“عہد خلافت راشدہ امیر المومینین خلیفہ دوم مراد رسول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ”

(قسط_نمبر_15)
تحریر و پیشکش محمد نوید

“فتوحات فاروقی ؓ پر ایک اجمالی نظر”
=========================

پہلے حصے میں ہم فتوحات کی تفصیل پڑھ آئے ہیں۔ اس سے قارئین کے دل پر اس عہد کے مسلمانوں کے جوش، ہمت، عزم و استقلال کا قوی اثر پیدا ہوا ہو گا۔ لیکن اسلاف کی داستان سننے میں شاید کچھ نے اس کی پروا نہ کی ہو گی کہ واقعات کو فلسفہ تاریخی کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ لیکن ایک نکتہ سنج مؤرخ کے دل میں فوراً یہ سوالات پیدا ہوں گے کہ چند صحرا نشینوں نے کیونکر فارس و روم کا دفتر الٹ دیا! کیا یہ تاریخ عالم کا کوئی مستثنیٰ واقعہ ہے ؟ آخر اس کے اسباب کیا تھے۔ کیا ان واقعات کو سکندر و چنگیز کی فتوحات سے تشبیہ نہیں دی جا سکتی؟ جو کچھ ہوا اس میں فرمانروائے خلافت کا کتنا حصہ تھا؟ ہم اس موقع پر انہی سوالات کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ لیکن اجمال کے ساتھ پہلے یہ بتا دینا ضروری ہے کہ فتوحات فاروقی کی وسعت اور اس کے حدود اربعہ کیا تھے۔

*فتوحات فاروقی کی وسعت:*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقبوضہ ممالک کا کل رقبہ 2251030/میل مربع یعنی مکہ سے شمال کی جانب 1036/ مشرق کی جانب 1087/ جنوب کی جانب 483/ میل تھا۔ مغرب کی جانب چونکہ صرف جدہ تک حد حکومت تھی اس لیے وہ قابل ذکر نہیں۔
اس میں شام، مصر، عراق، جزیرہ، خوزستان، عراق، عجم، آرمینیہ، آذر بائیجان، فارس، کرمان، خراسان اور مکران جس میں بلوچستان کا حصہ آ جاتا ہے۔ شامل تھا، ایشیائے کوچک پر جس کو اہل عرب روم کہتے ہیں 20 ہجری میں حملہ ہوا تھا لیکن وہ فتوحات کی فہرست میں شمار ہونے کے قابل نہیں۔ یہ تمام فتوحات خاص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فتوحات ہیں۔ اور اس کی تمام مدت دس برس سے کچھ ہی زیادہ ہے۔

*فتح کے اسباب یورپین مؤرخوں کی رائے کے موافق:*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے سوال کا جواب یورپین مؤرخوں نے یہ دیا ہے کہ اس وقت فارس و روم دونوں سلطنتیں اوج اقبال سے گر چکی تھیں۔ فارس میں خسرو پرویز کے بعد نظام سلطنت بالکل درہم برہم ہو گیا تھا۔ کیونکہ کوئی لائق شخص جو حکومت کو سنبھال سکتا موجود نہ تھا۔ دربار کے عمائدین و ارکان میں سازشیں شروع ہو گئی تھیں۔ اور انہی سازشوں کی بدولت تخت نشینوں میں ادل بدل ہوتا رہتا تھا۔ چنانچہ تین چار برس کے عرصے میں ہی عنان حکومت چھ سات فرمانرواؤں کے ہاتھ میں آئی اور نکل گئی۔ ایک اور وجہ یہ ہوئی کہ نوشیرواں سے کچھ پہلے مزوکیہ فرقہ کا بہت زور ہو گیا تھا۔ جو الحاد و زندقہ کی طرف مائل تھا۔ نوشیرواں نے گو تلوار کے ذریعے سے اس مذہب کو دبا دیا تھا۔ لیکن بالکل مٹا نہ سکا۔ اسلام کا قدم جب فارس میں پہنچا تو اس فرقے کے لوگوں نے مسلمانوں کو اس حیثیت سے اپنا پشت پناہ سمجھا کہ وہ کسی کے مذہب و عقائد سے تعرض نہیں کرتے تھے۔ عیسائیوں میں نسٹورین فرقہ جس کو اور کسی حکومت میں پناہ نہیں ملتی تھی وہ اسلام کے سایہ میں آ کر مخالفوں کے ظلم سے بچ گیا۔ اس طرح مسلمانوں کو دو بڑے فرقوں کی ہمدردی اور اعانت مفت میں ہاتھ آ گئی۔ روم کی سلطنت خود کمزور ہو چکی تھی۔ اس کے ساتھ عیسائیت کے باہمی اختلافات ان دنوں زوروں پر تھے۔ اور چونکہ اس وقت تک مذہب کو نظام حکومت میں دخل تھا اس لیے اس اختلاف کا اثر مذہبی خیالات تک محدود نہ تھا بلکہ اس کی وجہ سے خود سلطنت کمزور ہوتی جاتی تھی۔

