عہد خلافت راشدہ امیر المومینین خلیفہ دوم مراد رسول حضرت_عمر_فاروق_رضی_اللہ_عنہ
قسط_نمبر_17
پیشکش : محمدنوید
#محصولات /خراج(ٹیکس)
==================
خراج کا باقائدہ نظم و نسق عرب کی تاریخ تمدن میں ایک نیا اضافہ تھا۔ اسلام سے پہلے اگرچہ عرب کے مختلف خاندان تاج و تخت کے مالک ہوئے جنہوں نے سلطنت کے تمام کاروبار قائم کر دیئے تھے۔ لیکن محاصل کا باقاعدہ انتظام بالکل موجود نہ تھا۔ اسلام کے آغاز میں اس قدر ہوا کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے درخواست کی کہ زراعت کا کام ہم اچھا جانتے ہیں اس لیے زمین ہمارے ہی قبضے میں چھوڑ دی جائے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کی درخواست منظور کر لی اور بٹائی پر معاملہ ہو گیا۔ اس کے سوا جن مقامات کے باشندے سب مسلمان ہو گئے تھے ، ان کی زمین پر عشر مقرر کر دیا۔ جو ایک قسم کی زکوٰۃ تھی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں عراق کے کچھ حصے فتح ہوئے ، لیکن خراج وغیرہ کا کچھ انتظام نہ ہوا۔ بلکہ سرسری طور پر کچھ رقم مقرر کر دی گئی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب مہمات کی طرف سے فی الجملہ اطمینان ہوا یعنی 16 ہجری میں ادھر عراق عرب پر پورا قبضہ ہو گیا اور اس طرف یرموک کی فتح نے رومیوں کی قوت کا استیصال کر دیا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خراج کے نظم و نسق کی طرف توجہ کی۔ اس مرحلے میں پہلی یہ مشکل پیش آئی کہ امرائے فوج نے اصرار کیا کہ تمام مفتوحہ مقامات صلہ فتح کے طور پر ان کی جاگیر میں عنایت کئے جائیں۔ اور باشندوں کو ان کی غلامی میں دے دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عراق کی فتح کے ساتھ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وہاں کی مردم شماری کے لیے حکم دیا تھا۔ سعد نے نہایت جانچ کے ساتھ مردم شماری کا کاغذ مرتب کر کے بھیجا۔ کل باشندوں اور اہل فوج کی تعداد کا موازنہ کیا گیا۔ تو ایک ایک مسلمان کے حصے تین تین آدمی پڑتے تھے۔ اسی وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ رائے قائم ہو چکی تھی کہ زمین باشندوں کے قبضہ میں رہنے دی جائے۔ اور ان کو ہر طرح پر آزاد چھوڑ دیا جائے (طبری صفحہ 467 و فتوح البلدان صفحہ 266 کتاب الخراج صفحہ 21)۔
لیکن اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ اہل فوج کے ہم زبان تھے. حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ استدلال پیش کرتے تھے کہ اگر ممالک مفتوح فوج کو تقسیم کر دیئے جائیں تو آئندہ افواج کی تیاری، بیرونی حملوں کی حفاظت، ملک کے امن و امان قائم رکھنے کے مصارف کہاں سے آئیں گے۔ عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے کہ جن کی تلواروں نے ملک کو فتح کیا ہے انہی کو قبضے کا بھی حق ہے۔ آئندہ نسلیں مفت کیونکر پا سکتی ہیں۔ چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت میں جو فیصلہ ہوتا تھا کثرت رائے پر ہوتا تھا، اس لیے عام اجلاس ہوا۔ جس میں تمام قدماء مہاجرین و انصار میں سے پانچ اور قبیلہ اوس اور قبیلہ خزرج کے سردار، وکیل کے طور پر شریک ہوئے۔ (کتاب الخراج صفحہ 14)۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا۔ تاہم کوئی فیصلہ نہ ہو سکا۔ کئی دن تک یہ مرحلہ درپیش رہا۔
