عہد خلافت راشدہ امیر المومینین خلیفہ دوم حضرت عمرفاروق_رضی_اللہ_عنہ
(قسط_نمبر_16)

تحریر و پیشکش محمد نوید

حضرت_عمر_رضی_اللہ_عنہ_کا_نظام_حکومت ②

#خلیفہ_کا_عام_حقوق_میں_سب_کے_ساتھ_مساوی_ہونا:
==================================

ایک اچھی حکومت کا اصل زیور یہ ہے کہ بادشاہ ہر قسم کے حقوق میں عام آدمیوں کے ساتھ برابری رکھتا ہو۔ یعنی کسی قانون کے اثر سے مستثنیٰ نہ ہو۔ ملک کی آمدنی میں سے ضروریات زندگی سے زیادہ نہ لے سکے۔ عام معاشرت میں اس کی حاکمانہ حیثیت کا کچھ لحاظ نہ کیا جائے۔ اس کے اختیارات محدود ہوں، ہر شخص کو اس پر تنقید کا حق حاصل ہو۔ یہ تمام امور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں اس درجے تک پہنچے تھے کہ اس سے زیادہ ممکن نہ تھے اور جو کچھ ہوا تھا خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے طریق عمل کی بدولت ہوا تھا۔ انہوں نے متعدد موقعوں پر ظاہر کر دیا تھا کہ حکومت کے لحاظ سے ان کی کیا حیثیت ہے۔ اور ان کے کیا اختیارات ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے اس کے متعلق جو تقریر کی اس کے بعض فقرے اس موقع پر لکھنے کے قابل ہیں :

*انما انا ومالکم کولی الیتیم ان استفنیت استعررت وان افتقرت اکلت بالمعروف لکم علی ایھا الناس خصال فخذونی بھالکم علی ان لا اجتبی شیئا من خراجکم ولا مما افاء اللہ علیکم الا من وجھہ ولکم علی اذا وقع فی یدی ان لا یخرج منی الا فی حقہ ولکم علی ان ازیدفی عطیاتکم و اسد ثغور کم ولکم علی ان لا القیکم فی المھالک۔ (کتاب الخراج صفحہ 60)۔*

*”مجھے تمہارے مال (یعنی بیت المال) میں اس قدر حق ہے جتنا یتیم کے مربی کو یتیم کے مال میں۔ اگر میں دولت مند ہوں گا تو کچھ نہ لوں گا اور ضرورت پڑے گی تو دستور کے موافق کھانے کے لیے لوں گا۔ صاحبو! میرے اوپر تم لوگوں کے متعدد حقوق ہیں، جس کا تم کو مجھ سے مواخذہ کرنا چاہیے۔ ایک یہ کہ ملک کا خراج اور مال غنیمت بیجا طور سے نہ جمع کیا جائے ، ایک یہ کہ جب میرے ہاتھ میں خراج اور غنیمت آئے تو بیجا طور سے صفر نہ ہونے پائے۔ ایک یہ کہ میں تمہارے روزینے بڑھا دوں اور تمہاری سرحدوں کو محفوظ رکھوں، ایک یہ کہ تم کو خطروں میں نہ ڈالوں۔ “*

ایک موقع پر ایک شخص نے کئی بار حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کر کے کہا کہ:
*اتق اللہ یا عمر یعنی ” اے عمر خدا سے ڈر۔ “*
حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کو روکا اور کہا کہ بس بہت ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ” نہیں کہنے دو، اگر یہ لوگ نہ کہیں تو یہ بے مصرف ہیں، اور ہم لوگ نہ مانیں تو ہم (کتاب الخراج صفحہ 7)۔ ” ان باتوں کا یہ اثر تھا کہ خلافت اور حکومت کے اختیارات اور حدود تمام لوگوں پر ظاہر ہو گئے تھے۔ اور شخصی شوکت اور اقتدار کا تصور دلوں سے جاتا رہا تھا۔ معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رومیوں کی سفارشات میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے متعلق جو تقریر کی تھی وہ درحقیقت حکومت جمہوری کی اصل تصویر ہے اور حکومت جمہوری کی حقیقت آج بھی اس سے واضح تر اور صحیح تر نہیں بیان کی جا سکتی۔

نوعیت حکومت بتانے کے بعد ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نظام حکومت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں:

حکومت کے نظم و نسق میں جو چیز سب سے مقدم ہے وہ یہ ہے کہ انتظام کے تمام مختلف صیغے ایک دوسرے سے ممتاز اور الگ الگ ہوں اور یہی ترقی و تمدن کی سب سے بڑی دلیل ہے جس طرح تمدن کی ابتدائی حالت میں مکانات کی یہ قطع ہوتی ہے کہ ایک ہی حجرہ (کمرہ) تمام ضرورتوں کے لیے کافی ہوتا ہے پھر جس قدر تمدن بڑھتا جاتا ہے کھانے ، سونے ، ملاقات کرنے ، لکھنے پڑھنے اور دیگر ضروریات کے لیے جدا جدا کمرے بنتے جاتے ہیں۔ یہی حالت بالکل سلطنت کی ہوتی ہے۔ ابتدائے تمدن میں انتظامات کے تمام صیغے ملے جلے رہتے ہیں۔ جو شخص صوبہ کا گورنر ہوتا ہے وہی لڑائی کے وقت سپہ سالار بن جاتا ہے۔ مقدمات کے اتفصال (فیصلہ) کے وقت وہی قاضی کا کام دیتا ہے۔ جرائم کی تعزیر میں وہی پولیس کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس قدر تمدن ترقی کرتا جاتا ہے۔ الگ الگ صیغے قائم ہوتے جاتے ہیں۔ اور ہر صیغے کا الگ افسر ہوتا ہے۔ انگریزی حکومت کو 100 برس ہوئے لیکن جوڈیشنل اور ایگزیکٹیو اختیارات اب تک ملے جلے ہیں۔ یعنی حاکم ضلع مال گزاری بھی وصول کرتا ہے اور مقدمات بھی فیصل کرتا ہے اور غیر آئینی اضلاع میں تو بہت زیادہ خلط مبحث ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عجیب و غریب کارناموں میں ایک یہ بھی ہے کہ باوجود اس کے کہ اس وقت کا تمدن نہایت ابتدائی حالت میں تھا۔ اور سلسلہ حکومت کے آغاز کو صرف چند برس گزرے تھے۔ تاہم انہوں نے بہت سے شعبے جو مخلوط تھے الگ کر کے جداگانہ محکمے قائم کئے۔ چنانچہ ان تمام شعبوں کو ہم تفصیل سے لکھتے ہیں۔

