عہد خلافت راشدہ امیر المومینین
شہید مسجد نبوی حضرت_عمرفاروق_رضی_اللہ_عنہ
(قسط_نمبر_18)
تحریر و پیشکش محمد نوید
#محکمہ_قضاء
==========
یہ صیغہ بھی اسلام میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بدولت وجود میں آیا۔ ترقی تمدن کا پہلا دیباچہ یہ ہے کہ صیغہ عدالت، انتظامی صیغے سے علیحدہ قائم کیا جائے۔ دنیا میں جہاں جہاں حکومت و سلطنت کے سلسلے قائم ہوئے۔ مدتوں کے بعد ان دونوں صیغوں میں تفریق ہوئی۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خلافت کے چند ہی روز بعد اس صیغے کو الگ کر دیا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے تک خود خلیفہ وقت اور افسران ملکی قضاء کا کام بھی کرتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابتداء میں یہ رواج قائم رکھا۔ اور ایسا کرنا ضروری تھا۔ حکومت کا نظم و نسق جب تک کامل نہیں ہو لیتا، ہر صیغے کا اجراء رعب و داب کا محتاج رہتا ہے اس لیے فصل قضایا کا کام وہ شخص انجام نہیں دے سکتا جس کو فصل قضایا کے سوا اور کوئی اختیار نہ ہو۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابو موسیٰ شعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لکھا کہ جو شخص با اثر اور صاحب عظمت نہ ہو قاضی نہ مقرر کیا جائے (اخبار القضاء لمحمد بن خلف ابو کیع) بلکہ اسی بناء پر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قضایا سے روک دیا تھا۔
لیکن جب انتظام کا سکہ اچھی طرح جم گیا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قضاء کا صیغہ بالکل الگ کر دیا۔ اور تمام اضلاع میں عدالتیں قائم کیں۔ اور قاضی مقرر کئے اس کے ساتھ قضاء کے اصول و آئین پر ایک فرمان بھیجا جو ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ گورنر کوفہ کے نام تھا۔ اور جس میں صیغہ عدالت کے تمام اصولی احکام درج تھے۔ ہم اس کو بعینہ اس مقام نقل کرتے ہیں۔
(اس فرمان کو علامہ ابو اسحقٰ شیرازی نے طبقات فقہاء میں اور علامہ بیہقی و موردی و جاحظ و ابن عبد رجہ اور بہت سے محدثین اور مؤرخین نے نقل کیا ہے۔ )
رومن ایمپائر کے دوازدہ (451ء قبل مسیح رومن ایمپائر نے یونان میں سفراء بھیجے کہ وہاں قانون کی تعلیم حاصل کر کے آئیں اور سلطنت کے لیے ایک مستقل قانون بنائیں۔ یہ سفراء یونان گئے اور وہاں سے واپس آ کر ایک دستور العمل تیار کیا۔ جس میں بارہ امور انتظامی پر بارہ بارہ قاعدے تھے۔ یہ تمام قواعد سیسہ کی تختی پر کندہ کئے گئے اور مدت تک رومن ایمپائر کا وہی قانون رہا۔ اس میں صیغہ قضاء کے متعلق جو احکام تھے وہ حسب ذیل ہیں :
1 – جب تم عدالت میں طلب کئے جاؤ تو فوراً فریق مقدمہ کے ساتھ حاضر ہو۔
2 – اگر مدعا علیہ انکار کرے تو تم گواہ پیش کرو تا کہ وہ جبراً حاضر کیا جاوے۔
3 – مدعا علیہ بھاگنا چاہے تو تم اس کو پکڑ سکتے ہو۔
4 – مدعا علیہ بیمار یا بوڑھا ہو تو تم اس کو سواری دو، ورنہ اس پر حاضری کے لیے جبر نہیں کیا جا سکتا۔
5 – مدعا علیہ ضامن پیش کرے تو تم اس کو چھوڑ دو۔
