خاتونِ جنت سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا

تحریر نوجوان لکھاری عبدالرؤف چوہدری

سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا بعثت نبوی سے پانچ سال قبل یا بعثت کے ایک سال بعد ام المومنین سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا کے بطن اطہر سے متولد ہوئیں۔ سیدہ فاطمہؓ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادیوں میں سب سے چھوٹی ہیں۔ آپ کا نام فاطمہ، القاب زہرا اور بتول معروف ہیں۔ سیدہ زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھن حقیقی بہنیں ہیں۔

ان کی تربیت اور پرورش خانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ماحول میں ہوئی۔ اور اپنی والدہ محترمہ کی نگرانی میں سن شعور کو پہنچیں، اور اپنے والدین شریفین کے نفوس طیبہ سے مستفید ہوتی رہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا چال ڈھال میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہت رکھتی تھیں۔ چنانچہ صدیقہ بنت صدیق سیدہ امی عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام وقعود میں، نشست وبرخاست کے عادات واطوار میں حضرت فاطمہؓ سے زیادہ مشابہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ حضرت فاطمہؓ کا طرز وطریقہ اخلاق وشمائل میں اور آپ کی گفتار ورفتار اور لب ولہجہ اپنے والد گرامی سیدنا ومرشدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت زیادہ مشابہ تھا۔

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک بار نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم حرم کعبہ میں نماز ادا فرما رہے تھے۔ قریش کے چند شریروں نے شرارت کرتے ہوئے شتر کا اوجھ لا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر بسجود تھے، وہ اوباش اپنی اس بےہودہ حرکت پر بغلیں بجا کر ہنس رہے تھے۔ کسی نے جاکر سیدتنا فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کو اس کی خبر دی، آپ رضی اللہ عنہا کا بچپن تھا، جلد پہنچیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ اوجھ اتارا اور سخت ناراض ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے ان کے بدعا فرمائی اور ان میں سے اکثر بدر میں مارے گئے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب نبی مقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ہم کو اور اپنی بیٹیوں حضرت فاطمہ اور حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو مکہ شریف چھوڑ گئے تھے۔ جب آپ مدینہ منورہ میں مقیم ہوگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے منگوانے کا انتظام فرمایا۔ چنانچہ زید بن حارثہ اور ابورافع رضی اللہ عنہما کو دو اونٹ اور پانچ سو درہم دے کر روانہ فرمایا۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے بھی عبداللہ بن اریقط کو سواریاں دے کر اپنے اہل وعیال کو منگوانے کے لیے ان حضرات کے ساتھ روانہ کیا۔ چنانچہ ان حضرات کے ساتھ سیدہ فاطمہؓ سیدہ ام کلثوم، سیدہ ام رومان، سیدہ عائشہ سیدہ اسما رضی اللہ عنھن اور سیدنا عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے ہجرت فرمائی۔