*ملک کی تقسیم صوبجات اور اضلاع و عہدیداران ملکی:*

نظام حکومت کا ابتدائی سلسلہ جس پر تمام انتظامات متفرع ہوتے ہیں، ملک کا مختلف حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ جن کو صوبہ، ضلع اور پرگنہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسلام میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اس کی ابتدا کی اور اس زمانے کے موافق نہایت موزونی اور تناسب سے اس کے حدود قائم کئے۔ تمام مؤرخین نے اس کی تصریح کی ہے کہ انہوں نے ممالک مقبوضہ کو 8 صوبوں میں تقسیم کیا۔

*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقرر کردہ صوبے:*

مکہ، مدینہ، شام، جزیرہ، بصرہ، کوفہ، مصر، فلسطین۔ مؤرخ یعقوبی نے 8 کے بجائے 7 صوبے لکھے ہیں اور لکھا ہے کہ یہ انتظام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 20 ہجری میں کیا تھا۔ مؤرخین کا یہ بیان اگرچہ درحقیقت صحیح ہے ، لیکن اس میں ایک اجمال ہے۔ جس کی تفصیل بتا دینی ضروری ہے۔

فاروقی فتوحات کو جو وسعت حاصل تھی اس کے لحاظ سے صرف یہ 80 صوبے کافی نہیں ہو سکتے تھے۔ فارس، خوزستان، کرمان وغیرہ بھی آخر صوبے ہی کی حیثیت رکھتے تھے۔
اصل یہ ہے کہ جو ممالک فتح ہوئے ان کی جو تقسیم پہلے سے تھی اور جو مقامات صوبے یا ضلعے تھے اکثر جگہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح رہنے دیئے۔ اس لیے مؤرخین نے ان کا نام نہیں لیا۔ البتہ جو صوبے خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قائم کئے ان کا ذکر ضرور تھا اور وہ یہی 8 تھے لیکن یہ امر بھی بلحاظ اغلب صحیح ہے ورنہ تاریخی تصریحات سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پچھلی تقسیم ملکی میں بھی تصرفات کئے تھے۔ فلسطین ایک صوبہ شمار کیا جاتا تھا۔ اور اس میں 10 ضلعے شامل تھے۔ 15 ہجری میں جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود فلسطین جا کر معاہدہ امن لکھا تو اس صوبے کے دو حصے کر دیئے۔ ایک کا صدر مقام ایلیا اور دوسرے کا رملہ قرار دیا۔ اور علقمہ بن حکیم و علقمہ بن مخبرز کو الگ الگ دونوں صوبوں میں متعین کیا۔

(2403 تا 240 اصل عبارت یہ ہے ” فصارت فلسطین نصفین نصف مع اھل ایلیا او نصف مع اھل رملۃ و ھم عشر کورد فلسطین تعدل الشام کلھا فرق فلسطین علی رجلین فنزل کل واحد عنھا فی عمد”)۔

مصر کی نسبت ہم کو معلوم نہیں کہ فتح سے پہلے اس کی کیا حالت تھی لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو دو صوبوں میں تقسیم کیا۔ بالائی حصہ جس کو عربی میں صعید کہتے ہیں اور جس میں 28 ضلعے شامل تھے۔ ایک الگ صوبہ قرار دے کر عبد اللہ بن سعد ابھی سرح کو وہاں کا حاکم مقرر کیا۔ اور نشیبی حصہ میں 15 ضلعے شامل تھے۔ اس پر ایک دوسرا افسر تعینات کیا۔ عمرو بن العاص بطور گورنر جنرل کے تھے۔

*نوشیروانی عہد کے صوبے:*

فارس وغیرہ میں چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تقریباً تمام نوشیروانی انتظامات بحال رہنے دیئے تھے ، اس لیے صرف یہ بتا دینا کافی ہے کہ نوشیروان کے عہد میں یہ ممالک کتنے حصوں میں منقسم تھے۔
مؤرخ یعقوبی (تاریخ یعقوبی صفحہ 201، 202 جلد اول) نے لکھا ہے کہ نوشیروان کی سلطنت عراق کے علاوہ تین بڑے بڑے صوبوں میں منقسم تھی۔

خراسان : اس میں مفصلہ ذیل اضلاع شامل تھے۔
نیشا پور، ہرات، مرو، مرورود، فاریاب، طالقان، بلخ، بخارا، بادغیس، باورد، غرشتان، طوس، سرخس، جرجان۔

آذربائیجان : اس میں مفصلہ ذیل اضلاع شامل تھے۔
تبرستان، رے ، قزوین، زنجان، قم، اصفہان، ہمدان، نہاوند، دینور، حلوان، ماسفدان، فہرجان، قذق، شہزور، سامغان، آذر سبحان۔

