عہد خلافت راشدہ امیر المومینین خلیفہ دوم شہید محراب مسجد نبوی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ”
(قسط نمبر 12)
تحریر و پیشکش محمد نوید مکمل
#مصر_کی_فتح_20_ہجری_(641)
=====================
فاروق اعظمؓ جب بیت المقدس تشریف لے گئے تھے تو حضرت عمرو بن العاصؓ نے ان سے مصر پر فوج کشی کی اجازت حاصل کرلی تھی؛ چنانچہ فاروق اعظمؓ نے حضر ت زبیرؓ بن العوام کو عمرو بن العاصؓ کا کمکی مقرر فرمایا تھا، عمرو بن العاصؓ چار ہزار اسلامی لشکر لے کر مصر کی جانب بڑھے مصر کے بادشاہ مقوقس کے پاس فاروق اعظمؓ کی ہدایت کے موافق حضرت عمروؓ نے تین شرطیں یعنی اسلام، جزیہ، جنگ لکھ کر بھیجیں، آج کل مصر میں رومی سردار ارطبون بھی معہ اپنی تمام فوج کے مقیم تھا، سب سے پہلے ارطبون اپنی فوج لے کر آگے بڑھا اورسخت معرکہ کے بعد شکست کھا کر بھاگا، مسلمانوں نے آگے بڑھ کر مقام عین شمس کا محاصرہ کرلیا، اور یہیں سے مصر کی فوجی چھاؤنی حصار فرما اور اسکندریہ کے محاصرہ کے لئے دو دستے روانہ کئے ،تینوں جگہ چند روز تک لڑائی اور محاصرہ کا سلسلہ جاری رہا ۔
مقوقس جو مصر کا فرمانروا اور قیصر کا باجگزار تھا، عمرو بن العاص سے پہلے قلعہ میں پہنچا تھا اور لڑائی کا بندوبست کر رہا تھا۔ قلعہ کی مضبوطی اور فوج کی قلت کو دیکھ کر عمرو نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا۔ اور اعانت طلب کی۔ انہوں نے دس ہزار فوج اور چار افسر بھیجے اور خط میں لکھا کہ ان افسروں میں ایک ایک ہزار ہزار سوار کے برابر ہے۔ یہ افسر زبیر بن العوام، عبادہ بن الصامت، مقداد بن عمرو، سلمہ بن مخلد تھے۔ زبیر کا جو رتبہ تھا اس کے لحاظ سے عمرو نے ان کو افسر بنایا۔ اور محاصرہ وغیرہ کے انتظامات ان کے ہاتھ میں دیئے۔ انہوں نے گھوڑے پر سوار ہو کر خندق کے چاروں طرف چکر لگایا۔ اور جہاں جہاں مناسب تھا، مناسب تعداد کے ساتھ سوار اور پیادے متعین کئے۔ اس کے ساتھ منجیقوں سے پتھر برسانے شروع کئے۔ اس پر پورے ساتھ مہینے گزر گئے اور فتح و شکست کا کچھ فیصلہ نہ ہوا۔ حضرت زبیر نے ایک دن تنگ آ کر کہا آج میں مسلمانوں پر فدا ہوتا ہوں۔ یہ کہہ کر ننگی تلوار ہاتھ میں لی اور سیڑھی لگا کر قلعہ کی فصیل پر چڑھ گئے۔ چند اور صحابہ نے ان کا ساتھ دیا۔ فصیل پر پہنچ کر سب نے ایک ساتھ تکبیر کے نعرے بلند کئے۔ ساتھ ہی تمام فوج نے نعرہ مارا کہ قلعہ کی زمین دہل اٹھی۔ عیسائی یہ سمجھ کر کہ مسلمان قلعہ کے اندر گھس آئے۔ بدحواس ہو کر بھاگے۔ حضرت زبیر ؓ نے فصیل سے اتر کر قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور تمام فوج اندر گھس آئی۔ مقوقس نے یہ دیکھ کر صلح کی درخواست کی۔ اور اسی وقت سب کو امان دے دی گئی۔
ایک دن عیسائیوں نے حضرت عمرو بن العاص اور افسران فوج کی دھوم دھام سے دعوت کی۔ عمرو بن العاص نے قبول کر لی۔ اور سلیقہ شعار لوگوں کو ساتھ لے گئے۔