*یورپین مؤرخین کی رائے کی غلطی:*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ جواب گو واقعیت سے بالکل خالی نہیں، لیکن جس قدر واقعیت ہے اس سے زیادہ طرز استدلال کی ملمع سازی ہے۔ جو یورپ کا خاص انداز ہے۔ بے شبہ اس وقت فارس و روم کی سلطنتیں اپنے عروج پر نہیں رہی تھیں، لیکن اس کا صرف اس قدر نتیجہ ہو سکتا تھا کہ وہ پر زور قوی سلطنت کا مقابلہ نہ کر سکتیں نہ یہ کہ عرب جیسی بے سر و سامان قوم سے ٹکرا کر پرزے پرزے ہو جاتیں۔ روم و فارس گو کسی حالت میں تھے تاہم فنون جنگ میں ماہر تھے۔ یونان میں خاص قواعد حرب پر جو کتابیں لکھی گئی تھیں اور جو اب تک موجود ہیں رومیوں میں ایک مدت تک ان کا عملی رواج رہا۔ اس کے ساتھ رسد کی فراوانی، سر و سامان کی بہتات، آلات جنگ کے تنوع فوجوں کی کثرت میں کمی نہیں آئی تھی۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی ملک پر چڑھ کر جانا نہ تھا بلکہ اپنے ملک میں اپنے قلعوں میں اپنے مورچوں میں رہ کر اپنے ملک کی حفاظت کرنی تھی، مسلمانوں کے حملے سے ذرا ہی پہلے خسرو پرویز کے عہد میں جو ایران کی شان و شوکت کی عین شباب تھا۔ قیصر روم نے ایران پر حملہ کیا اور ہر قدم پر فتوحات حاصل کرتا ہوا اصفہان تک پہنچ گیا۔ شام کے صوبے جو ایرانیوں نے چھین لیے تھے واپس لے لیے اور نئے سرے سے نظم و نسق قائم کیا۔

ایران میں خسرو پرویز تک تو عموماً مسلم ہے کہ سلطنت کو نہایت جاہ جلال تھا۔ خسرو پرویز کی ہلاکت سے اسلامی حملے تک صرف تین چار برس کی مدت ہے۔ اتنے تھوڑے عرصے میں ایسی قوم اور قدیم سلطنت کہاں تک کمزور ہو سکتی تھی۔ البتہ تخت نشینوں کی ادل بدل سے نظام میں فرق آ گیا تھا۔ لیکن چونکہ سلطنت کے اجزاء یعنی خزانہ، فوج اور محاصل میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ اس لیے جب یزد گرد تخت نشین ہوا اور درباریوں نے اصلاح کی طرف توجہ کی تو فوراً نئے سرے سے وہی ٹھاٹھ قائم ہو گئے۔ مزوکیہ فرقہ گو ایران میں موجود تھا۔ لیکن ہم کو تمام تاریخ میں ان سے کسی قسم کی مدد ملنے کا حال معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح فرقہ نسٹورین کی کوئی اعانت کی ہم کو معلوم نہیں۔ عیسائیت کے اختلاف مذہب کا اثر بھی کسی واقعہ پر خود یورپین مؤرخوں نے کہیں نہیں بتایا۔

