عہد خلافت راشدہ امیر المومینین خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
(قسط نمبر 11)
تحریر و پیشکش محمد نوید

#طاعون_کی_وبا_اور_قحط
=================

اس سال شام و مصر و عراق میں سخت وبا پھیلی اور اسلام کی بڑی بڑی یادگاریں خاک میں چھپ گئیں۔ وبا کا آغاز 17 ہجری کے اخیر میں ہوا اور کئی مہینے تک نہایت شدت رہی۔ شام میں طاعون کی وبا کے نمودار ہونے کا حال سُن کر فاروق اعظمؓ مدینہ منورہ سے خود شام کی اسلامی فوجوں کی طرف روانہ ہوئے، مقام سرغ میں پہنچے تھے کہ حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح اور دوسرے سردارانِ لشکر نے بطریقِ استقبال آگے بڑھ کر ملاقات کی اور بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ آپ اب آگے طاعونی علاقہ میں تشریف نہ لے جائیں، حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ وبا پھیلی ہو، وہاں نہ جاؤ اور اگر اتفاق سے اس مقام پر وبا پھیل جائے جہاں تم موجود ہو تو وہاں سے نہ بھاگو، اس حدیث کو سُن کر فاروق اعظمؓ مدینہ منورہ کی طرف واپس ہوئے، اور سرداران لشکر کو تاکیدی طور پر ہدایت کرائے کہ جہاں تک ممکن ہو اس مرض کے متعلق انسدادی تدابیر کام میں لائیں، حضرت ابو عبیدہؓ لشکر اسلام کو لئےہوئے ایک نشیبی علاقے میں مقیم تھے، فاروقی حکم کے موافق وہاں سے کوچ کرکے مقام جابیہ میں جس کی آب وہوا اچھی تھی لشکر اسلام کو لے آئے، یہاں آکر حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح مرض طاعون میں مبتلا ہوئے جب مرض کی شدت اور زندگی سے مایوسی ہوئی تو حضرت ابو عبیدہؓ نے اپنی جگہ حضرت معاذ بن جبلؓ کو سالار لشکر مقرر فرمایا اور تھوڑی دیر کے بعد فوت ہوگئے، حضرت معاذ بن جبلؓ بھی زیادہ دنوں زندہ نہ رہ سکے، اول ان کےبیٹے نے اسی مرض میں مبتلا ہوکر وفات پائی، پھر وہ بھی بیمار ہوئے، انہوں نے انتقال سے پیشتر حضرت عمرو بن العاصؓ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

حضرت عمرو بن العاص نے مجمع عام میں خطبہ پڑھا اور کہا کہ وبا جب شروع ہوتی ہے تو آگ کی طرح پھیل جاتی ہے۔ اس لئے تمام فوج کو یہاں سے اٹھ کر پہاڑوں پر جا رہنا چاہیے۔ اگرچہ ان کی رائے بعض صحابہ کو جو معاذ کے ہم خیال تھے ناپسند آئی تاہم حضرت عمرو نے اپنی رائے پر عمل کیا۔ فوج ان کے حکم کے مطابق ادھر ادھر پہاڑوں پر پھیل گئی اور وبا کا خطرہ جاتا رہا۔ لیکن یہ تدبیر اس وقت عمل میں آئی کہ 25 ہزار مسلمان جو آدھی دنیا فتح کرنے کے لیے کافی ہو سکتے تھے۔ موت کے مہمان ہو چکے تھے۔ ان میں حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ، یزید بن ابی سفیان، حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو، عتبہ بن سہیل بڑے درجہ کے لوگ تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان تمام حالات سے اطلاع ہوتی رہتی تھی اور مناسب احکام بھیجتے رہتے تھے۔ حضرت یزید بن ابی سفیان اور حضرت معاذ کے انتقال کی خبر آئی تو حضرت معاویہؓ کو دمشق کا اور حضرت شرحبیلؓ کو اردن کا حاکم مقرر کیا۔

