قادیانیوں پر کاری ضرب ! اور فیصلہ کا جائزہ !

وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر وفاقی کابینہ نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ قادیانیوں کو نیشنل کمیشن برائے اقلیت میں بطور غیرمسلم شامل کرنے کی اصولی منظوری دیدی ہے.

وزارت مذہبی امور نے وفاقی کابینہ کو ارسال سمری میں قادیانیوں کو اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کی سفارش نہیں کی تھی۔

جب عمران خان کے سامنے یہ ذکر آیا تھا عمران خان نے کہا کہ قادیانی اس مین کیوں شامل نہیں وہ بھی تو غیر مسلم ہے , تب جاکر ان کو بھی اس میں شامل کرلیا گیا .

نیشنل کمیشن برائے اقلیتی حقوق کو رولز آف بزنس 1973 شیڈول2 ، (12)34 کے تحت وزارت مذہبی امور کے حوالے کیا گیا تھا نیشنل کمیشن برائے اقلیت کو ایک قرارداد کے ذریعے 1993 میں عمل میں لایا گیا جس کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی.

واضح رہے کہ 22 ستمبر 2013 کو پشاور میں ایک گرجا گھر پر ہونے والے حملے میں ایک سو سے زائد مسیحی شہری ہلاک ہوئے تھے. اس سانحے پر سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے جسٹس شاہ عظمت سعید اور جسٹس مشیر عالم کے ساتھ تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان کی اقلیتوں کے جان و مال اور حقوق و آزادیوں کے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 20 کی روشنی میں جامع قانون سازی کی بنیادیں وضع کی جائیں اور حکومت و ریاست کو عملی اقدامات اٹھانے کا پابند بنایا جائے۔
جس کے بعد آج اس پر عمل درآمد ہوا.

یہاں میں اس فیصلے کی دونوں جہتوں کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں.

ایک طرف دیکھا جائے تو یہ فیصلہ خوش آئند ہے, اس کی خیر مقدم کرنی چاہیے کہ قادیانیوں کو آئین سے غیر مسلم ڈکلیئر کیے جانے کے بعد آج انہیں باقاعدہ طور پر اقلیتوں کی صفوں میں شامل کیا گیا.
باقاعدہ طور پر قادیانیوں کو سکھوں, ہندووں, عیسائیوں کے مانند قرار دیا گیا , اور قادیانیوں کو ان کی اوقات یاد دلا کر اقلیتی کمیشن میں دھکیل دیا گیا …

اس سے فائدہ یہ ہوا کہ جو لوگ اس امید میں تھے اور جو قادیانی یہ سمجھ رہے تھے کہ ہوسکتا ہے ہمیں اس حکومت میں پھر سے مسلم ڈکلیئر کیا جائے ان کے اس آرزو پر وزیر اعظم عمران خان نے پانی پھیر دیا کہ ان کوئی گنجائش نہیں…
کیوں کہ قادیانیوں کو باقاعدہ طور پر سکھوں, ہندووں اور عیسائیوں کے صف میں کھڑا کردیا گیا.

اس لحاظ سے یہ فیصلہ ختم نبوت کی جیت ہے, اور عمران خان کی حقانیت کی دلیل…

فیصلہ کی ایک جہت یہ بھی ہے کہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ قادیانیوں کو اب وہ حقوق مل سکیں گے جو دوسرے اقلیت کو ملیں گے.

میرے خیال سے اس تاثر کی کوئی ویلیو نہیں, کیوں کہ اقلیتوں کے حقوق کہ اسلام دفاع کرتا ہے,…

اب دو باتیں سامنے آئے گی …

(1) یا تو قادیانی اس فیصلہ کو مان کر خود کو غیر مسلم اقلیت مان لیں گی…کیوں کہ اس میں شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود کو اقلیت مان رہے ہیں.
اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ختم نبوت کی بہت بڑی جیت ہے , جس پر عمران خان مبارک باد کے مستحق ہے….

(2) اگر قادیانی اس اقلیتی کمیشن کی مخالفت کرتے ہیں تب تو کوئی بات ہی نہیں رہتی… اقلیتوں کے حقوق سے بھی محروم رہیں گے, اور خود کو روتے پیٹتے رہیں گے…

بہر دو صورت یہ فیصلہ قادیانیوں پر ایک کاری ضرب ہے, جس پر ہم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں …