عہد خلافت راشدہ امیر المومینین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ”

(قسط نمبر13)
تحریر و پیشکش محمد نوید
“ایران پر عام لشکر کشی 21 ہجری (642 عیسوی)”
=================================

اس وقت تک حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایران کی عام تسخیر کا ارادہ نہیں کیا تھا۔ اب تک جو لڑائیاں ہوئیں وہ صرف اپنے ملک کی حفاظت کے لئے تھیں۔ عراق کا البتہ ممالک محروسہ میں اضافہ کر لیا گیا تھا۔ لیکن وہ درحقیقت عرب کا ایک حصہ تھا۔ کیونکہ اسلام سے پہلے اس کے ہر حصہ میں عرب آباد تھے۔ عراق سے آگے بڑھ کر جو لڑائیاں ہوئیں وہ عراق کے سلسلہ میں خود بخود پیدا ہوتی گئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود فرمایا کرتے تھے کہ ” کاش ہمارے اور فارس کے بیچ میں آگ کا پہاڑ ہوتا تا کہ نہ وہ ہم پر حملہ کر سکتے نہ ہم ان پر چڑھ کر جا سکتے۔ ” لیکن ایرانیوں کو کسی طرح چین نہیں آتا تھا۔ وہ ہمیشہ نئی فوجیں تیار کر کے مقابلے پر آتے تھے اور جو ممالک مسلمانوں کے قبضے میں آ چکے تھے وہاں غدر کروا دیا کرتے تھے۔ نہاوند کے معرکہ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس پر خیال ہوا۔ اور اکابر صحابہ کو بلا کر پوچھا کہ ممالک مفتوحہ میں بار بار بغاوت کیوں ہو جاتی ہے۔ لوگوں نے کہا جب تک یزدگرد ایران کی حدود سے نکل نہ جائے ، یہ فتنہ فرو نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ جب تک ایرانیوں کو یہ خیال رہے گا کہ تخت کیانی کا وارث موجود ہے، اس وقت تک ان کی امیدیں منقطع نہیں ہو سکتیں۔”

اس بناء پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عام لشکر کشی کا ارادہ کیا۔ اپنے ہاتھ سے متعدد علم تیار کئے۔ اور جدا جدا ممالک کے نام سے نامزد کر کے مشہور افسروں کے پاس بھیجے۔ چنانچہ خراسان کا عَلم احتف بن قیس کو، سابورو اردشیر کا مجاشع بن مسعود کو، اصطخر کا عثمان بن العاص الثقفی کو، افساء کا ساریہ بن رہم الکنافی کو، کرمان کا سہیل بن عدی کو، سیستان کا عاصم بن عمرو کو، مکران کا حکم بن عمیر التغسلبی کو، آذر بائیجان کا عتبہ کو عنایت کیا۔ 21 ہجری میں یہ افسر اپنے اپنے متعینہ ممالک کی طرف روانہ ہوئے۔ چنانچہ ہم ان کو الگ الگ ترتیب کے ساتھ لکھتے ہیں۔