اس قیامت خیز وبا کی وجہ سے فتوحات اسلام کا سیلاب دفعتہً رک گیا۔ فوج بجائے اس کے کہ مخالف پر حملہ کرتی خود اپنے حال میں گرفتار تھی۔ ہزاروں لڑکے یتیم ہو گئے۔ ہزاروں عورتیں بیوہ ہو گئیں۔ جو لوگ وفات پاگئے تھے ان کا مال و اسباب مارا مارا پھرتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان حالات سے مطلع ہو کر شام کا قصد کیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کی حکومت دی اور خود ایلہ کو روانہ ہوئے۔ یربان کا غلام اور بہت سے صحابہ ساتھ تھے۔ ایلہ کے قریب پہنچے تو کسی مصلحت سے اپنی سواری غلام کو دی اور خود اس کے اونٹ پر سوار ہو گئے۔ راہ میں جو لوگ دیکھتے تھے کہ امیر المومنین کہاں ہیں فرماتے کہ تمہارے آگے۔ اسی حیثیت سے ایلہ آئے اور یہاں دو روز قیام کیا۔ گزی کا کرتہ جو زیب بدن تھا، کجاوے کی رگڑ کھا کھا کر پیچھے سے پھٹ گیا تھا۔ مرمت کے لیے ایلہ کے پادری کے حوالے کیا۔ اس نے خود اپنے ہاتھ سے پیوند لگائے۔ اور اس کے ساتھ ایک نیا کرتہ تیار کر؛ کے پیش کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا کرتہ پہن لیا۔ اور کہا کہ اس میں پسینہ خوب جذب ہوتا ہے۔ ایلہ سے دمشق آئے اور شام کے اکثر اضلاع میں دو دو چار چار دن قیام کر کے مناسب انتظامات کئے۔ فوج کی تنخواہیں تقسیم کیں۔ جو لوگ وبا میں انتقال ہوئے تھے ان کے دور نزدیک کے وارثوں کو بلا کر ان کی میراث دلائی۔ سرحدی مقامات پر فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔ جو آسامیاں خالی ہوئی تھیں، ان پر نئے عہدیدار مقرر کئے۔ ان باتوں کی دوسری تفصیل دوسرے حصے میں آئے گی۔ چلتے وقت لوگوں کو جمع کیا۔ اور جو انتظامات کئے تھے ان کے متعلق تقریر کی۔

*قحط:*

۱۷ھ کے آخری ایام میں عراق، شام اور مصر میں طاعون نمودار ہوا اور ۱۸ ھ کی ابتدا سے اس وباء میں اشتداد کی کیفیت پیدا ہوئی، ساتھ ہی سرزمین عرب میں قحط عظیم برپا ہوا، غلہ کی کمی سے تمام ملک میں بڑی پریشانی پھیلی، فاروق اعظمؓ نے قحط کے دور کرنے اور لوگوں کی مصیبت کو ہلکا کرنے کی کوشش میں حیرت انگیز سرگرمی اور جفا کشی کا اظہار فرمایا، صوبہ جات ممالک اسلامیہ کے عاملوں کے پاس احکام بھیجے گئے کہ اہل مدینہ کے لئے غلہ جہاں تک ممکن ہو روانہ کریں، اس حکم کی تعمیل میں حضرت عمرو بن العاصؓ نے مصر سے بیس جہاز غلہ کے بھیجے، ان جہازوں کے آنے کی خبر سُن کر فاروق اعظمؓ خود بندرگاہ تک جو مدینہ سے تین منزل کے فاصلہ پر تھا تشریف لے گئے، غلہ کو جہازوں سے اُتروا کر ایک محفوظ مکان میں رکھا گیا اور ضرورت مندوں کی فہرستیں مرتب کراکر غلہ اُن میں تقسیم کرایا گیا، حضرت فاروق اعظمؓ نے عہد کیا تھا کہ جب تک قحط کی بلا لوگوں پر مسلط ہے ہم گھی اور دودھ ہر گز استعمال نہ کریں گے، اس خشک سالی کے دُور کرنے کے لئے فاورق اعظمؓ اہل مدینہ کو ہمراہ لے کر نماز استسقاء ادا کرنے کے لئے نکلے دعا مانگی دعا ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی، کہ بارش شروع ہوگئی ۔

*فتح تکریت و جزیرہ:*
===============

مذکورہ بالا واقعات کے پڑھنے سے جب ۲۶ ھ تک کی اسلامی تاریخ جو شام وعراق سے تعلق رکھتی ہے، ہماری نظر سے گزر گئی ہے، اب آگے ایران کے واقعات کو شروع کرنے سے پیشتر تکریب کی فتح اور صوبۂ جزیرہ پر لشکر اسلام کے قبضہ کا حال اس لئے بیان کرنا ضروری ہے کہ تکریت میں رومیوں اور ایرانیوں نے مل کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا تھا، اسی طرح جزیرہ کے قبضہ میں لانے کا باعث مسلمانوں کی عراقی و شامی دونوں فوجیں ہوئی ہیں نیز یہ کہ مذکورہ بالا واقعات کے بعد ہی تکریت و الجزیرہ کے واقعات وقوع پزیر ہوئے ہیں۔

