خلافت فاروقی کے کارنامے
قسط نمبر 26 تحریر و پیشکش محمد نوید
#قمری_کیلنڈر_کی_حکمت
================
*قرآن پاک میں قمری مہینوں کا ذکر:*
قمری مہینوں کا ذکر قرآن پاک میں صراحةً موجود ہے، جیسے۔ ﴿شھر رمضان الذی …﴾ اس آیت میں قمری سال کے ایک ماہ رمضان کا نام صراحتاً ذکر ہے یا ضمناً ذکر ہے۔ جیسے ﴿الحج اشھر معلومات ﴾البقرة۔ اس میں اشہر سے مراد شوال ، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ ہیں۔ ایک دوسری آیت میں اسلامی سال کے سارے مہینوں کا ذکر ضمناً آیا ہے وہ آیت یہ ہے :﴿ان عدة الشھور اثنا عندالله عشر شھرا﴾، یقینا شمار مہینوں کا کتب الہٰی میں الله کے نزدیک بارہ مہینے ہیں۔ اس آیت میں جن بارہ مہینوں کا ذکر آتا ہے ان سے مراد قمری مہینے ہیں ،اس کی دلیل بھی یہی آیت ہے، وہ اس طرح کہ ان بارہ میں سے جو چار ماہ ادب کے لیے خاص کر دیے گئے ہیں، وہ ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم او ررجب ہیں۔ جنہیں ” اشھر حرم“ کہا جاتا ہے ۔ جب یہ چار ماہ قمری کے ہیں تو باقی آٹھ ماہ بھی یقینا قمری کے ہوں گے، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قمری مہینوں کی ترتیب اور ان کے اسماء جو اسلام میں معروف ہیں یہ انسانوں کی بنائی ہوئی اصطلاح نہیں ہے، بلکہ رب العالمین نے جس روز زمین وآسمان کو پیدا کیا اسی دن سے یہ ترتیب اور یہ نام، ہر ماہ کے ساتھ خاص خاص احکام متعین فرما دیے ہیں، جس کی ”تعبیر دین قیم“ کے ساتھ فرمائی ہے تو قمری تقویم الله تعالیٰ کی پسندیدہ اسلامی تقویم ہے۔
’’شریعتِ اسلام نے چاند کے حساب کو اس لئے اختیار فرمایا کہ اس کو ہر آنکھوں والا افق پر دیکھ کر معلوم کر سکتا ہے‘ عالم‘ جاہل‘ دیہاتی‘ جزیروں‘ پہاڑوں کے رہنے والے جنگل کے باسی سب کو اس کا علم آسان ہے ‘ بخلاف شمسی حساب کے کہ وہ آلاتِ ر صدیہ اور قواعدِریاضیہ پر موقوف ہے‘ جس کو ہر شخص آسانی سے معلوم نہیں کرسکتا۔
مروجہ تقویم میں سے جو فوائد قمری تقویم میں ہیں وہ کسی اور تقویم میں نہیں ہیں، نہ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہ رب کائنات نے روز مرہ کے کام کاج اور لین دین کی آسانی وسہولت کی خاطر چاند کا نظام اس طرح بنایا جس سے ہر انسان ہر علاقے میں آسانی سے تاریخ کا تعین کر سکتا ہے۔ مثلاً مغرب کی طرف سے جب چاند پتلا نظر آتا ہے تو ہر انسان ( عالم، جاہل، شہری ، دہقانی) معلوم کرسکتا ہے کہ مہینہ کی پہلی تاریخ ہے، اسی طرح چاند جب بالکل مکمل ہو تو اس سے چودھویں تاریخ کا تعین کرسکتا ہے، اسی طرح جب مشرق کی جانب سے چاند باریک طلوع ہوتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ ستائیس یا اٹھائیس تاریخ ہے، اسی طرح روز روز واضح طور پر چاند کی صورت تبدیل ہو جاتی ہے، جس سے ہر انسان معمولی تدبر سے تاریخ کا تعین کرسکتا ہے۔ بخلاف شمسی تقویم (کیلنڈر) کے کہ اس سے تاریخوں کا پتہ نہیں چل سکتا، مثلاً دسمبر کی پندرہ تاریخ ہو تو کوئی آدمی آفتاب دیکھ کر یہ معلوم نہیں کر سکتا کہ آج پندرہ تاریخ ہے، نہ اس کی ہیئت وصورت میں نمایاں تبدیلی آتی ہے، جس کو دیکھ کر تاریخ کا تعین ہو سکے، نیز شمسی تاریخ آلات رصدیہ اور قواعد ریاضیہ پر موقوف ہے ،جس کو ہر شخص آسانی سے معلوم نہیں کرسکتا۔ اس لیے الله تعالیٰ نے احکام وعبادات کا مدار قمری حساب پر رکھا ہے ، قرآن کہتا ہے ﴿یسئلونک عن الاھلة قل ھی مواقیت للناس والحج﴾․ ( البقرہ:189)
