عہد خلافت راشدہ امیر المومینین خلیفہ دوم مراد رسول حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
(قسط نمبر 10)
تحریر و پیشکش محمد نوید
“فتح قنسریں ، حلب ، انطاکیہ و اجنادین”
==========================

سلمیہ کی فتح کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے اپنی رکابی فوج لے کر بحکم حضرت ابو عبیدہؓ قنسرین کی جانب بڑھے، وہاں میناس نامی رومی سردار جس کا مرتبہ ہرقل کے بعد سب سے بڑا تھا، آگے بڑھ کر حضرت خالد بن ولیدؓ کا مقابلہ کیا، حضرت خالد بن ولیدؓ نے سخت مقابلہ کے بعد اُس کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا، وہ قنسرین میں داخل ہوکر قلعہ بند ہوا اور حضرت خالد بن ولیدؓ نے آگے بڑھ کر قنسرین کا محاصرہ کرلیا، انجام کار قنسرین مفتوح ہوا، اس فتح کا حال جب حضرت فاروق اعظمؓ کو معلوم ہوا تو وہ حضرت خالد بن ولیدؓ سےبہت خوش ہوئے اور اُن کے اختیارات اور فوجی سرداری میں نمایاں اضافہ فرمایا:

مہم قنسرین سے فارغ ہوکر حضرت ابوعبیدہؓ نے حلب کی جانب کوچ کیا، جب حلب کے قریب پہنچے تو خبر آئی کہ اہل قنسرین نے عہد شکنی کی اور بغاوت اختیار کی ہے؛ چنانچہ حضرت ابو عبیدہؓ نے فوراً ایک دستہ فوج کو قنسرین کی طرف روانہ کیا ، اہل قنسرین نے محصور ہوکر پھر اظہار اطاعت کیا اور بھاری جرمانہ دے کر اپنے آپ کو بچایا، حضرت ابو عبیدہؓ نے حلب کے قریب پہنچ کر قیام کیا، اورحضرت عیاض بن غنمؓ نے جو مقدمۃ الجیش کے افسر تھے، اپنی ماتحت فوج کو لے کر حلب کا محاصرہ کیا، اہل حلب نے حضرت عیاض بن غنمؓ سے اب تک کے مفتوح شہروں کی شرائط پر صلح کرکے شہر کو سپرد کردیا حضرت ابو عبیدہؓ نے ان شرائط کو جو عیاض بن غنمؓ نے طے کی تھیں جائز قرار دیا اور اپنے دستخط سے معاہدہ لکھ دیا۔

حلب کو فتح کرکے حضرت ابو عبیدہؓ ؓ انطاکیہ کی جانب بڑھے، انطاکیہ قصر ہر قل کا ایشیائی دارالسلطنت تھا، یہاں ہر قل کے شاہی محلات بنے ہوئے تھے، اور ہر قسم کی حفاظت کا سامان جو ایک دار السلطنت کے لئے ضروری ہے، یہاں موجود تھا، اسی لئے مختلف مقامات کے مفرور عیسائی بھاگ بھاگ کر انطاکیہ ہی میں پناہ گزیں ہوئے تھے، حلب کے بھی بہت سے عیسائی انطاکیہ میں آگئے تھے، جب مسلمان انطاکیہ کے قریب پہنچے تو عیسائیوں نے انطاکیہ سے نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور شکست کھا کر شہر میں جا گھسے، اسلامی لشکر نے انطاکیہ کا محاصرہ کیا چند روز کے بعد شہر والوں نے مجبور ہوکر جزیہ کے وعدہ پر صلح کرلی، بعض عیسائی انطاکیہ سے کسی طرف کو خود ہی جلا وطن ہوگئے، مسلمانوں نے ان کے حال سے کوئی تعرض نہیں کیا اس کے بعد خبر پہنچی کہ حلب کے قریب مقام معرہ مصرین میں مسلمانوں کے خلاف عیسائی لشکر جمع ہو رہا ہے، اس خبر کو سُن کر حضرت ابو عبیدہؓ اس طرف کو روانہ ہوئے وہاں بڑی بھاری جنگ ہوئی، بہت سے عیسائی اور رومی سردار مارے گئے، اہل معرہ مصرین نے اہل حلب کی طرح صلح کرلی، یہاں یہ صلح نامہ ابھی مکمل نہیں ہونے پایا تھا کہ انطاکیہ والوں کی بغاوت وبد عہدی کی خبر پہنچی، مگر عیاض بن غنم اورحبیب بن مسلمہ موجود تھے، انہوں نے لڑ کر عیسائیوں کو پھر مغلوب کیا اور شہر پر قابض ہوگئے، اس بغاوت و بد عہدی کے بعد انطاکیہ والوں نے پھر پہلی شرائط پر ہی صلح کی درخواست کی حضرت ابو عبیدہؓ نے ان کی اس درخواست کو منظور کرلیا۔

