خلافت فاروقی کے کارنامے
(قسط نمبر 27) تحریر و پیشکش محمد نوید

ذمیوں_کا_خیال_اورملکی_انتظامات_میں_انکی_رائے_لینا
====================================
پیشکش : محمدنوید
#بندوبست_مال_گزاری_میں_ذمیوں_کا_خیال

مال گزاری میں جو مشخص کی گئی وہ نہایت نرم اور ہلکی پھلکی تھی۔ اس پر بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خیال ہوا کہ کہیں ان پر سختی تو نہیں کی گئی۔ چنانچہ مرتے مرتے بھی یہ خیال نہ گیا۔ ہر سال یہ معمول تھا کہ جب عراق کا خراج آتا تو دس شخص کوفہ اور دس شخص بصرہ سے طلب کئے جاتے تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان سے چار دفعہ بتاکید قسم لیتے تھے کہ مال گزاری کے وصول کرنے میں کچھ سختی تو نہیں کی گئی ہے (کتاب الخراج)۔

وفات سے دو تین دن پہلے کا واقعہ ہے کہ افسران بندوبست کو بلایا اور تشخیص جمع کے متعلق ان سے گفتگو کی۔ اور بار بار پوچھتے رہے کہ جمع سخت تو نہیں مقرر کی گئی۔
کتاب الخراج صفحہ 21 میں ہے:

قال شھدت عمر بن الخطاب قبل ان یصاب بثلاث اربع واقفاً علی حذیفۃ بن الیمان عثمان بن حنیف و ھو یقول لھما العلکما حملتما الارض ملا تطیق۔

*ذمیوں سے ملکی انتظامات میں مشورہ:*

ایک بڑا حق جو رعایا کو حاصل ہو سکتا ہے یہ ہے کہ انتظامات ملکی میں ان کو حصہ دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ ان انتظامات میں جن کا تعلق ذمیوں سے ہوتا ذمیوں کے مشورے کے بغیر کام نہیں کرتے تھے، عراق کا بندوبست جب پیش آیا تو عجمی رئیسوں کو مدینہ میں بلا کر مال گزاری کے حالات دریافت کئے۔ مصر میں جو انتظام کیا اس میں مقوقس سے اکثر رائے لی۔ (مقریزی جلد اول صفحہ 74)۔

جان و مال و جائیداد کے متعلق جو حقوق ذمیوں کو دیئے گئے تھے وہ صرف زبانی نہ تھے بلکہ نہایت مضبوطی کے ساتھ ان کی پابندی کی جاتی تھی۔ شام کے ایک کاشتکار نے شکایت کی کہ اہل فوج نے اس کی زراعت کو پامال کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال سے 10 ہزار درہم اس کو معاوضہ دلوایا۔ (کتاب الراج صفحہ 68)۔

اضلاع کے حکام کو تاکیدی فرمان بھیجتے تھے کہ ذمیوں پر کسی طرح کی زیادتی نہ ہونے پائے۔ خود بالمشافہ لوگوں کو اس کی تاکید کرتے رہتے تھے۔ قاضی ابو یوسف نے کتاب الخراج باب الجزیہ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ” حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب شام سے واپس آ رہے تھے تو چند آدمیوں کو دیکھا کہ دھوپ میں کھڑے ہیں اور ان کے سر پر تیل ڈالا جا رہا ہے۔ لوگوں سے پوچھا کہ کیا ماجرا ہے ؟ معلوم ہوا کہ ان لوگوں نے جزیہ نہیں ادا کیا اس لیے ان کو سزا دی جاتی ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت کیا کہ آخر ان کا کیا عذر ہے ؟ لوگوں نے کہا کہ ” نا داری “۔ فرمایا کہ چھوڑ دو، اور ان کو تکلیف نہ دو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا ہے:
لا تعذبوا الناس فان الذین یعذوبون الناس فی الدین یعذبھم اللہ یوم القیامۃ
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ہے کہ ” لوگوں کو تکلیف نہ دو، جو لوگ دنیا میں لوگوں کو عذاب پہنچاتے ہیں خدا قیامت میں ان کو عذاب پہنچائے گا۔ ”

*ذمیوں کی شرائط کا ایفاء:*

حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شام کی فتح کے بعد جو فرمان لکھا اس میں یہ الفاظ تھے۔
وامنع المسلمین من ظلمھم ولا ضراربھم و اکل اموالھم بحلھا و وف لھم بشرطھم الذی شرطت لھم فی جمیع ما اعطیتھم (کتاب الخراجک صفحہ 82)۔

“مسلمانوں کو منع کرنا کہ ذمیوں پر ظلم نہ کرنے پائیں، نہ ان کا مال بے وجہ کھانے پائیں اور جس قدر شرطیں تم نے ان سے کی ہیں سب وفا کرو۔ ”