فارس : اس میں مفصلہ ذیل اضلاع شامل تھے ؛
اصطخر، شیراز، نوبند جان، ضور، گاذرون، فسادارا بجرو، ارد شیر، خرہ، سابور، اہواز، جند سابور، سوس، نہر تیری، منادر، تستر، ایذج، رام ہرمز۔

*صوبوں کے افسر:*

صوبوں میں مفصلہ ذیل بڑے بڑے عہدہ دار رہتے تھے۔ والی یعنی حاکم صوبہ، کاتب یعنی میر منشی، کاتب دیوان یعنی دفتر فوج کا میر منشی، صاحب الخراج یعنی کلکٹر صاحب، احداث یعنی افسر پولیس، صاحب بیت المال یعنی افسر خزانہ، قاضی یعنی صدر الصدور و منصف۔ چنانچہ کوفہ میں عمار بن یاسر والی، عثمان بن حنیف کلکٹر، عبد اللہ بن مسعود افسر خزانہ، شریح قاضی، عبد اللہ بن خلف الخزاعی کاتب دیوان تھے۔ (طبری 2657 و ابن خلکان صفحہ 253)۔

ہر صوبے میں ایک فوجی افسر بھی ہوتا تھا لیکن اکثر حالتوں میں صوبے کا عامل ہی اس خدمت پر مامور ہوتا تھا۔ پولیس کا محکمہ بھی جہاں تک ہم کو معلوم ہے ہر جگہ الگ نہ تھا۔ اکثر کلکٹر یا عامل اس خدمت کو بھی انجام دیتا تھا۔ مثلاً عمار بن یاسر جس وقت کوفے کے حاکم تھے پولیس کا محکمہ بھی انہی کے سپرد تھا۔ بحرین میں قدامتہ بن مظعون صاحب الخراج تھے اور پولیس افسر کا کام بھی کرتے تھے۔ والی کا اسٹاف وسیع اور مستقل اسٹاف ہوتا تھا اور اس کے ممبر خود دربار خلافت کی طرف سے مامور ہوتے تھے۔ عمار کو جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ کا حاکم مقرر کیا تو دس معزز آدمی ان کے اسٹاف میں دیئے۔ جن میں ایک قزط خزرجی بھی تھے (اسد الغابہ تذکرہ قزط)۔

میر منشی قابل تقریر اور تحریر میں یکتا ہوتا تھا۔ ابو موسیٰ اشعری جو بصرہ کے گورنر تھے ان کا میر منشی زیاد بن سمیہ تھا۔ جس کی فصاحت و بلاغت پر خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیران رہ گئے تھے۔ اور عمرو بن العاص کہا کرتے تھے کہ اگر یہ نوجوان قریش کی نسل سے ہوتا تو تمام عرب اس کے علم کے نیچے آ جاتا۔
اضلاع میں بھی عامل، افسر خزانہ اور قاضی وغیرہ ہوتے تھے۔ اور یہ سب گورنر کے ماتحت اور اس کے زیر حکومت کام کرتے تھے۔ پرگنوں میں غالباً صرف تحصیلدار رہتے تھے۔ اور اس کے ساتھ اس کا عملہ ہوتا تھا۔

صوبہ جات اور اضلاع کی تقسیم کے بعد سب سے مقدم جو چیز تھی ملکی عہدیداران کا انتخاب اور ان کی کاروائی کا دستور العمل بنانا تھا۔ کوئی فرمانروا کتنا ہی بیدار مغز اور کوئی قانون کتنا ہی مکمل ہو۔ لیکن جب تک حکومت کے اعضاء و جوارح یعنی عہدیداران ملکی قابل، لائق، راستباز اور متدوین نہ ہوں اور ان سے نہایت بیدار مغزی کے ساتھ کام نہ لیا جائے۔ ملک کو کبھی ترقی نہیں ہو سکتی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس باب میں جس نکتہ رسی اور تدبیر و سیاست سے کام لیا، انصاف یہ ہے کہ تاریخ عالم کے ہزاروں ورق الٹ کر بھی اس کی نظیر نہیں ملتی۔

*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نظام حکومت: ③*
================================

*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جوہر شناسی:*

اس مرحلے میں اس بات سے بڑی مدد ملی کہ ان کی طبیعت شروع سے ہی جوہر شناس واقع ہوئی تھی۔ یعنی جس شخص میں جس قسم کی قابلیت ہوتی تھی وہ اس کی تہہ کو پہنچ جاتے تھے۔ اس کے ساتھ انہوں نے ملک کے قابل آدمیوں سے واقفیت بہم پہنچائی تھی۔ یہی بات تھی کہ انہوں نے جس شخص کو جو کام دیا اس کے انجام دینے کے لیے اس سے بڑھ کر آدمی نہیں مل سکتا تھا۔ عرب میں چار شخص تھے ، جن کو وہاۃ العرب کہا جاتا تھا۔ یعنی جو فن سیاست و تدبیر میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے۔ امیر معاویہ، عمرو بن العاص، مغیرہ بن شعبہ (استیعاب قاضی ابن عبد البر و طری صفحہ 2617)

زیاد بن سمیعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیاد کے سوا تینوں کو بڑے بڑے ملکی عہدے دیئے اور چونکہ یہ لوگ صاحب ادعا بھی تھے۔ اس لیے اس طرح ان پر قابو رکھا کہ کبھی کسی قسم کی خود سری نہ کرنے پائے۔ زیاد ان کے زمانے میں شانزدہ (۱۸) سالہ نوجوان تھا۔ اس لیے اس کو کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا لیکن اس کی قابلیت اور استعداد کی بناء پر ابو موسیٰ اشعری کو لکھا کہ کاروبار حکومت میں اس کو مشیر کار بنائیں۔ فن حرب میں عمرو معدی کرب اور طلیحہ بن خالد نہایت ممتاز تھے۔ لیکن تدبیر و سیاست میں ان کو دخل نہ تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کو نعمان بن مقرن کی ماتحتی میں عراق کی فتوحات پر مامور کیا۔ لیکن نعمان کو لکھ بھیجا کہ ان کو کسی صیغے کی افسری نہ دینا۔ کیونکہ ہر شخص اپنا فن خوب جانتا ہے۔ (استیعاب قاضی ابن عبد البر و طری صفحہ 2617)۔

عبد اللہ بن ارقم ایک معزز صحابی تھے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے کہیں سے ایک جواب طلب تحریر آئی۔ آپ نے فرمایا اس کا جواب کون لکھے گا؟ عبد اللہ بن ارقم نے عرض کی کہ ” میں ” یہ کہہ کر خود اپنی طبیعت سے جواب لکھ کر لائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے سنا تو نہایت پسند فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی موجود تھے۔ ان کی اس قابلیت پر ان کا خاص خیال ہوا۔ اور جیسا کہ ابن الاثیر وغیرہ نے لکھا ہے یہ اثر ان کے دل میں ہمیشہ قائم رہا۔ یہاں تک کہ جب خلیفہ ہوئے تو ان کو میر منشی مقرر کیا۔

نہاوند کی عظیم الشان مہم کے لیے جب مجلس شوریٰ کا عام اجلاس ہوا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رائے طلب کی کہ اس مہم پر کون بھیجا جائے ؟ تو تمام مجمع نے باتفاق کہا کہ آپ کو جو واقفیت ہے اور آپ نے ایک ایک کی قابلیت کا جس طرح اندازہ کیا ہے کسی نے نہیں کیا۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہ نعمان بن مقرن کا نام لیا اور سب نے یک زبان ہو کر کہا کہ ” یہ انتخاب بالکل بجا ہے۔ ” عمار بن یاسر بڑے رتبے کے صحابی تھے۔ اور زہد و تقویٰ میں بے نظیر تھے۔ لیکن سیاست و تدبیر سے آشنا نہ تھے۔ قبولیت عام اور بعض مصلحتوں کے لحاظ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو کوفہ کا حاکم مقرر کیا۔ لیکن چند روز کے بعد جب ان سے کام چل نہ سکا تو معزول کر دیا اور ان کے طرفداروں کو دکھا دیا کہ وہ اس کام کے لیے موزوں نہ تھے۔ اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ہیں۔ جن کا استقصاء نہیں کیا جا سکتا۔ کسی شخص کو شوق ہو تو رجال کی کتابوں سے عرب کے تمام لائق آدمیوں کا پتہ لگائے اور پھر دیکھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پرزوں کو حکومت کی کل میں کیسے مناسب موقعوں پر لگایا تھا۔ تاہم اتنا بڑا کام صرف ایک شخص کی ذمہ داری پر چھوڑا نہیں جا سکتا تھا۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجلس شوریٰ منعقد کی اور صحابہ سے خطاب کر کے کہا کہ ” اگر لوگ میری مدد نہ کریں گے تو کون کرے گا۔ (کتاب الخراج صفحہ 165۔

اصل عبارت یہ ہے ” ان عمر بن الخطاب دعا اصحاب رسول اللہ فقال اذا لم تعینونی فمن یعسینی الخ۔ ) حضرت ابو ہریرہ نے کہا کہ “ہم آپ کو مدد دیں گے۔ ” لیکن اس وقت ملکی انتظام میں حصہ لینا زہد اور تقدس کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ” اے عمر تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے اصحاب کو دنیا میں آلودہ کرتے ہو۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ” میں ان بزرگوں سے مدد نہ لوں تو کس سے لوں۔ ” ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ” اگر ایسا ہی ہے تو تنخواہیں بیش مقرر کرو کہ لوگ خیانت کی طرف مائل نہ ہونے پائیں۔ (کتاب الخراج صفحہ 64)۔ غرض حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کی رائے و مشورت سے نہایت دیانتدار اور قابل لوگ انتخاب کئے اور ان کو ملکی خدمتیں سپرد کیں۔

*عہدیداروں کے مقرر کرنے کے لیے مجلس شوریٰ:*

اہم خدمات کے لیے مجلس شوریٰ کے عام اجلاس میں انتخاب ہوتا تھا اور جو شخص تمام ارکان مجلس کی طرف سے انتخاب کیا جاتا تھا۔ وہ اس خدمت پر مامور ہوتا تھا۔ چنانچہ عثمان بن حنیف کا تقرر اسی طریقے سے ہوا تھا۔ بعض اوقات صوبے یا ضلعے کے لوگوں کو حکم بھیجتے تھے کہ جو شخص تمام لوگوں سے زیادہ قابل ہو اس کا انتخاب کر کے بھیجو۔ چنانچہ انہی منتخب لوگوں کو وہاں کا عامل مقرر کرتے تھے۔ عثمان بن فرقد، معن بن یزید، حجاج بن علاط اسی قاعدے کے موافق کئے گئے تھے۔ ہم اس کی تفصیل اوپر لکھ آئے ہیں۔