دوسرے دن حضرت عمرو نے ان لوگوں کی دعوت کی۔ رومی بڑے تزک و احتشام سے آئے۔ اور مخملی کرسیوں پر بیٹھے۔ کھانے میں خود مسلمان بھی شریک تھے۔ اور جیسا کہ حضرت عمرو نے پہلے سے حکم دیا تھا سادہ عربی لباس میں تھے۔ اور عربی انداز اور عادات کے موافق کھانے بیٹھے ، کھانا بھی سادہ یعنی معمولی گوشت اور روٹی تھی۔ عربوں نے کھانا شروع کیا تو گوشت کی بوٹیاں شوربے میں ڈبو ڈبو کر اس زور سے دانتوں سے نوچتے تھے کہ شوربے کے بھینٹیں اڑ کر رومیوں کے کپڑوں پر پڑتی تھیں۔ رومیوں نے کہا کہ وہ لوگ کہاں ہیں جو کل ہماری دعوت میں تھے۔ یعنی وہ ایسے گنوار اور بے سلیقہ نہ تھے۔ عمرو نے کہا ” وہ اہل الرائے تھے ، اور یہ سپاہی ہیں۔ ”
مقوقس نے اگرچہ تمام مصر کے لئے معاہدہ صلح لکھوایا تھا۔ لیکن ہرقل کو جب خبر ہوئی تو اس نے نہایت ناراضگی ظاہر کی اور لکھ بھیجا کہ قبطی اگر عربوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے تو رومیوں کی تعداد کیا کم تھی۔ اسی وقت ایک عظیم فوج روانہ کی کہ اسکندریہ پہنچ کر مسلمانوں کے مقابلے کے لئے تیار ہو۔
*اسکندریہ کی فتح 21 ہجری (42__641)*
============================
فسطاط کی فتح کے بعد حضرت عمرو ؓ نے چند روز تک یہاں قیام کیا۔ اور یہیں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا کہ فسطاط فتح ہو چکا۔ اجازت ہو تو اسکندریہ پر فوجیں بڑھائی جائیں۔ وہاں سے منظوری آئی، حضرت عمرو ؓ نے کوچ کا حکم دیا۔ اتفاق سے عمرو کے خیمہ میں ایک کبوتر نے گھونسلا بنا لیا تھا۔ خیمہ اکھاڑا جانے لگا تو عمرو کی نگاہ پڑی، حکم دیا کہ اس کو یہیں رہنے دو کہ ہمارے مہمان کو تکلیف نہ ہونے پائے۔ چونکہ عربی میں خیمہ کو فسطاط کہتے ہیں اور عمرو نے اسکندریہ سے واپس آ کر اسی خیمہ کے قریب شہر بسایا، اس لئے خود شہر بھی فسطاط کے نام سے مشہور ہو گیا۔ اور آج تک یہی نام لیا جاتا ہے۔ بہر حال 21 ہجری میں عمرو نے اسکندریہ کا رخ کیا۔
اسکندریہ اور فسطاط کے درمیان میں رومیوں کی جو آبادیاں تھیں انہوں نے سد راہ ہونا چاہا۔ چنانچہ ایک جماعت عظیم سے جس میں ہزاروں قبطی بھی تھے ، فسطاط کی طرف بڑھے کہ مسلمانوں کو روک لیں۔ قام کریون میں دونوں حریفوں کا سامنا ہوا۔ مسلمانوں نے نہایت طیش میں آ کر جنگ کی اور بے شمار عیسائی مارے گئے۔ پھر کسی نے روک ٹوک کی جرات نہ کی اور عمرو نے اسکندریہ پہنچ کر دم لیا۔ مقوقس جزیہ دے کر صلح کرنا چاہتا تھا۔ لیکن رومیوں کے ڈر سے نہیں کر سکتا تھا۔ تاہم یہ درخواست کی کہ ایک مدت معین کے لیے صلح ہو جائے۔ عمرو نے انکار کیا۔ مقوقس نے مسلمانوں کو مرعوب کرنے کے لیے شہر کے تمام آدمیوں کو حکم دیا کہ ہتھیار لگا کر شہر پناہ کی فصیل پر مسلمانوں کے سامنے صف جما کر کھڑے ہوں، عورتیں بھی اس حکم میں داخل تھیں اور اس غرض سے کہ پہچانی نہ جا سکیں۔ انہوں نے شہر کی طرف منہ کر لیا تھا۔ عمرو نے کہلا بھیجا کہ ہم تمہارا مطلب سمجھتے ہیں، لیکن تم کو معلوم نہیں کہ ہم نے اب تک جو ملک فتح کئے کثرت فوج کے بل پر نہیں کئے۔ تمہارا بادشاہ ہرقل جس ساز و سامان سے ہمارے مقابلہ کو آیا تم کو معلوم ہے اور جو نتیجہ ہوا وہ بھی مخفی نہیں (فتوح البدان )۔ مقوقس نے کہا سچ ہے۔ “یہی عرب ہیں جنہوں نے ہمارے بادشاہ کو قسطنطنیہ پہنچا کر چھوڑا۔ ” اس پر رومی سردار نہایت غضبناک ہوئے۔ مقوقس کو بہت بُرا کہا اور لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔
