خدمت سے خدا ملتا ہے

مہر آصف بھاگت — عوام کی امید اور خدمت کا روشن چہرہ

تحریر عبدالستار

معاشرے میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پہچان صرف ان کے نام یا عہدے سے نہیں بلکہ ان کے کردار اور خدمت سے ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے آرام اور مفاد کو پسِ پشت ڈال کر عوام کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی باوقار اور باعمل لوگوں میں ایک نام مہر آصف بھاگت (حلقہ PP-130) کا بھی ہے، جنہوں نے اپنی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے عوام کے دلوں میں ایک خاص مقام بنایا ہے۔
ہم اکثر سنتے ہیں کہ سیاست صرف طاقت اور مفاد کا کھیل بن چکی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابھی بھی اس میدان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خدمت کو اپنی اصل طاقت سمجھتے ہیں۔ مہر آصف بھاگت انہی شخصیات میں شامل ہیں جو سیاست کو صرف اقتدار کا راستہ نہیں بلکہ خدمتِ خلق کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام عوام کے درمیان عزت اور اعتماد کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
میرا ذاتی طور پر ان کے ساتھ تقریباً دو سال سے تعلق ہے، اور اس عرصے میں میں نے انہیں ہمیشہ لوگوں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنتے اور حل کرنے کی کوشش کرتے دیکھا ہے۔ اکثر لوگ صرف تقریریں کرتے ہیں، لیکن کچھ لوگ عملی طور پر میدان میں اتر کر عوام کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مہر آصف بھاگت ان لوگوں میں سے ہیں جو مشکل وقت میں لوگوں کے لیے امید کی کرن بن جاتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں غریب اور مجبور طبقہ اکثر اپنی مشکلات کے حل کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کوئی شخص ان کی بات سنے، ان کے مسائل کو سمجھے اور ان کے لیے کھڑا ہو جائے تو وہ ان کے لیے ایک مسیحا سے کم نہیں ہوتا۔ مہر آصف بھاگت نے ہمیشہ اسی جذبے کے ساتھ لوگوں کی مدد کی ہے۔ چاہے کسی بیمار کی مدد ہو، کسی ضرورت مند کی داد رسی ہو یا علاقے کے اجتماعی مسائل کا حل—وہ ہمیشہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ عوام کے دلوں میں ان کے لیے ایک خاص محبت اور احترام پایا جاتا ہے۔ لوگ صرف اس لیے کسی شخصیت کو پسند نہیں کرتے کہ وہ سیاست میں ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ ان کے دکھ درد میں شریک ہوتی ہے۔ مہر آصف بھاگت نے اپنے کردار اور عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ اصل سیاست عوام کی خدمت ہے۔
آج کے دور میں جب لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ایسے میں اگر کوئی شخصیت لوگوں کے درمیان رہ کر ان کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھے تو وہ یقیناً معاشرے کے لیے ایک نعمت ہوتی ہے۔ ایسے لوگ معاشرے میں امید اور مثبت سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام انہیں صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں بلکہ اپنا ساتھی اور مددگار سمجھتے ہیں۔
میرے نزدیک کسی بھی انسان کی اصل پہچان اس کا کردار اور اس کی نیت ہوتی ہے۔ اگر نیت صاف ہو اور مقصد عوام کی خدمت ہو تو اللہ تعالیٰ بھی ایسے لوگوں کو عزت اور کامیابی عطا کرتا ہے۔ مہر آصف بھاگت کی شخصیت میں یہی خوبیاں نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں بھی خلوص ہے اور ان کے عمل میں بھی خدمت کا جذبہ جھلکتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ خدمتِ خلق کا راستہ آسان نہیں ہوتا۔ اس راستے میں تنقید بھی ہوتی ہے اور مشکلات بھی آتی ہیں، لیکن جو لوگ خلوص کے ساتھ یہ راستہ اختیار کرتے ہیں وہ کبھی ہمت نہیں ہارتے۔ وہ جانتے ہیں کہ اصل کامیابی لوگوں کے دل جیتنے میں ہے، نہ کہ صرف عہدوں اور طاقت میں۔
مہر آصف بھاگت نے ہمیشہ یہی ثابت کیا ہے کہ اگر نیت خدمت کی ہو تو عوام خود ہی آپ کو عزت اور مقام دے دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ان کا نام علاقے میں احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے اور لوگ انہیں امید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
بطور رائٹر اور سماجی کارکن، میں نے ہمیشہ ایسے لوگوں کو سراہنے کی کوشش کی ہے جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ جب ہم اچھے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو اس سے معاشرے میں خدمت اور محبت کا جذبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔
میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مہر آصف بھاگت کو صحت، عزت اور مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور انہیں اسی طرح عوام کی خدمت کرنے کی توفیق دے۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ جو انسان اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے عزت اور مقام عطا کرتا ہے۔
آخر میں میں یہی کہنا چاہوں گا کہ معاشرے کو ایسے لوگوں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے جو صرف باتیں نہیں بلکہ عملی طور پر خدمت کا راستہ اختیار کریں۔ مہر آصف بھاگت کی شخصیت اسی سوچ اور جذبے کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں مزید کامیابیاں عطا فرمائے اور انہیں ہمیشہ عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنے والا بنائے۔
آمین یا رب العالمین۔
✍️ تحریر: عبدالستار
چیف ایڈیٹر: نظامِ پاکستان