6 – دولت مند کا ضامن دولت مند ہونا چاہیے۔
7 – جج کو فریقین کے اتفاق سے فیصلہ کرنا چاہیے۔
8 – جج صبح سے دوپہر تک مقدمہ سنے گا۔
9 – فیصلہ دوپہر کے بعد فریقین کی حاضری میں ہو گا۔
10 – مغرب کے بعد عدالت بند رہے گی۔
11 – فریقین اگر ثالث پیش کرنا چاہیں تو ان کو ضامن دینا چاہیے۔
12 – جو شخص گواہ پیش نہیں کر سکتا، مدعا علیہ کے دروازے پر اپنے دعوے کو پکار کر کہے۔
(یہ قوانین ہیں جن کو یاد کر کے یورپ رومن ایمپائر پر ناز کرتا ہے۔ )
قواعد جو رومیوں کے بڑے مفاخر خیال کئے جاتے ہیں۔ اور جن کی نسبت سیسر روم کا مشہور لکچرار لکھتا ہے کہ یہ قوانین تمام فلاسفروں کی تصنیفات سے بڑھ کر ہیں وہ بھی ہمارے سامنے ہیں۔
ان دونوں کا موازنہ کر کے ہر شخص فیصلہ کر سکتا ہے کہ دونوں میں سے تمدن کے وسیع اصول کا کس میں زیادہ پتہ لگتا ہے۔
*قواعد عدالت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تحریر:*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ذیل میں درج ہے۔
اما بعد فان القضاء فریضۃ محکمۃ و سنۃ متبعۃ سو بین الناس فی وجھک و مجلسک و عدلک حتی لابیاس الضعیف من عدلک ولا یطمع الشریف فی جنیک الگینۃ علی من ادعی و الیمین علی من انکر و الصلح جایز الا صلح احل حراما او حرم حلا لا یمنعک قضاء قضیتہ بالا مس فراجعت فیہ نفسک ان ترجع الی الحق الفھم الفھم فیما یختلج فی صدرک ممالم یبلغک فی الکتاب والسنہ و اعرف الا مثال و الا شباہ ثم قس الامور عند ذلک و اجعل لمن الدعی بینۃ امدا ینتھی الیہ فان احضرینہ اخذت لہ بحقہ و الا وجھت القضاء علیہ والمسلمون عدول بعضھم علی بعض الا مجلوداً فی حد مجربا فی شھادۃ الزوراو طنینا فی ولاء او وراثۃ۔
” خدا کی تعریف کے بعد قضا ایک ضروری فرض ہے۔ لوگوں کو اپنے حضور میں اپنی مجلس میں اپنے انصاف میں برابر رکھو تا کہ کمزور انصاف سے مایوس نہ ہو۔ اور زور دار کو تمہاری رو رعایت کی امید نہ پیدا ہو۔ جو شخص دعویٰ کرے اس پر بار ثبوت ہے اور جو شخص منکر ہو اس پر قسم۔ صلح جائز ہے۔ بشرطیکہ اس سے حرام حلال اور حلال حرام نہ ہو۔ کل اگر تم نے کوئی فیصلہ کیا تو آج غور کے بعد اس سے رجوع کر سکتے ہو جس مسئلہ میں شبہہ ہو اور قرآن و حدیث میں اس کا ذکر نہ تو اس پر غور کرو اور پھر غور کرو اور اس کی مثالوں اور نظیروں پر خیال کرو پھر قیاس لگاؤ جو شخص ثبوت پیش کرنا چاہے اس کے لیے ایک میعاد مقرر کرو۔ اگر وہ ثبوت دے تو اس کا حق دلاؤ ورنہ مقدمہ خارج۔ مسلمان۔ ثقہ ہیں باستثنائے ان اشخاص کے جن کو حد کی سزا میں درے لگائے گئے ہوں یا جنہوں نے جھوٹی گواہی دیا ہو یا ولا اور وراثت میں مشکوک ہوں۔ ”
اس فرمان میں قضا کے متعلق جو قانونی احکام مذکور ہیں حسب ذیل ہیں :
1 – قاضی کو عادلانہ حیثیت سے تمام لوگوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کرنا چاہیے۔
2 – بار ثبوت عموماً مدعی پر ہے۔
3 – مدعا علیہ اگر کسی قسم کا ثبوت یا شہادت نہیں رکھتا تو اس سے قسم لی جائے گی۔
4 – فریقین ہر حالت میں صلح کر سکتے ہیں۔ لیکن جو امر خلاف قانون ہے اس میں صلح نہیں ہو سکتی۔