مقوقس کی مرضی چونکہ جنگ کی نہ تھی، اس لئے عمرو سے اقرار لے لیا تھا کہ ” چونکہ میں رومیوں سے الگ ہوں، اس وجہ سے میری قوم (یعنی قطبی) کو تمہارے ہاتھ سے ضرر نہ پہنچنے پائے۔ ” قبطیوں نے صرف یہی نہیں کیا کہ اس معرکے میں دونوں سے الگ رہے بلکہ مسلمانوں کو بہت کچھ مدد دی۔ فسطاط سے اسکندریہ تک فوج کے آگے آگے پلوں کی مرمت کرتے اور سڑکیں بناتے گئے۔ خود اسکندریہ کے محاصرہ میں بھی رسد وغیرہ کا انتظام انہی کی بدولت ہو سکا۔ رومی کبھی کبھی قلعہ سے باہر نکل نکل کر لڑتے تھے۔ ایک دن سخت معرکہ ہوا۔ تیر و خدنگ سے گزر کر تلوار کی نوبت آئی۔ ایک رومی نے صف سے نکل کر کہا کہ جس کا دعویٰ ہو تنہا میرے مقابلے کو آئے۔ مسلمہ بن مخلد نے گھوڑا بڑھایا۔ رومی نے ان کو زمین پر دے مارا۔ اور جھک کر تلوار مارنا چاہتا تھا کہ ایک سوار نے آ کر جان بچائی، عمرو کو اس پر اس قدر غصہ آیا کہ متانت ایک طرف مسلمہ کے رتبہ کا بھی خیال نہ کر کے کہ “زنخوں کو میدان جنگ میں آنے کی کیا ضرورت ہے۔ ” مسلمہ کو نہایت ناگوار ہوا۔ لیکن مصلحت کے لحاظ سے کچھ نہ کہا۔ لڑائی کا زور اسی طرح قائم رہا۔ آخر مسلمانوں نے اس طرح دل توڑ کر حملہ کیا کہ رومیوں کو دباتے ہوئے قلعہ کے اندر گھس گئے۔ دیر تک قلعہ کے صحن میں معرکہ رہا۔ آخر میں رومیوں نے سنبھل کر ایک ساتھ حملہ کیا۔ اور مسلمانوں کو قلعہ سے باہر نکال کر دروازے بند کر دیئے۔ اتفاق یہ کہ عمرو بن العاص اور مسلمہ اور دو شخص اندر رہ گئے۔ رومیوں نے ان لوگوں کو زندہ گرفتار کرنا چاہا۔ لیکن ان لوگوں نے مردانہ وار جان دینی چاہی تو انہوں نے کہا کہ دونوں طرف سے ایک ایک آدمی مقابلے کو نکلے ، اگر ہمارا آدمی مارا گیا تو ہم تم کو چھوڑ دیں گے کہ قلعہ سے نکل جاؤ اور تمہارا آدمی مارا جائے تو تم سب ہتھیار ڈال دو گے۔
حضرت عمرو بن العاص ؓ نے نہایت خوشی سے منظور کیا۔ اور خود مقابلے کے لئے نکلنا چاہا۔ مسلمہ نے روکا کہ تم فوج کے سردار ہو۔ تم پر آنچ آئی تو انتظام میں خلل ہو گا۔ یہ کہہ کر گھوڑا بڑھایا۔ رومی بھی ہتھیار سنبھال چکا تھا۔ دیر تک وار ہوتے رہے۔ بالآخر مسلمہ نے ایک ہاتھ مارا کہ رومی وہیں ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ رومیوں کو معلوم نہ تھا کہ ان میں کوئی سردار ہے۔ انہوں نے اقرار کے موافق قلعہ کا دروازہ کھول دیا۔ اور سب صحیح سلامت باہر نکل آئے۔ حضرت عمرو نے مسلمہ سے اپنی پہلی گستاخی کی معافی مانگی اور انہوں نے نہایت صاف دلی سے معاف کر دیا۔
محاصرہ جس قدر طول کھینچتا جاتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو زیادہ پریشانی ہوتی تھی۔ چنانچہ عمرو کو خط لکھا کہ ” شاید تم لوگ وہاں رہ کر عیسائیوں کی طرح عیش پرست بن گئے ہو۔ ورنہ فتح میں اس قدر دیر نہ ہوتی۔ جس دن میرا خط پہنچے تمام فوج کو جمع کر کے جہاد پر خطبہ دو اور پھر اس طرح حملہ کر کے جن کو میں نے افسر کر کے بھیجا تھا فوج کے آگے ہوں اور تمام فوج ایک دفعہ دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ عمرو نے تمام فوج کو یکجا کر کے خطبہ پڑھا اور ایک پُر اثر تقریر کی کہ بجھے ہوئے جوش تازہ ہو گئے۔ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو کہ برسوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت میں رہے تھے بلا کر کہا کہ اپنا نیزہ مجھے دیجیئے۔ خود سر سے عمامہ اتارا اور نیزہ پر لگا کر ان کو حوالہ کیا کہ یہ سپہ سالار کا علم ہے اور آج آپ سپہ سالار ہیں۔ زبیر بن العوام اور مسلمہ بن مخلد کو فوج کا ہراول کیا۔ غرض اس سر و سامان سے قلعہ پر دھاوا ہوا کہ پہلے ہی حملہ میں شہر فتح ہو گیا۔ عمرو نے اسی وقت معاویہ بن خدیج کو بلا کر کہا کہ جس قدر تیز جا سکو جاؤ۔ اور امیر المؤمنین کو مژدہ فتح سناؤ۔ معاویہ اونٹنی پر سوار ہوئے اور دو منزلہ سہ منزلہ کرتے ہوئے مدینہ پہنچے۔ چونکہ ٹھیک دوپہر کا وقت تھا۔ اس خیال سے کہ یہ آرام کا وقت ہے ، بارگاہ خلافت میں جانے سے پہلے سیدھے مسجد نبوی کا رخ کیا۔ اتفاق سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لونڈی ادھر آ نکلی اور ان کو مسافر کی ہیئت میں دیکھ کر پوچھا کہ کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اسکندریہ سے۔ اس نے اسی وقت جا کر خبر کی اور ساتھ ہی واپس آئی کہ چلو امیر المؤمنین بلاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنا بھی انتظار نہیں کر سکتے تھے ، خود چلنے کے لیے تیار ہوئے اور چادر سنبھال رہے تھے کہ معاویہ پہنچ گئے۔ فتح کا حال سن کر زمین پر گرے اور سجدۂ شکر ادا کیا۔ اٹھ کر مسجد میں آئے اور منادی کرا دی الصلوۃ جامعہ سنتے ہی تمام مدینہ امڈ آیا۔ معاویہ نے سب کے سامنے فتح کے حالات بیان کئے۔ وہاں سے اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ان کے گھر پر گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لونڈی سے پوچھا کچھ کھانے کو ہے۔ وہ روٹی اور روغن زیتون لائی۔ مہمان کے آگے رکھا اور کہا کہ آنے کے ساتھ ہی میرے پاس کیوں نہیں چلے آئے۔ انہوں نے کہا میں نے خیال کیا کہ یہ آرام کا وقت ہے ، شاید آپ سوتے ہوں۔ فرمایا افسوس تمہارا میری نسبت یہ خیال ہے۔ میں دن کو سوؤں گا تو خلافت کا بار کون سنبھالے گا۔ (یہ تمام تفصیل مقریزی سے لی گئی ہے۔ )
حضرت عمرو اسکندریہ کی فتح کے بعد فسطاط کو واپس گئے اور وہاں شہر بسانا چاہا۔ الگ الگ قطعے متعین کئے۔ اور داغ بیل ڈال کر عرب کی سادہ وضع کی عمارتیں تیار کرائیں۔ تفصیل اس کے دوسرے حصے میں آئے گی۔
اسکندریہ اور فسطاط کے بعد اگرچہ عمرو کا کوئی حریف نہیں رہا تھا۔ تاہم چونکہ مصر کے تمام اضلاع میں رومی پھیلے ہوئے تھے۔ ہر طرف تھوڑی تھوڑی فوجیں روانہ کیں کہ آئندہ کسی خطرے کا احتمال نہ رہ جائے۔ چنانچہ خارجہ بن حذافہ العدوی فیوم، اشموتین، احمیم، بشر دوات، معید اور اس کے تمام مضافات میں چکر لگا آئے اور ہر جگہ لوگوں نے خوشی سے جزیہ دینا قبول کیا۔ اسی طرح عمیر بن وہب الجمحی نے تینس دمیاط، تونہ ، دمیرہ، شطا، وقبلہ، بنا، بوہیر کو مسخر کیا۔ عقبہ بن عامر الجھنی نے مصر کے تمام نشیبی حصے فتح کئے۔ (فتوح البلدان )۔