*تنخواہ کا معاملہ:*

ایک دقت یہ تھی کہ لوگ کسی خدمت کے معاوضے میں تنخواہ لینا پسند نہیں کرتے تھے اور اس کو زہد و تقویٰ کے خلاف سمجھتے تھے۔ بعینہ اسی طرح جس طرح آج کل کے مقدس واعظوں کو اگر کہا جائے کہ وہ باقاعدہ اپنی خدمتوں کو انجام دیں اور مشاہرہ لیں۔ تو ان کو نہایت ناگوار ہو گا۔ لیکن نذر و نیاز کے نام سے جو رقمیں ملتی ہیں اس سے ان کو احتراز نہیں ہوتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی بہت سے لوگ اسی غلطی میں مبتلا تھے۔ لیکن یہ امر تمدن اور اصول انتظام کے خلاف تھا۔ اس لیے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی کوشش سے اس غلطی کو رفع کیا اور تنخواہیں مقرر کیں۔ ایک موقع پر حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو مشہور صحابی اور سپہ سالار تھے حق الخدمت لینے سے انکار کیا۔ (طبری صفحہ 2747 اسد الغابہ (تذکرہ حذیفہ بن الیمان) سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں۔ کان عمر اذا استعمل عاملا کتب عھدۃ قد بعثت فلانا وامرتہ بکذا فلما قدم المدائین استقبلہ الدھاتین)۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی مشکل سے ان کو راضی کیا۔ حکیم بن حزام نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بار بار اصرار پر بھی کبھی وظیفہ یا روزینہ لینا گوارہ نہ کیا۔ (کنز العمال جلد 3 صفحہ 322)۔

*عاملوں کے فرامین میں ان کے فرائض کی تفصیل:*

جو شخص عامل مقرر کیا جاتا تھا۔ اس کو ایک فرمان عطا ہوتا تھا۔ جس میں اس کی تقرری اور اختیارات اور فرائض کا ذکر ہوتا تھا۔ (یہ حوالہ کٹا ہوا ہے )۔ اس کے ساتھ بہت سے مہاجرین اور انصار کی گواہی ثبت ہوتی تھی، عامل جس مقام پر جاتا تھا تمام لوگوں کو جمع کر کے یہ فرمان پڑھتا تھا۔ جس کی وجہ سے لوگ اس کے اختیارات اور فرائض سے واقف ہو جاتے تھے اور جب وہ ان اختیارات کی حد سے آگے قدم رکھتا تھا تو لوگوں کو اس پر گرفت کا موقع ملتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس بات کا سخت اہتمام تھا کہ عاملوں کے جو فرائض ہیں ایک ایک آدمی ان سے واقف ہو جائے۔ چنانچہ بارہا مختلف مقامات اور مختلف موقعوں پر اس کے متعلق خطبے دیئے۔ ایک خطبے میں جو مجمع عام میں دیا تھا۔ عاملوں کو خطاب کر کے یہ الفاظ فرمائے۔

*الا والی لم ابعثکم امراء ولا جبارین ولکن بعثتکم ائمۃ الھدیٰ یھتدی بکم فادوا علی المسلمین حقوقھم ولا تضربو فتذلوھم ولا تحمدوھم فتفتنو ھم ولا تغلقو الا بواب دونھم فیا کل قویھم ضگیفھم ولا تستاثروا علیھم فتظلموھم۔*

*” یاد رکھو کہ میں نے تم لوگوں کو امیر اور سخت گیر مقرر کر کے نہیں بھیجا ہے بلکہ امام بنا کر بھیجا ہے کہ لوگ تمہاری تقلید کریں۔ تم لوگ مسلمانوں کے حقوق ادا کرو، ان کو زد و کوب نہ کرو، کہ وہ ذلیل ہوں۔ ان کی بیجا تعریف نہ کرو کہ غلطی میں پڑیں۔ ان کے لیے اپنے دروازے بند نہ رکھو کہ زبردست کمزوروں کو کھا جائیں۔ ان سے کسی بات میں اپنے آپ کو ترجیح نہ دو کہ یہ ان پر ظلم کرنا ہے۔ “*

جب کوئی شخص کہیں کا عامل مقرر کیا جاتا تھا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کے ایک بڑے گروہ کے سامنے اس کو فرمان تقرری عنایت کرتے تھے اور ان صحابہ کو گواہ مقرر کرتے تھے جس سے (کتاب الخراج صفحہ 62 میں ہے۔ کان عمر اذا استعمل رجلا اشھد علیہ رھطا من الانصار) یہ مقصد تھا کہ جو شخص مقرر کیا جاتا تھا، اس کی لیاقت اور فرائض کا اعلان ہو جائے۔

*عاملوں سے جن باتوں کا عہد لیا جاتا تھا:*

ہر عامل سے عہد لیا جاتا تھا کہ ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہو گا۔ باریک کپڑے نہ پہنے گا۔ چھنا ہوا آٹا نہ کھائے گا۔ دروازے پر دربان نہ رکھے گا۔ اہل حاجت کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔ (کتاب الخراج صفحہ 66)۔ یہ شرطیں اکثر پروانہ تقرری میں درج کی جاتی تھیں۔ ان کو مجمع عام میں پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔

*عاملوں کے مال و اسباب کی فہرست:*

جس وقت کوئی عامل مقرر ہوتا تھا اس کے پاس جس قدر مال اور اسباب ہوتا تھا۔ اس کی مفصل فہرست تیار کرا کر محفوظ رکھی جاتی تھی اور اگر عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہوتی تھی تو اس سے مواخذہ کیا جاتا تھا۔ (فتوح البلدان صفحہ 219 میں ہے کان عمر الخطاب یکتب اموال اعمالہ اذا ولاھم لم یقاسمھم ما د علی ذلک)۔ ایک دفعہ اکثر عمال اس بلا میں مبتلا ہوئے۔ خالد بن صعق نے اشعار کے ذریعے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کی موجودات کا جائزہ لے کر آدھا آدھا مال ہٹا لیا اور بیت المال میں داخل کر دیا۔ اشعار میں سے چند شعر یہ ہیں :

