دورہ خلافت راشد امیر المومینین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ”
(قسط نمبر 9)
تحریر و پیشکش : محمدنوید
جنگ یرموک:
=============
حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لڑائی کی تیاریاں شروع کیں۔ حضرت معاذ بن جبلؓ کو جو بڑے رتبہ کے صحافی تھے ، میمنہ پر مقرر کیا۔ قباث بن الثھم کو میسرہ اور ہاشم بن عتبہ کو پیدل فوج کی افسری دی۔ اپنے رکاب کی فوج کے چار حصے کئے۔ ایک کو اپنی رکاب میں رکھا۔ باقی پر قیس بن ہبیرہ، میسرہ بن مسروق، عمرو بن الطفیل کو مقرر کیا۔ یہ تینوں بہادر تمام عرب میں انتخاب تھے۔ اور اس وجہ سے فارس العرب کہلاتے تھے۔ رومی بھی بڑے سر و سامان سے نکلے۔ دو لاکھ سے زیادہ کی جمعیت تھی۔ اور 24 صفیں تھیں۔ جس کے آگے آگے مذہبی پیشوا ہاتھوں میں صلیبیں لئے جوش دلاتے جاتے تھے۔ فوجیں بالکل مقابل آ گئیں تو ایک بطریق صف چیر کر نکلا اور کہا کہ میں تنہا لڑنا چاہتا ہوں۔ میسرہ بن مسروق نے گھوڑا بڑھایا مگر چونکہ حریف نہایت تنومند اور جوان تھا، حضرت خالد نے روکا اور قیس بن ببیرہ کی طرف دیکھا۔ وہ یہ اشعار پڑھتے ہوئے بڑھے۔
*سل النساء اطبی الی احجابھا*
*الست یوم الحرب من ابطالھا*
*”پردہ نشین عورتوں سے پوچھ لو، کیا میں لڑائی کے دن بہادروں کے کام نہیں کرتا۔ “*
قیس اس طرح جھپٹ کر پہنچے کہ بطریق ہتھیار بھی نہیں سنبھال سکا تھا کہ ان کا وار چل گیا۔ تلوار سر پر پڑی اور خود کو کاٹتی ہوئی گردن تک اتر گئی۔ بطریق ڈگمگا کر گھوڑے سے گرا۔ ساتھ ہی مسلمانوں نے تکبیر کا نعرہ مارا۔ حضرت خالد نے کہا “شگون اچھا ہوا۔ اور اب خدا نے چاہا تو آگے فتح ہے۔ ” عیسائیوں نے حضرت خالد کے ہمرکاب افسروں کے مقابلے میں جدا جدا فوجیں متعین کی تھیں۔ لیکن سب نے شکست کھائی۔ اس دن یہیں تک نوبت پہنچ کر لڑائی ملتوی ہو گئی۔
رات کو باہان نے سرداروں کو جمع کر کے کہا کہ عربوں کو شام کی دولت کا مزہ پڑ چکا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ مال و زر کی طمع دلا کر ان کو یہاں سے ٹالا جائے۔ سب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ دوسرے دن ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس قاصد بھیجا کہ ” کسی معزز افسر کو ہمارے پاس بھیج دو ہم اس سے صلح کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ ” حضرت ابو عبیدہ نے خالد کو انتخاب کیا۔ قاصد جو پیغام لے کر آیا تھا، اس کا نام جارج تھا۔ جس وقت پہنچا شام ہو چکی تھی۔ ذرا دیر کے بعد مغرب کی نماز شروع ہوئی۔ مسلمان جس ذوق شوق سے تکبیر کہہ کر کھڑے ہوئے اور جس سکون و وقار، ادب و خضوع سے انہوں نے نماز ادا کی، قاصد نہایت حیرت و استعجاب کی نگاہ سے دیکھتا رہا۔ یہاں تک کہ جب نماز ہو چکی تو اس نے حضرت ابو عبیدہ سے چند سوالات کئے ، جن میں ایک یہ تھا کہ تم عیسیٰ کی نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہو؟ ابو عبیدہ نے قرآن کی یہ آیتیں پڑھیں :
یا اھل الکتب لا تفلوا فی دینکم ولا تقولو اعلی اللہ الا الحق الھا المسیح عیسی ابن مریم رسول اللہ و کلمنہ الفاھا الی مریم سے لن یستکف المسیح ان یکون عبد اللہ ولا الملٰکۃ المقربون تک۔