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وفات سے قبل خلیفہ ہونے والے خلیفہ کے لیے ایک مفصل وصیت فرمائی تھی۔ اس وصیت نامہ کو امام بخاری، بیہقی، جاحظ اور بہت سے مؤرخین نے نقل کیا ہے۔ اس کا اخیر فقرہ یہ ہے۔

و اوصیہ بذمۃ اللہ و ذمۃ رسولہ ان یوفی لھم بعھدھم و ان یقاتل من ورائھم و ان لا یکفوا فوق طاقتھم۔ (صحیح بخاری صفحہ 187 مطبوعہ میرٹھ)۔

“یعنی میں ان لوگوں کے حق میں وصیت کرتا ہوں جن کو خدا اور رسول کا ذمہ دیا گیا ہے (یعنی ذمی) کہ ان سے جو عہد ہے وہ پورا کیا جائے اور ان کی حمایت میں لڑا جائے اور ان کو ان کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہ دی جائے۔ ”

اس سے زیادہ کیا ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ وفات کے وقت بھی ذمیوں کو نہ بھولے۔

*ذمیوں کو مذہبی آزادی:*
================

مذہبی امور میں ذمیوں کو پوری آزادی تھی۔ وہ ہر قسم کی رسوم مذہبی ادا کرتے تھے۔ ان کے پیشوایان مذہبی کو جو مذہبی اختیارات حاصل تھے بالکل برقرار رکھے گئے تھے۔ مصر میں اسکندریہ کا پیٹر یارک بنیامین تیرہ برس تک رومیوں کے ڈر سے ادھر ادھر مارا مارا پھرا۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے جب مصر فتح کیا، تو سنہ 20 ہجری میں اس کو تحریری امان لکھ کر بھیجی۔ وہ نہایت ممنون ہو کر آیا۔ اور پیٹر یارک کی کرسی دوبارہ اس کو نصیب ہوئی۔ چنانچہ علامہ مقریزی نے اپنی کتاب (جلد اول صفحہ 492) میں واقعہ کی پوری تفصیل لکھی ہے۔

معاہدات میں اور امور کے ساتھ مذہبی آزادی کا بھی حق التزام کے ساتھ درج کیا جاتا تھا۔ چنانچہ بعض معاہدات کے اصلی الفاظ ہم اس موقع پر نقل کرتے ہیں۔

حضرت حذیفہ بن الیمانؓ نے ماہ دینار والوں کو جو تحریر لکھی تھی اس میں یہ الفاظ تھے۔

لا یغیرون عن ملۃ و لا یحال بینھم و بین شرائعھم۔ (طبری صفحہ 2633)۔

“ان کا مذہب نہ بدلا جائے گا اور ان کے مذہبی امور میں کچھ دست اندازی نہ کی جائے گی۔ ”

جرجان کی فتح کے وقت یہ معاہدہ لکھا گیا۔

لھم الامان علی انفسھم و اموالھم و ملکھم و شرائعھم ولا تغیر شئی من ذلگ۔ (طبری صفحہ 2658)۔

” ان کے جان و مال اور مذہب و شریعت کو امن ہے اور اس میں سے کسی شے میں تغیر نہ کیا جائے گا۔ ”

آذر بائیجان کے معاہدہ میں یہ تصریح تھی۔

الامان علی انفسھم و اموالھم و شرائعھم۔ (طبری صفحہ 2662)۔

“جان مال، مذہب اور شریعت کو امان ہے۔ ”

موقان کے معاہدہ میں یہ الفاظ تھے۔

الامان علی اموالھم و انفسھم و ملتھم و شرآئعھم۔

“جان، مال، مذہب اور شریعت کو امان ہے۔ ”

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسلام کے اشاعت کی اگرچہ نہایت کوشش کرتے تھے اور منصب خلافت کے لحاظ سے ان کا یہ فرض بھی تھا لیکن وہیں تک جہاں تک وعظ اور پند کے ذریعے سے ممکن تھا ورنہ یہ خیال وہ ہمیشہ ظاہر کر دیا کرتے تھے کہ مذہب کے قبول کرنے پر کوئی شخص مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ استق ان کا ایک عیسائی غلام تھا، اس کو ہمیشہ اسلام قبول کرنے کی ترغیب دلاتے تھے۔ لیکن جب اس نے انکار کیا تو فرمایا لا اکراہ فی الدین یعنی مذہب میں زبردستی نہیں ہے۔ (کنز العمال بحوالہ طبقات ابن سعد جلد پنجم صفحہ 249)۔