5 – قاضی خود اپنی مرضی سے مقدمہ کے فیصل کرنے کے بعد اس پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔
6 – مقدمہ کی پیشی کی ایک تاریخ معین ہونی چاہیے۔
7 – تاریخ پر اگر مدعا علیہ نہ حاضر ہو تو مقدمہ یکطرفہ فیصل کیا جائے گا۔
8 – ہر مسلمان قابل ادائے شہادت ہے۔ لیکن جو سزا یافتہ ہو یا جس کا جھوٹی گواہی دینا ثابت ہو وہ قابل شہادت نہیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان تمام امور کا اس خوبی سے انتظام کیا کہ اس سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔ قانون بنانے کی تو کوئی ضرورت نہ تھی۔ اسلام کا اصلی قانون قرآن مجید موجود تھا۔ البتہ چونکہ اس میں جزئیات کا احاطہ نہیں، اس لیے حدیث و اجماع و قیاس سے مدد لینے کی ضرورت تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قضاۃ کو خاص طور پر اس کی ہدایت لکھی۔ قاضی شریح کو ایک فرمان میں لکھا کہ مقدمات میں اول قرآن مجید کے مطابق فیصلہ کرو۔ قرآن میں وہ صورت مذکور نہ ہو تو حدیث، اور حدیث نہ ہو تو اجماع (کثرت رائے ) کے مطابق اور کہیں پتہ نہ لگے تو خود اجتہاد کرو۔ (کنز العمال صفحہ 174 جلد 3 مسند داری میں بھی یہ فرمان تھوڑے اختلاف کے ساتھ مذکور ہے چنانچہ اس کی اصلی عبارت یہ ہے :
عن شریع ان عمر ابن الخطاب کتب الیہ ان جائک شی فی کتاب اللہ فاقض بہ فان جائک ما لیس فی کتاب اللہ فانظر سنۃ رسول اللہ فاقض بھا فان جائک ما لیس فی کتاب اللہ ولم یکن فی سنۃ رسول اللہ ولم یتکلم فیہ احد قبلک فاختری الا مرین شئت ان شئت ان تجتھدبرایک ثم تقدم و ان شئت تتاخرفنا خر ولا اری التاخر الا خیرالک۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ ہمیشہ وقتاً فوقتاً حکام عدالت کو مشکل اور مبہم مسائل کے متعلق فتاوے لکھ لکھ کر بھیجتے رہتے تھے۔ آج اگر ان کو ترتیب دیا جائے تو ایک مختصر مجموعہ قانون بن سکتا ہے۔ لیکن ہم اس موقع پر ان کا استقصا نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی چاہے تو کنز العمال اور ازالۃ الخفاء وغیرہ سے اس کی تصدیق کر سکتا ہے۔ اخبار القضاۃ میں بھی متعدد فتاوے مذکور ہیں۔
*قاضیوں کا انتخاب اور ترتیب:*
=====================
*قضاۃ کا انتخاب:*
قضاۃ کے انتخاب میں جو احتیاط اور نکتہ سنجی کی گئی اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جو لوگ انتخاب کئے گئے وہ اس حیثیت سے تمام عرب میں منتخب تھے۔ پائے تخت یعنی مدینہ منورہ کے قاضی زید بن ثابت (اخبار القضاہ میں ہے: ان عمر استعمل زید اعلی القضاء و فرض لہ رزقا۔ ) تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانے میں کاتب وحی تھے۔ وہ سریانی اور عبرانی زبان کے بھی ماہر تھے اور علوم فقیہیہ میں سے فرائض کے فن میں تمام عرب میں ان کا جواب نہ تھا۔ کعب بن سور الازدی جو بصرہ کے قاضی تھے ، بہت بڑے معاملہ فہم اور نکتہ شناس تھے۔ امام ابن سیرین نے ان کے بہت سے فیصلے اور احکام نقل کیے ہیں (دیکھو اسد الغاتبہ فی احوال الصحابہ، و استیعاب قاضی ابن عبد البر تذکرہ کعب بن سور الازدی)۔ فلسطین کے قاضی عبادہ بن الصامت تھے جو منجملہ ان پانچ شخصوں کے ہیں۔ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں تمام قرآن مجید حفظ کیا تھا اور اسی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو اہل صفہ کی تعلیم سپرد کی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ جب امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے ساتھ ایک موقعہ پر اختلاف کیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی سے الگ کر دیا۔ (استیعاب قاضی ابن عبد البر)۔
*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کے احکام عدالت:*
کوفہ کے قاضی قاضی عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ جن کا فضل و کمال محتاج بیان نہیں۔ فقہ حنفی کے مورث اول ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد 19 ہجری میں قاضی شریح مقرر ہوئے۔ وہ اگرچہ صحابہ میں سے نہ تھے۔ لیکن اس قدر ذہین اور معاملہ فہم تھے کہ عرب میں ان کا جواب نہ تھا۔ چنانچہ ان کا نام آج تک مثال کے طور پر لیا جاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو اقصی العرب کہا کرتے تھے۔ ان بزرگوں کے سوا جمیل بن معمر الجمحی، ابو مریم الحنفی، سلمان ربیعہ الباہلی، عبد الرحمٰن بن ربیعہ، ابو قرۃ الکندی، عمران بن الحصین جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کے قضاۃ ہیں ان کی عظمت و جلالت شان رجال کی کتابوں سے معلوم ہو سکتی ہے۔
*قضاۃ کا امتحان کے بعد مقرر ہونا:*
قاضی، اگرچہ حاکم صوبہ یا حاکم ضلع کا ماتحت ہوتا تھا۔ اور لوگوں کو قضاۃ کے تقرر کا پورا اختیار حاصل تھا۔ تاہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ زیادہ احتیاط کے لحاظ سے اکثر خود لوگوں کو انتخاب کر کے بھیجتے تھے۔ انتخاب کے لیے اگرچہ خود امیدواروں کی شہرت کافی تھی، لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس پر اکتفا نہیں کرتے تھے ، بلکہ اکثر امتحان اور ذاتی تجربہ کے بعد لوگوں کو انتخاب کرتے تھے۔
قاضی شریح کی تقرری کا یہ واقعہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص سے پسند کی شرط پر ایک گھوڑا خریدا اور امتحان کے لیے ایک سوار کو دیا۔ گھوڑا سواری میں چوٹ کھا کر داغی ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو واپس کرنا چاہا۔ گھوڑے کے مالک نے انکار کیا۔ اس پر نزاع ہوئی اور شریح ثالث مقرر کئے گئے۔ انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ گھوڑے کے مالک سے اجازت لے کر سواری کی گئی تھی تو گھوڑا واپس کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حق یہی ہے۔ کوفہ کا قاضی مقرر کر دیا۔ (کتاب الاوائل الباب السابع ذکر القضاۃ)۔ کعب بن سور الازدی کے ساتھ اسی قسم کا واقعہ گزرا۔ ناجائز وسائل آمدنی کے روکنے کے لیے بہت سی بندشیں کیں۔
*رشوت سے محفوظ رکھنے کے وسائل:*