مترجم نے ان الفاظ کا ترجمہ کیا۔ تو جارج پکار اٹھا کہ:
*” بے شک عیسیٰ کے یہی اوصاف ہیں اور تمہارا پیغمبر سچا ہے۔ “*
یہ کہہ کر اس نے کلمہ توحید پڑھا اور مسلمان ہو گیا۔ وہ اپنی قوم کے پاس واپس جانا بھی نہیں چاہتا تھا۔ لیکن حضرت ابو عبیدہ نے اس خیال سے کہ رومیوں کو بد عہدی کا گمان نہ ہو، مجبور کیا اور کہا کہ کل یہاں سے جو سفیر جائے گا اس کے ساتھ چلے آنا۔
دوسرے دن حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ رومیوں کی لشکر گاہ میں گئے۔ رومیوں نے اپنی شان و شوکت دکھانے کے لیے پہلے سے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ راستے کے دونوں جانب سواروں کی صفیں قائم کی تھیں جو سر سے پاؤں تک لوہے میں غرق تھے۔ لیکن حضرت خالد اس بے پروائی اور تحقیر کی نگاہ سے ان پر نظر ڈالتے جاتے تھے ، جس طرح شیر بکریوں کے ریوڑ کو چیرتا چلا جاتا ہے۔ باہان کے خیمے کے پاس پہنچے تو اس نے نہایت احترام کے ساتھ استقبال کیا اور لا کر اپنے برابر بٹھایا۔ مترجم کے ذریعے سے گفتگو شروع ہوئی۔ باہان نے معمولی بات چیت کے بعد لکچر کے طریقے پر تقریر شروع کی۔ حضرت عیسٰی کی تعریف کے بعد قیصر کا نام لیا۔ اور فخر سے کہا کہ ہمارا بادشاہ تمام بادشاہوں کا شہنشاہ ہے۔ مترجم ان الفاظ کا پورا ترجمہ نہیں کر چکا تھا کہ حضرت خالد نے باہان کو روک دیا اور کہا کہ تمہارا بادشاہ ایسا ہی ہو گا۔ لیکن ہم نے جس کو سردار بنا رکھا ہے اس کو ایک لمحہ کے لیے اگر بادشاہی کا خیال آئے تو ہم فوراً اس کو معزول کر دیں گے۔
باہان نے پھر تقریر شروع کی، اور اپنے جاہ و دولت کا فخر بیان کر کے کہا کہ ” اہل عرب تمہاری قوم کے لوگ ہمارے ملک میں آ کر آباد ہوئے۔ ہم نے ہمیشہ ان کے ساتھ دوستانہ سلوک کئے۔ ہمارا خیال تھا کہ ان مراعات کا تمام عرب ممنون ہو گا، لیکن خلاف توقع تم ہمارے ملک پر چڑھ آئے اور چاہتے ہو کہ ہم کو ہمارے ملک سے نکال دو۔ تم کو معلوم نہیں کہ بہت سی قوموں نے بارہا ایسے ارادے کئے لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ اب تم کو کہ تمام دنیا میں تم سے زیادہ کوئی قوم وحشی اور بے ساز و سامان نہیں، یہ حوصلہ ہوا ہے ، ہم اس پر بھی درگزر کرتے ہیں۔ بلکہ اگر تم یہاں سے چلے جاؤ تو انعام کے طور پر سپہ سالار کو دس ہزار دینار اور افسر کر ہزار ہزار اور عام سپاہیوں کو سو سو دینار دلا دیئے جائیں گے۔
باہان اپنی تقریر ختم کر چکا تو حضرت خالد اٹھے اور حمد نعت کے بعد کہا کہ:
*” بے شبہ تم دولت مند ہو، مالدار ہو، صاحب حکومت ہو، تم نے اپنے ہمسایہ عربو کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بھی ہم کو معلوم ہے لیکن یہ تمہارا کچھ احسان نہ تھا بلکہ اشاعت مذہت کی ایک تدبیر تھی جس کا یہ اثر ہوا کہ وہ عیسائی ہو گئے اور آج خود ہمارے مقابلے میں تمہارے ساتھ ہو کر ہم سے لڑتے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ ہم نہایت محتاج تنگدست اور خانہ بدوش تھے۔ ہمارے ظلم و جہالت کا یہ حال تھا کہ قوی کمزور کو پیس ڈالتا تھا۔ قبائل آپس میں لڑ لڑ کر برباد ہو جاتے تھے ، بہت سے خدا بنا رکھے تھے اور ان کو پوجتے تھے۔ اپنے ہاتھ سے بت تراشتے تھے اور اس کی عبادت کرتے تھے۔ لیکن خدا نے ہم پر رحم کیا اور ایک پیغمبر بھیجا جو خود ہماری قوم سے تھا۔ اور ہم میں سب سے زیادہ شریف، زیادہ فیاض، زیادہ پاک خو تھا۔ اس نے ہم کو توحید سکھائی اور بتلا دیا کہ خدا کا کوئی شریک نہیں۔ وہ بیوی و اولاد نہیں رکھتا۔ وہ بالکل یکتا و یگانہ ہے۔ اس نے ہم کو یہ بھی حکم دیا ہے کہ ہم ان عقائد کو تمام دنیا کے سامنے پیش کریں، جس نے ان کو مانا وہ مسلمان ہے اور ہمارا بھائی ہے۔ جس نے نہ مانا، لیکن وہ جزیہ دینا قبول کرتا ہے اس کے ہم حامی اور محافظ ہیں۔ جس کو دونوں سے انکار ہو اس کے لیے تلوار ہے۔ “*
باہان نے جزیہ کا نام سن کر ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اپنے لشکر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ” یہ مر کر بھی جزیہ نہ دیں گے۔ ہم جزیہ لیتے ہیں دیتے نہیں۔ ” غرض کوئی معاملہ طے نہیں ہوا اور حضرت خالد اٹھ کر چلے آئے۔ اب اس آخری لڑائی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔ جس کے بعد رومی پھر کبھی سنبھل نہ سکے۔ حضرت خالد کے چلے آنے کے بعد باہان نے سرداروں کو جمع کیا اور کہا کہ ” تم نے سنا اہل عرب کا دعویٰ ہے کہ جب تک تم ان کی رعایا نہ بن جاؤ ان کے حملہ سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ تم کو ان کی غلامی منظور ہے ؟ تمام افسروں نے بڑے جوش سے کہا کہ ” ہم مر جائیں گے مگر یہ ذلت گوارا نہیں ہو سکتی۔ ”
*جنگ یرموک: ③*
===========
صبح ہوئی تو رومی اس جوش اور سر و سامان سے نکلے کہ مسلمانوں کو حیرت ہوئی۔ حضرت خالد نے یہ دیکھ کر عرب کے عام قاعدے کے خلاف نئے طور سے فوج آرائی کی۔ فوج جو 30 – 35 ہزار تھی اس کے 36 حصے کئے اور آگے پیچھے نہایت ترتیب کے ساتھ اس طرح صفیں قائم کیں، قلب کی فوج. حضرت ابو عبیدہ کو دیا۔ میمنہ پر حضرت عمرو بن العاص اور شرحبیل مامور ہوئے۔ میسرہ یزید بن ابی سفیان کی کمان میں تھا۔ ان کے علاوہ ہر صف پر الگ الگ جو افسر متعین کئے چن چن کر ان لوگوں کو متعین کیا جو بہادری اور فنون جنگ میں شہرت عام رکھتے تھے۔ خطباء جو اپنے زور کلام سے لوگوں میں ہل چل ڈال دیتے تھے اس خدمت پر مامور ہوئے کہ پرجوش تقریروں سے فوج کو جوش دلائیں۔ انہی میں ابی سفیان بھی تھے جو فوجوں کے سامنے یہ الفاظ کہتے پھرتے تھے۔
الا الک، زارۃ العرب و انصار الا سلام و انھم زارۃ الروم و انصار الشرک اللھم ان ھذا یومن آیاتک اللھم انزل نصرک علی عبادک۔
حضرت عمرو بن العاص کہتے پھرتے تھے۔
ایھا الناس غضوا ابصار کم واشر عوا الرماح والزموا مراکز کم فانا حمل عدوکم فامھلوھم حتی اذا رکبوا اطراف الاسنۃ و ثبوا فی وجوھھم و ثوب الاسد۔
*” یارو! نگاہیں نیچی رکھو برچھیاں تان لو، اپنی جگہ پر جمے رہو، پھر جب دشمن حملہ آور ہوں تو آنے دو۔ یہاں تک کہ جب برچھیوں کی نوک پر آ جائیں تو شیر کی طرح ان پر ٹوٹ پڑو۔*