عیسائیوں کی بار بار کی بغاوت وبد عہدی دیکھ کر حضرت ابو عبیدہؓ نے فاروق اعظمؓ کو لکھا کہ ان عیسائیوں کے باربار نقض عہد سے بعض اوقات لشکر اسلامی کو بڑی بڑی مشکلات کا سامنا ہوجاتا ہے، ان کے ساتھ کس خاص قسم کا برتاؤ کیا جائے؟ فاروق اعظمؓ نے لکھا کہ عیسائیوں کے بڑے بڑے مرکزی شہروں اور قصبوں میں جن کو تم فتح کرچکے ہو، ایک ایک فوجی دستہ مدامی طور پر موجود رکھو، ایسے ہر ایک حفاظتی دستے کو ہم بیت المال سے وظائف اور تنخواہیں دیں گے، فتح انطاکیہ کے بعد ارد گرد کے تمام مواضعات وقصبات نے بطیب خاطر مسلمانوں کی اطاعت قبول کی اور قورس، بنج تل عزاز وغیرہ قصبات معہ مفصلات بلاجنگ وپیکار مسلمانوں کی اطاعت وقبضہ میں داخل ہوگئے اور فرات تک شام کے تمام شہر مسلمانوں کے قبضے میں آگئے۔

اب شام کی طرف سے مطمئن ہوکر اور تمام شہروں میں عامل مقرر کرنے اور فوجی دستے متعین فرما دینے کے بعد حضرت ابو عبیدہؓ نے فلسطین کی طرف توجہ فرمائی اور ایک لشکر میسرہ بن مسروق کی سرداری میں مقام بفراس جو علاقہ انطاکیہ میں ایشیائے کوچک کی سرحد پر ایک مقام تھا، یہاں بہت سےعرب قبائل غسان، تنوخ ایاد وغیرہ آباد تھے اور عیسائی مذہب رکھنے کی وجہ سے فتح انطاکیہ کا حال سن کر ہر قل کے پاس جانے کی تیاریاں کر رہے تھے، میسرہ بن مسروق نے جاتے ہی ان پر حملہ کیا، بڑا بھاری معرکہ ہوا، حضرت ابوعبیدہؓ نے انطاکیہ سے مالک بن اُشترنخعی کو میسرہ کی کمک پر روانہ کیا اس نئی فوج کو آتے ہوئے دیکھ کر عیسائی گھبراگئے اور حواس باختہ ہوکر بھاگے، حضرت خالد بن ولیدؓ ایک چھوٹا سا لشکر لے کر مرعش کی طرف گئے اور عیسائیوں نے جلاوطنی کی اجازت حاصل کرکے شہر حضرت خالد بن ولید کے سپرد کردیا، اسی طرح ایک لشکر لے کر حبیب بن مسلمہ قلعہ حرث کی طرف گئے اور اس کو فتح کیا۔

*فتح قیسا ریہ(قیصرہ)وفتح اجنادین:*
=========================

انہیں ایام میں انطاکیہ وعلاقۂ انطاکیہ کو اسلامی لشکر فتح کررہا تھا، دمشق کے عامل حضرت یزید بن ابی سفیان نے اپنے بھائی حضرت معاویہؓ بن ابی سفیان کو حکم فاروقی کی بنا پر فوج دے کر قیساریہ کی طرف بھیجا، وہاں سخت معرکہ پیش آیا اور اسی ہزار عیسائی میدان جنگ میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مارے گئے اور قیساریہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا۔