*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا استدلال:*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دفعتہً قرآن مجید کی ایک آیت یاد آئی جو بحث کے لیے نص قاطع تھی یعنی ” للفقرآء المھاجرین الذین اخرجوا من دیارھم و امولھم الخ” اس آیت کے آخر میں فقرے والذین جاءوا من بعدھم سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ استدلال کیا کہ فتوحات میں آئندہ نسلوں کا بھی حق ہے لیکن اگر فاتحین کو تقسیم کر دیا جائے تو آنے والی نسلوں کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھڑے ہو کر نہایت پرزور تقریر کی اور اس آیت کو استدلال میں پیش کیا۔ تمام لوگ بول اٹھے کہ ” بے شبہ آپ کی رائے بالکل صحیح ہے۔ ” اس استدلال کی بناء پر یہ اصول قائم ہو گیا کہ جو ممالک فتح کئے جائیں وہ فوج کی ملک نہیں ہیں بلکہ حکومت کی ملک قرار پائیں گے اور پچھلے قابضین کو بے دخل نہیں کیا جائے گا۔ اس اصول کے قرار پانے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ممالک مفتوحہ کے بندوبست پر توجہ کی۔
*عراق کا بندوبست:*
عراق چونکہ عرب سے نہایت قریب اور عربوں کے آباد ہو جانے کی وجہ سے عرب کا ایک صوبہ بن گیا تھا۔ بندوبست کا طریقہ سب سے پہلے وہیں سے شروع کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک اصول یہ بھی تھا کہ ہر ایک ملک کے انتظام میں وہاں کے قدیم رسم و رواج سے واقفیت حاصل کرتے تھے اور اکثر حالتوں میں کسی قدر اصلاح کے ساتھ قدیم انتظامات کو بحال رکھتے تھے۔ عراق میں اس وقت مال گزاری کا جو طریقہ جاری تھا یہ تھا یہ ہر ایک قسم کی مزروعہ زمین پر ایک خاص شرح کے لگان مقرر تھے۔ جو تین قسطوں میں ادا کئے جاتے تھے۔ یہ طریقہ سب سے پہلے کے قباد نے قائم کیا تھا۔ اور نوشیروان نے اس کی تکمیل کی تھی۔ نوشیروان تک تعین لگان میں یہ اصول ملحوظ رہتا تھا کہ اصل پیداوار کے نصف سے زیادہ نہ ہونے پائے۔ لیکن خسرو پرویز نے اس پر اضافہ کیا۔ اور یزدگرد کے زمانے میں اور بھی تبدیلیاں ہوئیں۔ (کتاب الاوائل ذکر اول من غیر سنۃ ساسان و ذکر اول من وضع الخراج)۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید تحقیقات کے لحاظ سے پیمائش کا حکم دیا۔ اس کام کے لیے چونکہ دیانت کے ساتھ مساحتہ سے واقف ہونا ضروری تھا۔ اور عرب میں اس قسم کے فنون اس وقت رائج نہ تھے اس لیے فی الجملہ دقت پیش آئی۔ آخر دو شخص انتخاب کئے گئے۔ عثمان بن حنیف اور حذیفہ بن الیمان۔
*افسران کا بندوبست:*
یہ دونوں بزرگ اکابر صحابہ میں سے تھے۔ اور عراق میں زیادہ تر رہنے سے اس قسم کے کاموں سے واقف ہو گئے تھے۔ خصوصاً عثمان بن حنیف کو اس فن میں پوری مہارت حاصل تھی۔ قاضی ابو یوسف صاحب نے کتاب الخراج میں لکھا ہے کہ انہوں نے اس تحقیق اور صحت کے ساتھ پیمائش کی جس طرح قیمتی کپڑا ناپا جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیمائش کا پیمانہ خود اپنے دست مبارک سے تیار کر کے دیا۔ کئی مہینے تک بڑے اہتمام اور جانچ کے ساتھ پیمائش کا کام جاری رہا۔
*عراق کا کل رقبہ:*
کل رقبہ طول میں 375 میل اور عرض میں 240 یعنی کل 3000 میل مکسر ٹھہرا۔ اور پہاڑ اور صحرا اور نہروں کو چھوڑ کر قابل زراعت زمیں تین کروڑ ساتھ لاکھ جریب ٹھہری۔
(1) خاندان شاہی کی جاگیر
(2) آتش کدوں کے اوقاف
(3) لا وارث
(4) مفروروں اور
(5) باغیوں کی جائیداد
(6) وہ زمینیں جو سڑکوں کی تیاری اور درستی اور ڈاک کے مصارف کے لیے مخصوس تھیں
(7) دریا برد
(8) جنگل اور تمام زمینوں کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خالصہ قرار دے کر ان کی آمدنی جس کی تعداد سالانہ ستر لاکھ (7000000) تھی رفاہ عام کے کاموں کے لیے مخصوص کر دی۔ کبھی کبھی کسی شخص کو اسلامی کوششوں کے صلے میں جاگیر عطا کی جاتی تھی تو انہی زمینوں سے کی جاتی تھی۔ لیکن یہ جاگیریں کسی حال میں خراج یا عشر سے مستثنیٰ نہیں ہوتی تھیں۔ باقی تمام زمین قدیم قبضہ داروں کو دے دی گئی۔ اور حسب ذیل لگان مقرر کیا گیا۔
*لگان کی شرح:*
گیہوں فی جریب یعنی پون بیگھ پختہ دو درہم سال
جو فی جریب یعنی پون بیگھ پختہ ایک درہم سال
