بیانیہ، حقیقت اور صحافت کی آزمائش
تحریر ۔منور اقبال تبسم
گزشتہ روز کوٹ اسلام میں پیش آنے والی ڈکیتی کی واردات نے جہاں علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا، وہیں اس کے بعد سوشل میڈیا پر چلنے والی لائیو کوریج اور ملزمان کی گرفتاری نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا۔ واقعہ اپنی جگہ ایک سنگین جرم تھا، مگر اس سے زیادہ افسوسناک وہ بیانیہ ہے جو بعد ازاں کچھ حلقوں کی جانب سے ترتیب دیا گیا۔
گرفتاری کے بعد ان کے رشتہ داروں، ہمدردوں اور بعض عناصر نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ ڈکیتی نہیں بلکہ لین دین کا معاملہ تھا، اور مزید یہ کہ صحافیوں کے شور و غل اور دباؤ کی وجہ سے سی سی ڈی نے ملزمان کو مار دیا۔ اس بیانیے کو اس قدر منظم انداز میں پھیلایا گیا کہ حقیقت کو پس منظر میں دھکیلنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔
حالانکہ اس واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں لوگ اس کے چشم دید گواہ ہیں، اور لائیو کوریج نے بھی اس واقعے کو لمحہ بہ لمحہ عوام کے سامنے رکھا۔ ایسے میں اس واقعے کو محض ایک تنازعہ قرار دینا یا صحافیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ صرف حقائق سے انحراف ہے بلکہ ایک خطرناک رجحان کی عکاسی بھی کرتا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ جرم کس نے کروایا اور اس کے پیچھے کیا محرکات تھے، یہ ایک الگ کہانی ہے جس کی تفتیش ہونی چاہیے۔ مگر اس سارے عمل میں صحافت کو نشانہ بنانا ایک سوالیہ نشان ہے۔ میڈیا ہر واردات پر آواز اٹھاتا ہے، یہ اس کی ذمہ داری ہے۔ مگر جب یہی آواز کسی کے مفادات کے خلاف جائے تو اسے دبانے یا بدنام کرنے کی کوشش کیوں کی جاتی ہے؟
افسوس کا مقام یہ ہے کہ تکلیف نہ تو ان عناصر سے ہے جو جرم میں ملوث ہیں، نہ ان اداروں سے ہے جو کارروائی کرتے ہیں، بلکہ نشانہ صرف وہ لوگ بن رہے ہیں جو سچ کو سامنے لاتے ہیں۔ گزشتہ شب باگڑ موڑ پر پیش آنے والی ڈکیتی کے بعد بھی یہی روش دہرائی گئی، اور کوٹ اسلام کے صحافیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ کیوں خاموش ہیں۔ اسی طرح حویلی پل پر فائرنگ کے واقعے میں بھی پریس کلب کو بلاجواز تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
حقیقت یہ ہے کہ صحافی نہ کبھی خاموش تھے اور نہ ہیں۔ وہی آواز اٹھاتے ہیں، وہی سوال کرتے ہیں، اور وہی معاشرے کے دکھ درد کو اجاگر کرتے ہیں۔ مگر جب سچ بولنا جرم بن جائے اور جھوٹ کو بیانیہ بنا کر پیش کیا جائے تو یہ صرف صحافت نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہوتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حقائق اور پروپیگنڈے میں فرق کریں، سچ کا ساتھ دیں اور ان آوازوں کو کمزور نہ کریں جو ہماری نمائندگی کرتی ہیں۔ کیونکہ اگر آج سچ بولنے والوں کو ہی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا تو کل انصاف کی آواز بھی مدھم پڑ جائے گی۔