مہم مرج روم اور فتح بیسان کے بعد قیصر ہر قل نے ارطبون نامی بطریق کو جونہایت بہادر اور مشہور سپہ سالار تھا، مقام اجنادین میں فوجیں جمع کرنے کا حکم دیا ارطبون نے ایک زبردست فوج تو اپنے پاس مقام اجنادین میں رکھی اور ایک فوج مقام رملہ میں ایک اور بیت المقدس میں تعینات کی، یہ فوجیں اسلامی حملہ آوروں کی منتظر اور ہر طرح کیل کانٹے سے لیس اور تعداد میں بے شمار تھیں، حضرت عمروبن العاصؓ نے جو اس سمت کے حصہ افواج کی سرداری رکھتے تھے، بحکم ابو عبیدہؓ علقمہ بن حکیم فراسی اور مسرور بن العکی کو بیت المقدس کی طرف اور ابو ایوب المالکی کو رملہ کی جانب روانہ کیا اور عمرؓ وخود ارطبون کے مقابلہ کواجنادین کی جانب بڑھے، اجنادین میں نہایت سخت معرکہ آرائی ہوئی، یہ لڑائی جنگ یرموک کی مانند تھی، بالآخر ارطبون حضرت عمروؓ کے مقابلہ سے شکست کھا کر بیت المقدس کی طرف بھاگا حضرت علقمہ بن حکیم فراسی نے جو بیت المقدس کا محاصرہ کئے ہوئے تھے راستہ دے دیا، ارطبون بیت المقدس میں داخل ہوگیا اور اجنادین پر حضرت عمروؓ کا قبضہ ہوا۔

*فتح بیت المقدس:*
============

ارطبون جب بیت المقدس میں داخل ہوگیا تو حضرت عمرؓو نے غزّہ، سبط، نابلس، لد، عمواس، جبرین، یافا وغیرہ مقامات پر قبضہ کیا اور بیت المقدس کے ارد گرد کے تمام علاقے پر قابض ہوکر بیت المقدس کی طرف بڑھے اور محاصرہ کو سختی سے جاری رکھا، انہیں ایام میں حضرت ابو عبیدہؓ شام کے انتہائی اضلاع قنسرین وغیرہ کی فتح سےفارغ ہوکر فلسطین وبیت المقدس کی طرف روانہ ہوچکے تھے، عیسائی قلعہ بند ہوکر نہایت سختی سے محاصرین کی مدافعت اور مقابلہ کررہے تھے، ابو عبیدہؓ کے آجانے کی خبر سُن کر ان کی کچھ ہمت پست سی ہوگئی، اور سپہ سالار اعظم یعنی حضرت ابوعبیدہ کے پہنچنے پر انہوں نے صلح کے سلام وپیام جاری کئے، مسلمانوں کی طرف سے صلح میں کوئی تامل ہوتا ہی نہ تھا، مسلمانوں کی طرف سے جو شرائط پیش ہوتے تھے، وہ بہت سادہ اور ایسے مقررہ معینہ تھے کہ تمام عیسائی اُن سے واقف تھے لیکن بیت المقدس کے عیسائیوں نے صلح کی شرائط میں ایک خاص قسم کا اضافہ ضروری و لازمی قرار دیا وہ یہ کہ عہد نامہ خود خلیفۂ وقت آکر لکھے، ارطبون بطریق بیت المقدس سے نکل کر مصر کی طرف بھاگ گیا تھا، رؤساء شہر اور شرفائے بیت المقدس ہی مدافعت میں استقامت دکھا رہے تھے اور اب شہر کا قبضہ میں آجانا کچھ بھی دشوار نہ تھا، لیکن حضرت ابو عبیدہؓ بن الجراح نے یہی مناسب سمجھا کہ جہاں تک ہوسکے کشت وخون کا امکان مسدود کیا جائے اور جنگ پر صلح کو فوقیت دی جائے۔

چنانچہ انہوں نے فاروق اعظمؓ کو ان حالات کا ایک خط لکھا اور اُس میں تحریر کیا کہ آپ کے یہاں تشریف لانے سے بیت المقدس بلا جنگ قبضہ میں آسکتا ہے، فاروق اعظمؓ نے اس خط کے پہنچنے پر صاحب الرائے حضرات کو مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بغرض مشورہ طلب کیا، حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ عیسائی اب مغلوب ہوچکے ہیں، ان میں مقابلے اور مدافعت کی ہمت و طاقت نہیں رہی، آپ بیت المقدس کا سفر اختیار نہ کریں خدائے تعالی عیسائیوں کو اور بھی زیادہ ذلیل کرے گا اور وہ بلا شرط شہر کو مسلمانوں کے سپرد کردیں گے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ میری رائے میں آپ کو ضرور جانا چاہئے، فاروق اعظمؓ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی رائے کو پسند کیا۔