پھر عبادات کے معاملہ میں تو قمری حساب کو بطورِ فرض متعین کردیا اور عام معاملاتِ تجارت وغیرہ میں بھی اسی کو پسند کیا‘ جو عبادتِ اسلامی کا ذریعہ ہے اور ایک طرح کا اسلامی شعار ہے‘ اگرچہ شمسی حساب کو بھی ناجائز قرار نہیں دیا۔ شرط یہ ہے کہ اس کا رواج اتنا عام نہ ہوجائے کہ کرنے میں عبادت روزہ و حج وغیرہ میں خلل لازم آتا ہے‘ جیسا کہ اس زمانہ میں عام دفتروں اور کاروباری اداروں بلکہ نجی اور شخصی مکاتبات (خط و کتابت) میں بھی شمسی حساب کا ایسا رواج ہوگیا ہے کہ بہت سے لوگوں کو اسلامی مہینوں کے نام بھی پوری طرح یاد نہیں رہتے‘ یہ شرعی حیثیت کے علاوہ غیرت قومی اور ملی کا بھی دیوالیہ پن ہے‘جبکہ ماضی میں الحمدللہ حضرات و خواتین محترم صرف ہلالی مہینوں ہی کو ازبر یاد رکھتے تھے اور اس طرح سے ان مہینوں کے نام کہا کرتے تھے اور آج بھی انہیں اسی طرح نام یاد آتے ہیں۔ محرم ، تیرہ تیزی (صفر)، بارہ وفات (ربیع الاول) ، گیارھویں (ربیع الآخر) ، مدار (جمادی الاولیٰ) ، حسین شاہ ولی (جمادی الاخریٰ) ، رجب ، شعبان ، رمضان ، شوال ، بندہ نواز (ذوالقعدہ) ، بقرعید (ذوالحجہ) ۔
اگر دفتری معاملات میں جن کا تعلق غیر مسلموں سے بھی ہے‘ ان میں صرف شمسی حساب رکھیں ‘ باقی نجی خط و کتابت اور روز مرہ کی ضروریات میں قمری اسلامی تاریخوں کا استعمال کریں تو اس میں فرض کفایہ کی ادائیگی کا ثواب بھی ہوگا اور اپنا قومی شعار بھی محفوظ رہے گا۔اور اجر عظیم ہے‘‘۔
*چند اعتراضات کے جوابات:*
بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ قمری حساب یقینی نہیں، کیوں کہ مہینہ کبھی 29 دن کا ہوتا ہے ، کبھی 30 کا، سو اس کا جواب یہ ہے کہ رویت ہلال کی یقینی تاریخ متعین نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ اعتراض جاری ماہ کے متعلق نہیں ہو سکتا، کیوں کہ اس کی تعیین رویت ہلال سے ہو چکی ہے، البتہ آئندہ ماہ کے بارے میں اندیشہ ہے، مگر اس کا تعین بھی یوم لگانے سے ہو سکتا ہے، مثلاً 8 شوال 1430ھ بروز جمعہ تو لفظ جمعہ سے تاریخ کا تعین ہو گیا، دوسری بات یہ ہے کہ عملی رویت ہلال مذہبی تقریبات کے لیے ضروری ہے عام حساب کے لیے ضروری نہیں۔ یہ حسابی طریقہ پر متعین کیا جاسکتا ہے۔
پوری دنیا میں چاند کا طلوع ایک دن میں نہیں ہوتا، بلکہ مشرق وسطیٰ میں برصغیر سے ایک یا دو دن پہلے نظر آجاتا ہے تو عرب ممالک اور پاکستان وبنگلہ دیش کی تاریخوں میں فرق ہوتا رہتا ہے تو مذہبی تقریبات کن لوگوں کی تاریخ پر منا ئی جائے؟! اگر ہر جگہ رویت کو معتبر کیا جائے تو عبادت بیک وقت ادا نہیں ہو سکتی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ عبادت کے لیے ہر جگہ کی رویت کو مستند قرار دیا جائے گا، کیوں کہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے، سارے انسانوں کے لیے تمام مقامات اور تمام زمانوں کے لیے ہے تو ساری دنیا میں بیک وقت عبادات ادا کرنا ممکن ہی نہیں ہے ۔