فوج کی تعداد اگرچہ کم تھی یعنی 30 – 35 ہزار سے زیادہ آدمی نہ تھے۔ لیکن تمام عرب میں منتخب تھے۔ ان میں سے خاص وہ بزرگ جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا جمال مبارک دیکھا تھا۔ ایک ہزار تھے ، سو بزرگ وہ تھے جو جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمرکاب تھے۔ عرب کے مشہور قبائل میں سے دس ہزار سے زیادہ صرف ازد کے قبیلے کے تھے۔ حمیر کی ایک بڑی جماعت تھی۔ ہمدان، کولان، خم، جذام، وغیرہ کے مشہور بہادر تھے۔ اس معرکہ کی ایک یہ بھی خصوصیت ہے کہ عورتیں بھی اس میں شریک تھیں اور نہایت بہادری سے لڑیں۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ماں ہندہ حملہ کرتی ہوئی بڑھتی تھیں تو پکارتی تھیں۔ عضدو العلفان بسیوفکم۔ امیر معاویہ کی بہن جویریہ نے بھی بڑی دلیری سے جنگ کی۔
حضرت مقداد جو نہایت خوش آواز تھے فوج کے آگے آگے سورۃ انفال (جس میں جہاد کی ترغیب ہے ) تلاوت کرتے جاتے تھے۔ ادھر رومیوں کے جوش کا یہ عالم تھا کہ تیس ہزار آدمیوں نے پاؤں میں بیڑیاں پہن لیں کہ ہٹنے کا خیال تک نہ ائے۔ جنگ کی ابتدا رومیوں کی طرف سے ہوئی۔ دو لاکھ ٹڈی دل لشکر ایک ساتھ بڑھا۔ ہزاروں پادری اور بشپ ہاتھوں میں صلیب لئے آگے آگے تھے۔ اور حضرت عیسٰی کے جے پکارتے آتے تھے۔ یہ ساز و سامان دیکھ کر ایک مسلمان کی زبان سے بے اختیار نکلا اللہ اکبر کس قدر بے انتہا فوج ہے۔ خالد نے جھلا کر کہا ” چپ رہ خدا کی قسم میرے گھوڑے کے سم اچھے ہوتے تو میں کہہ دیتا کہ عیسائی اتنی ہی فوج اور بڑھا لیں۔ ”
غرض عیسائیوں نے نہایت زور شور سے حملہ کیا اور تیروں کا مینہ برساتے بڑھے۔ مسلمان دیر تک ثابت قدم رہے لیکن حملہ زور کا تھا کہ مسلمان کا میمنہ ٹوٹ کر فوج سے علیحدہ ہو گیا۔ اور نہایت بے ترتیبی سے پیچھے ہٹا۔ یزیمت یافتہ ہٹتے ہٹتے حرم کے خیمہ گاہ تک پہنچ گئے۔ عورتوں کو یہ حالت دیکھ کر سخت غصہ آیا، اور خیمہ کی چوبیں اکھاڑ لیں۔ اور پکاریں کہ:
*” نامرادو ادھر آئے تو چولوں سے تمہارا سر توڑ دیں گے “*
حضرت خولہ یہ شعر پڑھ کر لوگوں کو غیرت دلاتی تھیں :
یاھارباً عن نسوۃ تفلیات
و میت بالسھم والمنیات
یہ حالت دیکھ کر حضرت معاذ بن جبل جو میمنہ کے ایک حصے کے سپہ سالار تھے گھوڑے سے کود پڑے اور کہا کہ ” میں پیدل لڑتا ہوں، لیکن کوئی بہادر اس گھوڑے کا حق ادا کر سکے تو گھوڑا حاضر ہے۔ ” ان کے بیٹے نے کہا ” ہاں یہ حق میں ادا کروں گا۔ کیونکہ میں سوار ہو کر اچھا لڑ سکتا ہوں۔ ” غرض دونوں باپ بیٹے فوجوں میں گھسے اور دلیری سے جنگ کی کہ مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے پاؤں پھر سنبھل گئے۔ ساتھ ہی حجاج جو قبیلہ زبیدہ کے سردار تھے ، پانچ سو آدمی لے کر بڑھے اور عیسائیوں کو جو مسلمانوں کا تعاقب کرتے چلے آتے تھے روک لیا۔ میمنہ میں قبیلہ ازد شروع حملہ سے ثابت قدم رہا تھا۔ عیسائیوں نے لڑائی کا سارا زور ان پر ڈالا لیکن وہ پہاڑ کی طرح جمے رہے۔ جنگ میں یہ شدت تھی کہ فوج میں ہر طرف سر ہاتھ بازو کٹ کٹ کر گرتے جاتے تھے لیکن ان کے پائے ثبات کی لغزش نہیں ہوتی تھی۔ حضرت عمرو بن الطفیل جو قبیلہ کے سردار تھے تلوار مارتے جاتے تھے کہ ازدیو دیکھنا۔ مسلمانوں پر تمہاری وجہ سے داغ نہ آئے۔ بڑے بڑے رومی بہادر ان کے ہاتھ سے مارے گئے اور آخر خود شہادت حاصل کی۔