چونکہ ان لڑائیوں میں نہایت کثرت سے قبطی اور رومی گرفتار ہوئے تھے۔ حضرت عمرو نے دربار خلافت کو لکھا کہ ان کی نسبت کیا کیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب لکھا کہ سب کو بلا کر کہہ دو کہ ان کو اختیار ہے کہ مسلمان ہو جائیں یا اپنے مذہب پر قائم رہیں۔ اسلام قبول کریں گے تو ان کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ ورنہ جزیہ دینا ہو گا۔ جو تمام ذمیوں سے لیا جاتا ہے۔ عمرو نے تمام قیدی جو تعداد میں ہزاروں سے زیادہ تھے ، ایک جگہ جمع کئے ، عیسائی سرداروں کو طلب کیا۔ اور مسلمان و عیسائی الگ الگ ترتیب سے آمنے سامنے بیٹھے۔ بیچ میں قیدیوں کا گروہ تھا۔ فرمان خلافت پڑھا گیا تو بہت سے قیدیوں نے جو مسلمانوں میں رہ کر اسلام کے ذوق سے آشنا ہو گئے تھے ، اسلام قبول کیا اور بہت سے اپنے مذہب پر قائم رہے۔
جب کوئی شخص اسلام کا اظہار کرتا تھا تو مسلمان اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے تھے اور خوشی سے بچھے جاتے تھے۔ اور جب کوئی شخص عیسائیت کا اقرار کرتا تھا تو تمام عیسائیوں میں مبارکباد کا غل پڑتا تھا۔ اور مسلمان اس قدر غمزدہ ہوتے تھے کہ بہت سوں کے آنسو نکل پڑتے تھے۔ دیر تک یہ سلسلہ جاری رہا اور دونوں فریق اپنے اپنے حصہ رسدی کے موافق کامیاب آئے۔ (طبری – 283)۔
*عراق عجم 21 ہجری (641 عیسوی):*
=========================
(سر زمین عراق دو حصوں پر منقسم ہے۔ مغربی حصے کو عراق عرب کہتے ہیں اور مشرقی حصے کو عراق عجم کہتے ہیں۔ عراق عجم کی حدود اربعہ یہ ہیں کہ شمال میں طبرستان جنوب میں شیراز مشرق میں خوزستان اور مغرب میں شہر مراغہ واقع ہیں۔ اس وقت اس کے بڑے شہر اصفہان، ہمدان اور رے سمجھے جاتے تھے۔ اس وقت رے بالکل ویران ہو گیا۔ اور اس کے قریب طہران آباد ہو گیا ہے جو شاہان قاچار کا دار السطنت ہے۔ )
جلولا کے بعد جیسا کہ ہم پہلے لکھ آئے ہیں۔ یزدگرد ” رے ” چلا گیا۔ لیکن یہاں کے رئیس آبان جدویہ نے بیوفائی کی۔ اس لئے رے سے نکل کر اصفہان اور کرمان ہوتا ہوا خراسان پہنچا۔ یہاں پہنچ کر مرو میں اقامت کی۔ “آتش پارسی” ساتھ تھی۔ اس کے لئے آتش کدہ تیار کر لیا۔ اور مطمئن ہو کر پھر سلطنت حکومت کے ٹھاٹھ لگا دیئے۔ یہیں اسے خبر ملی کہ عربوں نے عراق کے ساتھ خوزستان بھی فتح کر لیا۔ اور ہزمزان جو سلطنت کا زور و بازو تھا زندہ گرفتار ہو گیا۔ یہ حالات سن کر نہایت طیش میں آیا۔ اگرچہ سلطنت کی حیثیت سے اس کا وہ پہلا رعب و داب باقی نہیں رہا تھا، تاہم تین ہزار برس کا خاندانی اثر دفعتاً نہیں مٹ سکتا تھا۔ ایرانی اس وقت تک یہ سمجھتے تھے کہ عرب کی آندھی سرحدی مقامات تک پہنچ کر رک جائے گی۔ اس لئے ان کو اپنی خاص سلطنت کی طرف سے اطمینان تھا۔ لیکن خوزستان کے واقعہ سے ان کی آنکھیں کھلیں۔ ساتھ ہی شہنشاہ کے فرامین اور نقیب پہنچے ، اس سے دفعتاً طبرستان، جرجان، نہاوند، رے ، اصفہان، ہمدان سے گزر کر خراسان اور سندھ تک تلاطم مچ گیا۔ اور ڈیڑھ لاکھ ٹڈی دل لشکر قم میں آ کر ٹھہرا۔ یزدگرد نے مردان شاہ کو (ہرمز کا فرزند تھا) سر لشکر مقرر کر کے نہاوند کی طرف روانہ کیا۔ اس معرکہ میں درفش کاویانی جس کو عجم طال ظفر سمجھتے تھے۔ مبارک فالی کے لحاظ سے نکالا گیا۔ چنانچہ مردان شاہ جب روانہ ہوا تو اس مبارک علم کا پھریرا اس پر سایہ کرتا جاتا تھا۔