تکریت میں ایک ایرانی صوبہ دار رہا کرتا تھا، اُس نے جب سُنا کہ مدائن پر مسلمانوں کا قبضہ ہوچکا ہے، تو اُس نے رومیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا، رومی لوگوں پر بھی چونکہ اسلامی فوجوں کی ضربیں پڑ رہی تھیں، وہ بہت آسانی سے اس سرحدی صوبے دار کی اعانت پر آمادہ ہوگئے، ساتھ ہی ایاد، تغلب، نمر وغیرہ عرب قبائل جو عیسائی تھے، رومیوں کی ترغیب سے مرزبان تکریت کے ساتھ شریک ہوگئے، فاروق اعظمؓ کی ہدایت کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے عبداللہ بن المعتم کو پانچ ہزار کی جمعیت کے ساتھ تکریت کی جانب روانہ کیا، اسلامی لشکر نے جاکر تکریت کا محاصرہ کرلیا بڑی خونریز جنگ کے بعد رومیوں اور ایرانیوں کو شکست فاش حاصل ہوئی، عرب قبائل میں سے اکثر نے دین اسلام قبول کرلیا، بہت ہی تھوڑے ایرانی اور رومی جان بچا کر بھاگ سکے، باقی سب وہیں مقتول ہوئے، اس لڑائی میں مال غنیمت اس قدر ہا تھ آیا کہ جب خمس نکال کر لشکر پر تقسیم کیا گیا تو ایک ایک سوار کے حصے میں تین تین ہزار درہم آئے۔

صوبہ جزیرہ بھی شام وعراق کے درمیان کبھی رومی سلطنت کے زیر اثر ہوتا کبھی ایرانی سلطنت کی ماتحتی میں آجاتا تھا، اہل جزیرہ نے اسلامی فتوحات کے نقشے دیکھ دیکھ کر ہر قل کو لکھا کہ آپ شام کے مشرقی شہروں کی طرف حفاظتی افواج بھیجیں، ہم سب مل کر آ پ کی اور آپ کی فوجوں کی مدد کریں گے ہرقل نے اہل جزیرہ کی اس درخواست کو تائید غیبی سمجھ کر شام کے مشرقی شہروں کی طرف فوجیں روانہ کیں، فاروق اعظمؓ نے ان حالات سے واقف ہوکر ایک طرف حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو لکھا کہ اہل جزیرہ کو ان کی حدود سے باہر مت نکلنے دو، دوسری طرف حضرت ابو عبیدہؓ کو لکھا، کہ قیصر کی فوجوں کو حمص و قنسرین کی طرف بڑھنے سے روکو، چنانچہ عراقی وشامی ہر دو افواج نے اپنا اپنا کام عمدگی سے انجام دیا اور تمام صوبہ جزیرہ حضرت عیاض بن غنمؓ کے ہاتھ پر بہت سی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں کے بعد ایک سرے سے دوسرے سرے تک محفوظ ہوگیا، یہ واقعہ ۱۷ ھ کا ہے۔