فتوحات کے سلسلے میں سب سے پہلے اصفہان کا نمبر ہے۔ 21 ہجری میں عبد اللہ بن عبد اللہ نے اس صوبہ پر چڑھائی کی، یہاں کے رئیس نے جس کا نام استندرا تھا۔ اصفہان کے نواح میں بڑی جمیعت فراہم کی تھی جس کے ہراول پر شہربرز جادویہ ایک پرانا تجربہ کار افسر تھا۔ دونوں فوجیں مقابل ہوئیں تو جادویہ نے میدان میں آ کر پکارا کہ جس کا دعویٰ ہو، تنہا میرے مقابلہ کو آئے۔ عبد اللہ خود مقابلے کو آئے۔ جادویہ مارا گیا اور ساتھ ہی لڑائی کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ استندار نے معمولی شرائط پر صلح کر لی۔ عبد اللہ نے آگے بڑھ کر “جے ” یعنی خاص اصفہان کا محاصرہ کیا۔ فاذوسفان یہاں کے رئیس نے پیغام بھیجا کہ دوسروں کی جانیں کیوں ضائع ہوں، ہم تم لڑ کر خود فیصلہ کر لیں، دونوں حریف میدان میں آئے۔ فاذوسفان نے تلوار کا وار کیا، عبد اللہ نے اس پامردی سے اس کے حملہ کا مقابلہ کیا کہ فاذوسفان کے منہ سے بے اختیار آفریں نکلی۔ اور کہا کہ میں تم سے نہیں لڑنا چاہتا۔ بلکہ شہر اس شرط پر حوالہ کرتا ہوں کہ باشندوں میں سے جو چاہے جزیہ دے کر شہر میں رہے اور جو چاہے نکل جائے۔ عبد اللہ نے یہ شرط منظور کر لی۔ اور معاہدہ صلح لکھ دیا۔

اسی اثناء میں خبر لگی کہ ہمدان میں غدر ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعیم بن مقرن کو ادھر روانہ کیا۔ انہوں نے بارہ ہزار کی جمیعت سے ہمدار پہنچ کر محاصرہ کے سامان کئے۔ لیکن جب محاصرہ میں دیر لگی تو اضلاع میں ہر طرف فوجیں پھیلا دیں۔ یہاں تک کہ ہمدان چھوڑ کر باقی تمام مقامات فتح ہو گئے۔ یہ حالت دیکھ کر محصوروں نے بھی ہمت ہار دی اور صلح کر لی۔ ہمدان فتح ہو گیا۔ لیکن ویلم نے رے اور آذر بائیجان وغیرہ سے نامہ و پیام کر کے ایک بڑی فوج فراہم کی۔ ایک طرف سے فرخان کا باپ سمینیدی جو رے کا رئیس تھا، انبوہ کثیر لے کر آیا اور دوسری طرف سے اسفند یار رستم کا بھائی پہنچا۔ وادی رود میں یہ فوجیں مقابل ہوئیں۔ اور اس زور کا رن پڑا کہ لوگوں کو نہاوند کا معرکہ یاد آ گیا۔ آخر ویلم نے شکست کھائی۔ عروہ جو واقعہ جبیر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس شکست کی خبر لے کر گئے تھے ، اس فتح کا پیغام لے کر گئے تھے تا کہ اس دن کی تلافی ہو جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ویلم کی تیاریاں سن کر نہایت تردد میں تھے۔ اور امداد کا سامان کر رہے تھے کہ دفعتاً عروہ پہنچے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیال ہوا کہ شگون اچھا نہیں، بے ساختہ زبان سے انا للہ نکلا۔ عروہ نے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں۔ خدا نے مسلمانوں کو فتح دی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعیم کو نامہ لکھا کہ ہمدان پر کسی کو اپنا قائم مقام کر کے روانہ ہوں۔ رے کا حاکم اس وقت سیاؤش تھا جو بہرام چوبیں کا پوتا تھا۔ اس نے دماوند، طبرستان، قوس، جرجان کے رئیسوں سے مدد طلب کی اور ہر جگہ سے امدادی فوجیں آئیں۔ لیکن زمیندی جس کو سیاؤش سے کچھ ملال تھا۔ نعیم بن مقرن سے آ ملا۔ اس کی سازش سے شہر پر حملہ ہوا، اور حملہ کے ساتھ دفعتاً شہر فتح ہو گیا۔ نعیم نے زمیندی کو رے کی ریاست دی اور پرانے شہر کو برباد کر کے حکم دیا کہ نئے سرے سے آباد کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حکم کے مطابق نعیم نے خود رے میں قیام کیا۔ اور اپنے بھائی سوید کو قومس پر بھیجا، جو بغیر کسی جنگ کے فتح ہو گیا۔ اس فتح کے ساتھ عراق عجم پر پورا پورا قبصہ ہو گیا۔