عمار بن یاسر نے جو اس وقت کوفہ کے گورنر تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان حالات سے اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمار کا خط لئے ہوئے مسجد نبوی میں آئے اور سب کو سنا کے کہا کہ ” گروہ عرب اس مرتبہ تمام ایران کمر بستہ ہو کر چلا ہے کہ مسلمانوں کو دنیا سے مٹا دے۔ تم لوگوں کی کیا رائے ہے ؟” طلحہ بن عبید اللہ نے اٹھ کر كہا کہ امیر المومنین! واقعات نے آپ کو تجربہ کار بنا دیا ہے۔ ہم اس کے سوا کچھ نہیں جانتے کہ آپ جو حکم دیں بجا لائیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ” میری رائے ہے کہ شام، یمن، بصرہ کے افسروں کو لکھا جائے کہ اپنی اپنی فوجیں لے کر عراق کو روانہ ہوں اور آپ خود اہل حرم کو لے کر مدینہ سے اٹھیں، کوفہ میں تمام فوجیں آپ کے علم کے نیچے جمع ہوں، اور پھر نہاوند کی طرف رخ کیا جائے۔ حضرت عثمان کی رائے کو سب نے پسند کیا لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چپ تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی طرف دیکھا، وہ بولے کہ “شام اور بصرہ سے فوجیں ہٹیں تو ان مقامات پر سرحد کے دشمنوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ اور آپ نے مدینہ چھوڑا تو عز میں قیامت برپا ہو جائے گی۔ اور خود اپنے ملک کا تھامنا مشکل ہو جائے گا۔ میری رائے ہے کہ آپ یہاں سے نہ جائیں۔ اور شام اور یمن، بصرہ وغیرہ میں فرمان بھیج دیئے جائیں کہ جہاں جہاں جس قدر فوجیں ہیں ایک ایک ثلث ادھر روانہ کر دی جائیں۔ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میری رائے بھی یہی تھی۔ لیکن تنہا اس کا فیصلہ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اب یہ بحث پیش آئی کہ ایسی بڑی مہم میں سپہ سالار بن کر کون جائے۔ لوگ ہر طرف خیال دوڑا رہے تھے۔ لیکن اس درجہ کا کوئی شخص نظر نہیں آتا تھا۔ جو لوگ اس منصب کے قابل تھے وہ اور مہمات میں مصروف تھے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مراتب کمال میں یہ بات بھی داخل ہے کہ انہوں نے ملک کے حالات سے ایسی واقفیت حاصل کی تھی کہ قوم کے ایک ایک فرد کے اوصاف ان کی نگاہ میں تھے۔ چنانچہ اس موقع پر حاضرین نے خود کہا کہ اس کا فیصلہ آپ سے بڑھ کر کون کر سکتا ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نعمان بن مقرن کا انتخاب کیا۔ اور سب نے اس کی تائید کی۔ نعمان تیس ہزار کی جمیعت لے کر کوفہ سے روانہ ہوئے۔ اس فوج میں بڑے بڑے صحابہ شامل تھے۔ جن میں سے حذیفہ بن الیمان، عبد اللہ بن عمر، جریر بجلی، مغیرہ بن شعبہ، عمرو معدی کرب زیادہ مشہور ہیں۔ نعمان نے جاسوسوں کو بھیج کر معلوم کیا کہ نہاوند تک راستہ صاف ہے۔ چنانچہ نہاوند تک برابر بڑھتے چلے گئے۔ نہاوند سے 9 میل ادھر اسپدہان ایک مقام تھا۔ وہاں پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔ ایک بڑی تدبیر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کی کہ فارس میں جو اسلامی فوجیں موجود تھیں ان کو لکھا کہ ایرانی اس طرف سے نہاوند کی طرف بڑھنے نہ پائیں۔ اس طرح دشمن ایک بہت بڑی مدد سے محروم رہ گیا۔