1 – تنخواہیں بیش بیش قرار مقرر کیں کہ بالائی رقم کی ضرورت نہ ہو۔ مثلاً سلمان ربیعہ اور قاضی شریح کی تنخواہ پانچ پانچ سو درہم ماہوار تھی (فتح القدیر حاشیہ ہدایہ جلد 3 صفحہ 247)۔ اور یہ تنخواہ اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے بالکل کافی تھی۔
2 – قاعدہ مقرر کیا کہ جو شخص دولت مند اور معزز نہ ہو قاضی مقرر نہ ہونے پائے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ گورنر کوفہ کو جو فرمان لکھا اس میں قاعدے کی وجہ یہ کہ دولت مند رشوت کی طرف راغب نہ ہو گا۔ اور معزز آدمی پر فیصلہ کرنے میں کسی کے رعب و داب کا اثر نہ ہو گا۔ (اخبار القضاۃ لمحمد بن خلف الوکیع)
ان باتوں کے ساتھ ساتھ کسی قاضی کو تجارت اور خرید و فروخت کرنے کی اجازت نہ تھی۔ اور یہ وہ اصول ہے جو مدتوں کے تجربے کے بعد ترقی یافتہ ممالک میں اختیار کیا گیا ہے۔
*انصاف میں مساوات:*
عدالت و انصاف کا ایک بڑا لازمہ عام مساوات کا لحاظ ہے۔ یعنی دیوان عدالت میں شاہ و گدا، امیر و غریب، شریف و رذیل سب ہم مرتبہ سمجھے جائیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا اس قدر اہتمام تھا کہ اس کے تجربے اور امتحان کے لیے متعدد دفعہ خود عدالت میں فریق مقدمہ بن کر گئے۔ ایک دفعہ ان میں اور ابی ابن کعب میں کچھ نزاع تھی۔ ابی نے زید بن ثابت کے ہاں مقدمہ دائر کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدعا علیہ کی حیثیت سے حاضر ہوئے ، زید نے تعظیم دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا یہ تمہارا پہلا ظلم ہے۔ یہ کہہ کر ابی کے برابر بیٹھ گئے۔ ابی نے قاعدے کے موافق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قسم لینی چاہی۔ لیکن زید نے ان کے رتبے کا پاس کر کے ابی سے درخواست کی امیر المومنین کو قسم سے معاف رکھو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرف داری پر نہایت رنجیدہ ہوئے۔ زید کی طرف مخاطب ہو کر کہا کہ:
*” جب تک تمہارے نزدیک ایک عام آدمی اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ برابر نہ ہوں تم منصب قضاء کے قابل نہیں سمجھے جا سکتے۔ “*
قضاۃ اور ان کی کاروائیوں کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جس قسم کے اصول اختیار کئے اس کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان کے عہد خلافت میں بلکہ بنو امیہ کے دور تک عموماً قضاۃ ظلم و ناانصافی کے الزام سے پاک رہے۔ علامہ ابو ہلال عسکری نے کتاب الاوائل میں لکھا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جس قاضی نے خلاف انصاف عمل کیا وہ بلال بن ابی برد تھے۔ (یہ بنو امیہ کے زمانے میں تھے )۔
*آبادی کے لحاظ سے قضاۃ کی تعداد کا کافی ہونا:*
آبادی کے لحاظ سے قضاۃ کی تعداد کافی تھی کیونکہ کوئی ضلع قاضی سے خالی نہیں تھی۔ اور چونکہ غیر مذہب والوں کو اجازت تھی کہ آپس کے مقدمات بطور خود فیصل کر لیا کریں۔ اس لیے اسلامی عدالتوں میں ان کے مقدمات کم آتے تھے۔ اور اس بناء پر ہر ٖضلع میں ایک قاضی کا ہونا بہر حال کافی تھا۔
*ماہرین فن کی شہادت:*