اسی سال جب کہ پورے صوبہ جزیرہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تو وہاں سے قبیلہ ایاد جو عیسائی مذہب رکھتا تھا جلا وطن ہوکر ہر قل کے ملک میں چلا گیا اور وہاں سکونت اختیار کرلی، فاروق اعظمؓ نے اس بات سے مطلع ہوکر ہر قل کو لکھا کہ مجھ کو یہ خبر پہنچی ہے کہ قبائل عرب سے ایک قبیلہ ہمارا ملک چھوڑ کر تمہارے شہروں میں چلا گیا ہے، اگر تم اُن عربوں کو اپنے ملک سے نہ نکال دو گے تو ہم ان تمام عیسائیوں کو جو ہمارے ملک میں آباد ہیں نکال کر تمہارے پاس بھیج دیں گے۔
ہر قل نے اس فاروقی خط کو پڑھتے ہی فوراً قبیلہ ایاد کو جو چار ہزار نفوس پر مشتمل تھا اپنے علاقے سے نکال دیا وہ شام اور جزیرہ میں واپس آکر آباد ہوگئے، فاروق اعظمؓ نے عراق عجم پر حبیب بن مسلمہؓ کو اور عراق عرب پر ولید بن عقبہ کو انتظامی افسر مقرر فرمایا تھا، ان عربوں کے واپس آنے پر ولید بن عقبہ کو لکھا کہ ان لوگوں کو اسلام لانے پر مجبور نہ کرو، اگر وہ جزیہ دینا منظور کریں تو قبول کرلو، یہ بات کہ سوائے اسلام کے کوئی درخواست منظور نہ کی جائے گی، جزیرۃ العرب مابین مکہ ومدینہ اور یمن کے لئے مخصوص ہے، ہاں اس شرط کا ان لوگوں کو ضرور پابند بناؤ کہ جن لڑکوں کے والدین مسلمان ہوگئے ہیں ان کو عیسائی نہ بنائیں، یعنی مسلمانوں کی اولاد کو عیسائی بنانے کی کوشش نہ کریں اور جو مسلمان ہونا چاہے اُس کو نہ روکیں۔

ولید بن عقبہ نے اس حکم فاروقی کی تعمیل کی چند روز کے بعد ایاد نے ایک سفارت مدینہ منورہ میں بھیجی کہ ہم سے کوئی رقم جزیہ کے نام سے وصول نہ کی جائے، فاروق اعظمؓ نے ان کی اس درخواست کو منظور کرکے جزیہ سے دو چند رقم صدقہ کے نام سے وصول کرنے کا حکم وہاں کے عامل کو لکھ بھیجا اور قبیلہ ایاد نے اس کو بخوشی منظور کرلیا، چند روز کے بعد قبیلہ ایاد نے ولید بن عقبہ کی شکایت کی تو حضرت فاروق اعظمؓ نے معزولی کرکے اُن کی جگہ فرات بن حیان اور ہند بن عمر الجملی کو مقرر فرمایا۔

اس جگہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ صوبہ جزیرہ کی فتح کو بعض مورخین نے فتوحاتِ شام میں شمار کیا ہے، بہرحال عیاض بن غنمؓ اور خالد بن ولیدؓ جو عیاض بن غنمؓ کے کمکی بن کر آئے تھے، حضرت ابو عبیدہؓ کی افواج یعنی افواج شام سے آئے تھے، صوبہ جزیرہ کی فتح کو شام وعراق دونوں کی فتوحات میں شامل سمجھنا چاہئے۔

*فتح خوزستان:*
===========

(خوزستان اس حصہ آبادی کا نام ہے جو عراق اور فارس کے درمیان واقع ہے۔ اس میں 14 بڑے شہر ہیں جس میں سب سے بڑا شہر اہواز ہے ۔ )

15 ہجری (636 عیسوی) میں مغیرہ بن شعبہ بصرہ کے حاکم مقرر ہوئے اور چونکہ خوزستان کی سرحد بصرہ سے ملی ہوئی ہے ، انہوں نے خیال کیا کہ اس کی فتح کے بغیر بصرہ میں کافی طور سے امن و امان قائم نہیں ہو سکتا، چنانچہ 16 ہجری (637 عیسوی) کے شروع میں اہواز پر جس کو ایرانی ہرمز شہر کہتے تھے حملہ کیا۔ یہاں کے رئیس نے ایک مختصر سی رقم دے کر صلح کر لی۔ مغیرہ وہیں رک گئے۔ 17 ہجری (638 عیسوی) میں مغیرہ معزول ہوئے۔ ان کی جگہ ابو موسیٰ اشعری مقرر ہوئے۔ ان انقلاب میں اہواز کے رئیس نے سالانہ رقم بند کر دی اور اعلانیہ بغاوت کا اظہار کیا۔ مجبورا ً حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے لشکر کشی کی اور اہواز کو جا گھیرا۔ شاہی فوج جو یہاں رہتی تھی اس نے بڑی پامردی سے مقابلہ کیا۔ لیکن آخر شکست کھائی اور شہر فتح ہو گیا۔ غنیمت کے ساتھ ہزاروں آدمی لونڈی غلام بن کر آئے۔ لیکن جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے لکھ بھیجا کہ سب رہا کر دیئے جائیں۔ چنانچہ وہ سب چھوڑ دیئے گئے۔ ابو موسیٰ نے اہواز کے بعد مناذر کا رخ کیا، یہ خود ایک محفوظ مقام تھا۔ شہر والوں نے بھی ہمت اور استقلال سے حملے کو روکا۔ اس معرکہ میں مہاجر بن زیاد جو ایک معزز افسر تھے شہید ہوئے اور قلعہ والوں نے ان کا سر کاٹ کر برج کے کنگرہ پر لٹکا دیا۔