نیشکر فی جریب یعنی پون بیگھ پختہ چھ درہم سال
روئی فی جریب یعنی پون بیگھ پختہ پانچ درہم سال
انگور فی جریب یعنی پون بیگھ پختہ دس درہم سال
نخلستان فی جریب یعنی پون بیگھ پختہ دس درہم سال
بعض بعض جگہ زمین کی پیداوار کے اعتبار سے اس شرح میں تفاوت بھی ہوا۔ یعنی گیہوں پر فی جریب 4 درہم اور جو پر 2 درہم مقرر ہوئے۔
*عراق کا خراج:*
افتادہ زمین پر بشرطیکہ قابل زراعت ہو، دو جریب پر ایک درہم مقرر ہوا۔ اس طرح کل عراق کا خراج 8 کروڑ ساٹھ لاکھ درہم ٹھہرا۔ چونکہ پیمائش کے مہتمم مختلف لیاقت کے تھے ، اس لیے تشخیص جمع میں بھی فرق رہا۔ تاہم جہاں جس قدر جمع مقرر کی گئی اس سے زیادہ مالکان اراضی کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ذمی رعایا کا اس قدر خیال تھا کہ دونوں افسروں کو بلا کر کہا کہ تم نے تشخیص جمع میں سختی تو نہیں کی؟ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ نہیں۔ بلکہ ابھی اس قدر اور گنجائش ہے۔ (کتاب الخراج صفحہ)۔
*زمیندار اور تعلقہ دار:*
جو لوگ قدیم سے زمیندار اور تعلقہ دار تھے اور جن کو ایرانی زبان میں مرزبان اور دہقان کہتے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی حالت اسی طرح قائم رہنے دی اور ان کے جو اختیارات اور حقوق تھے سب بحال رکھے۔ جس خوبی سے بندوبست کیا گیا تھا اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ لگان کی شرحیں نوشیروان کی مقرر کردہ شرحوں سے زائد تھیں، تاہم نہایت کثرت سے افتادہ زمینیں آباد ہو گئیں اور دفعۂ زراعت کی پیداوار میں ترقی ہو گئی۔
*محصولات ۔ خراج (ٹیکس) ②*
======================
*ہر سال مال گزاری کی نسبت رعایا کی اظہار لیا جانا:*
ہر سال جب عراق کا خراج آتا تھا تو دس ثقہ اور معتمد اشخاص کوفہ سے اور اسی قدر بصرہ سے طلب کئے جاتے تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو چار دفعہ شرعی قسم دلاتے تھے کہ یہ مال گزاری کسی ذمی یا مسلمان پر ظلم کر کے تو نہیں لی گئی ہے۔ (کتاب الخراج صفحہ 165، اصل عبارت یہ ہے :
ان عمر ابن الخطاب کان من یحی العراق کل سنۃ مائۃ الف الف اوقیہ ثم یخرج الیہ عشرۃ من اھل الکوفۃ و عشرۃ من اھل البصرۃ یشھدون اربع شھادات باللہ انہ من طیب مافیہ طلم مسلم و لا معاھد 12)”
یہ عجیب بات ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اگرچہ نہایت نرمی سے خراج مقرر کیا تھا لیکن جس قدر مال گزاری ان کے عہد میں وصول ہوئی زمانہ مابعد میں کبھی وصول نہیں ہوئی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جس قدر خراج وصول ہوا زمانہ بعد میں کبھی نہیں ہوا
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ حجاج پر خدا لعنت کرے کمبخت کو نہ دین کی لیاقت تھی نہ دنیا کی۔ عمر بن الخطاب نے عراق کی مال گزاری 10 کروڑ 28 لاکھ درہم وصول کی، زیاد نے 10 کروڑ 15 لاکھ اور حجاج نے باوجود جبر و ظلم کے صرف 2 کروڑ 8 لاکھ وصول کئے۔ (معجم البلدان ذکر سواد)۔ مامون الرشید کا زمانہ عدل و انصاف کے لیے مشہور ہے لیکن اس کے عہد میں بھی عراق کے خراج کی تعداد 5 کروڑ 48 لاکھ درہم سے کبھی نہیں بڑھی۔
جہاں تک ہم کو معلوم ہے عراق کے سوا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کسی صوبے کی پیمائش نہیں کرائی۔ بلکہ جہاں جس قسم کا بندوبست تھا اور بندوبست کے جو کاغذات پہلے سے تیار تھے ان کو اسی طرح قائم رکھا۔ یہاں تک کہ دفتر کی زبان تک نہیں بدلی، یعنی جس طرح اسلام سے پہلے عراق و ایران کا دفتر فارسی میں، شام کا رومی میں، مصر کا قبطی میں تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں بھی اسی طرح رہا۔ خراج کے محکمے میں جس طرح قدیم سے پارسی یونانی اور قطبی ملازم تھے بدستور بحال رہے۔ تاہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قدیم طریقہ انتظام میں جہاں کچھ غلطی دیکھی اس کی اصلاح کر دی، چنانچہ اس کی تفصیل آگے آتی ہے۔