مثلاً مکہ مکرمہ کی اذان صبح کے مطابق انڈونیشیا میں نماز فجر ادا کرنا ممکن نہیں ہے، اسی طرح مکہ مکرمہ کے افاق ومطلع کے موافق آسٹریلیا میں عید منانا ممکن نہیں ہے۔ تو مسجد حرام کی نماز اپنے وقت پر ادا ہو گی، انڈونیشیا کی نمازیں اپنے وقت پر، نیز حج، جو مقامی عبادت ہے، وہ مکہ ہی کے افق کے مطابق ادا ہو گا اور مشرق بعید کے ممالک میں عید وغیرہ اپنے اپنے مطلع کے مطابق ادا ہوں گی اور یہ کوئی نقص نہیں ہے، یہ فرق تو عیسائیوں اور ہندوؤں کے شمسی حساب میں بھی ہے، مثلاً جس وقت ویٹی کن میں کرسمس کا گھنٹہ بجتا ہے اس سے تقریباً گیارہ گھنٹے قبل جزیرہ سخالین میں کرسمس کی عبادت ہو چکی ہوتی ہے اور جس وقت بنارس میں بسنگ پنجمی کا اعلان ہوتا ہے ٹھیک اسی وقت ماریشس میں نہیں ہوتا۔ تو یہ بات کہ تقریبات بیک وقت ادا نہیں ہو سکتی ، قمری ہجری تقویم کے سلسلے میں بطور اعتراض پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ تقویم قمری ہجری اختیار کرنے کی صورت میں جن دقتوں اور پریشانیوں کا ذکر کیا جاتا ہے وہ سب واہمہ ہیں اور دوسری بڑی وجہ اسلامی ممالک میں اسلامی تقویم کا عدم نفاذ ہے، اس لیے سب اس نظام سے اجنبیت محسوس کرتے ہیں، اگر یہ تاریخ نافذ ہو تو تجربے اور مرورایام سے تمام شبہات ختم ہو سکتے ہیں، عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب، جہاں اسلامی ہجری تقویم نافذ ہے وہاں کے کیلنڈر اور حساب کتاب میں کبھی ابہام نہیں پایا گیا اور کسی کو کوئی دقت اور اعتراض بھی نہیں۔
شمسی اور قمری تاریخ کے متعلق آخری اور اہم بات حضرت مفتی اعظم کے اس اقتباس میں ہے کہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمدشفیعؒ صاحب لکھتے ہیں کہ ” اس کے یہ معنی نہیں کہ شمسی حساب رکھنا یا استعمال کرنا ناجائز ہے، بلکہ اس کا اختیار ہے کہ کوئی شخص نماز، روزہ، زکوٰة اور عدت کے معاملہ میں تو قمری حساب شریعت کے مطابق استعمال کرے، مگر اپنے کاروبار تجارت وغیرہ میں شمسی استعمال کرے۔ شرط یہ ہے کہ مجموعی طور پر مسلمانوں میں قمری حساب جاری رہے، تاکہ رمضان اور حج وغیرہ کے اوقات معلوم ہوتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ اسے جنوری فروری کے سوا کوئی مہینے ہی معلوم نہ ہوں ، فقہاء نے قمری حساب باقی رکھنے کو مسلمانوں کے ذمہ فرض کفایہ قرار دیا ہے۔ ہاں! اس میں شبہ نہیں ہے کہ سنت انبیاء اور سنت رسول ﷺ اور خلفائے راشدینؓ میں قمری حساب استعمال کیا گیا ہے، اس کا اتباع موجب برکت وثواب ہے اورشمسی حساب سے بھی اسلام منع نہیں کرتا۔“ جاری ہے
حوالہ جات:
۱۔ محبوب الارب ۲۔ ضاجۃالطرب فی تقدمات العرب
۳۔ اٰثار الباقیۃ ۴۔ تقویم العرب الاسلام
۵۔ رسالہ سیارہ ڈائجسٹ نومبر ۱۹۶۴ء ۶۔ رسالہ ہمجولی جولائی ۱۹۴۰ء ۷۔ روزنامہ سیاست ۸۔ تاریخ طبری
استفادہ تحریر ؛ رضی الدین معظم
*متفرق انتظامات:*
============