*آذربائیجان، طبرستان، آرمینیہ ۲۲ ہجری (643عیسوی)*
====================================

(نقشہ دیکھنے سے آذربائیجان کا پتہ اس طرح لگے گا کہ شہر تبریز کو اس کا صدر مقام سمجھنا چاہیے (سابق میں شہر مراغہ دار الصدر تھا)۔ بروعہ اور اردبیل اسی صوبہ میں آباد ہیں۔ آذربائیجان کی وجہ تسمیہ میں دو روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ موبد آذر آباد نے ایک آتشکدہ بنایا تھا۔ جس کا نام آباد گان تھا۔ دوسری روایت یہ ہے کہ لغت پہلوی میں آذر کے معنی آتش کے ہیں۔ اور بائیگان کے معنی ہیں محافظ۔ یعنی نگاہ دارانِ آتش چونکہ اس صوبے میں آتش کدوں کی کثرت تھی۔ اس کی وجہ سے یہی نام ہو گیا جس کو عربوں نے اپنی زبان میں آذر بائیجان کر لیا۔ )

جیسا کہ ہم پہلے لکھ آئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آذر بائیجان کا علم عتبہ بن فرقد اور بکیر کو بھیجا تھا اور ان کے بڑھنے کی سمتیں بھی متعین کر دی تھیں۔ بکیر جب میدان میں پہنچے تو اسفند یار کا سامنا ہوا۔ اسفند یار نے شکست کھائی اور زندہ گرفتار ہو گیا۔ دوسرے طرف اسفند یار کا بھائی بہرام عتبہ کا سد راہ ہوا، وہ بھی شکست کھا کر بھاگ گیا۔ اسفند یار نے بھائی کی شکست کی خبر سنی تو بکیر سے کہا کہ اب لڑائی کی آگ بجھ گئی اور میں جزیہ پر تم سے صلح کر لیتا ہوں۔ چونکہ آذر بائیجان انہی دونوں بھائیوں کے قبضے میں تھا۔ عتبہ نے اسفند یار کو اس شرط پر رہا کر دیا کہ وہ آذر بائیجان کا رئیس رہ کر جزیہ ادا کرتا رہے۔ مؤرخ بلاذری کا بیان ہے کہ آذربائیجان کا عَلم حذیفہ بن یمان کو ملا تھا۔ وہ نہاوند سے چل کر اردبیل پہنچے جو آذربائیجان کا پایہ تخت تھا۔ یہاں کے رئیس نے ماجروان، ہیمند، سراۃ، سبز، میانج وغیرہ سے ایک انبوہ کثیر جمع کر کے مقابلہ کیا اور شکست کھائی۔ پھر آٹھ لاکھ سالانہ پر صلح ہو گئی۔ حذیفہ نے اس کے بعد موقان و جیلان پر حملہ کیا۔ اور فتح کے پھریرے اڑائے۔

اسی اثناء میں دربار خلافت سے حذیفہ کی معزولی کا فرمان پہنچا اور عتبہ بن فرقد ان کی جگہ مقرر ہوئے۔ عتبہ کے پہنچتے پہنچتے آذربائیجان کے تمام اطراف میں بغاوت پھیل چکی تھی۔ چنانچہ عتبہ نے دوبارہ ان مقامات کو فتح کیا۔

*طبرستان:*

(نقشہ میں طبرستان فتوحات شمالی میں ملے گا۔ اس لئے کہ خلافت فاروقی میں جزیہ دے کر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس کی حدود اربعہ یہ ہیں۔ مشرق میں خراسان و جرجان، مغرب میں آذر بائیجان، شمال میں جوزجان اور جنوب میں بلاخیل، بصام اور استر آباد اس کے مشہور شہر ہیں۔ )

ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ نعیم نے جب رے فتح کر لیا تو ان کے بھائی سوید قومس پر بڑھے اور یہ وسیع صوبہ بغیر جنگ و جدل کے قبضہ میں آ گیا۔ یہاں سے جرجان جو طبرستان کا مشہور ضلع ہے ، نہایت قریب ہے۔ سوید نے وہاں کے رئیس روزبان سے نامہ پیام کیا۔ اس نے جزیہ پر صلح کر لی۔ اور معاہدہ صلح میں بتصریح لکھ دیا کہ مسلمان جرجان اور دہستان وغیرہ کے امن کے ذمہ دار ہیں۔ اور ملک والوں میں جو لوگ بیرونی حملوں کے روکنے میں مسلمانوں کا ساتھ دیں گے وہ جزیہ سے بری ہیں۔ جرجان کی خبر سن کر طبرستان کے رئیس نے بھی جو سپہدار کہلاتا تھا اس شرط پر صلح کر لی کہ پانچ لاکھ درہم سالانہ دیا کرے گا اور مسلمانوں کو ان پر یا ان کو مسلمانوں پر کچھ حق نہ ہو گا۔

*آرمینیہ:*

(صوبہ آرمینیہ کو بلاد ارمن بھی کہتے ہیں جو ایشائے کوچک کا ایک حصہ ہے۔ شمال میں بحر اسود، جنوب میں کوہی اور صحرائی حصہ دور تک چلا گیا ہے۔ مشرق میں گرجستان اور غرب میں بلاد روم واقعہ ہیں۔ چونکہ یہ صوبہ خلافت عثمانی میں کامل فتح ہوا تھا۔ اس لئے نقشہ میں فاروقی رنگ جدا ہے۔ )

بکیر جو آذربائجان کی مہم پر مامور ہوئے تھے۔ آذربایجان فتح کر کے باب کے متصل پہنچ گئے تھے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک نئی فوج تیار کر کے ان کی مدد کو بھیجی، باب کا رئیس جس کا نام شہر براز تھا مجوسی تھا اور سلطنت ایران کا ماتحت تھا۔ مسلمانوں کی آمد کا سن کر خود حاضر ہوا۔ اور کہا مجھ کو آرمینیہ کے مکینوں سے کچھ ہمدردی نہیں ہے۔ میں ایران کی نسل سے ہوں۔ اور جب خود ایران فتح ہو چکا تو میں تمہارا مطیع ہوں، لیکن میری درخواست ہے کہ مجھ سے جزیہ نہ لیا جائے۔ جب ضرورت پیش ائے تو فوجی امداد لی جائے۔ چونکہ جزیہ درحقیقت صرف محافظت کا معاوضہ ہے اس لیے یہ شرط منظور کر لی گئی۔ اس سے فارغ ہو کر فوجیں آگے بڑھیں۔ عبد الرحمٰن بن ربیعہ، بلخیر کی طرف جو مملکت خرز کا پائے تخت تھا، روانہ ہوئے۔ شہربراز ساتھ تھا۔ اس نے تعجب سے کہا کہ کیا ارادہ ہے ؟ ہم لوگ اپنے عہد میں اسی کو غنیمت سمجھتے تھے کہ وہ لوگ ہم پر چڑھ کر نہ آئیں۔ عبد الرحمٰن نے کہا کہ ” لیکن میں جب تک اس کے جگر میں گھس جاؤں باز نہیں آ سکتا۔ ” چنانچہ بیضا فتح کیا تھا کہ خلافت فاروقی کا زمانہ تمام ہو گیا۔ ادھر بکیر نے قان کو جہاں سے اردن کی سرحد شروع ہوتی ہے فتح کر کے اسلام کی سلطنت میں ملا لیا، حبیب بن مسلمہ اور حذیفہ نے ثقلیس اور جیال املان کا رخ کیا۔ لیکن قبل اس کے کہ وہاں اسلام کا پھریرا اڑتا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا زمانہ ختم ہو گیا۔ یہ تمام مہمات حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں انجام کو پہنچیں۔