*مصر میں فرعون کے زمانے کے قواعد مال گزاری:*
مصر میں فرعون کے زمانے میں جو بندوبست ہوا تھا۔ ٹالومیز (بطالمہ) نے بھی قائم رکھا۔ اور رومن ایمپائر میں بھی وہی جاری رہا۔ فرعون نے تمام اراضی کی پیمائش کرائی تھی اور تشخیص جمع اور طریقہ ادا کے مقدم اصول یہ قرار دیئے تھے :
1 – خراج نقد اور اصل پیداوار دونوں طریقوں سے وصول کیا جائے۔
2 – چند سالوں کی پیداوار کا اوسط نکال کر اس کے لحاظ سے جمع تشخیص کی جائے۔
3 – بندوبست چار سالہ ہو۔
پروفیسر Frvan Bergho نے ایک کتاب فرنچ زبان میں مسلمانوں کے قانون مال گزاری پر لکھی ہے۔ یہ حالات میں نے اسی کتاب سے لیے ہیں۔ آگے چل کر بھی اس کتاب کے حوالے آئیں گے۔ اس کتاب کا پورا نام یہ ہے :
(LAPROPRIE TE TERRITORIAL ETU’ IMPORT FONCIER SONSLES PREMIERS CALIFES
*رومیوں کا اضافہ:*
رومیوں نے اپنے عہد حکومت میں اور تمام قاعدے بحال رکھے لیکن یہ نیا دستور مقرر کیا کہ ہر سال خراج کے علاوہ مصر سے غلہ کی ایک مقدار کثیر پائے تخت قسطنطنیہ کو روانہ کی جاتی تھی اور سلطنت کے ہر صوبے میں فوج کی رسد کے لیے یہیں سے غلہ جاتا تھا۔ جو خراج میں محسوب نہیں ہوتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دونوں جابرانہ قاعدے موقوف کر دیئے۔
*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قدیم طریقے کی اصلاح کی:*
یورپ کے مؤرخوں نے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں بھی یہ رسم جاری رہی۔ چنانچہ قحط کے سال مصر سے مدینہ منورہ کو جو غلہ بھیجا گیا، اسی اصول کے موافق بھیجا گیا۔ لیکن یہ ان کی سخت غلطی اور قیاس بازی ہے۔ بے شبہ عام القحط میں مصر سے غلہ آیا اور پھر یہ ایک رسم قائم ہو کر مدتوں تک جاری رہی۔ لیکن یہ وہی غلہ تھا جو خراج سے وصول ہوتا تھا۔ کوئی نیا خراج یا ٹیکس نہ تھا۔ چنانچہ علامہ بلاذری نے فتوح البلدان میں صاف صاف تصریح کر دی ہے۔ اس بات کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ جب خراج میں صرف نقدی کا طریقہ رہ گیا تو حرمین کے لیے جو غلہ بھیجا جاتا تھا خرید کر بھیجا جاتا تھا۔ چنانچہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد حکومت کی نسبت علامہ مقریزی نے صاف اس کی تصریح کی ہے۔ (فتوح البلدان صفحہ 316)۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر صوبہ میں فوج کی رسد کے لیے غلے کھیتوں کا بھی انتظام کیا تھا۔ لیکن یہ وہی خراج کا غلہ تھا۔
*مصر میں وصول مال گزاری کا طریقہ:*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مال گزاری کے وصول کا طریقہ بھی نہایت نرم کر دیا اور اس لحاظ سے ملک کے دونوں قدیم قاعدوں میں ترمیم کر دی۔ مصر ایک ایسا ملک ہے جس کی پیداوار کا دار و مدار دریائے نیل کی طغیانی پر ہے۔ اور چونکہ اس کی طغیانی کے مدارج میں نہایت تفاوت ہوتا رہتا تھا۔ اس لیے پیداوار کا کوئی خاص اندازہ نہیں ہو سکتا تھا۔ چند سالوں کے اوسط کا حساب اس لیے مفید نہیں تھا کہ جاہل کاشتکار اپنے مصارف کی تقسیم ایسے باقاعدہ طریقے سے نہیں کر سکتے کہ خشک سالی میں اوسط کے حساب سے ان کا کام چل سکے۔