حکومت کے متعلق بڑے بڑے انتظامی صیغوں کا حال اوپر گزر چکا ہے لیکن ان کے علاوہ اور بہت سے جزئیات ہیں جن کے لئے جدا جدا عنوان قائم نہیں کئے جا سکتے تھے۔ اس لئے ان کو یکجا لکھنا زیادہ موزوں ہو گا۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بدولت نہایت خوبی سے ہر قسم کے مفصل کاغذات اور نقشے تیار ہوئے۔
*مختلف قسم کے رجسٹر:*
سب سے مشکل اور پُر پیچ روزینہ داروں کا حساب تھا۔ جو اہل عطا کہلاتے تھے اور جن میں ہر قسم کی فوجیں بھی شامل تھیں۔ ان کی تعداد لاکھوں سے متجاوز تھی۔ اور مختلف گروہوں کو مختلف حیثیتوں سے تنخواہ ملتی تھی۔ مثلاً بہادری کے لحاظ سے، شرافت کے لحاظ سے، پچھلی کار گزاریوں کے لحاظ سے، اس کے ساتھ قبائل کی تفریق بھی ملحوظ تھی۔ یعنی ہر ہر قبیلہ کا جدا جدا رجسٹر تھا۔ اور ان میں بھی مختلف وجوہ کے لحاظ سے ترتیب قائم رکھی جاتی تھی۔ اس صیغے کے حساب و کتاب کی درستی کے لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑے بڑے قابل لوگوں کو مامور کیا۔ مثلاً دارالخلافہ میں عقیل بن ابی طالب، مخزمہ بن نوفل، جبیر بن مطعم کو، بصرہ میں مغیرہ بن شعبہ کو، کوفہ میں عبد اللہ بن خلف کو۔تمام دفتر جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں، فارسی، شامی اور قبطی، زبان میں رہا کیونکہ عرب میں اس فن کو اس قدر ترقی نہیں ہوئی تھی کہ یہ دفتر عربی زبان میں منتقل ہو سکتا۔
*بیت المال کے کاغذات کا حساب:*
بیت المال کا حساب نہایت صحت سے مرتب رہتا تھا۔ زکوٰۃ اور صدقہ میں جو مویشی آتے تھے بیت المال سے متعلق تھے۔ چنانچہ ان کے رجسٹر تک نہایت تفصیل سے مرتب ہوتے تھے۔ جانوروں کا حلیہ رنگ اور عمر تک لکھی جاتی تھی۔ اور بعض وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے۔ (طبری صفحہ 2736)۔
*مصارف جنگ کے کاغذات:*
مصارف جنگ اور مال غنیمت کا حساب ہمیشہ افسروں سے طلب کیا جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معزولی اسی بناء پر ہوئی تھی کہ وہ کاغذات حساب کے بھیجنے کی ذمہ داری نہیں قبول کرتے تھے (الاصابہ فی احوال الصحابہ تذکرہ خالد بن ولید)۔ جلولا کی فتح جو سنہ 16 ہجری میں واقع ہوئی تھی۔ زیاد بن ابی سفیان حساب کے کاغذات لے کر مدینہ آئے تھے۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملاحظہ کرایا تھا۔
*مردم شماری کے کاغذات:*
زکوٰۃ اور جزیہ کی تشخیص کی ضرورت سے ہر مقام کی مردم شماری کرائی گئی تھی۔ اور اس کے کاغذات نہایت اہتمام سے محفوظ رکھے گئے تھے۔ چنانچہ مصر و عراق کی مردم شماری کا حال مقریزی اور طبری نے تفصیل سے لکھا ہے۔ خاص خاص صفتوں کے لحاظ سے بھی نقشے تیار کرائے گئے تھے۔ مثلاً سعد بن وقاصؓ کو حکم بھیجا کہ جس قدر آدمی قرآن پڑھ سکتے ہیں ان کی فہرست تیار کی جائے۔ شاعروں کی فہرست بھی طلب کی گئی تھی۔ چنانچہ اس کا ذکر کسی اور موقع پر آئے گا۔
مفتوح ممالک کی قوموں یا اور لوگوں سے جس قدر تحریری معاہدے ہوتے تھے وہ نہایت حفاظت سے ایک صندوق میں رکھے جاتے تھے۔ جو خاص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اہتمام میں رہتا تھا۔ (طبری صفحہ 2465)۔
