عہد خلافت راشدہ امیر المومینین خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ”

(قسط_نمبر14)
تحریر و پیشکش محمد نوید
کرمان ، سیستان ، مکران 23 ہجری (644عیسوی)
=================================

#کرمان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(اس کا قدیم نام کرمانیہ ہے۔ حدود اربعہ یہ ہیں : شمال میں کوہستان، جنوب میں عمان، مشرق میں سیستان، مغرب میں فارس ہے۔ زمانہ سابق میں اس کا دار الصدر کر اسیر (بیروسیر) تھا۔ جس کی جگہ اب جبرفت آباد ہے۔ )

کرمان کی فتح پر سہیل بن عدی مامور ہوئے تھے۔ چنانچہ 23 ہجری میں ایک فوج لے کر جس کا ہراول بشیر بن عمر التجلی کی افسری میں تھا۔ کرمان پر حملہ آور ہوئے۔ یہاں کے مرزبان نے قفس وغیرہ سے مدد طلب کر کے مقابلہ کیا۔ لیکن وہ خود میدان جنگ میں نسیر کے ہاتھ سے مارا گیا۔ چونکہ آگے کچھ روک ٹوک نہ تھی، جبرفت اور سیرجان تک فوجیں بڑھتی چلی گئیں۔ اور بے شمار اونٹ اور بکریاں غنیمت میں ہاتھ آئیں۔ جبرفت کرمان کی تجارت گاہ اور سرجان کرمان کا سب سے بڑا شہر تھا۔

*سیستان:*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(سیستان کو عرب سجستان کہتے ہیں۔ حدود اربعہ یہ ہیں : شمال میں ہرات، جنوب میں مکران، مشرق میں سندھ اور مغرب میں کوہستان۔ یہاں کا مشہور شہر زرنج ہے، جہاں میوہ افراط سے پیدا ہوتا ہے۔ رقبہ 25000 مربع میل ہے۔ )

یہ ملک عاصم بن عمر کے ہاتھ سے فتح ہوا۔ باشندے سرحد پر برائے نام لڑ کر بھاگ نکلے عاصم برابر بڑھتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ زرنج کا جو سیستان کا دوسرا نام ہے ، محاصرہ کیا۔ محصوروں نے چند روز کے بعد اس شرط پر صلح کی درخواست کی کہ ان کی تمام اراضی حمی سمجھی جائے۔ مسلمانون نے یہ شرط منظور کر لی۔ اور اس طرح وفا کی کہ جب مرزروعات کی طرف نکلے تھے تو جلدی سے گزر جاتے تھے کہ زراعت چھو تک نہ جائے۔ اس ملکے کے قبضے میں آنے سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ سندھ سے لے کر نہر بلخ تک جس قدر ممالک تھے ان کی فتح کی کلید ہاتھ میں آ گئی۔ چنانچہ وقتاً فوقتاً ان ملکوں پر حملے ہوتے رہے۔

*مکران:*
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(آج کل مکران کا نصف حصہ بلوچستان کہلاتا ہے۔ اگرچہ مؤرخ بلاذری فتوحات فاروقی کی آمد سندھ کے شہر دیبل تک لکھتا ہے۔ مگر طبری نے مکران ہی کو اخیر حد قرار دیا ہے۔ اس لیے ہم نے بھی نقشہ میں فتوحات فاروقی کی وہیں تک حد قرار دی ہے۔ )

مکران پر حکم بن عمرو التغلبی مامور ہوئے تھے۔ چنانچہ 23 ہجری میں روانہ ہو کر نہر مکران کے اس طرف فوجیں اتاریں، مکران کا بادشاہ جس کا نام راسل تھا خود پار اتر کر آیا اور صف آرائی کی۔ ایک بڑی جنگ کے بعد راسل نے شکست کھائی اور مکران پر قبضہ ہو گیا۔ حکم نے نامہ فتح کے ساتھ چند ہاتھی بھی جو غنیمت میں آئے تھے ، دربار خلافت میں بھیجے۔ صحار عبدی جو نامہ فتح لے کر گئے تھے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے مکران کا حال پوچھا، انہوں نے کہا:

*” ارضً سھلھا جبلً ماءھا وشلً و ثمرھا وقلً و عدوھا بطلً و خیرھا قلیلً و شرھا طویلً والکثیر بھا قلیلً۔ “*