بہرحال حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں مال گزاری کے وصول کا طریقہ یہ تھا کہ جب مال گزاری کی قسطیں کھلتی تھیں تو تمام پرگنہ جات سے رئیس اور زمیندار اور عراف طلب کئے جاتے تھے اور وہ پیداوار حال کے لحاظ سے کل ملک کے خراج کا ایک تخمینہ پیش کرتے تھے۔ اس کے بعد اسی طرح ہر ہر ضلع اور ہر ہر پرگنے کا تخمینہ مرتب کیا جاتا تھا، جس میں مقامی زمیندار اور مکھیا شریک ہوتے تھے۔ یہ تخمینی رقم ان لوگوں کے مشورے سے ہر ہر گاؤں پر پھیلا دی جاتی تھی۔ پیداوار جو ہوتی تھی اس میں سے اول گرجاؤں اور عمالوں کے مصارف اور مسلمانوں کی مہمانی کا خرچ نکال لیا جاتا تھا۔ باقی جو بچتا تھا اس میں سے جمع مشخصہ ادا کی جاتی تھی ہر گاؤں پر جمع تشخیص ہوتی تھی۔ پڑتے سے اس کا ایک حصہ گاؤں کے پیشہ وروں سے بھی وصول کیا جاتا تھا (مقریزی نے یہ پوری تفصیل نقل کی ہے۔ دیکھو کتاب مذکور صفحہ 77 علامہ بشاری کی کتاب جغرافیہ صفحہ 212 سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ )
اس طریقہ میں اگرچہ بڑی زحمت تھی اور گویا ہر سال نیا بندوبست کرنا پڑتا تھا۔ لیکن مصر کے حالات کے لحاظ سے عدل اور انصاف کا یہی مقتضی تھا۔ اور مصر میں یہ تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ایک مدت سے معمول بھی تھا۔ لگان کی شرح فی جریب ایک دینار اور تین ارب غلہ قرار دی گئی اور یہ معاہدہ لکھ دیا گیا کہ اس مقدار پر کبھی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
*قانون مال گزاری میں حضرت عمرؓ کی اصلاحات:*
=================================
ایک محقق کی نگاہ اس بات پر پڑتی ہے کہ اس صیغے میں فتوحات فاروقی کی خاص ایجادات اور اصلاحیں کیا ہیں اور ہم اسی خاص پہلو پر نگاہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ سب سے بڑا انقلاب جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس صیغے میں کیا اور جس کی وجہ سے رعایا کی بہبودی اور خوشحالی دفعتہً نہایت ترقی کر گئی، یہ تھی کہ زمین داری اور ملکیت زمین کا قدیم جابرانہ قانون مٹا دیا۔ رومیوں نے جب شام اور مصر پر قبضہ کیا تو تمام ارضیات اصلی باشندوں سے چھین کر کچھ افسران فوج اور کچھ اراکین دربار کو دے دیں کچھ شاہی جاگیریں قرار پائیں۔ کچھ کلیسا اور چرچ پر وقف کر دیں۔ اصل باشندوں کے ہاتھ میں ایک چپہ زمین بھی نہیں رہی۔ وہ صرف کاشتکاری کا حق رکھتے تھے۔ اور اگر مالک زمین ان کی کاشتکاری کی زمین کو کسی کے ہاتھ منتقل کرتا تھا تو زمین کے ساتھ کاشتکار بھی منتقل ہو جاتے تھے۔ اخیر میں باشندوں کو بھی کچھ زمین داریاں ملنے لگیں۔ لیکن زمینداری کی حفاظت اور اس سے متمتع ہونے کے لیے رومی زمینداروں سے اعانت لینی پڑتی تھی۔ اس بہانے سے زمیندار خود زمین پر متصرف ہو جاتے تھے۔ اور وہ غریب کاشتکار کا کاشتکار ہی رہتا تھا۔ یہ طریقہ کچھ رومی سلطنت کے ساتھ مخصوص نہ تھا۔ بلکہ جہاں تک ہم کو معلوم ہے تمام دنیا میں قریب قریب یہی طریقہ جاری تھا کہ زمین کا بہت بڑا حصہ افسران فوج یا ارکان دولت کی جاگیر میں دے دیا جاتا تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملک پر قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس ظالمانہ قانون کو مٹا دیا۔ رومی تو اکثر ملک کے مفتوح ہوتے ہی نکل گئے۔ اور جو رہ گئے ان کے قبضے سے بھی زمین نکال لی گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان تمام اراضیات کو جو شاہی جاگیریں تھیں یا جن پر رومی افسر قابض تھے ، باشندگان ملک کے حوالے کر دیا۔ اور بجائے اس کے کہ وہ مسلمان افسروں یا فوجی سرداروں کو عنایت کی جاتیں، قاعدہ بنا دیا کہ مسلمان کسی حالت میں ان زمینوں پر قابض نہیں ہو سکتے۔ یعنی مالکان اراضی کو قیمت دے کر خریدنا چاہیں تو خرید بھی نہیں سکتے۔ یہ قاعدہ ایک مدت تک جاری رہا۔ چنانچہ لیث بن سعد نے مصر میں کچھ زمین مول لی تھی تو بڑے بڑے پیشوایان مذہب مثلاً امام مالک، نافع بن یزید بن البیعہ نے ان پر سخت اعتراض کیا۔ (مقریزی صفحہ 215)۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اہل عرب کو جو ان ممالک میں پھیل گئے تھے زراعت کی ممانعت کر دی۔ چنانچہ تمام فوجی افسروں کے نام احکام بھیج دیئے کہ لوگوں کے روزینے مقرر کر دیئے گئے ہیں۔ اس لیے کوئی شخص زراعت نہ کرنے پائے۔ یہ حکم اس قدر سختی سے دیا گیا کہ شریک عطفی ایک شخص نے مصر میں زراعت خرید کر لی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو بلا کر سخت مواخذہ کیا اور فرمایا کہ تجھ کو ایسی سزا دوں گا کہ اوروں کو عبرت ہو۔ (حسن المحاضرہ صفحہ 93)۔
