کیاایران اورامریکہ کے درمیان کشیدگی مذاکرات سے ختم
ہو سکتی ہے؟
تحریر: اللہ نواز خان
allahnawazk012@gmail.com
اس وقت پوری دنیا کی نظریں مشرق وسطی پر لگی ہوئی ہیں،جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔عارضی جنگ بندی ہو چکی ہے اور یہ عارضی جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔مستقل جنگ بندی کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں مذاکرات ہوئے لیکن وہ مذاکرات ناکامی سے دوچار ہو گئے۔اب دوبارہ بین الاقوامی میڈیا مذاکرات کے بارے میں پیش گوئیاں کر رہا ہے۔ممکن ہے کہ مذاکرات کا دوبارہ دور جلدی شروع ہو جائے۔امید کی جانی چاہیے کہ اس دفعہ ہونے والے مذاکرات کامیاب ہوں گےاورمشرق وسطی میں امن قائم ہو جائے گا۔ہو سکتا ہے امریکی صدر پاکستان میں خودآجائیں،اگروہ خودآگئےتومذاکرات کی کامیابی کا امکان بڑھ جائے گا۔مذاکرات ناکام ہونے کی سب سے بڑی وجہ جوہری توانائی ہے۔ایران کے پاس جوہری توانائی کا ذخیرہ یورنیم کی صورت میں ہی موجود نہیں بلکہ افزدہ یورنیم بھی موجود ہے۔ایران پر الزامات لگ رہے ہیں کہ وہ ایٹمی صلاحیت حاصل کر چکا ہے یا حاصل کرنے اتنے قریب ہے کہ فوری طور پر فوجی مقاصد کے لیےاسے استعمال کیاجاسکے۔ایران کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ جوہری توانائی مثبت مقاصد کے لیے ہے،فوجی مقصد کے لیے اس سے استعمال نہیں کیا جائے گا۔یورنیم مسئلے پر اگر قابو پا لیا گیا تو دیگر مسائل حل ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔اب تو آبنائے ہرمز بھی بند کر دیا گیا ہے اور اس کی بندش سےعالمی معیشت شدید متاثر ہو گئی ہے۔تمام مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں اگر نیک نیتی سے عمل کیا جائے۔ایران کی کوشش یہی ہے کہ جنگ سے ہونے والے نقصانات کا بھی ازالہ کیا جائے اورآئندہ بھی کسی جنگی خطرے سے ممکنہ طور پر چھٹکارا پایا جا سکے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات بہت ہی پرانے ہیں۔1979 میں اختلافات شروع ہوئے جو آج تک ختم نہ ہو سکے۔2015 میں ایک معاہدہ ہو گیا تھا،لیکن بعد میں ٹرمپ نے اس معاہدےسے امریکہ کو نکال لیا تھا۔اب ایران ٹرمپ پر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں اور مستقل و مضبوط یقین دہانی چاہتا ہے۔یہ تو واضح ہو گیا ہے کہ جنگ میں ایران کو نقصان تو سخت پہنچا ہے لیکن اس کو مکمل طور پر شکست نہیں دی جا سکی بلکہ یہ دعوی بھی درست ہوگا کہ جزوی طور پر بھی ایران کو شکست نہیں ہوئی۔یہ علیحدہ موضوع ہے کہ ایران کو سخت نقصان پہنچ چکا ہے،جس کا ازالہ کئی سالوں تک ہوتا رہے گا۔ایران کی کوشش یہ بھی ہے کہ پابندیاں نرم کی جائیں تاکہ اس کی معیشت سنبھل سکے۔اگر پابندیاں ہٹا لی جاتی ہیں تو ایران کئی گنا زیادہ مضبوطی حاصل کر سکتا ہے۔صرف تیل اور گیس کی آزادانہ تجارت سے ہی بہت جلد ایران اپنےآپ کو سنبھال سکتا ہے۔پاکستان بھرپور کوشش کر رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات سے تنازعہ حل ہوجائے تاکہ مشرق وسطی میں امن کا قیام ممکن ہو سکے۔