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا واقعات کے بیان کرنے میں قافیہ بندی کا کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں واقعی حالات بیان کرتا ہوں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ بھیجا کہ فوجیں جہاں تک پہنچ چکی ہیں وہیں رک جائیں۔ چنانچہ فتوحات فاروقی کی اخیر حد یہی مکران ہے لیکن یہ طبری کا بیان ہے۔ مؤرخ بلاذری کی روایت ہے کہ دیبل کے نشیبی حصہ اور تھانہ تک فوجیں آئیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں اسلام کا قدم سندھ و ہندوستان میں بھی آ چکا تھا۔

*خراسان کی فتح اور یزد گرد کی ہزیمت 23 ہجری (644عیسوی)*
===========================================

(علامہ بلاذری کے نزدیک تمام ماورا النہر فرغانہ، خوارزم، طخارستان اور سیستان کا رقبہ خراسان میں داخل تھا مگر اصل یہ ہے کہ اس کے حدود ہر زمانے میں مختلف رہے ہیں۔ اس کے مشہور شہر نیشاپور، مرو، ہرات، بلخ، طوس فسا اور ابی درد وغیرہ تھے۔ جن میں سے پچھلے بالکل ویران ہیں۔ )

اوپر ہم لکھ آئے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن جن افسروں کو ملک گیری کے علم بھیجے تھے ان میں احنف بن قیس بھی تھے۔ اور ان کو خراسان کا علم عنایت ہوا تھا۔ احنف نے 22 ہجری میں خراسان کا رخ کیا۔ طیسن ہو کر ہرات پہنچے اور اس کو فتح کر کے مرد شاہجہان پر بڑھے ، یزدگر شاہنشاہ فارس یہیں مقیم تھا۔ ان کی آمد سن کر مرور رود چلا گیا۔ اور خاقان چین اور دیگر سلاطین کو استمداد کے نامے لکھے۔ احنف نے مرد شاہجہان پر حارثہ بن النیمان باہلی چھوڑا اور خود مرورود کی طرف بڑھے۔ یزدگرد یہاں سے بھی بھاگا۔ اور سیدھا بلخ پہنچا۔ اس اثناء میں کوفہ سے امدادی فوجیں آ گئیں جس سے میمنہ و میسرہ وغیرہ کے افسر علقمہ بن الضری، ربعی بن عامر التمیمی، عبد اللہ بن ابی عقیل السقنی ابن ام غزال الہمدانی تھے۔ احنف نے تازہ دم فوج لے کر بلخ پر حملہ کیا۔ یزدگرد نے شکست کھائی اور دریا اتر کر خاقان کی حکومت میں چلا گیا۔ احنف نے میدان خالی پا کر ہر طرف فوجیں بھیج دیں اور نیشاپور طخارستان تک فتح کر لیا۔ مرورود کو تخت گاہ قرار دے کر مقام کیا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نامہ لکھا کہ خراسان اسلام کے قبضہ میں آ گیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتوحات کی وسعت کو چنداں پسند نہیں کرتے تھے۔ خط پڑھ کر فرمایا کہ ہمارے اور خراسان کے بیچ میں آگ کا دریا حائل ہوتا تو خوب ہوتا، احنف کے مردانہ حوصلوں کی اگرچہ تعریف کی اور فرمایا کہ احنف شرقیوں کا سرتاج ہے۔ تاہم جواب نامہ میں لکھا کہ جہاں تک پہنچ چکے ہو وہاں سے آگے نہ بڑھنا، ادھر یزدگرد خاقان کے پاس گیا اور اس نے بڑی عزت و توقیر کی۔ اور ایک فوج کثیر ہمراہ لے کر یزدگرد کے ساتھ خراسان روانہ ہوا۔ احنف جو بیس ہزار فوج کے ساتھ بلخ میں مقیم تھے ، خاقان کی آمد سن کر مرورد کو روانہ ہوا۔ اور وہاں پہنچ کر مقام کیا۔ خاقان بلخ ہوتا ہوا مرورود پہنچا۔ یزدگرد سے الگ ہو کر مروشاہجہان کی طرف بڑھا۔ احنف نے کھلے میدان میں مقابلہ کرنا مناسب نہ سمجھا، نہر اتر کر ایک میدان میں جس کی پشت پر پہاڑ تھا، صف آرائی کی۔ دونوں فوجیں مدت تک آمنے سامنے صفیں جمائے پڑی رہیں۔