ان قاعدوں سے ایک طرف تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عدل و انصاف کا نمونہ قائم کیا۔ جس کی نظیر دنیا میں کہیں موجود نہ تھی۔ کیونکہ کسی فاتح قوم نے مفتوحین کے ساتھ کبھی ایسی رعایت نہیں برتی تھی۔ دوسری طرف زراعت اور آبادی کو اس سے نہایت ترقی ہوئی۔ اس لیے کہ اصلی باشندے جو مدت سے ان کاموں میں مہارت رکھتے تھے عرب کے خانہ بدوش بدو ان کی برابری نہیں کر سکتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس تدبیر نے فتوحات کی وسعت میں بڑا کام دیا۔
فرانس کے ایک نہایت لائق مصنف نے لکھا ہے کہ یہ بات مسلم ہے کہ اسلام کی فتوحات میں خراج اور مال گزاری کے معاملہ کو بہت دخل ہے۔ رومن سلطنت میں باشندگان ملک کو جو سخت خراج ادا کرنا پڑتا تھا۔ اس نے مسلمانوں کی فتوحات کو نہایت تیزی سے بڑھایا۔ مسلمانوں کے حملوں کا جو مقابلہ کیا گیا وہ اہل ملک کی طرف سے نہ تھا بلکہ حکومت کی طرف سے تھا۔ مصر میں خود قبطی کاشتکاروں نے یونانیوں کے برخلاف مسلمانوں کو مدد دی، دمشق اور حمص میں عیسائی باشندوں نے ہرقل کو فوج کے مقابلے میں شہر پناہ کے دروازے بند کر دیئے اور مسلمانوں سے کہہ دیا کہ ہم تمہارے حکومت کو بمقابلہ بے رحم رومیوں کے بہت زیادہ پسند کرتے ہیں۔
یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غیر قوموں کے ساتھ انصاف کرنے میں اپنی قوم کی حق تلفی کی یعنی ان کو زراعت اور فلاحت سے روک دیا۔ درحقیقت اس سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بڑی انجام بینی کا ثبوت ملتا ہے۔ عرب کے اصلی جوہر دلیری، بہادری، جفاکشی، ہمت، عزم اسی وقت تک قائم رہے جب تک وہ کاشتکاری اور زمین داری سے الگ رہے۔ جس دن انہوں نے زمین کو ہاتھ لگایا، اسی دن یہ تمام اوصاف بھی ان سے رخصت ہو گئے۔
*بندوبست مال گزاری میں ذموں سے رائے لینا:*
اس معاملے میں ایک اور نہایت منصفانہ اصول جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے برتا یہ تھا کہ بندوبست اور اس کے متعلق تمام امور میں ذمی رعایا سے جو پارسی یا عیسائی تھی ہمیشہ رائے طلب کرتے تھے۔ اور ان کی معروضات پر لحاظ فرماتے تھے۔ عراق کا جب بندوبست کرنا چاہا تو پہلے عمال کو لکھا کہ عراق کے دو رئیسوں کو ہمارے پاس بھیجو جن کے مترجم بھی ہوں (کتاب الخراج صفحہ 31)۔ پیمائش کا کام ہو چکا تو پھر دس دس بڑے بڑے زمیندار عراق سے بلوائے اور ان کے اظہار لیے (کتاب الخراج صفحہ 5)۔
اسی طرح مصر کے انتظام کے وقت وہاں کے گورنر کو لکھا کہ مقوقس سے (جو پہلے مصر کا حاکم تھا) خراج کے معاملے میں رائے لو۔ اس پر بھی تسلی نہ ہوئی تو ایک واقف کار قبطی کو مدینے میں طلب کیا اور اس کا اظہار لیا۔ (مقریزی جلد اول صفحہ 74 تا 75)۔ یہ طریقہ جس طرح عدل و انصاف کا نہایت اعلیٰ نمونہ تھا، اسی طرح انتظام کی حیثیت سے بھی مفید تھا۔
ان باتوں کے ساتھ ان اصلاحات کو بھی شامل کرنا چاہیے جن کا بیان ہم بندوبست کے شروع میں کر آئے ہیں۔
*ترقی زراعت:*