اب عرب کی حالت دیکھیں! تمام فوجیں جو مصر و ایران و روم کی جنگ میں مصروف تھیں ان کی مجموعی تعداد کبھی ایک لاکھ تک بھی نہ پہنچی۔ فنون جنگ سے واقفیت کا یہ حال تھا کہ یرموک پہلا معرکہ ہے جس میں عرب میں تعبیہ کے طرز پر صف آرائی کی۔ خود، زرہ، چلتہ، جوشن، بکتر، چار آئینہ، آہنی دستانے ، جہلم موزے جو ہر ایرانی سپاہی کا لازمی ملبوس جنگ تھا۔ (بن قتیبہ نے اخبار الطوال میں لکھا ہے۔ یہ چیزیں ہر سپاہی کو استعمال کرنی پڑتی تھیں۔ ) اس میں سے عربوں کے پاس صرف زرہ تھی اور وہ بھی اکثر چمڑے کی ہوتی تھی۔ رکاب لوہے کی بجائے لکڑی کی ہوتی تھی۔ آلات جنگ میں گرز و کمند سے عرب بالکل آشنا نہ تھے۔ تیر تھے لیکن ایسے چھوٹے اور کم حیثیت کہ قادسیہ کے معرکے میں ایرانیوں نے جب پہلے پہل ان کو دیکھا تو سمجھا کہ تکلے ہیں۔

*اسلامی فتوحات کے اسباب:*
===================

ہمارے نزدیک اس سوال کا اصلی جواب صرف اس قدر ہے کہ مسلمانوں میں اس وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و سلم کی بدولت جو جوش، عزم، استقلال، بلند حوصلگی، دلیری پیدا ہو گئی تھی اور جس کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اور زیادہ قوی اور تیز کر دیا تھا۔ روم اور فارس کی سلطنتیں عین عروج کے زمانے بھی اس کی ٹکر نہیں اٹھا سکتی تھیں۔ البتہ اس کے ساتھ اور چیزیں بھی مل گئی تھیں۔ جنہوں نے فتوحات میں نہیں بلکہ قیام حکومت میں مدد دی۔ اس میں سب سے مقدم چیز مسلمانوں کی راست بازی اور دیانت داری تھی۔ جو ملک فتح ہوتا تھا وہاں کے لوگ مسلمانوں کی راست بازی کے اس قدر گرویدہ ہو جاتے تھے کہ باوجود اختلاف مذہب کے ان کی سلطنت کا زوال نہیں چاہتے تھے۔ یرموک کے معرکہ میں مسلمان جب شام کے اضلاع سے نکلے تو تمام عیسائی رعایا نے پکارا کہ ” خدا تم کو پھر اس ملک میں لائے۔ ” اور یہودیوں نے توریت ہاتھ میں لے کر کہا کہ ” ہمارے جیتے جی قیصر اب یہاں نہیں آ سکتا۔ ”

رومیوں کی حکومت جو شام و مصر میں تھی وہ بالکل جابرانہ تھی۔ اس لیے رومیوں نے جو مقابلہ کیا وہ سلطنت اور فوج کے زور سے کیا۔ رعایا ان کے ساتھ نہ تھی۔ مسلمانوں نے جب سلطنت کا زور توڑا تو آگے مطلع صاف تھا۔ یعنی رعایا کی طرف سے کسی قسم کی مزاحمت نہ ہوئی، البتہ ایران کی حالت اس سے مختلف تھی۔ وہاں سلطنت کے نیچے بہت سے بڑے بڑے رئیس تھے جو بڑے بڑے اضلاع اور صوبوں کے مالک تھے۔ وہ سلطنت کے لیے نہیں بلکہ خود اپنی ذاتی حکومت کے لیے لڑتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پائے تخت کے فتح کر لینے پر بھی فارس میں ہر قدم پر مسلمانوں کو مزاحمتیں پیش آئیں لیکن عام رعایا وہاں بھی مسلمانوں کی گرویدہ ہوتی جاتی تھی۔ اور اس لیے فتح کے بعد بقائے حکومت میں ان سے بہت مدد ملتی تھی۔