حضرت ابو موسیٰ نے مہابر کے بھائی ربیع کو یہاں چھوڑا اور خود سوس کو روانہ ہوئے۔ ربیع نے مناذر کو فتح کر لیا۔ اور ابو موسیٰ نے سوس کا محاصرہ کر کے ہر طرف سے رسد بند کر دی۔ قلعہ میں کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا تھا۔ مجبوراً رئیس شہر نے صلح کی درخواست کی کہ اس کے خاندان کے سو آدمی زندہ چھوڑ دیئے جائیں۔ ابو موسیٰ نے منظور کی۔ رئیس ایک ایک آدمی کو نامزد کرتا تھا اور اس کو امن دے دیا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے شمار میں رئیس نے خود اپنا نام نہیں لیا تھا۔ چنانچہ جب سو کی تعداد پوری ہو گئی تو ابو موسیٰ اشعری نے رئیس کو جو شمار سے باہر تھا قتل کرا دیا۔ سوس کے بعد اہواز کا محاصرہ ہوا۔ اور آٹھ لاکھ سالانہ پر صلح ہو گئی۔ یزدگرد اس وقت قم میں مقیم تھا۔ اور خاندان شاہی کے تمام ارکان ساتھ تھے۔ ابو موسیٰ کی دست درازیوں کی خبریں اس کو برابر پہنچتی تھیں۔ ہرمزان نے جو شیرویہ کا ماموں اور بڑی قوت کا سردار تھا یزدگرد کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ اگر اہواز و فارس میری حکومت میں دے دیئے جائیں تو عرب کے سیلاب کو آگے بڑھنے سے روک دوں۔ یزدگرد نے اسی وقت فرمان حکومت عطا کر کے ایک جمعیت عظیم ساتھ دی۔ خوزستان کا صدر مقام شوستر تھا وہاں شاہی عمارات اور فوجی چھاؤنیاں تھیں۔ ہرمزان نے وہاں پہنچ کر قلعہ کی مرمت کرائی اور خندق اور برجوں سے مستحکم کیا۔ اس کے ساتھ ہر طرف نقیب اور ہرکارے دوڑا دیئے کہ لوگوں کو جوش دلا کر جنگ کے لیے آمادہ کریں۔ اس تدبیر سے قومی جوش جو افسردہ ہو گیا تھا، پھر تازہ ہو گیا اور چند روز میں ایک جمعیت عظیم فراہم ہو گئی۔ ابو موسیٰ نے دو بار خلافت کو نامہ لکھا اور مدد کی درخواست کی۔ وہاں سے عمار بن یاسر کے نام جو اس وقت کوفہ کے گورنر تھے حکم آیا کہ نعمان بن مقرن کو ہزار آدمی کے ساتھ مدد کو بھیجیں۔ لیکن غنیم نے جو ساز و سامان کیا تھا۔ ابو موسیٰ نے دوبارہ لکھا، جس کے جواب میں عمار کو حکم پہنچا کہ آدھی فوج کو عبد اللہ بن مسعود کے ساتھ کوفہ میں چھوڑ دو اور باقی فوج لے کر خود ابو موسیٰ کے مدد کو جاؤ۔ ادھر جریر بجلی ایک بڑی فوج لے کر جلولاء پہنچا۔ ابو موسیٰ نے اس ساز و سامان سے شوستر کا رخ کیا۔ اور شہر کے قریب پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ ہرمزان کثرت فوج کے بل پر خود شہر سے نکل کر حملہ آور ہوا۔ حضرت ابوموسیٰ نے بڑی ترتیب سے صف آرائی کی۔ میمنہ براء بن مالک کو دیا (یہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور صحابی) کے بھائی تھے۔ میسرا پر براء بن عازب انصاری کو مقرر کیا۔ سواروں کا رسالہ حضرت انس کی رکاب میں تھا۔ دونوں فوجیں خوب جی توڑ کر لڑیں، براء بن مالک مارتے دھاڑتے شہر پناہ کے پھاٹک تک پہنچ گئے ، ادھر ہرمزان نہایت بہادری کے ساتھ فوج کو لڑا رہا تھا۔ عین پھاٹک پر دونوں کا سامنا ہوا اور مارے گئے۔ ساتھ ہی محراۃ بن ثور نے جو محنہ کو لڑا رہے تھے ، بڑھ کر وار کیا لیکن ہزمزان نے ان کا بھی کام تمام کر دیا۔ تاہم میدان مسلمانوں کے ہاتھ رہا۔ عجمی ایک ہزار مقتول ہوئے اور چھ سو زندہ گرفتار ہوئے۔ ہرمزان نے قلعہ بند ہو کر لڑائی جاری رکھی۔