عین اس وقت جب ادھر میمنہ میں بازار قتال گرم تھا۔ رومیوں کے میمنہ کا سپہ سالار ابن قناطر نے میسرہ پر حملہ کیا۔ بد قسمتی سے اس حصے میں اکثر لخم و غسان کے قبیلہ کے آدمی تھے جو شام کے اطراف میں بود و باش رکھتے تھے اور ایک مدت سے روم کے باجگزار رہتے آئے تھے، رومیوں کا رعب جو دلوں میں سمایا ہوا تھا اس کا یہ اثر ہوا کہ پہلے ہی حملے میں ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور اگر افسروں نے بھی بے ہمتی کی ہوتی تو لڑائی کا خاتمہ ہو چکا ہوتا۔ رومی بھاگتوں کا پیچھا کرتے ہوئے خیموں تک پہنچ گئے۔ عورتیں یہ حالت دیکھ کر بے اختیار نکل پڑیں اور ان کی پامردی نے عیسائیوں کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ فوج اگرچہ ابتر ہو گئی تھی لیکن افسروں میں سے قباث بن اشیم، سعید بن زید، یزید بن ابی سفیان، عمرو بن العاص، شرحبیل بن حسنہ ؓ داد شجاعت دے رہے تھے۔ قباث کے ہاتھ سے تلواریں اور نیزے ٹوٹ ٹوٹ کر گرتے جاتے تھے مگر ان کے تیور پر بل نہ آتا تھا۔ نیزہ ٹوٹ کر گرتاتو کہتے کہ کوئی ہے؟ جو اس شخص کو ہتھیار دے جس نے اللہ سے اقرار کیا ہے کہ میدان جنگ سے ہٹے گا تو مر کر ہٹے گا۔ لوگ فوراً تلوار یا نیزہ ان کے ہاتھ میں لا کر دے دیتے اور پھر وہ شیر کی طرح جھپٹ کر دشمن پر جا پڑتے۔ ابو الاعوز گھوڑے سے کود پڑے اور اپنے رکاب کی فوج سے مخاطب ہو کر کہا کہ صبر و استقلال دنیا میں عزت ہے اور عقبیٰ میں رحمت۔ دیکھنا یہ دولت ہاتھ سے نہ جانے پائے۔ سعید بن زید غصہ میں گھٹنے ٹیکے ہوئے کھڑے تھے۔ رومی ان کی طرف بڑھے تو شیر کی طرح جھپٹے اور مقدمہ کے افسر کو مار کر گرا دیا۔ یزید بن ابی سفیانؓ (معاویہؓ کے بھائی) بڑی ثابت قدمی سے لڑ رہے تھے اتفاق سے ان کے باپ ابوسفیانؓ جو فوج کو جوش دلاتے پھرتے تھے، ان کی طرف آ نکلے۔ بیٹے کو دیکھ کر کہا، جان پدر! اس وقت میدان میں ایک ایک سپاہی شجاعت کے جوہر دکھا رہا ہے، تو سپہ سالار ہے اور سپاہیوں کی بہ نسبت تجھ پر شجاعت کا زیادہ حق ہے۔ تیری فوج میں سے ایک سپاہی بھی اس میدان میں تجھ سے بازی لے گیا تو تیرے لئے شرم کی جگہ ہے۔ شرحبیل کا یہ حال تھاکہ رومیوں کاچاروں طرف سے نرغہ تھا اور یہ بیچ میں پہاڑ کی طرح ڈٹے کھڑے تھے۔ قرآن مجید کی یہ آیت:
ان اللہ اشتریٰ من المومنین انفسھم وافو الھم بان لھم الجنتہ یقاتلون فی سبیل اللہ فیقتلون ویقتلون (9، التوبہ 111:)
پڑھتے تھے اور نعرہ مارتے تھے کہ ’’ اللہ کے ساتھ سودا کرنے والے اور اللہ کے ہمسایہ بننے والے کہاں ہیں؟‘‘ یہ آواز جس کے کان میں پڑی بے اختیار لوٹ پڑا۔ یہاں تک کہ اکھڑی ہوئی فوج پھر سنبھل گئی اور شرحبیل نے ان کو لے کر اس بہادری سے جنگ کی کہ رومی جو ٹو ٹے چلے آتے تھے بڑھنے سے رک گئے۔