امریکہ اور ایران سمیت پوری دنیاکی طرف سے پاکستان کے اس مثبت عمل کی تحسین کی جا رہی ہے۔بلا شبہ ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی بہت بڑا عمل ہوگا۔جنگ بندی ہونے سے عالمی معیشت بہتر ہو جائے گی،کیونکہ آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا۔تیل اور گیس کی قیمتوں میں زبردست کمی ہو جائے گی،اگر آبنائے ہرمز مکمل طورپر یا لمبے عرصے کے لیے بند ہو جاتا ہے تو تیل وغیرہ کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو جائے گا۔صرف تیل کی قیمت میں اضافے کا مطلب ہوگا کہ عالمی طور پر بہت زیادہ مہنگائی بڑھ جائے۔مذکرات کامیاب ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ خطے میں امن قائم ہو جائےگا اوراس سے لاکھوں انسان قتل ہونے سے بچ جائیں گے۔مذاکرات اگر کامیاب نہیں ہوتے تو جنگ میں زیادہ شدت کا امکان ہے،بلکہ جس طرح ٹرمپ نے ڈیڈ لائن دی تھی کہ ایرانی تہذیب کو مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے گا۔ہو سکتا ہے مکمل طور پر ایران کو تباہ نہ کیاجا سکے لیکن تباہی بہت زیادہ ہو جائے گی۔یہ امکان بھی رد نہیں کیاجاسکتا کہ یہ جنگ ایران کی نسبت امریکہ کے لیے زیادہ خطرناک ثابت ہو۔
اس وقت ایران اپنی بقا اور امریکہ اپنی برتری کی جنگ لڑ رہا ہے۔یہ جنگ صرف ان دو ممالک کے درمیان نہیں علاقائی سطح تک بھی لڑی جا رہی ہے۔امریکہ بہت زیادہ دور ہے اور دورہونے کی وجہ سے کئی ممالک میں امریکی اڈےقائم کیے گئے ہیں۔ایران اب ان اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور اس سے امریکی اہداف کو نقصان پہنچنے کے علاوہ ان ممالک کو بھی پہنچ رہا ہے جہاں یہ امریکی اڈے موجود ہیں۔اگر یہ جنگ کافی عرصہ تک بند نہیں ہوتی تو بہت سے ممالک اس جنگ کا حصہ بن جائیں گے۔روس اور چین کی شمولیت کاامکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔چین ایران کو جدید جنگی ٹیکنالوجی مہیا کر سکتا ہے اور روس کی طرف سے امداد مل سکتی ہے،روس اور چین کا تعاون امریکہ کو سخت زک پہنچا سکتا ہے۔جس طرح کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا دور جلدی شروع ہو سکتا ہے،بہتر ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب ہو جائیں۔عالمی برادری دباؤ ڈال کر ان مذکرات کو کامیاب کرانے کی سنجیدہ کوششں کرے۔جوہری توانائی کے لیے کوئی قابل عمل حل نکالا جائے تاکہ جنگ بندی کی طرف بڑھا جا سکے۔توقع کی جانی چاہیے کہ اس دفعہ مذاکرات فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔بالفرض اگر مذاکرات ناکام بھی ہو جائیں توجنگ فوری طور پر شروع نہیں کی جائے بلکہ عارضی جنگ بندی کی مدت بڑھا دی جائے۔بہرحال مذاکرات ضرور کرنے چاہیے کیونکہ جب دونوں فریقین ایک میز پر بیٹھتے ہیں توتھوڑی مدت کے لیےسہی،قتل و غارت رک جاتی ہے۔ایران و امریکہ دونوں فریقین کو لچک دکھانی ہوگی۔پچھلے مذاکرات کی نسبت آنے والے دنوں میں ہونے والے مذاکرات زیادہ پر امید ہیں۔