ایک دن شہر کا ایک آدمی چھپ کر حضرت ابو موسیٰ کے پاس آیا۔ اور کہا اگر میرے جان و مال کو امن دیا جائے تو میں شہر پر قبضہ کرا دوں گا۔ ابو موسیٰ نے منظور کیا۔ اس نے ایک عرب کو جس کا نام اشرس تھا ساتھ لیا۔ اور نہر وجل سے جو دجلہ کی ایک شاخ ہے ، اور شوستر کے نیچے بہتی ہے ، پار اتر کر ایک تہہ خانے کی راہ میں داخل ہوا۔ اور اشرس کے منہ پر چادر ڈال کر کہا کہ نوکر کی طرح میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔ چنانچہ شہر کے گلی کوچوں سے گزرتا خاص ہرمزان کے محل میں آیا۔ ہرمزان رئیسوں اور درباریوں کے ساتھ جلسہ جمائے بیٹھا ہوا تھا۔

شہری نے ان کو تمام عمارات کی سیر کرائی۔ اور موقع کے نشیب و فراز دکھائے۔ ابو موسیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ میں اپنا فرض ادا کر چکا ہوں، آگے تمہاری ہمت اور تقدیر ہے۔ اشرس نے اس کے بیان کی تصدیق کی۔ اور کہا کہ دو سو جانباز میرے ساتھ ہوں تو شہر فوراً فتح ہو جائے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فوج کی طرف دیکھا۔ دو سو بہادروں نے بڑھ کر کہا کہ خدا کی راہ میں ہماری جان حاضر ہے۔ اشرس اسی تہہ خانے کی راہ شہر پناہ کے دروازے پر پہنچے اور پہرہ داروں کو تہہ تیغ کر کے اندر کی طرف سے دروازے کھول دیئے۔ ادھر ابو موسیٰ فوج کے ساتھ موقع پر موجود تھے۔ دروازہ کھلنے کے ساتھ ہی تمام لشکر ٹوٹ پڑا اور شہر میں ہلچل پڑ گئی۔ ہرمزان نے بھاگ کر قلعے میں پناہ لی۔ مسلمان قلعے کے نیچے پہنچے تو اس نے برج پر چڑھ کر کہا کہ میرے ترکش میں اب بھی سو تیر ہیں۔ اور جب تک اتنی ہی لاشیں یہاں نہ بچھ جائیں میں گرفتار نہیں ہو سکتا۔ تاہم میں اس شرط پر اترتا ہوں کہ تم مجھ کو مدینہ پہنچا دو۔ اور جو کچھ فیصلہ ہو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے ہو۔ ابو موسیٰ نے منظور کیا۔ اور حضرت انس کو مامور کیا کہ مدینہ تک اس کے ساتھ جائیں۔ ہزمزان بڑی شان و شوکت سے روانہ ہوا۔ بڑے بڑے رئیس اور خاندان کے تمام آدمی رکاب میں لئے مدینہ کے قریب پہنچ کر شاہانہ ٹھاٹھ سے آراستہ ہوا۔ تاج مرصع جو آذین کے لقب سے مشہور تھا، سر پر رکھا، دیبا کی قبا زیب تن کی۔ شاہان عجم کے طریقے کے موافق زیور پہنے۔ کمر سے مرصع تلوار لگائی۔ غرض شان و شوکت کی تصویر بن کر مدینے میں داخل ہوا اور لوگوں سے پوچھا کہ امیر المومنین کہاں ہیں۔ وہ سمجھتا تھا کہ جس شخص کے دبدبہ نے تمام دنیا میں غلغلہ ڈال رکھا ہے اس کا دربار بھی بڑے ساز و سامان کا ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت مسجد میں تشریف رکھتے تھے۔ اور فرش خاک پر لیٹے ہوئے تھے۔