ایک اور بڑا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کا اول حملہ شام و عراق پر ہوا۔ اور دونوں مقامات میں کثرت سے عرب آباد تھے۔ شام میں دمشق کا حاکم غسانی خاندان کا تھا جو برائے نام قیصر کا محکوم تھا۔ عراق میں نخمی خاندان والے دراصل ملک کے مالک تھے۔ گو کسریٰ کو خراج کے طور پر کچھ دیتے تھے ، ان عربوں نے اگرچہ اس وجہ سے کہ عیسائی ہو گئے تھے۔ اول اول مسلمانوں کا مقابلہ کیا۔ لیکن قومی اتحاد کا جذبہ رائیگاں نہیں جا سکتا تھا۔ عراق کے بڑے بڑے رئیس بہت جلد مسلمان ہو گئے اور مسلمان ہو جانے پر وہ مسلمانوں کے دست و بازو بن گئے۔ (آگے چل کر ایک موقع پر ہم نے ان کے نام بھی تفصیل سے لکھے ہیں)۔ شام میں بھی آخر عربوں نے اسلام قبول کر لیا اور رومیوں کی حکومت سے آزاد ہو گئے۔ سکندر اور چنگیز وغیرہ کا نام لینا یہاں بالکل بے موقع ہے ، بے شبہ ان دونوں نے بڑی بڑی فتوحات حاصل کیں۔ لیکن کیونکر؟ قہر، ظلم اور قتل عام کی بدولت چنگیز کا حال توسب کو معلوم ہے۔

*سکندر وغیرہ کی فتوحات:*

سکندر کی یہ کیفیت ہے کہ جب اس نے شام کی طرف شہر صور کو فتح کیا تو چونکہ وہاں کے لوگ دیر تک جم کر لڑے تھے اس لیے قتل عام کا حکم دیا اور ایک ہزار شہریوں کے سر شہر پناہ کی دیوار پر لٹکا دیئے۔ اس کے ساتھ 30 ہزار باشندوں کو لونڈی غلام بنا کر بیچ ڈالا۔ جو لوگ قدیم باشندے اور آزادی پسند تھے۔ ان میں ایک شخص کو بھی زندہ نہ چھوڑا۔ اسی طرح فارس میں اصطخر کو فتح کیا تو تمام مردوں کو قتل کر دیا۔ اسی طرح کی اور بھی بے رحمیاں اس کے کارناموں میں مذکور ہیں۔ عام طور پر مشہور ہے کہ ظلم اور ستم سے سلطنت برباد ہو جاتی ہے۔ یہ اس لحاظ سے صحیح ہے کہ ظلم کی بقا نہیں۔ چنانچہ سکندر اور چنگیز کی سلطنتیں بھی دیرپا نہ ہوئیں لیکن فوری فتوحات کے لیے اسی قسم کی سفاکیاں کارگر ثابت ہوئی ہیں۔ ان کی وجہ سے ملک کا ملک مرعوب ہو جاتا ہے۔ اور چونکہ رعایا کا بڑا گروہ ہلاک ہو جاتا ہے ، اس لیے بغاوت و فساد کا اندیشہ باقی نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ چنگیز، بخت نصر، تیمور، نادر شاہ جتنے بڑے بڑے فاتح گزرے ہیں سب کے سب سفاک بھی تھے۔

لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فتوحات میں کبھی سر مو قانون و انصاف سے تجاوز نہیں ہو سکتا تھا۔ آدمیوں کا قتل عام ایک طرف، درختوں کے کاٹنے تک کی اجازت نہ تھی۔ بچوں اور بوڑھوں سے بالکل تعرض نہیں کیا جا سکتا تھا۔ بجز عین معرکہ کارزار کے کوئی شخص قتل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ دشمن سے کسی موقع پر بدعہدی یا فریب دہی نہیں کی جا سکتی تھی۔ افسروں کو تاکیدی احکام دیئے جاتے تھے۔

*فان قاتلو کم فلا تغدروا ولا تمثلوا ولا تقتلوا ولیداً (کتاب الخراج صفحہ 130)*

*”یعنی دشمن تم سے لڑائی کریں تو تم ان سے فریب نہ کرو۔ کسی کی ناک کان نہ کاٹو۔ کسے بچے کو قتل نہ کرو۔ “*

جو لوگ مطیع ہو جاتے تھے ان سے دوبارہ اقرار لے کر درگزر کی جاتی تھی، یہاں تک کہ جب عربسوس والے تین تین دفعہ متواتر اقرار کر کے پھر گئے ، تو صرف اس قدر کیا کہ ان کو وہاں سے جلا وطن کر دیا لیکن اس کے ساتھ ان کی کل جائیداد مقبوضہ کی قیمت ادا کر دی۔ خیبر کے یہودیوں کو سازش اور بغاوت کے جرم میں نکالا تو ان کی مقبوضہ ارضیات کا معاوضہ دے دیا اور اضلاع کے حکام کو احکام بھیج دیئے کہ جدھر سے ان لوگوں کا گزر ہو ان کو ہر طرح کی اعانت دی جائے۔ اور جب کسی شہر میں قیام پذیر ہوں تو ایک سال تک ان سے جزیہ نہ لیا جائے۔