*فاروق اعظمؓ کا سفر فلسطین:*

ستوؤں کا ایک تھیلا، ایک اونٹ، ایک غلام اور ایک لکڑی کا پیالہ ہمراہ لے کر اور اپنی جگہ حضرت عثمان غنیؓ کو مدینہ کا عامل مقرر فرما کر روانہ ہوگئے، آپ کے اس سفر کی سادگی وجفا کشی عام طور پر مشہور ہے، کبھی غلام اونٹ کی مہار پکڑ کر چلتا اور فاروق اعظمؓ اونٹ پر سوار ہوتے اور کبھی غلام اونٹ پر سوار ہوتا اور فاروق اعظمؓ اونٹ کی مہار پکڑ کر آگے چلتے، یہ اس عظیم الشان شہنشاہ اور خلیفۂ اسلام کا سفر تھا، جس کی فوجیں قیصر وکسریٰ کے محلات اور تخت و تاج کو اپنے گھوڑوں کی ٹاپوں میں روند چکی تھیں، یہ مہینہ جس میں فاروق اعظمؓ کا یہ سفر شروع ہوا ہے رجب کا مہینہ تھا اور ۱۶ھ جب کہ مدائن اور انطاکیہ فتح ہوچکے تھے، عزم روانگی کے ساتھ ہی روانگی سے پہلے آپ نے دمشق وبیت المقدس کی اسلامی افواج کے سرداروں کو اطلاع دے دی تھی،

سب سے پہلے یزید بن ابی سفیانؓ، ان کے بعد ابو عبیدہ بن الجراحؓ، ان کے بعد حضرت خالد بن ولیدؓ نے آپ کا استقبال کیا، آپ نے ان سرداروں کو خوبصورت اور شان وشوکت کے لباس میں اپنے استقبال کو آتے ہوئے دیکھ کر طیش اور غضب کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ تم لوگوں نے دو ہی برس میں عجمیوں کی خُوبو اختیار کرلی، مگر جب ان سرداروں نے فرمایا کہ ہماری ان پر تکلف قباؤں کے نیچے سلاح ِ حرب موجود ہیں اور ہم عربی اخلاق پر قائم ہیں، تب آپ کو اطمینان ہوا۔

حضرت عمرؓ نے بیت المقدس کا ارادہ کیا۔ گھوڑا جو سواری میں تھا اس کے سم گھس کر بیکار ہو گئے تھے اور رک رک کر قدم رکھتا تھا۔ حضرت عمرؓ یہ دیکھ کر اتر پڑے۔ لوگوں نے ترکی نسل کا ایک عمدہ گھوڑا حاضر کیا۔ گھوڑا شوخ اور چالاک تھا حضرت عمرؓ سوار ہوئے تو الیل کرنے لگا۔ فرمایا کمبخت یہ غرور کی چال تو نے کہاں سے سیکھی۔ یہ کہہ کر اتر پڑے اور پیادہ پا چلے۔ بیت المقدس قریب آیا تو حضرت ابو عبیدہؓ اور سرداران فوج استقبال کو آئے۔ حضرت عمرؓ کا لباس اور سروسامان جس معمولی حیثیت کا تھا، اس کو دیکھ کر مسلمانوں کو شرم آتی تھی کہ عیسائی اپنے دل میں کیا کہیں گے؟ چنانچہ لوگوں نے ترکی گھوڑا اور عمدہ قیمتی پوشاک حاضر کی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ:

*اللہ تعالیٰ نے ہم کو جو عزت دی ہے وہ اسلام کی عزت ہے اور ہمارے لئے یہی بس ہے۔*

غرض اس حال سے بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ سب سے پہلے مسجد میں گئے۔ محراب داؤد کے پاس پہنچ کر سجدہ داؤد کی آیت پڑھی اور سجدہ کیا پھر عیسائیوں کے گرجا میں آئے اور ادھر ادھر پھرتے رہے۔

*عیسائیوں کا امان نامہ:*

آپ مقام جابیہ میں مقیم ہوئے یہیں رؤساء بیت المقدس آپ کی ملاقات کو حاضر ہوئے اور عہد نامہ آپ نے اپنے سامنے ان کو لِکھوا دیا۔