ابلغ امیر المومنین رسالۃ
فانت امین اللہ فی المال والامر
فلا تدعن اھل الرساتیق والقری
یسیعون مال اللہ فی الادم الوفر
فارسل الی الحجاج فاعرف حسابہ
و ارسل الی جزو ارسل الی بشر
ولا تنسین النافعین کلیھما
ولا ابن غلاب من سراۃ بنی نصر
وما عاصم منھا لصفر عیابہ
و ذاک الذی فی السرق مولی بن بدر
و شیلا فسل المال وابن معرش
فقد کان فی اھل الرساتیق ذاذکر
نوؤب امذا ابوا و فغزوا غزوا
فانی لھم وفر ولسانا اولیٰ وفر
اذا التاجر ال داری جاء بقارۃ
من المسک راحت فی صفارقھم تجری

*زمانہ حج میں تمام عاملوں کی طلبی:*

تمام عمال کو حکم تھا کہ ہر سال حج کے زمانے میں حاضر ہوں۔ حج کی تقریب سے پہلے تمام اطراف کے لوگ موجود ہوتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہو کر باعلان کہتے تھے کہ جس کسی کو کسی عامل سے کچھ شکایت ہو تو پیش کرے۔ (تاریخ طبری صفحہ 2680 میں ہے و کان من سنہ عمر و سیرتہ یا خذ عمالہ بموافاۃ الحج فی کل سنۃ للہ ولحجرھم یدنک عن الرعیۃ ولیکون لشکاۃ الرعیۃ وقنا و غایۃ ینھز نھا فیہ الیہ 12)۔

چنانچہ ذرا ذرا سی شکایتیں پیش ہوتی تھیں اور تحقیقات ہو کر ان کا تدارک کیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بہت بڑا مجمع کر کے خطبہ دیا اور کہا کہ صاحبو، اعمال جو مقرر کر کے بھیجے جاتے ہیں اس لیے نہیں بھیجے جاتے کہ طمانچے ماریں یا تمہارا مال چھین لیں بلکہ میں ان کو اس لیے بھیجتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا طریقہ سکھائیں۔ سو اگر کسی عامل نے اس کے خلاف کیا تو مجھ سے بیان کرو تا میں اس کا انتقام لوں۔ عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو مصر کے گورنر تھے اٹھ کر کہا کہ ” اگر کوئی عامل ادب دینے کے لیے کسی کو مارے گا تب بھی آپ اس کو سزا دیں گے ؟” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ خدا کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ضرور میں سزا دوں گا، کیونکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ خبردار! مسلمانوں کہ نہ مارا کرو ورنہ وہ ذلیل ہو جائیں گے۔ ان کے حقوق تلف نہ کرو۔ ورنہ کفران نعمت پر مجبور ہوں گے۔

ایک دفعہ حسب معمول تمام عمال حاضر تھے۔ ایک شخص اٹھا اور کہا کہ ” آپ کے عامل نے مجھ کو بے قصور سو کوڑے مارے ہیں۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مستغیث کو حکم دیا کہ وہیں مجمع عام میں عامل کو سو کوڑے لگائے۔ عمرو بن العاص نے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ امر عمال پر گراں ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ” لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ میں ملزم سے انتقام نہ لوں۔ ” عمرو بن العاص نے منت کر کے مستغیث کو اس شرط پر راضی کیا کہ ایک ایک تازیانے کے عوض میں دو دو اشرفیاں لے کر اپنے حق سے باز آئے۔ (کتاب الخراج صفحہ 66)

*عاملوں کی تحقیقات:*

وقتاً فوقتاً عمال کی جو شکایتیں پیش ہوتی تھیں۔ ان کی تحقیقات کے لیے ایک خاص عہدہ قائم کیا۔ جس پر محمد بن مسلمہ انصاری مامور تھے۔ یہ بزرگ اکابر صحابہ میں سے تھے۔ تمام غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمرکاب رہے تھے۔ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک مہم پر تشریف لے گئے تو ان کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر کرتے گئے۔ ان وجوہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسے بڑے کام کے لیے انہی کو انتخاب کیا۔ جب کسی عامل کی شکایت آتی تھی تو یہ تحقیقات پر مامور ہوتے تھے۔ (اسد الغابہ تذکرہ محمد بن مسلمہ میں ہے ” و ھو کان صاحب المعال ایام عمر کان عمر اذا شکی الیہ عامل ارسل محمداً لکشف الحال و ھو لذی ارسلہ عمر الی عمالہ لیا خذشطر اموالھم” طبری نے مختلف مقامات میں تصریح کی ہے کہ محمد بن مسلمہ عمال کی تحقیقات پر مامور تھے۔ ) اور موقع پر جا کر مجامع عامہ میں لوگوں کا اظہار لیتے تھے۔

21 ہجری میں سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہوں نے قادسیہ کی مہم سر کی تھی اور کوفہ کے گورنر تھے ان کی نسبت لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر شکایت کی یہ وہ وقت تھا کہ ایرانیوں نے بڑے زور شور سے لڑائی کی تیاریاں کی تھیں اور لاکھ ڈیڑھ لاکھ فوج لے کر نہاوند کے قریب آ پہنچے تھے ، مسلمانوں کو سخت تردد تھا۔ اور ان کے مقابلے کے لیے کوفہ سے فوجیں روانہ ہو رہی تھیں۔ عین اسی حالت میں یہ لوگ پہنچے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگرچہ یہ نہایت تنگ اور پرخطر وقت ہے ، تاہم یہ تردد مجھ کو سعد بن ابی وقاص کی تحقیقات سے نہیں روک سکتا۔ اسی وقت محمد بن مسلمہ کو کوفہ روانہ کیا۔ انہوں نے کوفہ کی ایک ایک مسجد میں جا کر لوگوں کے اظہار لیے اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر مدینہ میں آئے۔ یہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کا اظہار لیا۔ (یہ پوری تفصیل تاریخ طبری صفحہ 2606 تا 2608 میں ہے۔ صحیح بخاری میں بھی اس واقعے کا اشارہ ہے۔ دیکھو کتاب مذکورہ اول صفحہ 104 مطبوعہ میرٹھ)۔