جو لوگ فتوحات فاروقی کی حیرت انگیزی کا جواب دیتے ہیں کہ دنیا میں اور بھی ایسے فاتح گزرے ہیں، ان کو یہ دکھانا چاہیے کہ اس احتیاط، اس قید، اس پابندی، اس درگزر کے ساتھ دنیا میں کس حکمران نے ایک چپہ بھر زمین بھی فتح کی ہے۔
اس کے علاوہ سکندر اور چنگیز وغیرہ خود ہر موقع اور ہر جنگ میں شریک رہتے تھے اور خود سپہ سالار بن کر فوج کو لڑاتے تھے۔ اس کی وجہ سے علاوہ اس کے کہ فوج کو ایک ماہر سپہ سالار ہاتھ آتا تھا۔ فوج کے دل قوی رہتے تھے۔ اور ان میں بالطبع اپنے آقا پر فدا ہو جانے کا جوش پیدا ہوتا تھا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمام مدت خلافت میں ایک دفعہ بھی کسی جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔ فوجیں ہر جگہ کام کر رہی تھی۔ البتہ ان کی باگ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں رہتی تھی۔ ایک اور صریحی فرق یہ ہے کہ سکندر وغیرہ کی فتوحات گزرنے والے بادل کی طرح تھیں۔ ایک دفعہ زور سے آیا اور نکل گیا۔ ان لوگوں نے جو ممالک فتح کئے وہاں کوئی نظم حکومت نہیں قائم کیا۔ اس کے برخلاف فتوحات فاروقی میں یہ استواری تھی کہ جو ممالک اس وقت فتح ہوئے تیرہ سو برس گزرنے پر آج بھی اسلام کے قبضے میں ہیں اور خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں ہر قسم کے ملکی انتظامات وہاں قائم ہو گئے تھے۔

*فتوحات میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اختصاص:*

آخری سوال کا جواب عام رائے کے موافق یہ ہے کہ فتوحات میں خلیفۂ وقت کی چنداں تحقیق نہ تھی۔ اس وقت کے جوش اور عزم کی جو حالت تھی وہ خود تمام فتوحات کی کفیل تھی۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں بھی تو آخر وہی مسلمان تھے۔ لیکن کیا نتیجہ ہوا؟ جوش اور اثر بے شبہ برقی قوتیں ہیں۔ لیکن یہ قوتیں اسی وقت کام دے سکتی ہیں جب کام لینے والا بھی اسی زور و قوت کا ہو۔ قیاس اور استدلال کی ضرورت نہیں۔ واقعات خود اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ فتوحات کے تفصیلی حالات پڑھ کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ تمام فوج پتلی کی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اشاروں پر حرکت کرتی تھی۔ اور فوج کا جو نظم و نسق تھا وہ خاص ان کی سیاست و تدبیر کی بدولت تھا۔ اسی کتاب میں آگے چل کر جب تم مفصل طور پر پڑھو گے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوج کی ترتیب، فوجی مشقیں، بارکوں کی تعمیر، گھوڑوں کی پرداخت، قلعوں کی حفاظت، جاڑے اور گرمی کے لحاظ سے حملوں کا تعین، فوج کی نقل و حرکت، پرچہ نویسی کا انتظام، افسران فوجی کا انتخاب، قلعہ شکن آلات کا استعمال، یہ اور اس قسم کے امور کے متعلق کیا کیا انتظام خود ایجاد کئے۔ اور ان کو کس عجیب و غریب زور و قوت کے ساتھ قائم رکھا تو تم خود فیصلہ کر لو گے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغیر یہ کل مطلق کام نہیں دے سکتی تھی۔

عراق کی فتوحات میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے درحقیقت خود سپہ سالاری کا کام کیا تھا۔ فوج جب مدینہ سے روانہ ہوئی تو ایک ایک منزل بلکہ راستہ تک خود متعین کر دیا تھا اور اس کے موافق تحریری احکام بھیجتے رہتے تھے۔ فوج قادسیہ کے قریب پہنچی تو موقع کا نقشہ منگوا بھیجا اور اس کے لحاظ سے فوج کی ترتیب اور صف آرائی سے متعلق ہدائتیں بھجیں۔ جس قدر افسر جن جن کاموں پر مامور ہوتے تھے ، ان کے خاص حکم کے موافق مامور ہوتے تھے۔