*”یہ وہ امان نامہ ہے جو امیر المومنین عمرؓ نے ایلیا والوں کو دیا ہے، ایلیا والوں کی جان مال، گرجے، صلیب،بیمار، تندرست سب کو امان دی جاتی ہے اور ہر مذہب والے کو امان دی جاتی ہے، ان گرجاؤں میں سکونت نہ کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے یہاں تک کہ ان کے احاطوں کو بھی نقصان نہ پہنچایا جائے گا، نہ ان کی صلیبوں اور مالوں میں کسی قسم کی کمی کی جائے گی، نہ مذہب کے بارے میں کسی قسم کا کوئی تشدد کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کوئی کسی کو ضرر پہنچائے گا اور ایلیا میں ان کے ساتھ یہودی نہ رہنے پائیں گے اور ایلیا والوں پر فرض ہے کہ وہ جزیہ دیں اور یونانیوں کو نکال دیں، پس یونانیوں یعنی رومیوں میں سے جو شہر سے نکل جائے گا اُس کے جان و مال کو امان دی جاتی ہے جب تک کہ وہ محفوظ مقام تک نہ پہنچ جائے، اگر کوئی رومی ایلیا ہی میں رہنا پسند کرتا ہے، تو اُس کو باقی اہل شہر کی طرح جزیہ ادا کرنا ہوگا اور اگر اہل ایلیا میں سے کوئی شخص رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو اس کو امن وامان ہے، یہاں تک کہ وہ محفوظ مقام پر پہنچ جائیں،جو کچھ اس عہد نامہ میں درج ہے اُس پر خدا اور رسول اور خلفاء اورتمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے، بشر طیکہ اہل ایلیا مقررہ جزیہ کی ادائیگی سے انکار نہ کریں۔*

اس عہد نامہ پر حضرت خالد بن ولیدؓ، عمروبن العاصؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ اور معاویہ بن ابی سفیان کے دستخط بطور گواہ ثبت ہوئے، بیت المقدس والوں نے فوراً جزیہ ادا کرکے شہر کے دروازے کھول دئے، اسی طرح اہل رملہ نے بھی مصالحت کے ساتھ شہر مسلمانوں کے سپر د کردیا، فاروق اعظمؓ پیادہ پا بیت المقدس میں داخل ہوئے، سب سے پہلے مسجد اقصیٰ میں گئے محراب داؤد کے پاس پہنچ کر سجدہ داؤد کی آیت پڑھ کر سجدہ کیا،پھر عیسائیوں کے گرجے میں گئے اوراُس کی سیر کرکے واپس تشریف لائے، بیت المقدس کی فتح کے بعد فاروق اعظمؓ نے صوبہ فلسطین کے دو حصہ کرکے ایک حصہ پر علقمہ بن حکیم کو عامل مقرر کرکے رملہ میں قیام کا حکم دیا، دوسرے حصہ پر علقمہ بن محرز کو عامل مقرر فرما کر بیت المقدس میں رہنے کا حکم دیا۔

*حمص پر عیسائیوں کی دوبارہ کوشش:*
==========================

یہ معرکہ اس لحاظ سے یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس سے جزیرہ اور آرمیسیہ کی فتوحات کا موقع پیدا ہوا۔ ایران اور روم کی مہمیں جن اسباب سے پیش آئیں وہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں لیکن اس وقت تک آرمبیہ پر لشکر کشی کے لئے کوئی خاص سبب نہیں پیدا ہوا تھا۔ اسلامی فتوحات چونکہ روز بروز وسیع تر ہو جاتی تھیں اور حکومت اسلام کے حدود برابر بڑھتے جاتے تھے۔ ہمسایہ سلطنتوں کو خود بخود خوف پیدا ہوا کہ ایک دن ہماری باری بھی آتی ہے۔ چنانچہ جزیرہ والوں نے قیصر کو لکھا کہ نئے سرے سے ہمت کیجئے، ہم ساتھ دینے کو موجود ہیں۔ چنانچہ قیصر نے ایک فوج کثیر حمص کو روانہ کی۔ ادھر سے جزیرہ والے 30 ہزار کی بھیڑ بھاڑ کے ساتھ شام کی طرف بڑھے۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے بھی ادھر ادھر سے فوجیں جمع کر کے حمص کے باہر صفیں جمائیں، ساتھ ہی حضرت عمرؓ کو تمام حالات سے اطلاع دی۔ حضرت عمرؓ نے آٹھ بڑے بڑے شہروں میں فوجی چھاؤنیاں قائم کر رکھی تھیں اور ہر جگہ چار چار ہزار گھوڑے فقط اس غرض سے ہر وقت تیار رہتے تھے کہ کوئی اتفاقیہ موقع پیش آ جائے تو فوراً ہر جگہ سے فوجیں یلغار کر کے موقع پر پہنچ جائیں۔