*فارس 23 ہجری (644 عیسوی):*
======================

(حال کے جغرافیہ میں عراق کی حدود گھٹا کر فارس کی حدود بڑھا دی گئی ہیں۔ مگر ہم نے جس وقت کا نقشہ دیا ہے اس وقت فارس کے حدود یہ تھے۔ شمال میں اصفہان جنوب میں بحر فارس مشرق میں کرمان اور مغرب میں عراق۔ عرب اس کا سب سے بڑا اور مشہور شہر شیراز ہے۔ )

فارس پر اگرچہ اول اول 17 ہجری میں حملہ ہوا۔ لیکن چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجازت سے نہ تھا اور نہ اس وقت چنداں کامیابی ہوئی۔ ہم نے اس زمانے کے واقعات کے ساتھ اس کو لکھنا مناسب نہ سمجھا۔ عراق اور اہواز جو عرب کے ہمسایہ تھے فتح ہو چکے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اور فارس کے بیچ میں آتشیں پہاڑ حائل ہوتا تو اچھا تھا۔ لیکن فارس سے ایک اتفاقی طور پر جنگ چھڑ گئی۔ علاء بن الحضرمی 17 ہجری میں بحرین کے عامل مقرر ہوئے۔ وہ بڑی ہمت اور حوصلہ کے آدمی تھے۔ اور چونکہ سعد بن وقاص سے بعض اسباب کی وجہ سے رقابت تھی۔ ہر میدان میں ان سے بڑھ کر قدم مارنا چاہتے تھے۔ سعد نے جب قادسیہ کی لڑائی جیتی تو علاء کو سخت رشک ہوا۔ یہاں تک کہ دربار خلافت سے اجازت تک نہ لی۔ اور فوجیں تیار کر کے دریا کی راہ فارس پر چڑھائی کر دی۔ خلید بن منذر سر لشکر تھے اور جارود بن المعلی اور سوار بن ہمام کے ماتحت الگ الگ فوجیں تھیں۔ اصطخر پہنچ کر جہاز نے لنگر کیا۔ اور فوجیں کنارے پر اتریں۔ یہاں کا حاکم ہیربد تھا۔ وہ ایک انبوہ کثیر لے کر پہنچا اور دریا اتر کر اس پار صفیں قائم کیں کہ مسلمان جہاز تک نہ پہنچ پائیں۔ اگرچہ مسلمانوں کی جمعیت کم تھی۔ اور جہاز بھی گویا دشمن کے قبضے میں آ گئے تھے۔ لیکن سپہ سالار فوج کی ثابت قدمی میں فرق نہ آیا۔ بڑے جوش کے ساتھ مقابلہ کو بڑھے اور فوج کو للکارا کہ مسلمانو! بے دل نہ ہونا۔ دشمن نے ہمارے جہازوں کو چھیننا چاہا ہے۔ لیکن خدا نے چاہا تو جہاز کے ساتھ دشمن کا ملک بھی ہمارا ہے۔
خلید اور جارود بڑی جانبازی سے رجز پڑھ پڑھ کر لڑے اور ہزاروں کو تہ تیغ کیا۔ خلید کا رجزیہ تھا :