تاریخ طبری میں عراق کے واقعات کو تفصیل سے دیکھو تو صاف نظر آتا ہے کہ ایک بڑا سپہ سالار دور سے تمام فوجوں کو لڑا رہا ہے اور جو کچھ ہوتا ہے اس کے اشاروں پر ہوتا ہے۔ ان تمام لڑائیوں میں جو دس برس کی مدت میں پیش آئیں، سب سے زیادہ خطرناک دو موقعے تھے۔ ایک نہاوند کا معرکہ جب ایرانیوں نے فارس کے صوبہ جات میں ہر جگہ نقیب دوڑا کر تمام ملک میں آگ لگا دی تھی۔ اور لاکھوں فوج مہیا کر کے مسلمانوں کی طرف بڑھے تھے۔ دوسرے جب قیصر روم نے جزیرہ والوں کی اعانت سے دوبارہ حمص پر چڑھائی کی تھی۔ ان دونوں معرکوں میں صرف حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حسن تدبیر تھی، جس نے ایک طرف ایک اٹھتے ہوئے طوفان کو دبا دیا۔ اور دوسری طرف ایک کوہ گراں کے پرخچے اڑا دیئے۔ چنانچہ ہم ان واقعات کی تفصیل پہلے حصے میں لکھ آئے ہیں۔

ان واقعات کی تفصیل کے بعد یہ دعویٰ صاف ثابت ہو جاتا ہے کہ جب سے دنیا کی تاریخ معلوم ہے آج تک کوئی شخص فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر فاتح اور کشور کشا نہیں گزرا جو فتوحات اور عدل دونوں کا جامع ہو۔

*حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا نظام حکومت ①:*
================================

اسلام میں خلافت یا حکومت کی بنیاد اگرچہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں پڑی۔ لیکن حکومت کا دور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد سے شروع ہوتا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دو سالہ خلافت میں اگرچہ بڑی بڑی مہمات کا فیصلہ ہوا یعنی عرب کے مرتدوں کا خاتمہ ہو گیا اور بیرونی فتوحات شروع ہوئیں۔ تاہم حکومت کا کوئی خاص نظام نہیں قائم ہوا۔ اور نہ اتنا مختصر زمانہ اس کے لیے کافی ہو سکتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک طرف تو فتوحات کو وسعت دی کہ قیصر و کسریٰ کی وسیع سلطنتیں ٹوٹ کر خاک میں مل گئیں۔ دوسری طرف حکومت و سلطنت کا نظام قائم کیا اور اس کو اس قدر ترقی دی کہ ان کی وفات تک حکومت کے جس قدر مختلف شعبے ہیں سب وجود میں آ چکے تھے۔ لیکن قبل اس کے کہ ہم حکومت کے قواعد و آئین کی تفصیل بتائیں، پہلے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس حکومت کی ترکیب اور ساخت کیا تھی؟ یعنی سلطنت کا میلان ذاتی اختیار پر تھا یا عام رائے پر۔

*حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں مجلس شوریٰ (کونسل):*

اس میں سب کا اصل الاصول مجلس شوریٰ کا انعقاد تھا۔ یعنی جب کوئی انتظام کا مسئلہ پیش آتا تھا تو ہمیشہ ارباب شوریٰ کی مجلس منعقد ہوتی تھی۔ اور کوئی امر بغیر مشورہ اور کثرت رائے کے عمل میں نہیں آ سکتا تھا۔ تمام جماعت اسلام میں اس وقت دو گروہ تھے جو کل قوم کے پیشوا تھے اور جن کو تمام عرب نے گویا اپنا قائم مقام تسلیم کر لیا تھا۔ یعنی مہاجرین و انصار۔

*مجلس شوریٰ کے ارکان اور اس کے انعقاد کا طریقہ:*

مجلس شوریٰ میں ہمیشہ لازمی طور پر ان دونوں گروہ کے ارکان شریک ہوتے تھے۔ انصار بھی دو قبیلوں میں منقسم تھے۔ اوس و خزرج۔ چنانچہ ان دونوں خاندانوں کا مجلس شوریٰ میں شریک ہونا ضروری تھا۔ مجلس شوریٰ کے تمام ارکان کے نام اگرچہ ہم نہیں بتا سکتے، تاہم اس قدر معلوم ہے کہ حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف، حضرت معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم شامل تھے۔
(کنز العمال حوالہ طبقات ابن سعد جلد 3 صفحہ 134 مطبوعہ حیدر آباد)۔

