگاہ جاتی تھی فوجوں کا ٹڈی دل پھیلا ہوا تھا۔
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو مقامات فتح کئے تھے۔ وہاں کے امراء اور رئیس ان کے عدل و انصاف کے اس قدر گرویدہ ہو گئے تھے کہ باوجود مخالف مذہب کے خود اپنی طرف سے دشمن کی خبر لانے کے لیے جاسوس مقرر کر رکھے تھے۔ چنانچہ ان کے ذریعے سے حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تمام واقعات کی اطلاع ہوئی۔ انہوں نے تمام افسروں کو جمع کیا۔ اور کھڑے ہو کر ایک پر اثر تقریر کی جس کا خلاصہ یہ تھا کہ:
*مسلمانوں! خدا نے تم کو بار بار جانچا اور تم اس کی جانچ پر پورے اترے۔ چنانچہ اس کے صلہ میں خدا نے ہمیشہ تم کو منصور رکھا۔ اب تمہارا دشمن اس ساز و سامان سے تمہارے مقابلہ کے لیے چلا ہے کہ زمین کانپ اٹھی ہے۔ اب بتاؤ کیا صلاح ہے ؟*
یزید بن ابی سفیان (معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بھائی) کھڑے ہوئے اور کہا کہ:
” میری رائے ہے کہ عورتوں اور بچوں کو شہر میں رہنے دیں۔ اور ہم خود شہر کے باہر لشکر آرا ہوں۔ اس کے ساتھ حضرت خالد اور عمرو بن العاص کو خط لکھا جائے کہ دمشق اور فلسطین سے چل کر مدد کو آئیں۔ ”
حضرت شرجیل بن حسنہ نے کہا کہ اس موقع پر ہر شخص کو آزادانہ رائے دینی چاہیے۔ یزید نے جو رائے دی بلا شبہ خیر خواہی سے دی ہے لیکن میں اس کا مخالف ہوں۔ شہر والے تمام عیسائی ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ تعصب سے ہمارے اہل و عیال کو پکڑ کر قیصر کے حوالے کر دیں۔ یا خود مار ڈالیں۔ حضرت ابو عبیدہ نے کہا کہ اس کی تدبیر یہ ہے کہ ہم عیسائیوں کو شہر سے نکال دیں۔ شرجیل نے اٹھ کر کہا اے امیر! تجھ کو ہر گز یہ حق حاصل نہیں۔ ہم نے ان عیسائیوں کو اس شرط پر امن دیا ہے کہ وہ شہر میں اطمینان سے رہیں۔ اس لئے نقض عہد کیونکر ہو سکتا ہے۔ حضرت ابو عبیدہ نے اپنی غلطی تسلیم کی لیکن یہ بحث طے نہیں ہوئی کہ آخر کیا کیا جائے۔
*مسلمان جزیہ واپس کرتے ہیں :*
عام حاضرین نے رائے دی کہ حمص میں ٹھہر کر امدادی فوج کا انتظار کیا جائے۔ ابو عبیدہ نے کہا کہ اتنا وقت کہاں ہے ؟ آخر یہ رائے ٹھہری کہ حمص کو چھوڑ کر دمشق روانہ ہوں۔ وہاں حضرت خالد موجود ہیں اور عرب کی سرحد قریب ہے۔ یہ ارادہ مصمم ہر چکا تو حضرت ابو عبیدہ نے حبیب بن مسلمہ کو جو افسر خزانہ تھے بلا کر کہا کہ عیسائیوں سے جو جزیہ یا خراج لیا جاتا ہے اس وقت ہماری حالت ایسی نازک ہے کہ ہم ان کی حفاظت کا ذمہ نہیں اٹھا سکتے۔ اس لیے جو کچھ ان سے وصول ہوا ہے۔ سب ان کو واپس دے دو۔ اور ان سے کہہ دو کہ تمہارے ساتھ جو تعلق تھا اب بھی ہے۔ لیکن چونکہ اس وقت تمہاری حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے اس لیے جزیہ جو حفاظت کا معاوضہ ہے واپس کیا جاتا ہے۔ چنانچہ کئی لاکھ کی رقم جو وصول ہوئی تھی کل واپس کر دی گئی۔
عیسائیوں پر اس واقعہ کا اس قدر اثر ہوا کہ وہ روتے جاتے تھے اور جوش کے ساتھ کہتے جاتے تھے کہ خدا تم کو واپس لائے۔ یہودیوں پر اس سے بھی زیادہ اثر ہوا۔ انہوں نے کہا:
*” تورات کی قسم جب تک ہم زندہ ہیں، قیصر حمص پر قبضہ نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر شہر پناہ کے دروازے بند کر دیئے۔ اور ہر جگہ چوکی پہرہ بٹھا دیا۔*
حضرت ابو عبیدہ نے صرف حمص والوں کے ساتھ یہ برتاؤ نہیں کیا بلکہ جس قدر اضلاع فتح ہو چکے تھے ہر جگہ لکھ بھیجا کہ جزیہ کی جس قدر رقم وصول ہوئی ہے واپس کر دی جائے۔
(ان واقعات کو بلاذری نے فتوح البلدان میں، قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج میں ، ازدی نے فتوح الشام میں تفصیل سے لکھا ہے )۔
غرض ابو عبیدہ دمشق کو روانہ ہوئے (میں نے یہ تفصیلی واقعات فتوح الشام ازدی سے لیے ہیں۔ لیکن ابو عبیدہ کا حمص چھوڑ کر دمشق چلا آنا ابن واضح عباسی اور دیگر مورخوں نے بھی بیا ن کیا ہے۔ ) اور ان تمام حالات کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر کہ مسلمان رومیوں کے ڈر سے حمص سے چلے آئے۔ نہایت رنجیدہ ہوئے لیکن جب ان کو یہ معلوم ہوا کل فوج اور افسران نے یہی فیصلہ کیا تو فی الجملہ تسلی ہوئی اور فرمایا کہ خدا نے کسی مصلحت سے تمام مسلمانوں کو اس رائے پر متفق کیا ہو گا۔ حضرت ابو عبیدہ نے جواب میں لکھا کہ ” میں مدد کے لیے سعد بن ابی عامر کو بھیجتا ہوں۔ لیکن فتح و شکست فوج کی قلت و کثرت پر نہیں ہے۔ حضرت ابو عبیدہ نے دمشق پہنچ کر تمام افسروں کو جمع کیا اور ان سے مشورت کی۔ یزید بن ابی سفیان، شرجیل بن حسنہ، معاذ بن جبل، سب نے مختلف رائے دیں۔ اسی اثناء میں حضرت عمرو بن العاص کا قاصد خط لے کر پہنچا جس کا یہ مضمون تھا کہ ” اردن کے اضلاع میں عام بغاوت پھیل گئی ہے۔ رومیوں کی آمد آمد نے سخت تہلکہ ڈال دیا ہے اور حمص کو چھوڑ کر چلے آنا نہایت بے رعبی کس سبب ہوا ہے۔ ” ابو عبیدہ نے جواب میں لکھا کہ حمص کو ہم نے ڈر کر نہیں چھوڑا بلکہ مقصود یہ تھا کہ دشمن محفوظ مقامات سے نکل آئے اور اسلامی فوجیں جا بجا پھیلی ہوئی ہیں یکجا ہو جائیں۔ خط میں یہ بھی لکھا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ٹلو، میں وہیں آ کر تم سے ملتا ہوں۔
دوسرے دن ابو عبیدہ دمشق سے روانہ ہو گئے اور اردن کی حدود میں یرموک پہنچ کر قیام کیا۔ عمرو بن العاص بھی یہیں آ کر ملے ، یہ موقع جنگ کی ضرورتوں کے لیے اس لحاظ سے مناسب تھا کہ عرب کے سرحد بہ نسبت اور تمام مقامات کے یہاں سے قریب تھی۔ اور پشت پر عرب کی سرحد تک کھلا میدان تھا۔ جس سے یہ موقع حاصل تھا کہ ضرورت پر جہاں تک چاہیں پیچھے ہٹتے جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سعید بن عامر کے ساتھ جو فوج روانہ کی تھی وہ ابھی نہیں پہنچی تھی۔ ادھر رومیوں کی آمد اور ان کے سامان کا حال سن سن کر مسلمان گھبرائے جاتے تھے۔ حضرت ابو عبیدہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک قاصد دوڑایا۔ اور لکھا کہ ” رومی بحر و بر سے اُبل پڑے ہیں۔ اور جوش کا یہ حال ہے کہ فوج جس راہ سے گزرتی ہے راہب اور خانقاہ نشین جنہوں نے کبھی خلوت سے قدم باہر نہیں نکالا تھا۔ نکل نکل کر فوج کے ساتھ ہوتے جاتے ہیں۔ ” خط پہنچا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور خط پڑھ کر سنایا۔ تمام صحابہ بے اختیار رہ پڑے اور نہایت جوش کے ساتھ پکار کر کہا کہ ” امیر المومنین، خدا کے لیے ہم کو اجازت دیجیئے کہ ہم اپنے بھائیوں پر جا کر نثار ہو جائیں۔ خدانخواستہ ان کا بال بیکا ہوا تو پھر جینا بے سود ہے۔ مہاجر و انصار کا جوش بڑھتا جاتا تھا یہاں تک کہ عبد الرحمٰن بن عوف نے کہا کہ امیر المومنین، تو خود سپہ سالار بن اور ہم کو ساتھ لے کر چل، لیکن اور صحابہ نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ اور رائے یہ ٹھہری کہ اور امدادی فوجیں بھیجی جائیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاصد سے دریافت کیا کہ دشمن کہاں تک آ گئے ہیں؟ اس نے کہا کہ یرموک سے تین چار منزل کا فاصلہ رہ گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت غمزدہ ہوئے اور فرمایا کہ ” افسوس اب کیا ہو سکتا ہے ؟ اتنے عرصہ میں کیونکر مدد پہنچ سکتی ہے۔ ” ابو عبیدہ کے نام نہایت پُر تاثیر الفاظ میں ایک خط لکھا اور قاصد سے کہا کہ خود ایک ایک صف میں جا کر یہ خط سنانا اور زبانی کہنا۔
*الاعمر یفرلگ السلام و یقول لکم یا احل الاسلام اصدقو اللقاء و تشدوا علیھم شد اللبوت ولیکونوا اھون علیکم من اللو فانا قد کما علمنا الکم علیھم منصورون۔*
یہ ایک عجیب حسن اتفاق ہوا کہ جس دن قاصد ابو عبیدہ کے پاس آیا۔ اسی دن عامر بھی ہزار آدمی کے ساتھ پہنچ گئے۔ مسلمانوں کو نہایت تقویت ہوئی اور انہوں نے نہایت استقلال کے ساتھ لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔ رومی فوجیں یرموک کے مقابل دیر الجبل میں اتریں۔
================== جاری ہے ۔۔۔