بندوبست کے ساتھ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زمین کی آبادی اور زراعت کی ترقی کی طرف توجہ کی۔ عام حکم دے دیا کہ تمام ملک میں جہاں جہاں افتادہ زمینیں ہیں جو شخص ان کو آباد کرے گا اس کی ملک ہو جائیں گی۔ لیکن اگر کوئی شخص اس قسم کی زمین کو آباد کرنے کی غرض سے اپنے قبضے میں لائے اور تین برس کے اندر آباد نہ کرے تو زمین اس کے قبضے سے نکل جائے گی۔ اس طریقے سے افتادہ زمینیں نہایت جلد آباد ہو گئیں۔ حملے کے وقت جہاں جہاں کی رعایا گھر چھوڑ کر نکل گئی تھی ان کے لیے اشتہار دے دیا کہ واپس آ جائے اور اپنی زمینوں پر قابض ہو جائے۔
زراعت کی حفاظت اور ترقی کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو خیال تھا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے ان سے آکر شکایت کی کہ شام میں میری کچھ زراعت تھی۔ آپ کی فوج ادھر سے گزری اور اس کو برباد کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی وقت اس کو دس ہزار درہم معاوضے میں دلوائے۔ (کتاب الاخراج صفحہ 6۔)تمام ممالک مفتوحہ میں نہریں جاری کیں اور بند باندھے۔
*محکمہ آبپاشی:*
تالاب تیار کرانے ، پانی کی تقسیم کرنے کے دہانے بنانے ، نہروں کے شعبے نکالنے اور اس قسم کے کاموں کا ایک بڑا محکمہ قائم کیا۔ علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ خاص مصر میں ایک لاکھ بیس ہزار مزدور روزانہ سال بھر اس کام میں لگے رہتے تھے اور یہ تمام مصارف بیت المال سے ادا کئے جاتے تھے۔ (مقریزی صفحہ 76 جلد اول)۔ خوزستان اور اہواز کے اضلاع میں جزر بن معاویہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجازت سے بہت سی نہریں کھدوائیں۔ جن کی وجہ سے بہت سی افتادہ زمینیں آباد ہو گئیں۔ اسی طرح اور سینکڑوں نہریں تیار ہوئیں۔ جس کا پتہ جستہ جستہ تاریخوں میں ملتا ہے۔
*خراجی اور عشری:*
نوعیت قبضہ کے لحاظ سے زمین کی ایک اور تقسیم۔ یعنی خراجی اور عشری۔ خراجی کا بیان اوپر گزر چکا ہے۔ عشری اس زمین کا نام تھا جو مسلمانوں کے قبضے میں ہوتی تھی۔ اور جس کے اقسام حسب ذیل تھے :
1 – عرب کی زمین جس کے قابضین اوائل اسلام میں مسلمان ہو گئے تھے۔ مثلاً مدینہ منورہ وغیرہ۔
2 – جو زمین کسی ذمی کے قبضے سے نکل کر مسلمانوں کے قبضے میں آتی تھی، مثلاً لاوارث مر گیا، یا مفرور ہو گیا، یا بغاوت کی یا استغفیٰ دے دیا۔
3 – جو افتادہ زمین کسی حیثیت سے کسی کی ملک نہیں ہوتی تھی۔ اور اس کو کوئی مسلمان آباد کر لیتا تھا۔
ان اقسام کی تمام زمینیں عشری کہلاتی تھیں اور چونکہ مسلمانوں سے جو کچھ لیا جاتا تھا وہ زکوٰۃ کی مد میں داخل تھا، اس لیے ان زمینوں پر بجائے خراج کے زکوٰۃ مقرر تھی جس کی مقدار اصل پیداوار کا دسواں حصہ ہوتا تھا۔ یہ شرح خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مقرر فرمائی تھی۔ اور وہی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں بھی قائم رہی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اتنا کیا کہ ایران وغیرہ کی جو زمینیں مسلمانوں کے قبضے میں آئیں اگر وہ ذمیوں کی قدیم نہروں یا کنوؤں سے سیراب ہوتی تھیں تو ان پر خراج مقرر کیا۔ چنانچہ اس قسم کی زمینیں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ و خباب وغیرہ کے قبضے میں تھیں اور ان سے خراج لیا جاتا تھا۔ اور اگر خود مسلمان نئی نہر یا کنواں کھود کر اس کی آبپاشی کرتے تھے تو اس پر رعایتہً عشرہ مقرر کیا جاتا تھا۔ (کتاب الخراج صفحہ 35 تا 37)۔