مجلس کے انعقاد کا یہ طریقہ تھا کہ پہلے ایک منادی اعلان کرتا تھا کہ الصلوٰۃ جامعہ یعنی سب لوگ نماز کے لیے جمع ہو جائیں۔ جب لوگ جمع ہو جاتے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد نبوی میں جا کر دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ نماز کے بعد منبر پر چڑھ کر خطبہ دیتے تھے اور بحث طلب امر پیش کیا جاتا تھا۔ (تاریخ طری صفحہ 2574)۔

*مجلس شوریٰ کے جلسے:*

معمولی اور روزمرہ کے کاروبار میں اس مجلس کے فیصلے کافی سمجھے جاتے تھے لیکن جب کوئی امر اہم پیش آتا تھا تو مہاجرین اور انصار کا اجلاس عام ہوتا تھا اور سب کے اتفاق سے وہ امر طے پایا جاتا تھا۔ مثلاً عراق و شام کے فتح ہونے پر جب بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصرار کیا کہ تمام مفتوحہ مقامات فوج کی جاگیر میں دے دیئے جائیں تو بہت بڑی مجلس منعقد ہوئی۔ جس میں تمام قدمائے مہاجرین اور انصار میں سے عام لوگوں کے علاوہ دس بڑے سردار جو تمام قوم میں ممتاز تھے اور جن میں پانچ شخص قبیلہ اوس اور پانچ قبیلہ خزرج کے تھے ، شریک ہوئے۔ کئی دن تک مجلس کے جلسے رہے اور نہایت آزادی و بیباکی سے لوگوں نے تقریریں کیں۔ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو تقریر (تمام تفصیل کتاب الخراج قاضی ابو یوسف صفحہ 14 تا 15 میں ہے۔ ) کی اس کے جستہ جستہ فقرے ہم اس لحاظ سے نقل کرتے ہیں کہ اس سے منصب خلافت کی حقیقت اور خلیفہ وقت کے اختیارات کا اندازہ ہوتا ہے۔

*” الی لم از عجکم الا لان نشر کوا فی امانتی فیما حملت من امور کم فانی واحد کا حد کم۔ ولست اریدان یتبعوا اھذا الذی ہوای۔ “*

21 ہجری میں جب نہاوند کا سخت معرکہ پیش آیا اور عجمیوں نے اس سر و سامان سے تیاری کی کہ لوگوں کے نزدیک خود خلیفہ وقت کا اس مہم پر جانا ضروری ٹھہرا تو بہت بڑی مجلس شوریٰ منعقد ہوئی۔ حضرت عثمان، طلحہ بن عبید اللہ، زبیر بن العوام، عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہم وغیرہ نے باری باری کھڑے ہو کر تقریریں کیں۔ اور کہا کہ آپ کا خود موقع جنگ پر جانا مناسب نہیں۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور ان لوگوں کی تائید میں تقریر کی۔ غرض کثرت رائے سے یہی فیصلہ ہوا کہ خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ موقع جنگ پر نہ جائیں۔ اسی طرح فوج کی تنخواہ، دفتر کی ترتیب، عمال کا تقرر، غیر قوموں کی تجارت کی آزادی اور ان پر محصول کی تشخیص۔ اسی قسم کے بہت سے معاملات ہیں جن کی نسبت تاریخوں میں بہ تصریح مذکور ہے کہ مجلس شوریٰ میں پیش ہو کر طے پائے۔ ان امور کے پیش ہوتے وقت ارکان مجلس نے جو تقریریں کیں وہ بھی تاریخوں میں مذکور ہیں۔

مجلس شوریٰ کا انعقاد اور اہل الرائے کی مشورت استحسان و تبرع کے طور پر نہ تھی، بلکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مختلف موقعوں پر صاف صاف فرمایا تھا کہ مشورے کے بغیر خلافت سرے سے جائز ہی نہیں، ان کے خاص الفاظ یہ ہیں :
*” لا خلافۃ الا عن مشورۃ “* (کنز العمال بحوالہ مصنف بن ابی شیبہ جلد 3 صفحہ 139)۔