*ذمیوں کی عزت کا خیال:*

ذمیوں کی عزت و آبرو کا اسی قدر استحفاظ تھا جس قدر مسلمان کی عزت و ناموس کی، ان کی نسبت کسی قسم کی تحقیر کا لفظ استعمال کرنا نہایت ناپسندیدہ خیال کیا جاتا تھا۔ عمیر بن سعد جو حمص کے حاکم تھے اور زہد و تقدس و ترک دنیا میں تمام عہدہ داران خلافت میں کوئی ان کا ہمسر نہ تھا۔ ایک دفعہ ان کے منہ سے ایک ذمی کی شان میں یہ لفظ نکل گیا۔ اخزاک اللہ یعنی خدا تجھ کو رسوا کرے۔ اس پر ان کو اس قدر ندامت اور تاسف ہوا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر نوکری سے استعفیٰ دے دیا اور کہا کہ اس نوکری کی بدولت مجھ سے یہ حرکت صادر ہوئی۔ (دیکھو ازالۃ الخفاٗ صفحہ 203)۔

*ملکی حقوق میں مسلمان اور ذمیوں کی ہمسری:*
================================

حقیقت یہ ہے کہ واقعات سے جو نتیجہ استنباط کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ملکی حقوق کے لحاظ سے ذمیوں اور مسلمانوں میں کوئی تمیز نہیں رکھی تھی۔ کوئی مسلمان اگر ذمی کو قتل کرتا تو بے دریغ اس کے قصاص میں قتل کر دیا جاتا تھا۔
مسلمان اگر کسی ذمی سے سخت کلامی کرتے تھے تو پاداش کے مستحق ہوتے تھے۔ ذمیوں سے جزیہ اور عشور کے سوا کسی قسم کا ٹیکس نہیں لیا جاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں سے زکوٰۃ وصول کی جاتی تھی۔ جس کی مقدار دونوں سے زیادہ تھی۔ اس کے سوا عشور مسلمانوں سے بھی وصول کیا جاتا۔ البتہ اس کی شرح بمقابلہ ذمیوں کے کم تھی۔ بیت المال سے والنٹیروں کو گھر بیٹھے جو تنخواہ ملتی تھی ذمی اس میں بھی برابر کے شریک تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ (اور درحقیقت صرف اسی ایک مثال سے اس بحث کا فیصلہ ہو سکتا ہے ) کہ یہ جو قاعدہ تھا کہ جو مسلمان اپاہج اور ضعیف ہو جاتا تھا اور محنت و مزدوری سے معاش پیدا نہیں کر سکتا تھا، بیت المال سے اس کا وظیفہ مقرر ہو جاتا تھا۔ اسی قسم کی بلکہ اس سے زیادہ فیاضانہ رعایت ذمیوں کے ساتھ بھی تھی۔ اول اول یہ قاعدہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں مقرر ہوا۔ چنانچہ حضرت خالد بن الولید نے جبرہ کی فتح میں جو معاہدہ لکھا، اس میں یہ الفاظ تھے۔

وجعلت لھم ایما شیخ ضعف عن العمل او اصابہ افۃ من الافات او کان غنیا فافتقر و صار اھل دینہ یتصدقون علیہ و طرحت جزیتہ و عیل من بیت مال المسلمین و عیالہ مااقامو ابدار امجرۃ و دار الاسلام ولو ذھبوا فلیس علی المسلمین النفقۃ علی عیالھم (کتاب الخراج صفحہ 85)۔

*”اور میں نے ان کو یہ حق دیا کہ اگر کوئی بوڑھا شخص کام کرنے سے معذور ہو جائے یا اس پر کوئی آفت آئے یا پہلے دولت مند تھا پھر غریب ہو گیا اور اس وجہ سے اس کے ہم مذہب اس کو خیرات دینے لگیں تو اس کا جزیہ موقوف کر دیا جائے گا۔ اور اس کو اور اس کی اولاد کو مسلمانوں کے بیت المال سے نفقہ دیا جائے گا جب تک وہ مسلمانوں کے ملک میں رہے لیکن اگر وہ غیر ملک میں چلا جائے تو مسلمانوں پر اس کا نفقہ واجب نہ ہو گا۔ “*

یہ قاعدہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں بھی قائم رہا بلکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے قرآن مجید کی آیت سے مستند کر دیا یعنی بیت المال کے داروغہ کو لکھ بھیجا کہ قرآن مجید کی آیت ” انما الصدقات للفقرء والمسکین” (صدقہ اور خیرات فقیروں اور مسکینوں کے لیے ہے ) اس میں فقراء کے لفظ سے مسلمان اور مسکین کے لفظ سے اہل کتاب یہودی اور عیسائی مراد ہیں۔

اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک پیر کہن سال کو بھیک مانگتے دیکھا۔ پوچھا کہ کیوں بھیک مانگتا ہے ؟
اس نے کہا ” مجھ پر جزیہ لگایا گیا ہے اور مجھ کو ادا کرنے کا مقدور نہیں۔ ”
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو گھر پر لائے اور کچھ دے کر بیت المال کے داروغہ کو کہلا بھیجا کہ اس قسم کے معذوروں کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کر دیا جائے۔ اسی واقعہ میں آیت مذکورہ بالا کا حوالہ دیا۔ اور یہ بھی فرمایا کہ:

*” واللہ یہ انصاف کی بات نہیں کہ ان لوگوں کی جوانی سے ہم متمتع ہوں اور بڑھاپے میں ان کو نکال دیں۔ ” (کتاب الخراج صفحہ 72)۔*

*سازش اور بغاوت کی حالت میں ذمیوں کے ساتھ سلوک:*

ایک خاص بات جو سب سے بڑھ کر لحاظ کے قابل ہے یہ ہے کہ ذمیوں نے اگر کبھی سازش یا بغاوت کی تب بھی ان کے ساتھ مراعات کو ملحوظ رکھا گیا۔ آج کل حکومتوں کو تہذیب و ترقی کا دعوی ہے۔ رعایا کے ساتھ ان کی تمام عنایت اسی وقت تک ہے جب تک ان کی طرف سے کوئی پولیٹیکل شبہ پیدا نہ ہو۔ ورنہ دفعتاً وہ تمام مہربانی غضب اور قہر میں بدل جاتی ہے اور ایسا خونخوار اور پُرغیظ انتقام لیا جاتا ہے کہ وحشی قومیں بھی اس سے کچھ زیادہ نہیں کر سکتیں۔ برخلاف اس کے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قدم کسی حالت میں جادہ انصاف سے ذرا نہیں ہٹا۔

شام کی آخری سرحد پر ایک شہر تھا جس کا نام عربسوس تھا اور جس کی سرحد ایشیائے کوچک سے ملی ہوئی تھی۔ شام جب فتح ہوا تو یہ شہر بھی فتح ہوا اور صلح کا معاہدہ ہو گیا۔ لیکن یہاں کے لوگ درپردہ رومیوں سے سازش رکھتے تھے اور ادھر کی خبریں ان کو پہنچاتے رہتے تھے۔ عمیر بن سعد وہاں کے حاکم نے حضرت عمر کو اس کی اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی اس کمینہ حرکت کا جو انتقام لیا وہ یہ تھا کہ عمیر بن سعد کو لکھا کہ جس قدر ان کی جائیداد، زمین، مویشی اور اسباب ہے سب شمار کر کے ایک ایک چیز کی دوچند قیمت دے دو۔ اور ان سے کہو اور کہیں چلے جاؤ۔ اگر اس پر راضی نہ ہوں تو ان کو ایک برس کی مہلت دو۔ اور اس کے بعد جلاوطن کر دو۔ چنانچہ جب وہ اپنی شرارت سے باز نہ آنے تو اس حکم کی تعمیل کی گئی۔ (فتوح البلدان بلاذری صفحہ 157)۔ کیا آج کل کوئی قوم اس درگزر اور عفو و مسامحت کی کوئی نظیر دکھلا سکتی ہے ؟

ذمیوں کے ساتھ جو لطف و مراعات کی گئی تھی اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ ذمیوں نے ہر موقع پر اپنی ہم مذہب سلطنتوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کا ساتھ دیا۔ ذمی ہی تھے جو مسلمانوں کے لیے رسد بہم پہنچاتے تھے۔ لشکر گاہ میں مینا بازار لگاتے تھے۔ اپنے اہتمام اور صرف سے سڑک اور پل تیار کراتے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمانوں کے لئے جاسوسی اور خبر رسانی کرتے تھے یعنی دشمنوں کے ہر قسم کے راز مسلمانوں سے آ کر کہتے تھے۔ حالانکہ یہ دشمن انہی کے ہم مذہب عیسائی یا پارسی تھے۔ ذمیوں کو مسلمانوں کے حسن سلوک کے وجہ سے جو اخلاص پیدا ہو گیا تھا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جنگ یرموک کے پیش آنے کے وقت جب مسلمان شہر حمص سے نکلے تو یہودیوں نے توریت ہاتھ میں لے کر کہا، کہ جب تک ہم زندہ ہیں کبھی رومی یہاں نہ آنے پائیں گے۔ عیسائیوں نے نہایت حسرت سے کہا کہ ” خدا کی قسم تم رومیوں کی نسبت کہیں بڑھ کر ہم کو محبوب ہو۔ ”

جاری ہے…