10 رمضان المبارک …. یومِ وصال حضرت سیدۃ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا
تحریر میاں حسیب مدنی گوجرانوالہ
🔴 *احادیث مبارکہ کی روشنی میں سیدہ پاک رضی اللہ عنہا کا مقامِ عالی شان*
ام المومنین حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا ہمارے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پہلی شریک حیات’ سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والی خاتون اور سب پہلے اسلام کے لیے آپ تمام تر جمع شدہ پونجی خرچ کرنے والی عظیم ہستی ہیں…
زمانہ جاہلیت میں سر زمین عرب میں جو چند پاک خواتین موجود تھیں آپ کا مقام ان میں نمایاں تھا… حتی کہ اس زمانے میں بھی آپ *طاہرہ* کے نام سے پہچانی جاتیں تھیں…
25 سال کی عمر مبارک میں انہی کی خواہش پر ہمارے محبوب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا اور ان کی اپنی عمر اس وقت 40 سال تھی اور یہ ان کا تیسرا نکاح تھا’ پہلے یکے بعد دیگر ان کے دو شوہر شوہر فوت ہو چکے تھے…. ان کے پہلے شوہر عتیق بن عائد مخزومی تھے ان کی وفات کے بعد ان کی شادی ابو ہالہ بن نباش تمیمی سے ہوئی تھی … جب وہ بھی داعی اجل کو لبیک کہہ گئے تو اس کے بعد آپ نے رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دامن عاطفت میں نکاح کی صورت میں پناہ حاصل کی..
پھر 10 رمضان المبارک 10 ہجری تک تقریباً 24 سال 6 ماہ اور 25 دن مسلسل بارگاہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گذار دیئے…(رحمۃ اللعالمین ‘ جلد3 صفحہ 145)
سوائے ایک بیٹے کے ساری اولاد اللہ پاک نے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو انہی کے پاکیزہ بطن سے عطا فرمائی…
مکے کی مال دار ترین خاتون تھیں…. اسلام قبول کرنے کے بعد ایک ایک پائی خدمت اسلام کے لیے صرف کر دی..
آپ کی انہی خدمات کی بدولت اللہ تعالٰی اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بارگاہ میں انہیں اہم مقام حاصل ہوا…
ان کی زندگی میں بھی اور بعد از وصال بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیشہ اچھے الفاظ سے یاد کیا اور ان کی خدمات کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ مسلسل اس کا ذکر کر کے ان کے تذکرے کو ہمیشہ کی زندگی عطا فرما دی…
ذیل میں آپ کے مقام و مرتبے اور سیرت و کردار پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چند گواہیاں ملاحظہ فرمائیں :
*…….حضرت عبداللہ بن ابی اوفٰی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نےسیدۃ خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہ کو(ان کی خدمات کی عوض) اس دنیا میں ہی ایسے جنتی محل کی بشارت دی دے تھی جس کی شان یہ ہے :
*بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا صَخَبَ فِيهِ، وَلَا نَصَبَ* .
“ایسا محل کو موتیوں سے بنا ہے ‘ اس میں نہ شوروغل اور نہ تکلیف ہوگی”.
(صحیح بخاری ‘ كِتَابٌ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ ‘ بَابٌ : تَزْوِيجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ. رقم الحدیث : 3819)
*……حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو زمانے کی بہترین خواتین میں شامل فرما کر خصوصی اعزاز و اکرام سے نوازا…. چنانچہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
*حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ بْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ* ”
“تمہارے لیے(قتداء و اتباع کے لحاظ سے) چار عورتیں کافی ہیں…. مریم بنت عمران ‘ خدیجہ بنت خویلد ‘ فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور فرعون کی بیوی آسیہ رضی اللہ عنہم “.
(سنن ترمذی’ أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‘ بَابٌ : فَضْلُ خَدِيجَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا’ رقم الحدیث: 3878)
*….حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ:
*کَانَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اِذَا ذَکَرَ خدیجۃَ رضی اللہ عنہا لَمْ یَکُنْ یَسْأَمُ مِنْ ثَنَاءِ عَلَیْھَا وَالْاِسْتِغْفَارِ لَھّا*
“حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ کا تذکرہ فدماتےتو ان کی تعریف اور ان کے لیے بخشش و مغفرت کی دعا کرتے نہیں تھکتے تھے”.
(طبرانی کبیر’ جلد 23 ‘ صفحہ 13 ‘ رقم الحدیث : 21 )
یعنی آپ یہ عمل مبارک مسلسل کیا کرتے…
*…….حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی بیان کرتی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد جب بھی آپ کوئی بکری ذبحہ کرتے تو اس کا گوشت آپ کی سہیلیوں کو بھی بھیجا کرتے تھےاور آپ ان کی سہیلیوں کی بھی بڑی قدر کیا کرتے تھے.
(صحيح مسلم ‘ كِتَابٌ : فَضَائِلُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ ‘ بَابٌ : فَضَائِلُ خَدِيجَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا ‘ رقم الحدیث : 2435)
*……حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہی زبانی حضور رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا آپ سے ایک انداز محبت ملاحظہ فرمائیے ‘ اس سے آپ کی سیرت و کردار اور خدمت اسلام کے بھی کئی گوشے نکھر کر سامنے آ جائیں گے…. آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ :
*كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى عَلَيْهَا فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ. قَالَتْ : فَغِرْتُ يَوْمًا فَقُلْتُ : مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُهَا حَمْرَاءَ الشِّدْقِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا. قَالَ : ” مَا أَبْدَلَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ خَيْرًا مِنْهَا، قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِي النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَدَهَا إِذْ حَرَمَنِي أَوْلَادَ النِّسَاءِ”*.
“حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر فرماتے تو ان کی خوب تعریف کرتے …آپ فرماتی ہیں کہ ایک دن میں غصہ میں آگئی اور عرض کیا کہ آپ اس سرخ رخساروں والی کا تذکرہ بہت ذیادہ کرتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے بہتر عورتیں اس کے بدلے میں عطا فرمائی ہیں…
(تو میری بات سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر عطا نہیں فرمایا..
وہ تو ایسی عورت تھی جو مجھ پر اس وقت ایمان لائی جب لوگ میرا انکار کر رہے تھے… میری اس وقت اس نے تصدیق کی جب لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے….اپنے مال سے اس نے میری اس وقت ڈھارس بندھائی جب لوگ مجھے محروم کر رہے تھے… اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے اولاد عطا نہیں فرمائی”.
( مسند أحمد ‘ مُسْنَدُ الصِّدِّيقَةِ عَائِشَةَ بِنْتِ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ‘ رقم الحدیث : 24864)
جس عظیم ہستی کے یہ فضائل و مناقب اور سیرت و کردار کی یہ چند خوبصورت جھلکیاں ہیں آج 10 رمضان المبارک اسی ہستی کا یوم وصال ہے….. ان سے سبق سیکھتے ہوئے ایک تو ہم خدمت و وفاداری دین متین میں چند قدم آگے بڑھیں اور ہماری خواتین ان کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنا لیں… اس گئے گزرے دور میں ان کے نقش قدم پر چلے بغیر کامیابی ناممکن ہے…. اور آج آپ کے لئے فاتحہ خوانی کا بھی ضرور اہتمام کریں….. اللہ تعالٰی آپ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں آپ سے فیض حاصل کرتے ہوئے عمل کی توفیق عطا فرمائے ‘ آمین ثم آمین یارب العالمین….
تحریر پڑھ کر ثواب کی نیت سے شیئر بھی کریں….
جزاک اللہ خیراً
دعا گو میاں حسیب مدنی گوجرانوالہ