حضرت ابوعبیدہؓ کا خط آیا تو ہر طرف قاصد دوڑا دیئے۔ قعقاع بن عمر جو کوفہ میں مقیم تھے لکھا کہ فوراً چار ہزار سوار لے کر حمص پہنچ جائیں۔ سہیل بن عدی کو حکم بھیجا کہ جزیرہ پہنچ کر جزیرہ والوں کو حمص کی طرف بڑھنے سے روک دیں۔ عبداللہ بن عتبان کو نصیبیں کی طرف روانہ کیا۔ ولید بن عقبہ کو مامور کیا کہ جزیرہ پہنچ کر عرب کے ان قبائل کو تھام رکھیں جو جزیرہ میں آباد تھے۔ حضرت عمرؓ نے ان انتظامات پر بھی قناعت نہ کی بلکہ خود مدینہ سے روانہ ہو کر دمشق میں آئے۔ جزیرہ والوں نے جب سنا کہ خودان کے ملک میں مسلمانوں کے قدم آ گئے تو حمص کا محاصرہ چھوڑ کر جزیرہ کو چل دیئے۔ عرب کے قبائل جو عیسائیوں کی مدد کو آتے تھے وہ بھی پچھتائے اور خفیہ حضرت خالدؓ کو پیغام بھیجا کہ تمہاری مرضی ہو تو ہم اسی وقت یا عین موقع پر عیسائیوں سے الگ ہو جائیں۔ خالدؓ نے کہلا بھیجا کہ افسوس! میں دوسرے شخص (ابوعبیدہؓ) کے ہاتھ میں ہوں اور وہ حملہ کرنا پسند نہیں کرتا ورنہ مجھ کو تمہارے ٹھہرے اور چلے جانے کی مطلق پرواہ نہ ہوتی۔ تاہم اگر تم سچے ہو تو محاصرہ چھوڑ کر کسی طرف نکل جاؤ۔ ادھر فوج نے حضرت ابو عبیدہؓ سے تقاضا شروع کیا کہ حملہ کرنے کی اجازت ہو۔ انہوں نے حضرت خالدؓ سے پوچھا۔ خالدؓ نے کہا میری جو رائے ہے معلوم ہے۔ عیسائی ہمیشہ کثرت فوج کے بل پر لڑتے ہیں۔ اب کثرت بھی نہیں رہی پھر کس بات کا اندیشہ ہے، اس پر بھی حضرت ابوعبیدہؓ کا دل مطمئن نہ ہوا۔ تمام فوج کو جمع کیا اور نہایت پر زور اور موثر تقریر کی کہ مسلمانو! آج جو ثابت قدم رہ گیا وہ اگر زندہ بچا تو ملک و مال ہاتھ آئے گا اور مارا گیا تو شہادت کی دولت ملے گی۔ میں گواہی دیتا ہوں (اور یہ جھوٹ بولنے کا موقع نہیں) کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص مرے اور مشرک ہو کر نہ مرے وہ ضرور جنت میں جائے گا۔

فوج پہلے ہی سے حملہ کرنے کے لئے بے قرار تھی۔ حضرت ابو عبیدہؓ کی تقریر نے اور بھی گرما دیا اور دفعتہ سب نے ہتھیار سنبھال لئے۔ ابوعبیدہؓ قلب فوج اور خالد و عباس میمنہ اور میسرہ کو لے کر پڑھے۔ قعقاع جو کوفہ سے چار ہزار فوج کے ساتھ مدد کو آتے تھے، حمص سے چند میل پر اہ میں تھے کہ اس واقعہ کی خبر سنی۔ فوج چھوڑ کر سو سواروں کے ساتھ حضرت ابو عبیدہؓ سے ملے۔ مسلمانوں کے حملے کے ساتھ عرب کے قبائل (جیسا کہ خالدؓ سے اقرار ہو چکا تھا) ابتری کے ساتھ پیچھے ہٹے۔ ان کے ہٹنے سے عیسائیوں کا بازو ٹوٹ گیا اور تھوڑی دیر لڑ کر اس بد حواسی سے بھاگے کہ مرج الدیباج تک ان کے قدم نہ جمے۔ یہ آخری معرکہ تھا جس کی ابتداء خود عیسائیوں کی طرف سے ہوئی اور جس کے بعد ان کو پھر کبھی پیش قدمی کا حوصلہ نہیں ہوا۔

==================> جاری ہے ۔۔۔۔