صیغہ قضاء اور خصوصاً اصول شہادت کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو نادر باتیں ایجاد کیں اور جن کا بیان ان کے اجتہادات کے ذکر میں آئے گا ان میں ایک ماہر فن کی شہادت تھی۔ یعنی جو امر کسی خاص فن سے تعلق رکھتا تھا اس فن کے ماہر کا اظہار لیا جاتا تھا۔ مثلاً حطیہ نے زبر قان بن بذر کی ہجو میں ایک شعر کہا تھا جس سے صاف طور پر ہجو نہیں ظاہر ہوتی تھی۔ زبرقان نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں مقدمہ رجوع کیا۔ یہ شعر و شاعری کا معاملہ تھا۔ اور شاعرانہ اصطلاحیں اور طرز ادا عام بول چال سے الگ ہوتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حسان بن ثابت کو جو بڑے شاعر تھے بلا کر پوچھا اور ان کی رائے کے مطابق فیصلہ کیا۔ اسی طرح اشتباہ نسب کی صورت میں حلیہ شناسوں کے اظہار لیے۔ چنانچہ کنز العمال باب القذف میں اس قسم کے بہت سے مقدمات مذکور ہیں۔
فصل خصومات کے متعلق اگرچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت سے آئین و اصول مقرر کئے لیکن یہ سب وہیں تک تھا جہاں تک انصاف کی ارزانی اور آسانی میں کوئی خلل نہیں پڑ سکتا تھا۔ ورنہ سب سے مقدم ان کو جس چیز کا لحاظ تھا وہ انصاف کا ارزاں اور آسان ہونا تھا۔ آج کل مہذب ملکوں نے انصاف اور داد رسی کو ایسی قیود میں جکڑ دیا کہ داد خواہوں کو دعویٰ سے باز آنا اس کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اصول اور آئین اس قدر سہل اور آسان تھے کہ انصاف کے حاصل کرنے میں ذرا بھی دقت نہیں ہو سکتی تھی۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خاص اس بات کا ہمیشہ لحاظ رہتا تھا۔
*عدالت کا مکان:*
یہی مصلحت تھی کہ عدالت کے لیے خاص عمارتیں نہیں بنوائیں بلکہ مسجدوں پر اکتفا کیا۔ کیونکہ مسجد کے مفہوم میں جو تعمیر اور اجازت عام تھی وہ اور کسی عمارت میں پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔ مقدمات کے رجوع کرنے میں کوئی صرف برداشت کرنا نہیں پڑتا تھا۔ عدالت کے دروازے پر کسی قسم کی روک ٹوک نہ تھی۔ تمام قضاۃ کو تاکید تھی کہ جب کوئی غریب اور مبتذل شخص مقدمہ کا فریق بن کر آئے تو اس سے نرمی اور کشادہ روئی سے پیش آئیں تا کہ اظہار مدعا میں اس پر مطلق خوف کا اثر نہ ہو۔
*محکمۂ افتاء:*
=========
عدالت کے متعلق یہ ایک نہایت ضروری صیغہ ہے جو آغاز اسلام میں قائم ہوا اور جس کی مثال اسلام کے سوا اور کہیں پائی نہیں جاتی۔ قانون کے جو مقدم اصول ہیں ان میں ایک یہ بھی ہے کہ ہر شخص کی نسبت یہ فرض کرنا چاہیے کہ قانون سے واقف ہے۔ یعنی مثلاً اگر کوئی شخص کوئی جرم کرے تو اس کا یہ عذر کام نہیں آ سکتا کہ وہ اس فعل کا جرم ہونا نہیں جانتا تھا۔ یہ قاعدہ تمام دنیا میں مسلم ہے اور حال کے ترقی یافتہ ملکوں نے اس پر زور دیا ہے۔ بے شبہ قاعدہ صحیح ہے لیکن تعجب یہ ہے کہ اور قوموں نے اس کے لیے کسی قسم کی تدبیر اختیار نہیں کی۔ یورپ میں تعلیم اس قدر عام ہو چکی ہے لیکن اس درجے کو نہیں پہنچ سکی۔ اور نہ پہنچ سکتی ہے کہ ہر شخص قانون دان بن جائے۔ کوئی جاہل شخص قانون کا کوئی مسئلہ جاننا چاہے تو اس کے لیے کوئی تدبیر نہیں۔ لیکن اسلام میں اس کا ایک خاص محکمہ تھا۔ جس کا نام افتاء تھا۔ اس کا یہ طریقہ تھا کہ نہایت لائق قانون دان یعنی فقہاء ہر جگہ موجود رہتے تھے اور جو شخص کوئی مسئلہ دریافت کرنا چاہتا تھا ان سے دریافت کر سکتا تھا۔ اور اس لیے کوئی شخص یہ عذر نہیں کر سکتا تھا کہ وہ قانون کے مسئلے سے ناواقف تھا۔ یہ طریقہ آغاز اسلام میں خود بخود پیدا ہوا۔ اور اب تک قائم ہے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جس پابندی کے ساتھ اس پر عمل رہا۔ زمانہ مابعد بلکہ ان سے پہلے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں بھی نہیں رہا۔
*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کے مفتی:*
اس طریقے کے لیے سب سے ضروری امر یہ ہے کہ عام اجازت نہ ہو بلکہ خاص خاص قابل لوگ افتاء کے لیے نامزد کر دیئے جائیں تا کہ ہر کس و ناکس غلط مسائل کی ترویج نہ کر سکے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس تشخیص کو ہمیشہ ملحوظ رکھا۔ جن لوگوں کو انہوں نے افتاء کی اجازت دی مثلاً حضرت علی، حضرت عثمان، معاذ بن جبل، عبد الرحمٰن بن عوف، ابی بن کعب، زید بن ثابت، ابو ہریرہ اور ابو دردا رضی اللہ تعالیٰ عنہم وغیرہ وغیرہ ان کے سوا اور لوگ فتویٰ دینے کے مجاز نہ تھے۔ شاہ ولی اللہ صاحب (کتاب مذکور صفحہ 130) ازالۃ الخفاء میں لکھتے ہیں کہ ” سابق وعظ و فتویٰ موقوف بود، بر رائے خلیفہ و عظمی گفتند و فتویٰ دادند۔ ”
تاریخوں میں ان کی بہت سے مثالیں موجود ہیں کہ جن لوگوں کو فتویٰ کی اجازت نہ تھی انہوں نے فتوے دیئے ، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہ ان کو منع کر دیا۔ چنانچہ ایک دفعہ عبد اللہ بن مسعود کے ساتھ بھی یہ واقعہ گزرا (مسند داری و ازالۃ الخفاء صفحہ 130)۔ بلکہ ان کو یہاں تک احتیاط تھی کہ مقرر شدہ مفتیوں کی بھی جانچ کرتے رہتے تھے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بارہا پوچھا کہ تم نے اس مسئلے میں کیا فتویٰ دیا؟ اور جب انہوں نے اپنا جواب بیان کیا تو فرمایا کہ اگر تم اس مسئلے کا اور کچھ جواب دیتے تو آئندہ تم کبھی فتوے کے مجاز نہ ہوتے۔
دوسرا امر جو اس طریقے کے لیے ضروری ہے یہ ہے کہ مفتیوں کے نام کا اعلان کر دیا جائے اس وقت گزٹ اور اخبار تو نہ تھے۔ لیکن مجالس عامہ میں جن سے بڑھ کر اعلان عام کو کوئی ذریعہ نہ تھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارہا اس کا اعلان کیا۔ شام کے سفر میں بمقام جابیہ بے شمار آدمیوں کے سامنے جو مشہور خطبہ پڑھا اس میں یہ الفاظ بھی فرمائے :
من اراد القرآن فلیات ابیا و من ارادان یسال الفرائض فلیات زیداً ومن ارادان یسال عن الفقہ فلیات معاذاً۔
“یعنی جو شخص قرآن سیکھنا چاہے تو ابی بن کعب کے پاس اور فرائض کے متعلق کچھ پوچھنا چاہے تو زید کے پاس اور فقہ کے متعلق پوچھنا چاہے تو معاذ کے پاس جائے۔ ”
==================> جاری ہے ۔۔۔