عجم نے نعمان کے پاس سفارت کے لئے پیغام بھیجا۔ چنانچہ مغیرہ بن شعبہ جو پہلے بھی اس کام کو انجام دے چکے تھے ، سفیر بن کر گئے۔ عجم نے بڑی شان سے دربار آراستہ کیا۔ مردان شاہ کو تاج پہنا کر تخت زریں پر بٹھایا۔ تخت کے دائیں بائیں ملک ملک کے شہزادے دیبائے زرکش کی قبائیں سر پر تاج زر ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہن کر بیٹھے۔ ان کے پیچھے دور دور تک سپاہیوں کی صفیں قائم کیں۔ جن کی برہنہ تلواروں سے آنکھیں خیرہ ہوئی جاتی تھیں۔ مترجم کے ذریعے گفتگو شروع ہوئی۔ مردان شاہ نے کہا کہ اے اہل عرب سب سے بدبخت، سب سے زیادہ فاقہ مست، سب سے زیادہ ناپاک قوم جو ہو سکتی ہے تم ہو۔ یہ قدر انداز جو میرے تخت کے گرد کھڑے ہیں ابھی تمہارا فیصلہ کر دیتے۔ لیکن مجھ کو یہ گوارا نہ تھا کہ ان کے تیر تمہارے ناپاک خون میں آلودہ ہوں۔ اب بھی اگر تم یہاں سے چلے جاؤ تو میں تم کو معاف کر دوں گا۔ ” مغیرہ نے کہا : ” ہاں ہم لوگ ایسے ہی ذلیل تھے۔ لیکن اس ملک میں آ کر ہم کو دولت کا مزہ پڑ گیا۔ اور یہ مزہ ہم اسی وقت چھوڑیں گے جب ہمارے لاشیں خاک پر بچھ جائیں۔ غرض سفارت بے حاصل گئی۔ اور دونوں طرف جنگ کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ نعمان نے میمنہ اور میسرہ پر حذیفہ اور سوید بن مقرن کو مجردہ پر قعقاع کو مقرر کیا۔ ساقہ پر مجاشع متعین ہوئے۔ ادھر میمنہ پر زروک اور میسرہ پر بہمن تھا۔
عجمیوں نے میدان جنگ میں پہلے سے ہی ہر طرف گوکھرو بچھا دیئے تھے جس کی وجہ سے مسلمانوں کو آگے بڑھنا مشکل ہوتا تھا۔ اور عجمی جب چاہتے تھے شہر سے نکل کر حملہ آور ہو جاتے تھے۔ نعمان نے یہ حالت دیکھ کر افسروں کو جمع کیا۔ اور سب سے الگ الگ رائے لی۔ طلیحہ بن خالد الاسدی کی رائے کے موافق فوجیں آراستہ ہو کر شہر سے چھ سات میل کے فاصلے پر ٹھہریں اور قعقاع کو تھوڑی سی فوج دے کر بھیجا کہ شہر پر حملہ آور ہوں۔ عجمی بڑے جوش سے مقالہ کو نکلے اور اس بندوبست کے لئے کہ کوئی شخص پیچھے نہ ہٹنے پائے ، جس قدر بڑھتے آتے تھے گوکھرو بچھاتے آتے تھے۔ قعقاع نے لڑائی چھیڑ کر آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنا شروع کیا۔ عجمی برابر بڑھتے چلے آئے۔ یہاں تک کہ گوکھرو کی سرحد سے نکل ائے۔ نعمان نے ادھر جو فوجیں جما رکھی تھیں۔ موقع کا انتظار کر رہی تھیں، جونہی عجمی زد پر آئے ، انہوں نے حملہ کرنا چاہا۔ لیکن نعمان نے روکا۔ عجمی جو تیر برسا رہے تھے اس سے سینکڑوں مسلمان کام آئے۔ لیکن افسر کی یہ اطاعت تھی زخم کھاتے تھے اور ہاتھ روکے کھڑے تھے۔ مغیرہ بار بار کہتے تھے کہ فوج بیکار ہوئی جاتی ہے۔ اور موقع ہاتھ سے نکلا جاتا ہے۔ لیکن نعمان اس خیال سے دوپہر کے ڈھلنے کا انتظار کر رہے تھے کہ رسول اللہ جب دشمن پر حملہ کرتے تھے تو اسی وقت کرتے تھے۔ غرض دوپہر ڈھلی تو نعمان نے دستور کے موافق تین نعرے مارے۔ پہلے نعرے پر فوج ساز و سامان سے درست ہو گئی۔ دوسرے پر لوگوں نے تلواریں تول لیں۔ تیسرے پر دفعتاً حملہ کیا۔ اور اس بے جگری سے ٹوٹ کر گرے کہ کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ میدان میں اس قدر خون بہا کہ گھوڑوں کے پاؤں پھسل پھسل جاتے تھے۔ چنانچہ نعمان کا گھوڑا پھسل کر گرا، ساتھ ہی خود بھی گرے اور زخموں سے چور ہو گئے۔ ان کا امتیازی لباس جس سے وہ معرکے میں پہچانے جاتے تھے۔ کلاہ اور سفید قبا تھی۔ جونہی وہ گھوڑے سے گرے نعیم بن مقرن کے بھائی نے علم کو جھپٹ کر تھام لیا اور ان کی کلاہ اور قبا پہن کر ان کے گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ اس تدبیر سے نعمان کے مرنے کا حال کسی کو معلوم نہ ہوا۔ اور لڑائی بدستور قائم رہی۔ اس مبارک زمانے میں مسلمانوں کو خدا نے ضبط و استقلال دیا تھا۔ اس کا اندازہ ذیل کے واقعہ سے ہو سکتا ہے۔ نعمان جس وقت زخمی ہو کر گرے تھے اعلان کر دیا تھا کہ میں مر بھی جاؤں تو کوئی شخص لڑائی چھوڑ کر میری طرف متوجہ نہ ہو۔ اتفاق سے ایک سپاہی ان کے پاس سے نکلا، دیکھا تو کچھ سانس باقی ہے۔ اور دم توڑ رہے ہیں، گھوڑے سے اتر کر ان کے پاس بیٹھنا چاہا۔ ان کا حکم یاد آ گیا۔ اسی طرح چھوڑ کر چلا گیا۔ فتح کے بعد ایک شخص سرہانے گیا۔ انہوں نے آنکھیں کھولیں اور پوچھا کہ کیا انجام ہوا؟ اس نے کہا “مسلمانوں کو فتح ہوئی” خدا کا شکر ادا کر کے کہا “فوراً عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع دو۔ ”
رات ہوتے ہی عجمیوں کے پاؤں اکھڑ گئے اور بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے ہمدان تک تعاقب کیا۔ حذیفہ بن الیمان نے جو نعمان کے بعد سر لشکر مقرر ہوئے نہاوند پہنچ کر مقام کیا۔ یہاں ایک مشہور آتش کدہ تھا۔ اس کا موبد حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ مجھ کو امن دیا جائے تو میں ایک متاع بے بہا کا پتہ دوں۔ چنانچہ کسریٰ پرویز کے نہایت بیش بہا جواہرات لا کر پیش کئے جس کو کسریٰ نے مشکل وقتوں کے لیے محفوظ رکھا تھا۔ حذیفہ نے مال غنیمت کو تقسیم کیا اور پانچواں حصہ مع جواہرات کے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں بھیجا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہفتوں سے لڑائی کی خبر نہیں پہنچی تھی۔ قاصد نے مژدۂ فتح سنایا تو بے انتہا خوش ہوئے۔ لیکن جب نعمان کا شہید ہونا سنا تو بے اختیار رو پڑے اور دیر تک سر پر ہاتھ رکھ کر روتے رہے۔ قاصد نے اور شہداء کے نام گنائے اور کہا کہ بہت اور لوگ بھی شہید ہوئے جن کو میں نہیں جانتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پھر روئے اور فرمایا کہ “عمر جانے نہ جانے خدا ان کو جانتا ہے۔ ” جواہرات کو دیکھ کر غصہ سے کہا کہ “فوراً واپس لے جاؤ۔ اور حذیفہ سے کہو کہ بیچ کر فوج کو تقسیم کر دیں۔ ” چنانچہ یہ جواہرات چار کروڑ درہم کے فروخت ہوئے۔ ”
اس لڑائی میں تقریباً تیس ہزار عجمی لڑ کر مارے گئے۔ اس معرکہ کے بعد عجم نے کبھی زور نہیں پکڑا، چنانچہ عرب نے اس فتح کا نام فتح الفتوح رکھا۔ فیروز جس کے ہاتھ پر حضرت فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت لکھی تھی، اسی لڑائی میں گرفتار ہوا تھا۔
==================> جاری ہے ۔۔۔۔