*کمیشن:*

بعض اوقات کمیشن کے طور پر چند آدمی تحقیقات کے لیے بھیجے جاتے تھے۔ چنانچہ اس قسم کے متعدد واقعات تاریخوں میں مذکور ہیں۔ بعض اوقات ابتداً عامل کو مدینہ بلا کر براہ راست تحقیقات کرتے تھے۔ اور اکثر یہ اس وقت ہوتا تھا جب کہ عامل صوبہ کا حاکم یا معزز افسر ہوتا تھا۔ چنانچہ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بصرہ کے گورنر تھے ، ان کی نسبت جب شکایت گزری تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مستغیث کا بیان خود اپنے ہاتھ سے قلمبند کیا۔ اور ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے حضور میں بلوا کر تحقیقات کیں۔ الزامات یہ تھے :

1 – ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسیران جنگ میں سے 60 رئیس زادے چھانٹ کر اپنے لیے رکھے ہیں۔

2 – ان کی ایک لونڈی ہے جس کو دونوں وقت نہایت عمدہ غذا بہم پہنچائی جاتی ہے۔ حالانکہ اس قسم کی غذا ایک عام مسلمان کو میسر نہیں آ سکتی۔

3 – کاروبار حکومت زیاد بن سمیعہ کو سپرد کر رکھا ہے اور وہی سیاہ و سفید کا مالک ہے۔

تحقیقات سے پہلا الزام غلط ثابت ہوا۔ تیسرے الزام کا ابو موسیٰ نے یہ جواب دیا کہ زیاد سیاست و تدبیر کا آدمی ہے۔ اس لیے میں نے اس کو اپنا مشیر بنا رکھا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زیاد کو طلب کیا اور امتحان لیا تو حقیقت میں قابل آدمی تھا۔ اس لیے خود بصرہ کے حکام کو ہدایت کی کہ زیاد کو مشیر کار بنائیں۔ دوسرا الزام پیش ہوا تو ابو موسیٰ کچھ جواب نہ دے سکے۔ چنانچہ لونڈی ان سے چھین لی گئی۔ (طبری صفحہ 2710 تا 2712)۔

عاملوں کی خطاؤں پر سخت گرفت کی جاتی تھی۔ خصوصاً ان باتوں پر جن سے ترفع اور امتیاز یا نمود و فخر ثابت ہوتا تھا۔ سخت مواخذہ کیا جاتا تھا۔ جس عامل کی نسبت ثابت ہوتا تھا کہ بیمار کی عیادت نہیں کرتا یا کمزور اس کے دربار میں بار نہیں پاتا تو فوراً موقوف کر دیا جاتا تھا۔ (کتاب الخراج صفحہ 66)۔

ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بازار میں پھر رہے تھے۔ ایک طرف سے آواز آئی کہ ” عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا عاملوں کے لیے چند قواعد کے مقرر کرنے سے تم عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے۔ تم کو یہ خبر ہے کہ عیاض بن غنم جو مصر کا عامل ہے باریک کپڑے پہنتا ہے۔ اور اس کے دروازے پر دربان مقرر ہے۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محمد بن مسلمہ کو بلایا اور کہا کہ عیاض کو جس حالت میں پاؤ ساتھ لے آؤ۔ محمد بن مسلمہ نے وہاں پہنچ کر دیکھا تو واقعی دروازے پر دربان تھا۔ اور عیاض باریک کپڑے کا کرتہ پہنے بیٹھے تھے۔ اسی ہیئت اور لباس میں ساتھ لے کر مدینہ آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کرتہ اتروا کر کمبل کا کرتہ پہنایا۔ اور بکریوں کا ایک گلہ منگوا کر حکم دیا کہ ” جنگل میں لے جا کر چراؤ” عیاض کو انکار کی تو مجال نہ تھی۔ مگر بار بار کہتے تھے کہ اس سے مر جانا بہتر ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا “تجھ کو اس سے عار کیوں ہے۔ تیرے باپ کا نام غنم اسی وجہ سے پڑا تھا کہ وہ بکریاں چراتا تھا”۔ غرض عیاض نے دل سے توبہ کی اور جب تک زندہ رہے اپنے فرائض نہایت خوبی سے انجام دیتے رہے۔ (کتاب الخراج صفحہ 66)۔

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوفہ میں اپنے لیے محل بنوایا تھا۔ جس میں ڈیوڑھی بھی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خیال سے کہ اس سے اہل حاجت کو رکاؤ ہو گا۔ محمد بن مسلمہ کو مامور کیا کہ جا کر ڈیوڑھی میں آگ لگا دیں۔ چنانچہ اس حکم کی پوری تعمیل ہوئی اور سعد بن ابی وقاص چپکے دیکھتے گئے۔