ادھر عورتیں خیموں سے نکل نکل کر فوج کی پشت پر آ کھڑی ہوئیں اور چلا کر کہتی تھیں کہ میدان سے قدم ہٹایا تو پھر ہمارا منہ نہ دیکھنا۔
حضرت خالدؓ نے اپنی فوج کو پیچھے لگا رکھا تھا۔ دفعتہ صف چیر کر نکلے اور اس زور سے حملہ کیا کہ رومیوں کی صفیں ابتر کر دیں۔ حضرت عکرمہ ؓ نے جو ابو جہل کے فرزند تھے اور اسلام لانے سے پہلے اکثر کفار کے ساتھ رہ کر لڑے تھے، گھوڑا آگے بڑھایا اور کہا:
عیسائیو! میں کسی زمانے میں (کفر کی حالت میں) خود رسول اللہ ﷺ سے لڑچکا ہوں۔ کیا آج تمہارے مقابلے میں میرا پاؤں پیچھے پڑ سکتا ہے؟ یہ کہہ کر فوج کی طرف دیکھا اور کہا مرنے پر کون بیعت کرتا ہے؟ چار سو شخصوں نے جن میں ضرار بن ازور بھی تھے مرنے پر بیعت کی اور اس ثابت قدمی سے لڑے کہ قریباً سب کے سب وہیں کٹ کر رہ گئے۔ حضرت عکرمہ ؓ کی لاش مقتولوں کے ڈھیر میں ملی۔ کچھ کچھ دم باقی تھا۔ حضرت خالدؓ نے اپنے زانو پر ان کا سر رکھا اور گلے میں پانی ٹپکا کر کہا اللہ کی قسم عمرؓ کا گمان غلط تھا کہ ہم شہید ہو کر نہ مریں گے۔( تاریخ طبری واقعہ یرموک)
غرض حضرت عکرمہ ؓ اور ان کے ساتھی گو خود شہید ہو گئے لیکن رومیوں کے ہزاروں آدمی برباد کر دیئے۔ حضرت خالدؓ کے حملوں نے اور بھی ان کی طاقت توڑ دی۔ یہاں تک کہ آخر ان کو پیچھے ہٹنا پڑا اور حضرت خالد ؓ ان کو دباتے ہوئے سپہ سالار درنجار تک پہنچ گئے۔ درنجار اور رومی افسروں نے آنکھوں پر رومال ڈال لئے کہ اگر یہ آنکھیں فتح کی صورت نہ دیکھ سکیں تو شکست بھی نہ دیکھیں۔
لڑائی کے دونوں پہلو اب تک برابر تھے بلکہ غلبہ کا پلہ رومیوں کی طرف تھا۔ دفعتہ قیس بن ہبیرہ جن کو حضرت خالدؓ نے فوج کا ایک حصہ دے کر میسرہ کی پشت پر متعین کر دیا تھا، عقب سے نکلے اور اس طرح ٹوٹ کر گرے کہ رومی سرداروں نے بہت سنبھالا مگر فوج سنبھل نہ سکی۔ تمام صفیں ابتر ہو گئیں اور گھبراکر پیچھے ہٹیں۔ ساتھ ہی سعید بن زید نے قلب سے نکل کر حملہ کیا۔ رومی دور ہٹتے چلے گئے یہاں تک کہ میدان کے سرے پر جو نالہ تھا اس کے کنارے تک آ گئے۔ تھوڑی دیر میں ان کی لاشوں نے وہ نالہ بھر دیا اور میدان خالی ہو گیا۔
اس لڑائی کا یہ واقعہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس وقت گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی، حباش بن قیس جو ایک بہادر سپاہی تھے بڑی جانبازی سے لڑ رہے تھے۔ اسی اثناء میں کسی نے ان کے پاؤں پر تلوار ماری اور ایک پاؤں کٹ کر الگ ہو گیا۔ حباش کو خبر تک نہ ہوئی۔ تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو ڈھونڈتے پھرتے تھے کہ میرا پاؤں کیا ہوا؟ ان کے قبیلے کے لوگ اس واقعہ پر ہمیشہ فخر کرتے تھے۔ چنانچہ سوار بن اوفی ایک شاعر نے کہا:
ومنا ابن عتاب و ناشد رجلہ
ومنا اللذی ادی الی الخی حاجبا
(یہ تمام واقعہ فتوح البلدان صفحہ131میں مذکور ہے۔)
رومیوں کے جس قدر آدمی مارے گئے ان کی تعداد میں اختلاف ہے۔ طبری اور ازدی نے لاکھ سے زیادہ تعداد بیان کی ہے۔ بلاذری نے ستر ہزار لکھا ہے۔ مسلمانوں کی طرف تین ہزار کا نقصان ہوا جن میں ضرار بن ازور، ہشام بن العاصی، ابان اور سعید وغیرہ تھے۔ قیصر انطاکیہ میں تھا کہ شکست کی خبر پہنچی۔ اسی وقت قسطنطنیہ کی تیاری کی۔ چلتے وقت شام کی طرف رخ کر کے کہا۔