صبح اور شام ساز و سامان سے آراستہ ہو کر میدان جنگ میں جاتے تھے۔ اور چونکہ ادھر سے کچھ جواب نہیں دیا جاتا تھا۔ بغیر لڑے واپس آ جاتے تھے۔ ترکوں کا عام دستور ہے کہ پہلے تین بہادر جنگ میں باری باری طبل و دمامہ کے ساتھ جاتے ہیں پھر سارا لشکر جنبش میں آتا ہے۔ ایک دن احنف خود میدان میں گئے ، ادھر سے معمول کے موافق ایک طبل و علم کے ساتھ نکلا۔ احنف نے حملہ کیا۔ اور دیر تک رد و بدل رہی۔ آخر احنف نے جوش میں آ کر کہا۔

ان علی کل رئیس حقا
ان یخضب الصعدۃ او یندقا

قاعدے کے موافق دو اور بہادر ترک میدان میں آئے اور احنف کے ہاتھ سے مارے گئے۔ خاقان جب خود میدان میں آیا تو اس نے بہادروں کی لاشیں میدان میں پڑی دیکھیں، چونکہ شگون بُرا تھا۔ نہایت پیچ و تاب کھایا اور فوج سے کہا کہ ہم بے فائدہ پرایا جھگڑا کیوں مول لیں۔ چنانچہ اسی وقت کوچ کا حکم دے دیا۔

یزد گرد مرد شاہجہان کا محاصرہ کئے پڑا تھا کہ یہ خبر پہنچی، فتح سے ناامید ہو کر خزانہ اور جواہر خانہ ساتھ لیا اور ترکستان کا قصد کیا۔ درباریوں نے یہ دیکھ کر ملک کی دولت ہاتھ سے نکلی جاتی ہے۔ روکا اور جب اس نے نہ مانا تو برسر مقابل آ کر تمام مال اور اسباب ایک ایک کر کے چھین لیا۔ یزدگرد بے سر و سامان خاقان کے پاس پہنچا۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اخیر خلافت تک فرغانہ میں جو خاقان کا دارالسلطنت تھا، مقیم رہا۔

احنف نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فتح نامہ لکھا۔ قاصد مدینہ پہنچا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تمام آدمیوں کو جمع کر کے مژدہ فتح سنایا۔ اور ایک پُر اثر تقریر کی۔ آخر میں فرمایا کہ آج مجوسیوں کی سلطنت برباد ہو گئی۔ اور اب وہ اسلام کو کسی طرح ضرر نہیں پہنچا سکتے۔ لیکن اگر تم بھی راست کرداری پر ثابت قدم نہ رہے تو خدا تم سے بھی حکومت چھین کر دوسروں کے ہاتھ میں دے دے گا۔

*شہادت حضرت عمر ؓ کا المناک سانحہ:*
==========================

مدینہ منورہ میں مغیرہ بن شعبہ کا ایک مجوسی غلام فیروز نامی جس کی کنیت ابولولوتھی رہتا تھا، اس نے ایک روز بازار میں فاروق اعظمؓ سے شکایت کی کہ میرا آقا مغیرہ بن شعبہ مجھ سے زیادہ محصول لیتا ہے، آپ کم کرادیجئے، فاروق اعظمؓ نے اس سے دریافت کیا کہ کس قدر محصول وہ وصول کرتا ہے، ابو لو لو نے کہا دودرہم (سات آنے) روزانہ، فاروق اعظمؓ نے دریافت فرمایا کہ تو کیا کام کرتا ہے، اس نے کہا آہنگری نقاشی اور نجاری، آپ نے فرمایا کہ ان صنعتوں کے مقابلہ میں یہ رقم زیادہ نہیں ہے، یہ سُن کر ابو لولو اپنے دل میں سخت ناراض ہوا، فاروق اعظمؓ نے پھر اس سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں نے سُنا ہے تو ایسی چکی بنانا جانتا ہے کہ جو ہوا کے زور سے چلتی ہے، تو مجھے بھی ایسی چکی بنادے، اس نے جواب میں کہا کہ بہت خوب میں ایسی چکی بنادوں گا جس کی آواز اہل مغرب ومشرق سنیں گے، دوسرے دن نمازِ فجر کے لئے لوگ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع ہوئے، ابو لو لو ایک خنجر لیے ہوئے مسجد میں داخل ہوگیا، جب نماز کے لئے صفیں درست ہوگئیں، اور فاروق اعظمؓ امامت کے لئے آگے بڑھ کر نماز شروع کرچکے، تو ابو لولو نے جو مسلمانوں کے ساتھ صف اول میں کھڑا تھا نکل کر فاروق اعظمؓ پر خنجر کے چھ وار کئے جن میں ایک وار ناف سے نیچے پڑا فاروق اعظمؓ نے فوراً حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو کھینچ کر اپنی جگہ کھڑا کردیا اورخود زخموں کے صدمہ سے بے ہوش ہوکر گرپڑے۔