اس قسم کی باتیں اگرچہ بظاہر قابل اعتراض ہیں۔ کیونکہ لوگوں کے طرز معاشرت و ذاتی افعال سے تعرض کرنا اصول آزادی کے خلاف ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام ملک میں مساوات اور جمہوریت کی جو روح پھونکنی چاہتے تھے ، وہ بغیر اس کے ممکن نہ تھی کہ وہ خود اور ان کے دست و بازو یعنی ارکان سلطنت اس رنگ میں ڈوبے نظر آئیں۔ عام آدمیوں کو اختیار ہے کہ جو چاہیں کریں۔ ان کے افعال کا اثر بھی انہیں تک محدود رہے گا۔ لیکن جو لوگ سلطنت کے ارکان ہیں ان کے طرز معاشرت کا ممتاز ہونا لوگوں کے دلوں میں اپنی حقارت کا خیال پیدا کرتا ہے اور رفتہ رفتہ اس قسم کی باتوں سے سلطنت شخصی کی وہ تمام خصوصیتیں پیدا ہو جاتی ہیں جس کے یہ معنی ہیں کہ ایک شخص آقا اور باقی تمام لوگ غلام ہیں۔ اس کے علاوہ جو شخص عرب کی فطرت سے واقف ہے ، وہ باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ اس قسم کی باتیں پولیٹیکل مصالح سے خالی نہ تھیں۔ مساوات اور عدم ترجیح جس کو آج کل اصطلاح میں سوشلزم کہتے ہیں، عرب کا اصلی مذاق ہے اور عرب میں جو سلطنت اس اصول پر قائم ہو گی وہ یقیناً بہ نسبت اور ہر قسم کی سلطنت کے زیادہ کامیاب ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ احکام زیادہ تر عرب کی آبادیوں میں محدود تھے۔ ورنہ امیر معاویہ، شام میں بڑے سرو سامان سے رہتے تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے کچھ تعرض نہیں کرتے تھے۔ شام کے سفر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے خدم و حشم کو دیکھ کر اس قدر کہا کہ “اکسرانیہ؟” یعنی یہ نوشیروانی جاہ و جلال کیسا؟ مگر جب انہوں نے جواب دیا کہ کہاں رومیوں سے سابقہ رہتا ہے ، اور ان کی نظر میں بغیر اس کے سلطنت کا رعب و داب نہیں قائم رہ سکتا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر تعرض نہیں کیا۔

حضرت عمر نے عمال کی دیانت اور راستبازی کے قائم رکھنے کے لیے نہایت عمدہ اصول یہ اختیار کیا تھا کہ تنخواہیں بیش مقرر کی تھیں۔ یورپ نے مدتوں کے تجربے کے بعد یہ اصول سیکھا ہے۔ اور ایشیائی سلطنتیں تو اب تک اس راز کو نہیں سمجھیں، جس کی وجہ سے رشوت اور غبن ایشیائی سلطنتوں کا خاصہ ہو گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اگرچہ معاشرت نہایت ارزاں اور روپیہ گراں تھا، تاہم تنخواہیں علیٰ قدر مراتب عموماً بیش قرار تھیں۔ صوبہ داروں کی تنخواہ پانچ پانچ ہزار تک ہوتی تھی اور غنیمت کی تقسیم سے جو ملتا تھا وہ الگ۔ چنانچہ امیر معاویہ کی تنخواہ ہزار دینار ماہوار یعنی پانچ ہزار روپے تھی۔ (استیعاب قاضی ابن عبد البر اور ازالۃ الخفاء جلد دوم صفحہ 17)۔

اب ہم عمالان فاروقی کی ایک اجمالی فہرست درج کرتے ہیں جس سے اندازہ ہو گا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکومت کی کل میں کس قسم کے پرزے استعمال کئے تھے :

نام I مقام ماموریت I عہدہ Iکیفیت

ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہI شام Iوالی Iمشہور صحابی اور عشرہ مبشرہ میں داخل ہیں
یزید بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ Iشام Iوالی Iتمام بنو امیہ میں ان سے بڑھ کر کوئی شخص نہ تھا

امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ Iشام Iوالی Iسیاست و تدبیر میں مشہور ہیں

عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہI مصر IوالیI مصر انہی نے فتح کیا

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ IکوفہIوالی Iآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ماموں تھے

عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہI بصرہ Iوالی Iمہاجرین میں سے ہیں، بصرہ انہی نے آباد کرایا

ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ IبصرہI والی Iمشہور جلیل القدر صحابی ہیں

عتاب بن اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہI مکہ معظمہI والی Iآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو مکہ معظمہ کا عامل مقرر کیا تھا

نافع بن عبد الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہI مکہ معظمہI والیI فضلائے صحابہ میں سے ہیں

خالد بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہI مکہ معظمہI والی Iابو جہل کے بھتیجے اور معزز شخص تھے

عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ Iطائف Iوالی Iآنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بعد جب ارتداد پھیلا تو طائف کے لوگوں کو انہی نے تھاما تھا

یعلی بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہI یمنI والیI صحابہ میں سے تھے اور فیاضی میں شہرت عام رکھتے تھے

علاء بن الحضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ IیمنI والیI بڑے صاحب اثر تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو یمن کا عامل مقرر کیا تھا۔

نعمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ Iمدائن Iصاحب الخراج

عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہI اضلاع فراتI کمشنرI بندوبست حساب کتاب اور پیمائش کے کام میں نہایت ماہر تھے

عیاض بن غنم رضی اللہ تعالیٰ عنہI جزیرہ IوالیI جزیرہ انہی نے فتح کیا تھا

عمر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ IحمصI والی Iمشہور صحابی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے رازدار تھے

نافع بن عبد الحارث رضی اللہ تعالیٰ عنہI مکہ معظمہ IوالیI فضلائے صحابہ میں سے ہیں

خالد بن حرث دہمانی IاصفہانI افسر خزانہ I

سمرۃ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ IسوقI الاہواز I اکابر صحابہ میں ہیں۔

نعمان بن عبدی رضی اللہ تعالیٰ عنہI میسان I صحابہ میں سے اول انہی کو وراثت کا مال ملا

غرجہ بن ہرشمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ IموصلI کمشنر مالگزاری Iموصل میں انہی نے فوجی چھاؤنی بنوائی ۔
جاری ہے…