*ایک اور مجلس:*

مجلس شوریٰ کا اجلاس اکثر خاص خاص ضرورتوں کے پیش آنے کے وقت ہوتا تھا۔ لیکن اس کے علاوہ ایک اور مجلس تھی جہاں روزانہ انتظامات اور ضروریات پر گفتگو ہوتی تھی۔ یہ مجلس ہمیشہ مسجد نبوی میں منعقد ہوتی تھی۔ اور صرف مہاجرین صحابہ اس میں شریک ہوتے تھے۔ صوبجات اور اضلاع کی روزانہ خبریں جو دربار خلافت میں پہنچتی تھیں، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو اس مجلس میں بیان کرتے تھے اور کوئی بحث طلب امر ہوتا تھا تو اس میں لوگوں سے استصواب کیا جاتا تھا۔ مجوسیوں پر جزیہ مقرر کرنے کا مسئلہ اول اسی مجلس میں پیش ہوا تھا۔ مؤرخ بلاذری نے اس مجلس کا حال ایک ضمنی تذکرے میں ان الفاظ میں لکھا ہے :

*”للمھا جرین مجلس فی المسجد فکان عمر تجلس معھم فیہ و یحدثھم عما ینتبی الیہ من امر من امر الافاق فقال یوما ما ادری کیف اصنع بالمجوس۔ “*

*عام رعایا کی مداخلت:*

مجلس شوریٰ کے ارکان کے علاوہ عام رعایا کو انتظامی امور میں مداخلت حاصل تھی۔ صوبجات اور اضلاع کے حاکم رعایا کی مرضی سے مقرر کئے جاتے تھے۔ بلکہ بعض اوقات بالکل انتخاب کا طریقہ عمل میں آیا تھا۔ کوفہ، بصرہ اور شام میں جب عمال خراج مقرر کئے جانے لگے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان تینوں صوبوں میں احکام بھیجے کہ وہاں کے لوگ اپنی اپنی پسند سے ایک ایک شخص کا انتخاب کر کے بھیجیں جو ان کے نزدیک تمام لوگوں سے زیادہ دیانتدار اور قابل ہوں۔ چنانچہ کوفہ سے عثمان بن فرقد، بصرہ سے حجاج بن اعلاط، شام سے معن بن یزید کو لوگوں نے منتخب کر کے بھیجا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں لوگوں کو ان مقامات کا حاکم مقرر کیا۔ قاضی ابو یوسف رحمۃ اللہ صاحب نے اس واقعہ کو جن الفاظ میں بیان کیا ہے یہ ہیں :

*”کتب عمر بن الخطاب الی اھل الکوفۃ یبعثون الیہ رجلاً من اخبرھم و اصلحھم و الی احل البصرۃ کذالک و الی اھل الشام کذالک قال فبعث الیہ اھل الکوفہ عثمان بن فرقد و بعث الیہ اھل الشام معن بن یزید و بعث الیہ اھل البصرۃ الحجاج بن علاط کلھم مسلمون قال فاستعمل کل واحد منھم علی خراج ارضہ” (کتاب الخراج صفحہ 64)۔*

سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت بڑے رتبے کے صحابی اور نوشیروانی تخت کے فاتح تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تھا۔ لیکن جب لوگوں نے ان کی شکایت کی تو معزول کر دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکومت میں ہر شخص کو نہایت آزادی کے ساتھ یہ موقع حاصل تھا کہ ہرکوئی اپنے خیالات کا اظہار کرسکتے تھے اور لوگ اعلانیہ اپنے حقوق کا اظہار کرتے تھے۔ اضلاع سے قریباً ہر سال سفارتیں آتی تھیں جن کو وفد کہتے تھے۔ اس سفارت کا صرف یہ مقصد ہوتا تھا کہ دربار خلافت کو ہر قسم کے حالات اور شکایات سے مطلع کیا جائے اور داد رسی چاہی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود بار بار مختلف موقعوں پر اس حق کا اعلان کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ خاص اس کے لیے مجمع عام میں خطبہ پڑھا۔ فرمانوں میں تصریح کی اور ایک دفعہ تمام عمالان سلطنت کو حج کے مجمع عام میں طلب کر کے اس کا اعلان کیا۔ چنانچہ اس کی پوری تفصیل عمالوں کے بیان میں آئے گی۔

==================>جاری ہے ۔۔۔