*کاغذات حساب لکھنے کا طریقہ:*
اس موقع پر یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ اس وقت تک حساب کتاب کے لکھنے کا طریقہ یہ تھا کہ مستطیل کاغذ پر لکھتے اور اس کو لپیٹ کر رکھتے تھے۔ بعینہ اس طرح جس طرح ہمارے ملک میں مہاجنوں کی بہیاں ہوتی ہیں۔ کتاب اور رجسٹر کا طریقہ خلیفہ سفاح کے زمانے میں اس کے وزیر خالد برمکی نے ایجاد کیا۔
*سکہ:*
سکہ کی نسبت اگرچہ عام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ عرب میں سب سے پہلے جس نے سکہ جاری کیا وہ عبد الملک بن مروان ہے۔ لیکن علامہ مقریزی کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کے موجد بھی حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی ہیں۔ چنانچہ اس موقع پر ہم علامہ موصوف کی عبارت کا لفظی ترجمہ کرتے ہیں۔
جب امیر المومنین خلیفہ ہوئے اور خدا نے ان کے ہاتھ پر مصر و شام و عراق فتح کیا تو انہوں نے سکہ کے معاملہ میں کچھ دخل نہ دیا۔ بلکہ پرانے سکہ کو جو جاری تھا بحال رہنے دیا۔ سنہ 18 ہجری میں جب مختلف مقامات سے سفارتیں آئیں تو بصرہ سے بھی سفراء آئے جن میں اختف بن قیس بھی شامل تھے۔ اختف نے باشندگان بصرہ کی ضروریات اور حاجتیں بیان کیں۔حضر ت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی درخواست پر معقل بن یسار کو بھیجا۔ جنہوں نے بصرہ میں ایک نہر تیار کرائی جس کا نام نہر معقل ہے اور جس کی نسبت یہ فقرہ مشہور ہے۔
اذا جاء نھر اللہ بطل نھر معقل۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی زمانے میں یہ انتظام کیا کہ ہر شخص کے لئے ایک جریب غلہ اور دو درہم ماہوار مقرر کئے۔ اسی زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے سکہ کے درہم جاری کئے۔ جو نوشیروانی سکہ کے مشابہ تھے۔ البتہ اتنا فرق تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سکوں پر الحمد للہ اور بعض سکوں پر محمد رسول اللہ اور بعض پر لا الہ الا اللہ وحدہ لکھا ہوتا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اخیر زمانے میں دس درہم مجموعی رقم کا وزن چھ مثقال کے برابر ہوتا تھا۔ (دیکھیئے کتاب النقود الاسلامیہ المقریزی مطبوعہ مطبع جوائب سنہ 1298 ہجری صفحہ 574)۔
یہ مقریزی کی خاص روایت ہے لیکن اس قدر عموماً مسلم ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سکہ میں ترمیم و اصلاح کی۔ علامہ ماوردی نے الاحکام السلطانیہ میں لکھا ہے کہ ایران میں تین قسم کے درہم تھے۔ بغلی آٹھ دانگ کا، طبری چار دانگ کا، مغربی تین دانگ کا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ بغلی چونکہ زیادہ چلتے ہیں اس لئے دونوں کو ملا کر ان کا نصف اسلامی درہم قرار دیا جائے۔ چنانچہ اسلامی درہم چھ دانگ کا قرار پایا۔ (الاحکام السلطانیہ للحادردی صفحہ 167)۔
*ذمی رعایا کے ساتھ برتاؤ:*
==================