*’’الوداع اے شام‘‘*
حضرت ابو عبیدہؓ نے حضرت عمرؓ کو نامہ فتح لکھا اور ایک مختصر سی سفارت بھیجی جس میں حضرت حذیفہ بن الیمان بھی تھے۔ حضرت عمر ؓ یرموک کی خبر کے انتظار میں کئی دن سے سوئے نہ تھے۔فتح کی خبر پہنچی تو دفعتہ سجدے میں گرے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
*معرکہ یرموک، مسلم مسیحی تہذیبی کشمکش:*
================================
دورِ حاضر کے تہذیبی تصادم کی جنگ کے بیج تبھی بو دیئے گئے تھے جب عساکرِبلادِ اسلام اور بازنطینی سلطنت کی مسیحی افواج کے درمیان 637ء میں سرزمینِ شام پر “معرکہءِ یرموک” لڑا گیا تھا۔ چھے دنوں پر محیط اِس جنگ نے آنے والی دُنیا کی تاریخ کا پانسہ پلٹ دیا اور نوزائیدہ اِسلامی تہذیب و تمدن کو مسیحی اثرات کی حامل لازوال سمجھی جانے والی رُومی تہذیب کے مدِمقابل لا کھڑا کیا۔
بازنطینی سلطنت نے اسلامی تہذیب کے عروج اور اسلام کے اندر پنہاں آفاقیت کے اُصولوں کو دیکھتے ہی یہ خطرہ بھانپ لیا تھا کہ صحرائے عرب سے نمودار ہونے والا یہ توحیدی دین مسیحی تہذیب و تمدّن کی باقی دُنیا پر تاحال ناقابلِ شکست گرفت کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے گا۔ لہٰذا اسلام کو مسیحیت کا سب سے بڑا “دشمن” قرار دے کر معرکہءِ یرموک کی تیاری بالکل اُنہی اصولوں پر کی گئی، جو ہمیں بعد میں “صلیبی جنگوں” کے عہد میں مسیحی دُنیا کے اندر نمایاں طور پر کارِفرما نظر آتے ہیں۔ قسطنطنیہ سے فرمانروائے بازنطین کی جانب سے یورپ بھر میں یہ اعلانات کروائے گئے کہ یروشلم (بیت المقدس) پر “کافرعربوں” (Infidel Saracens) کے قبضے کا خطرہ منڈلا رہا ہے، جس سے مسیحیت کا وجود شدید خطرے میں ہے۔ یہی وہ پہلا موقع تھا جب “کافر” کی اصطلاح مسلم مسیحی تناظر میں ایک فریق نے دُوسرے کے لیے استعمال کی، اور یُوں مسلمانوں کو یروشلم کی ارضِ مقدس پر قابض ناپاک کافر اور یسوع مسیح کا یہودیوں سے بھی بڑا دشمن قرار دیا گیا۔ پس یورپ بھر کے “صلیبی؛ ” کو بازنطینی پرچم تلے جمع کرنے کا مقدس مشن بھرپور انداز میں شروع کر دیا گیا۔ یورپ کے طُول و عرض سے یسوع مسیح کے نام پر کٹ مرنے والے صلیبیوں کا سمندر اُمڈ پڑا، جن کی کثرتِ تعداد کے بل بوتے پر بازنطینی تاریخ کا سب سے بڑا لشکر تشکیل دیا گیا۔ شہنشاہ ہرقل کے بھائی “تھیوڈور” کی سرکردگی میں دو لاکھ سے زائد صلیبیوں پر مشتمل اپنے زمانے کے جدیدترین اسلحہ سے لیس ایک لشکرِ عظیم تیار کر کے ملکِ شام کی طرف روانہ کیا گیا، جہاں اِس کا سامنا میدانِ یرموک میں سپاہِ جانثارانِ مصطفےٰ (ﷺ) سے 637ء میں ہوا۔
مسیحی افواج کے برعکس مسلمانوں کی تعداد صرف چالیس ہزار تھی، جس کی کمان سپہ سالار ابوعبیدہ بن جراح (رض) نے امانتاً خالد بن ولید (رض) کو سپرد کر دی تھی۔ مسیحی دُنیا کے ساتھ یہ اسلامی تاریخ کا پہلا باقاعدہ تصادم تھا، جس کے حیران کن نتائج نے اسلام کا سکہ دُنیا بھر میں رائج کر دیا!