حضرت عبدالرحمن بن عوف نے لوگوں کو اس حالت میں نماز پڑھائی، کہ فاروق اعظمؓ زخمی سامنے پڑے تھے، ابو لولو اپنا وار کرکے مسجد نبوی سے بھاگا، لوگوں نے اس کے پکڑنے کی کوشش کی، اُس نے کئی شخصوں کو زخمی کیا اور کلیب بن ابی بکیرؓ کو شہید کردیا، بالآخر گرفتار کرلیا گیا، لیکن اس نے گرفتار ہوتے ہی خود کشی کرلی، نماز فجر پڑھ لینے کے بعد لوگ فاروق اعظمؓ کو مسجد سے اُٹھا کر اُن کے گھر لائے انہوں نے ہوش میں آتے ہی سب سے پہلے یہ دریافت کیا کہ میرا قاتل کون تھا، لوگوں نے ابو لولو کا نام بتایا تو آپ نے فرمایا خدا کا شکر ہے کہ میں ایسے شخص کے ہاتھ سے نہیں مارا گیا جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو یا جس نے خدا کو ایک سجدہ بھی کیا ہو، ایک طبیب نے آکر آپ کو دودھ اور نبیذ پلایا تو وہ زخم کے راستے باہر نکل آیا، یہ حالت دیکھ کر لوگوں کو آپ کی زندگی سے مایوسی ہوئی اور عرض کیا کہ جس طرح حضرت ابوبکر صدیقؓ نے آپ کو اپنا جانشین مقرر فرما دیا تھا، آپ بھی کسی کو اپنا جانشین مقرر فرما دیں۔

آپ نے عبدالرحمن بن عوفؓ حضرت سعد بن وقاصؓ،حضرت زبیرؓ بن العوامؓ، حضرت طلحہ ،حضرت علی کرم اللہ وجہہ، حضرت عثمان بن عفانؓ کو طلب فرمایا، حضرت طلحہؓ مدینہ منورہ میں تشریف نہ رکھتے تھے فاروق اعظمؓ نے پانچ آدمیوں سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تین روز تک طلحہؓ کا انتظار کرنا، اگر وہ تین روز تک آجائیں تو ان کو بھی اپنی جماعت میں شامل کرنا، اور تین روز تک نہ آئیں تو پھر تم پانچ آدمی ہی مشورہ کرکے اپنے آپ میں سے کسی ایک کو اپنا امیر بنالینا، اس کےبعد آپ نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کو بلاکر کہا کہ اگر لوگ خلافت وامارت کے انتخاب میں اختلاف کریں،تو تم کثرت کے ساتھ شریک ہونا اور اگر فریقین برابر تعداد کے ہوں تو تم اس گروہ میں شریک ہونا جس میں عبدالرحمن بن عوفؓ شامل ہوں، پھر ابو طلحہ انصاری اور مقداد بن اسود کو بلا کر حکم دیا، کہ جب یہ لوگ خلیفہ کے انتخاب وتقرر کی غرض سے ایک جگہ مشورہ کرنے کو جمع ہوں، تو تم دونوں دروازے پر کھڑے رہنا اور کسی کو ان کے پاس نہ جانے دینا جب تک وہ مشورے سے فارغ نہ ہوجائیں، پھر آپ نے مذکورہ بالا حضرات کو مخاطب کرکے فرمایا کہ جو شخص خلافت کے لئے منتخب ہو اس کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ انصار کے حقوق کا بہت خیال رکھے، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی، مہاجرین کو اپنے گھروں میں ٹھہرایا انصار تمہارے محسن ہیں، ان کے ساتھ تم کو احسان کرنا چاہئے، ان کی خطا ولغزش سے حتی الامکان در گذر اور چشم پوشی اختیار کرنا مناسب ہے، تم میں سے جو شخص خلیفہ منتخب ہو، اس کو مہاجرین کا بھی پاس و لحاظ رکھنا چاہئے، کیونکہ یہی لوگ مادہ اسلام ہیں، اسی طرح ذمیوں کا بھی پورا پورا خیال رکھنا چاہئے، اُن کےسا تھ اللہ اور رسول کی ذمہ داری کو کماحقہ ملحوظ رکھا جائے، اور ذمیوں سے جو وعدہ کیا جائے، اس کو ضرور پورا کیا جائے، ان کے دشمنوں کو دور کیا جائے، ان کی طاقت سے زیادہ اُن کو تکلیف نہ دی جائے۔