ہرمزان مسجد میں داخل ہوا تو سینکڑوں تماشائی ساتھ تھے۔ جو اس کے زرق برق لباس کو بار بار دیکھتے تھے اور تعجب کرتے تھے۔ لوگوں کی آہٹ سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آنکھ کھلی تو عجمی شان و شوکت کا مرقع سامنے تھا۔ اوپر سے نیچے تک دیکھا اور حاضرین کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا کہ ” یہ دنیائے دوں کی دلفریبیاں ہیں” اس کے بعد ہرمزان کی طرف مخاطب ہوئے۔ اس وقت تک مترجم نہیں آیا تھا۔ مغیرہ بن شعبہ کچھ کچھ فارسی سے آشنا تھے ، اس لئے انہوں نے ترجمانی کی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پہلے وطن پوچھا۔ مغیرہ وطن کی فارسی نہیں جانتے تھے اس لیے کہا کہ ” ازکدام ارضی”؟ پھر اور باتیں شروع ہوئیں۔ قادسیہ کے بعد ہرمزان نے کئی دفعہ حضرت سعد سے صلح کی تھی۔ اور ہمیشہ اقرار سے پھر جاتا تھا۔ شوستر کے معرکے میں دو بڑے مسلمان افسر اس کے ہاتھ سے مارے گئے۔ (ان واقعات کو طبری نے نہایت تفصیل سے لکھا ہے۔ )

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان باتوں کا اس قدر رنج تھا کہ انہوں نے ہرمزان کے قتل کا پورا ارادہ کر لیا تھا۔ تا ہم اتمام حجت کے طور پر عرض معروض کی اجازت دی۔ اس نے کہا عمر! جب تک خدا ہمارے ساتھ تھا تم ہمارے غلام تھے۔ اب خدا تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے ہیں۔ یہ کہہ کر پینے کا پانی مانگا۔ پانی آیا تو پیالہ ہاتھ میں لے کر درخواست کی کہ جب تک پانی نہ پی لوں مارا نہ جاؤں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منظور کر لیا۔ اس نے پیالہ ہاتھ سے رکھ دیا۔ اور کہا کہ میں پانی نہیں پیتا اور اس لئے شرط کے موافق تم مجھ کو قتل نہیں کر سکتے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس مغالطہ پر حیران رہ گئے۔ ہرمزان نے کلمہ توحید پڑھا اور کہا کہ میں پہلے ہی اسلام لا چکا تھا لیکن یہ تدبیر اس لیے کی کہ لوگ نہ کہیں کہ میں نے تلوار کے ڈر سے اسلام قبول کیا ہے۔ (عقد الفرید الابن عبد الرباب المیکدہ فی الحرب)۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت خوش ہوئے۔ اور خاص مدینہ میں رہنے کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ دو ہزار سالانہ روزینہ مقرر کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فارس وغیرہ کی مہمات میں اکثر اس سے مشورہ لیا کرتے تھے۔

شوستر کے بعد جندی سابور پر حملہ ہوا۔ جو شوستر سے 24 میل ہے۔ کئی دن تک محاصرہ رہا۔ ایک دن شہر والوں نے خود دروازے کھول دیئے اور نہایت اطمینان کے ساتھ تمام لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوئے۔ مسلمانوں کو ان کے اطمینان پر تعجب ہوا۔ اور اس کا سبب دریافت کیا۔ شہر والوں نے کہا ” تم ہم کو جزیہ کی شرط پر امن دے چکے ہو۔ اب کیا جھگڑا رہا” سب کو حیرت تھی کہ امن کس نے دیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ ایک غلام نے لوگوں سے چھپا کر امن کا رقعہ لکھ دیا ہے۔ ابو موسیٰ نے کہا کہ ” ایک غلام کی خود مختاری حجت نہیں ہو سکتی۔ ” شہر والے کہتے تھے کہ ہم آزاد اور غلام نہیں جانتے۔ آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خط لکھا گیا۔ انہوں نے جواب میں لکھا کہ “مسلمان غلام بھی مسلمان ہے۔ اور جس کو اس نے امان دے دی تمام مسلمان امان دے چکے۔ ” اس شہر کی فتح نے تمام خوزستان میں اسلام کا سکہ بٹھا دیا۔ اور فتوحات کی فہرست میں ایک اور نئے ملک کا اضافہ ہو گیا۔
جاری ہے..