یاآل عبدالقیس للنزاع
قدحفل الامداد بالجراع

وکلھم فی سنن المصاع
بحسن ضرب القوم بالقطاع

غرض سخت معرکہ ہوا۔ اگرچہ فتح مسلمانوں کو نصیب ہوئی، لیکن چونکہ فوج کا بڑا حصہ برباد ہو گیا، نہ بڑھ سکے۔ پیچھے ہٹنا چاہا۔ مگر غنیم نے جہاز غرق کر دیئے تھے۔ مجبور ہو کر خشکی کی راہ بصرہ کا رخ کیا۔ بدقسمتی سے ادھر بھی راہیں بند تھیں۔ ایرانیوں نے پہلے سے ہر طرف ناکے روک رکھے تھے۔ اور جا بجا فوجیں متعین کر دی تھیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فارس کے حملہ کا حال معلوم ہوا تو نہایت برہم ہوئے۔ علاء کو نہایت تہدید نامہ لکھا۔ ساتھ ہی عتبہ بن غزوان کو لکھا کہ مسلمانوں کے بچانے کے لیے فوراً لشکر تیار ہو اور فارس پر جائے۔ چنانچہ بارہ ہزار فوج جس کے سپہ سالار ابو سرۃ تھے تیار ہو کر فارس پر بڑھی اور مسلمان جہاں رکے پڑے تھے وہاں پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ ادھر مجوسیوں نے ہر طرف نقیب دوڑا دیئے تھے۔ اور ایک انبوہ کثیر اکٹھا کر لیا جس کا سر لشکر شہرک تھا۔ دونوں حریف دل توڑ کر لڑے۔ بالآخر ابوسرۃ نے فتح حاصل کی۔ لیکن چونکہ آگے بڑھنے کا حکم نہ تھا۔ بصرہ واپس چلے آئے۔

واقعہ نہاوند کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر طرف فوجیں روانہ کیں تو فارس پر بھی چڑھائی کی۔ اور جدا جدا فوجیں متعین کیں۔ پارسیوں نے توج کو صدر مقام قرار دے کر یہاں بڑا سامان کیا تھا۔ لیکن جب اسلامی فوجیں مختلف مقامات پر پھیل گئیں تو ان کو بھی منتشر ہونا پڑا اور یہ ان کی شکست کا دیباچہ تھا۔ چنانچہ سابور، اردشیر، توج، اصطخر سب باری باری فتح ہو گئے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اخیر خلافت یعنی 23 ہجری میں جب عثمان بن ابی العاص بحرین کے عامل مقرر ہوئے تو شہرک نے جو فارس کا مرزبان تھا، بغاوت کی اور تمام مفتوحہ مقامات ہاتھ سے نکل گئے۔ عثمان نے اپنے بھائی حکم کو ایک جمیعت کثیر کے ساتھ مہم پر مامور کیا۔ حکم جزیرہ ابکادان فتح کر کے توج پر بڑھے اور اس کو فتح کر کے وہیں چھاؤنی ڈال دی۔ مسجدیں تعمیر کیں اور عرب کے بہت سے قبائل آباد کئے۔ یہاں سے کبھی کبھی اٹھ کر سرحدی شہروں پر حملہ کرتے اور پھر واپس آ جاتے۔ اس طرح اردشیر، سابور، اصطخر، ارجان کے بہت سے حصے دبا لئے۔ شہرک یہ دیکھ کر نہایت طیش میں آیا۔ اور ایک فوج عظیم جمع کر کے توج پر بڑھا۔ رامشہر پہنچا تھا کہ ادھر سے حکم خود آگے بڑھ کر مقابل ہوئے۔ شہرک نے نہایت ترتیب سے صف آرائی کی۔ فوج کا ایک دستہ اس نے پیچھے رکھا کہ کوئی سپاہی پاؤں ہٹائے تو وہیں قتل کر دیا جائے۔

غرض جنگ شروع ہوئی اور دیر تک معرکہ رہا۔ پارسیوں کو شکست ہوئی اور شہرک جان سے مارا گیا۔ اس کے بعد عثمان نے ہر طرف فوجیں بھیج دیں۔ اس معرکہ سے تمام فارس میں دھاک بیٹھ گئی۔ عثمان نے جس طرف رخ کیا، ملک کے ملک فتح ہوتے چلے گئے۔ چنانچہ گازروں، نوبند جان، ارجان، شیراز، سابور جو فارس کے صدر مقامات ہیں، خود عثمان کے ہاتھ سے فتح ہوئے۔ فساء دار البحر وغیرہ فوجیں گئیں اور کامیاب آئیں۔

==================> جاری ہے ۔۔۔