آرگن ویلڈنگ ڈپلومہ، روزگار کی تلاش اور بچھڑوں کی یادیں
رپورٹ،مظہر حسین باٹی

کچھ سال قبل بے روزگاری نے زندگی کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد نہ تو کوئی مناسب نوکری ملی اور نہ ہی سخت محنت مزدوری میرے بس کی بات تھی۔ یوں وقت کا پہیہ چلتا رہا اور میں گھر کے کام کاج کے ساتھ ساتھ کھیتوں اور مویشیوں میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتا رہا۔ دن، مہینے اور سال گزرتے جا رہے تھے مگر روزگار کی تلاش تاحال ادھوری تھی، حالانکہ سرکاری اور نجی ملازمتوں کے لیے متعدد کوششیں کر چکا تھا۔
ایک روز میں چند بے روزگار دوستوں کے ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھا گپ شپ کر رہا تھا کہ ایک دوست نے اچانک تجویز دی:
“کیوں نہ ہم سب ساہیوال جا کر ایک ادارے میں داخلہ لے لیں، جہاں معمولی ماہانہ فیس میں تقریباً تین ماہ کا آرگن ویلڈنگ کا ڈپلومہ کروایا جاتا ہے؟ اس ہنر کی بیرونِ ملک انڈسٹریز میں بہت مانگ ہے، اور اس کے ذریعے ہم بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔”
دوست کی یہ بات سب کو پسند آئی۔ باہمی مشاورت کے بعد طے پایا کہ دو سے تین روز میں ساہیوال روانہ ہوں گے۔ چنانچہ تیاری مکمل کر کے ہم پانچوں دوست ایئرکنڈیشنر بس کے ذریعے ساہیوال کی طرف روانہ ہو گئے۔ چند گھنٹوں کے سفر کے بعد ہم “دو شیراں والے پمپ” کے قریب اترے اور وہاں سے پیدل متعلقہ ادارے کی جانب روانہ ہوئے۔ادارے پہنچ کر ہم نے اپنا سامان رکھا اور مین آفس میں جا کر داخلہ لیا۔ ادارے کے مالک نے انٹرویو کے بعد ہمیں داخلہ دے دیا، فیس طے ہوئی اور یہ یقین دہانی بھی کروائی گئی کہ ادارہ گورنمنٹ رجسٹرڈ ہے اور ڈپلومہ مکمل ہونے پر ملازمت کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے۔
ہم نے باقاعدہ تربیت کا آغاز کر دیا۔ روزانہ عملی ٹریننگ کے ساتھ ساتھ تھیوری کی کتاب بھی پڑھتے۔ کالج کے سامنے لاہور روڈ، سڑک کے پار بلند سفیدے کے درخت، قریب ہی ریلوے لائن، اور عقب میں وسیع سپورٹس گراؤنڈ—یہ سب مناظر ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے تھے۔ فارغ وقت میں کبھی ریلوے ٹریک پر چہل قدمی کرتے تو کبھی گراؤنڈ میں کھیلوں کی سرگرمیاں دیکھتے۔“دو شیراں والے پمپ” اپنی منفرد پہچان رکھتا تھا، جہاں مسجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد واپسی پر بڑے سائن بورڈ اور میدان میں نصب پتھر کے دو عظیم الشان شیر دیکھنے کو ملتے۔کالج میں اوکاڑہ کے جٹ، گجر اور آرائیں طلبہ بھی موجود تھے، جن کی بدمعاشی کافی مشہور تھی، مگر ایک دن ہمارے علاقے کے منتخب نمائندوں کی آمد کے بعد ان کا رویہ بدل گیا اور وہ ہم سے فاصلہ رکھنے لگے۔
وقت گزرتا گیا۔ ایک ماہ بعد ہمیں ادارے کی حقیقت کا اندازہ ہونا شروع ہوا کہ یہ غیر قانونی ہے اور رجسٹرڈ بھی نہیں۔ انتظامیہ صرف فیسیں وصول کر رہی تھی۔ ہم نے طے کیا کہ دو ماہ مکمل ہونے کے بعد یہاں سے رخصت ہو جائیں گے۔ چنانچہ دو ماہ بعد ہم سب نے سامان سمیٹا اور اس ادارے کو خیرباد کہہ دیا۔کافی عرصہ گزرنے کے بعد قسمت نے ایک نیا موڑ لیا۔ میں نے ملتان میں آرگن ویلڈنگ کا ٹیسٹ پاس کیا اور سندھ کے شہر ڈہرکی میں اینگرو پلانٹ میں ملازمت مل گئی۔ میری ڈیوٹی نائٹ شفٹ میں تھی—دن کو آرام اور رات کو کام۔ایک رات میں تیسرے فلور پر ساٹھ انچ کے سٹین لیس سٹیل پائپ پر آرگن ویلڈنگ کرنے جا رہا تھا کہ پہلے فلور پر کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور نام لے کر پکارا۔ نیم اندھیرے میں اسے پہچاننا مشکل تھا۔ اتنے میں اوپر سے ہیلپر کی آواز آئی کہ “سر جلدی آئیں، سب کچھ تیار ہے!اسی لمحے اس شخص نے مسکراتے ہوئے اپنا تعارف کروایا:“میں سلمان گجر ہوں، اوکاڑہ سے… ہم ساہیوال میں اکٹھے ڈپلومہ کرتے تھے۔”یہ سن کر میں چونک گیا۔ ہم ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے۔ اس لمحے احساس ہوا کہ زندگی کے سفر میں بچھڑنے والے لوگ اگر زندہ ہوں تو کسی نہ کسی موڑ پر دوبارہ مل ہی جاتے ہیں۔
لیکن زندگی کا ایک تلخ پہلو بھی جلد سامنے آیا۔ چند ماہ بعد میرا ہیلپر، جو چھٹی پر گھر گیا ہوا تھا، دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔ اس کے معصوم بچوں کا خیال آج بھی دل کو رنجیدہ کر دیتا ہے۔ڈہرکی کے اینگرو پلانٹ میں میرا تقریباً ڈیڑھ سال کا عرصہ گزرا۔ اس دوران پیش آنے والے تجربات اور مشکلات کی داستان ان شاء اللہ اگلی قسط میں بیان کروں گا کہ کس طرح پلانٹ میں ایام گزارے اور سندھی پنجابی کے کیسے مسائل پیدا ہوئے۔
جاری ہے
@highlight