نقذِ تاریخ پر معلوم ہو گا کہ اِس پہلی باقاعدہ “صلیبی جنگ” اور ملتِ اسلامیہ و مسیحی اقوام کے درمیان اُس زمانہ کے بعد باہمی معانقہ میں گہرا تعلق پایا جاتا ہے، کیونکہ اِس معرکہ کے اثرات بعد کی تاریخ میں کبھی ختم نہیں ہو سکے۔ اسلام سے مسیحی روابط کی ہر شکل اور ہر مرحلے پر اِس ایک جنگ کا انتقامی جذبہ ہمیشہ غالب رہا اور مسلمانوں کی جانب سے تہذیب و تمدن کی سُرخیلی مسیحیت سے چھین لیے جانے کا قُلق مسیحی دُنیا اپنے دِل و دماغ سے کبھی نہیں نکال سکی۔ اِس کے اثرات کئی صدیوں پر محیط صلیبی جنگوں کی صورت میں کھل کر تب سامنے آئے، جب مسیحیت کے صلیبیوں کی جانب سے “عشقِ یسوع” کے جذبے کی سرشاری میں ظلم وستم کی وہ داستانیں رقم ہوئیں کہ تاریخ اُن کی سنگینی کی کوئی اور مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ 1099ء میں فتح بیت المقدس کے بعد صلیب کے خونخوار وں نے اِس حرمت والے شہر میں خُونِ مسلم کی ندیاں بہا دیں، یہاں تک کہ خُون میں تیرتی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کی لاشوں کے انبار گھوڑوں کی رکابوں تک پہنچ گئے، لیکن صلیبی خونخواروں کی خونی پیاس پھر بھی نہ بُجھی۔ تا ہم، “ظلم تو آخر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے” کے مصداق مسیحی دُنیا کو صلیبی جنگوں میں من حیث المجموعی مُنہ کی ہی کھانا پڑی، کیونکہ مجاہدینِ اسلام نے مسیحیت کے وحشی گھوڑے کو لگام ڈال کر یہ سیلاب روک دیا۔ پس بیت المقدس اسلام کی ہی آغوش میں آن ٹھہرا۔
تاہم، تہذیبوں کی کشمکش اور تصادم کی اِس داستان میں دونوں طرف کے غالب رویوں کی ایک جھلک دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ “منتقم المزاج” کون سا فریق ہے اور حسنِ سلوک کا روادار کون ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عساکرِ محمدالرسول اللہ (ﷺ) نے نہ ہی مسیحی رعایا کا قتلِ عام معرکہءِ یرموک کے بعد کیا اور نہ ہی 1187ء میں مجاہدِ اسلام صلاح الدّین ایوبی نے مسیحی دُنیا سے کوئی انتقام لیا۔ مسلمانوں کی جانب سے خون کی ایک بُوند بھی بلاجواز یا کسی انتقامی جذبہ کے تحت حالتِ امن میں یا فتح کے بعد کی طوائف الملوکی میں نہیں بہائی گئی۔ اِس کی تصدیق مسیحی دُنیا کے بڑے بڑے مؤرخین بھی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے مسیحی اقوام کو اسلامی تاریخ سے کوئی ایسے قابلِ ذکر ثبوت میسر نہیں آتے، جو اسلام اور مسلمانوں کو ظالم ثابت کر سکیں، لہٰذا دیگر حربوں، جن میں مسلسل جھوٹ کے ذریعے نفسیاتی ذہن سازی اہم ترین ہے، پر انحصار کیا جاتا ہے!
جاری ہے…
شب بخیر دوستو زندگی رہی تو ملے گے #سحری_ٹائم 💕












