باگڑ سرگانہ لینڈ ریکارڈ سنٹر کی بندش—عوامی سہولت یا نئی مشکل؟

تحریر ۔منور اقبال تبسم

باگڑ سرگانہ کے لینڈ ریکارڈ سنٹر کو بند کرنے کا فیصلہ بظاہر ایک انتظامی اقدام ہے، مگر اس کے اثرات عام شہریوں کی زندگی پر واضح طور پر منفی انداز میں سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے وقت میں جب حکومتیں عوام کو سہولتیں فراہم کرنے کے دعوے کرتی ہیں، اس طرح کے فیصلے نہ صرف سوالات کو جنم دیتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچاتے ہیں۔
لینڈ ریکارڈ سنٹرز کا قیام بنیادی طور پر اس لیے عمل میں لایا گیا تھا تاکہ شہریوں کو زمینوں کے معاملات میں شفافیت اور آسانی فراہم کی جا سکے۔ باگڑ سرگانہ سنٹر بھی اسی مقصد کے تحت قائم کیا گیا تھا، جہاں مقامی لوگوں کو اپنے علاقے میں ہی فرد، انتقال اور رجسٹری جیسے امور کی سہولت میسر تھی۔ مگر اس سنٹر کی بندش نے ایک بار پھر لوگوں کو دور دراز کے دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کر دیا ہے۔
خاص طور پر کبیروالا رجسٹری برانچ پہلے ہی عوام کے شدید رش کا شکار رہتی ہے۔ باگڑ سرگانہ سنٹر کے فعال ہونے کی صورت میں اس بوجھ کو بآسانی تقسیم کیا جا سکتا تھا۔ اگر مکمل سنٹر چلانا ممکن نہ بھی تھا تو کم از کم عملے کی تعداد کم کرکے اسے جزوی طور پر فعال رکھا جا سکتا تھا۔ مزید یہ کہ نائب تحصیلدار عبدالحکیم کی مستقل ڈیوٹی یہاں لگا دی جاتی تو رجسٹری کے امور بھی مقامی سطح پر نمٹائے جا سکتے تھے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی بلکہ شہریوں کو سفری مشکلات سے بھی نجات ملتی۔
بدقسمتی سے ہمارے انتظامی فیصلوں میں اکثر زمینی حقائق کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ عوامی سہولت کے مراکز کو بند کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل میں اضافہ ہے۔ باگڑ سرگانہ کے عوام کو اب نہ صرف اضافی وقت صرف کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور دفاتر کے غیر ضروری چکر بھی ان کے لیے ایک نئی آزمائش بن چکے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حکام اس فیصلے پر نظرثانی کریں اور عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کریں۔ اگر مکمل بحالی ممکن نہ ہو تو کم از کم محدود پیمانے پر ہی سہی، اس سنٹر کو فعال کیا جائے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔
عوام کو سہولت دینا حکومت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات میں دھکیلنا۔ باگڑ سرگانہ لینڈ ریکارڈ سنٹر کی بندش ایک ایسا فیصلہ ہے جس پر جتنا جلد نظرثانی کی جائے، اتنا ہی بہتر ہوگا۔اور وفاقی وزیر بیرسٹر رضا حیات ہراج اور ممبر پنجاب اسمبلی سردار اکبر حیات ہراج اس پر خصوصی نوٹس لیں