قوم کے کام سے فراغت ہو چکی تو اپنے ذاتی مطالب پر توجہ کی۔ عبد اللہ اپنے بیٹھے کو بلا کر کہا کہ مجھ پر کس قدر قرض ہے۔ معلوم ہوا کہ چھیاسی ہزار درہم، فرمایا کہ میرے متروکہ سے ادا ہو سکے تو بہتر ورنہ خاندان عدی سے درخواست کرنا اور اگر وہ بھی پورا نہ کر سکیں توکل قریش سے۔ لیکن قریش کے علاوہ اوروں کو تکلیف نہ دینا۔ یہ صحیح بخاری کی روایت ہے۔ (دیکھو کتاب المناقب باب قصۃ البیعہ والاتفاق علی عثمان) لیکن عمر بن شیبہ نے کتاب المدینہ میں بسند صحیح روایت کیا ہے کہ نافع جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام تھے، کہتے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر قرض کیونکر رہ سکتا تھا۔ حالانکہ ان کے ایک وارث نے اپنے حصہ وراثت کو ایک لاکھ میں بیچا تھا۔ (دیکھو فتح الباری مطبوعہ مصر جلد 7 )۔

حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر چھیاسی ہزار کا قرض ضرور تھا۔ لیکن وہ اس طرح ادا کیا گیا کہ ان کا مسکونہ مکان بیچ ڈالا گیا۔ جس کو امیر معاویہ نے خریدا۔ یہ مکان باب السلام اور باب رحمت کے بیچ میں واقع تھا۔ اور اس مناسبت سے کہ اس سے قرض ادا کیا گیا، ایک مدت تک دار القضا کے نام سے مشہور رہا۔ چنانچہ ” خلاصۃ الوفانی اخبار دار المصطفیٰ” میں یہ واقعہ بتفصیل مذکور ہے۔ (دیکھو کتاب مذکور مطبوعہ مصر – 129)۔

پھر اپنے بیٹے حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بلا کر حکم دیا،حضرت عائشہؓ کی خدمت میں جاؤ اور حضرت ابوبکرصدیقؓ کے پہلو میں دفن کئے جانے کی اجازت حاصل کرو، وہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فاروق اعظمؓ کی التجا پیش کی، حضرت عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ یہ جگہ میں نے اپنے لئے تجویز کی تھی، لیکن اب میں عمر فاروقؓ کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں، اُن کو ضرور اس جگہ دفن کیا جائے یہ خبر جب حضرت عبداللہ ؓ نے فاروق اعظمؓ کو سنائی، تو وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ میری سب سے بڑی مراد برآئی، چہارشنبہ ۲۷ ذی الحجہ ۲۳ھ کو آپ زخمی ہوئے،اور یکم محرم ۲۴ھ کو ہفتہ کے دن فوت ہوکر مدفون ہوئے، ساڑھے دس برس خلافت کی، نماز جنازہ حضرت صہیبؓ نے پڑھائی ،حضرت عثمان غنیؓ، حضرت علیؓ ،حضرت زبیرؓ، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اورحضرت عبداللہ بن عمرؓ نے قبر میں اُتارا۔
جاری ہے…