مسلمانوں کے ساتھ عشر کی تخصیص اگرچہ بظاہر ایک قسم کی ناانصافی یا قومی ترجیح معلوم ہوتی ہے لیکن فی الواقع ایسا نہیں ہے۔ اولاً تو مسلمانوں کو بمقابلہ ذمیوں کے بہت سی زائد رقمیں ادا کرنی پڑتی تھیں مثلاً مویشی پر زکوٰۃ، گھوڑوں پر زکوٰۃ، روپے پر زکوٰۃ۔ حالانکہ ذمی ان تمام محصولات سے بالکل مستثنیٰ تھے۔ اس بناء پر خاص زمین کے معاملے میں جو نہایت اقل قلیل مسلمانوں کے قبضے میں آئی تھی اس قسم کی رعایت بالکل مقتضائے انصاف تھی۔ دوسرے یہ کہ عشر ایک ایسی رقم تھی جو کسی حالت میں کم یا معاف نہیں ہو سکتی تھی۔ یہاں تک کہ خود خلیفہ یا بادشاہ معاف کرنا چاہے تو معاف نہیں کر سکتا تھا۔ بخلاف اس کے خراج میں تخفیف اور معافی دونوں جائز تھی۔ اور وقتاً فوقتاً اس پر عمل درآمد بھی ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ خراج سال میں صرف ایک دفعہ لیا جاتا تھا۔ بخلاف اس کے عشر کا یہ حال تھا کہ سال میں جتنی فصلیں ہوتی تھیں سب کی پیداوار سے الگ الگ وصول کیا جاتا تھا۔
*متفرق آمدنیاں:*
خراج و عشر کے سوا آمدنی کے جو اور اقسام تھے ، وہ حسب ذیل تھے :
زکوٰۃ، عشور، جزیہ، مال غنیمت کا خمس، زکوٰۃ مسلمانوں کے ساتھ مخصوص تھیں اور مسلمانوں کی کسی قسم کی جائیداد یا آمدنی اس سے مستؑنی نہ تھی۔ یہاں تک کہ بھیڑ، بکری، اونٹ سبھی پر زکوٰۃ تھی۔ زکوٰۃ کے متعلق تمام احکام خود جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں مرتب ہو چکے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں جو اضافہ ہوا یہ تھا کہ تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰۃ مقرر ہوئی۔
*گھوڑوں پر زکوٰۃ:*
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے گھوڑوں کو زکوٰۃ سے مستثنیٰ فرمایا تھا لیکن اس سے عیاذ باللہ یہ نہیں خیال کرنا چاہیے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی مخالفت کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے جو الفاظ فرمائے تھے اس سے بظاہر سواری کے گھوڑے مفہوم ہوتے ہیں۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مفہوم کو قائم رکھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے وقت میں تجارت کے گھوڑے وجود نہیں رکھتے تھے۔ اس لیے ان کے زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہونے کی کوئی وجہ نہیں تھیں۔ بہر حال زکوٰۃ کی مد میں یہ ایک نئی آمدنی تھی۔ اور اول اول حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں شروع ہوئی۔
*عُشور:*
عشور خاص بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایجاد ہے۔ جس کی ابتداء یوں ہوئی کہ مسلمان جو غیر ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے ان سے وہاں کے دستور کے مطابق مال تجارت پر دس فیصد ٹیکس لیا جاتا تھا۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ ان ملکوں کے تاجروں کو جو ہمارے ملک میں آئیں ان سے بھی اسی قدر محصول لیا جائے۔ عیسائیوں نے جو اس وقت تک اسلام کے محکوم نہیں ہوئے تھے خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تحریری درخواست بھیجی کہ ہم کو عشر ادا کرنے کی شرط پر عرب میں تجارت کرنے کی اجازت دی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منظور کیا۔ اور پھر ذمیوں اور مسلمانوں پر بھی یہ قاعدہ جاری کر دیا گیا۔ البتہ تعداد میں تفاوت رہا۔ یعنی حربیوں سے دس فیصد، ذمیوں سے پانچ فیصد، مسلمانوں سے اڑھائی فیصد لیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام ممالک مفتوحہ میں یہ قاعدہ جاری کر کے ایک خاص محکمہ قائم کر دیا۔ جس سے بہت بڑی آمدنی ہو گئی۔ یہ محصول خاص تجارت کے مال پر لیا جاتا تھا۔ جس کی درآمد برآمد کی میعاد سال بھر تھی۔ یعنی تاجر ایک سال جہاں جہاں چاہے مال لے جائے ، اس سے دوبارہ محصول نہیں لیا جاتا تھا۔ یہ بھی قاعدہ تھا کہ دو سو درہم سے کم قیمت کے مال پر کچھ نہیں لیا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محصلوں کو یہ بھی تاکید کر دی تھی کہ کھلی ہوئی چیزوں سے عشر لیا جائے۔ یعنی کے اسباب کی تلاشی نہ لی جائے۔ جزیہ کے متعلق پوری تفصیل آگے آئے گی۔
==================> جاری ہے ۔۔۔۔