ذمی سے وہ قومیں مراد ہیں جو مسلمان نہ تھیں لیکن ممالک اسلام میں سکونت رکھتی تھیں۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذمی رعایا کو جو حقوق دیئے تھے اس کا مقابلہ اگر اس زمانے کی دوسرے سلطنتوں سے کیا جائے تو کسی طرح کا تناسب نہ ہو گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمسایہ میں جو سلطنتیں تھیں وہ روم و فارس تھیں۔ ان دونوں سلطنتوں میں غیر قوموں کے حقوق غلاموں سے بھی بدتر تھے۔ شام کے عیسائی باوجودیکہ رومیوں کے ہم مذہب تھے۔ تاہم ان کو اپنی مقبوضہ زمینوں پر کسی قسم کا مالکانہ حق حاصل نہیں تھا بلکہ وہ خود بھی ایک قسم کی جائیداد خیال کئے جاتے تھے۔ چنانچہ زمین کے انتقال کے ساتھ وہ بھی منتقل ہو جاتے تھے۔ اور مالک سابق کو ان پر جو مالکانہ اختیارات حاصل تھے وہی قابض حال کو حاصل ہو جاتے تھے۔ یہودیوں کا حال اور بھی بدتر تھا بلکہ اس قابل نہ تھا کہ کسی حیثیت سے ان پر رعایا کا اطلاق ہو سکتا۔ کیونکہ رعایا آخر کار کچھ نہ کچھ حق رکھتی ہے۔ اور وہ حق کے نام سے بھی محروم تھے۔ فارو میں جو عیسائی تھے ان کی حالت اور بھی زیادہ رحم کے قابل تھی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ان ممالک کو زیر نگیں کیا تو دفعتہً وہ حالت بدل گئی۔ جو حقوق ان کو دیئے گئے، ان کے لحاظ سے گویا وہ رعایا نہیں رہے بلکہ اس قسم کا تعلق رہ گیا جیسا کہ دو برابر کے معاہدہ کرنے والوں میں ہوتا ہے۔ مختلف ممالک کی فتح کے وقت جو معاہدے لکھے گئے ہم ان کو اس مقام پر بعینہ نقل کرتے ہیں جس سے اس دعویٰ کی تصدیق ہو گی۔ اور ساتھ ہی اس بات کے موازنہ کا موقع ملے گا کہ یورپ نے اس قسم کے حقوق کبھی غیر قوم کو نہیں دیئے ہیں۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخوں میں جو معاہدے منقول ہیں ان میں بعض مفصل باقی مجمل ہیں۔ کیونکہ مفصل شرائط کا بار بار اعادہ کرنا تطویل عمل کا باعث تھا۔ اس لیے اکثر معاہدوں میں کسی مفصل معاہدے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ بیت المقدس کا معاہدہ جو خود حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں اور ان کے الفاظ میں لکھا گیا حسب ذیل ہے۔
*بیت المقدس کا معاہدہ:*
*”یہ وہ امان ہے جو خدا کے غلام امیر المومنین عمر نے ایلیا کے لوگوں کو دی۔ یہ امان ان کی جان، مال، گرجا، صلیب، تندرست، بیمار اور ان کے تمام مذہب والوں کے لیے ہے اس طرح پر کہ ان کے گرجاؤں میں نہ سکونت کی جائے گی۔ نہ وہ ڈھائے جائیں گے نہ ان کو اور نہ ان کے احاطہ کو کچھ نقصان پہنچایا جائے گا۔ نہ ان کی صلیبوں اور ان کے مال میں کچھ کمی کی جائے گی۔ مذہب کے بارے میں ان پر جبر نہ کیا جائے گا۔ نہ ان میں سے کسی کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ ایلیاء میں ان کے ساتھ یہودی نہ رہنے پائیں گے۔ ایلیاء والوں پر یہ فرض ہے کہ اور شہروں کی طرح جزیہ دیں گے اور یونانیوں اور چوروں کو نکال دیں۔ ان یونانیوں میں سے جو شہر سے نکلے گا اس کی جان اور مال کو امن ہے تا آنکہ وہ اپنی جائے پناہ میں پہنچ جائے اور جو ایلیاء ہی میں رہنا اختیار کرے اس کو بھی امن ہے اور اس کو جزیہ دینا ہو گا اور ایلیاء والوں میں سے جو شخص اپنی جان اور مال لے کر یونانیوں کے ساتھ چلا جانا چاہے تو ان کو اور ان کے گرجاؤں کو اور صلیبوں کو امن ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جائے پناہ تک پہنچ جائیں اور جو کچھ اس تحریر میں ہے اس پر خدا کا رسول خدا کے خلیفہ کا اور مسلمانوں کا ذمہ ہے۔ بشرطیکہ یہ لوگ جزیۂ مقررہ ادا کرتے رہیں۔ اس تحریر پر گواہ ہیں خالد بن الولید اور عمرو العاص اور عبد الرحمنٰ بن عوف اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور یہ 15 ہجری میں لکھا گیا۔ “(دیکھو تاریخ ابو جعفر جریر طبری – فتح بیت المقدس 12)۔*
اس فرمان میں صاف تصریح ہے کہ عیسائیوں کے جان، مال اور مذہب ہر طرح سے محفوظ رہے گا اور یہ ظاہر ہے کہ کسی قوم کو جس قدر حقوق حاصل ہو سکتے ہیں انہی تین چیزوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ گرجے اور چرچ کی نسبت یہ تفصیل ہے کہ نہ تو وہ توڑے جائیں گے نہ ان کی عمارت کو کسی قسم کا نقصان پہنچایا جائے گا نہ ان کے احاطوں میں دست اندازی کی جائے گی۔ مذہبی آزادی کی نسبت دوبارہ تصریح ہے کہ ” لایکرھون علی دینھم” عیسائیوں کے خیال میں چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں نے صلیب دے کر قتل کیا تھا اور یہ واقعہ خاص بیت المقدس میں پیش آیا تھا۔ اس لیے ان کی خاطر سے یہ شرط منظور کی کہ یہودی بیت المقدس میں نہ رہیں گے۔
یونانی باوجود اس کے کہ مسلمانوں سے لڑتے تھے اور درحقیقت وہی مسلمانوں کے اصلی عدو تھے۔ تاہم ان کے لیے یہ رعایتیں ملحوظ رکھیں کہ بیت المقدس میں رہنا چاہیں تو رہ سکتے ہیں۔ اور نکل جانا چاہیں تو نکل کر جا سکتے ہیں۔ دونوں حالتوں میں ان کو امن حاصل ہو گا۔ اور ان کے گرجاؤں اور معبدوں سے کچھ تعرض نہ کیا جائے گا۔ سب سے بڑھ کر بیت المقدس کے عیسائی اگر یہ چاہیں گے کہ وطن سے نکل کر رومیوں سے جا ملیں تو اس پھر بھی کچھ تعرض نہ کیا جائے گا۔ بلکہ ان کے گرجے وغیرہ جو بیت المقدس میں ہیں محفوظ رہیں گے۔
*کیا کوئی قوم مفتوحہ ملک کے ساتھ اس سے بڑھ کر منصفانہ برتاؤ کر سکتی ہے ؟*
سب سے مقدم امر یہ ہے کہ ذمیوں کی جان و مال کو مسلمانوں کی جان و مال کے برابر قرار دیا گیا۔ کوئی مسلمان اگر کسی ذمی کو قتل کر ڈالتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوراً اس کے بدلے مسلمان کو قتل کرا دیتے تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے کہ قبیلہ بکر بن وائل کے ایک شخص نے حیرۃ کے ایک عیسائی کو مار ڈالا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لکھ بھیجا کہ قاتل، مقتول کے وارثوں کو دیا جائے۔ چنانچہ وہ شخص مقتول کے وارث کو جس کا نام حنین تھا، حوالہ کیا گیا۔ اور اس نے اس کو قتل کر ڈالا۔ (الدرایہ فی تخریج الہدایہ مطبوعہ دہلی صفحہ 360)۔
مال اور جائیداد کے متعلق کی حفاظت اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے کہ جس قدر زمینیں ان کے قبضے میں تھیں اسی حیثیت سے بحال رکھیں۔ جس حیثیت سے فتح سے پہلے ان کے قبضے میں تھیں۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کو ان زمینوں کا خریدنا بھی ناجائز قرار دیا گیا۔ چنانچہ اس بحث کو ہم تفصیل کے ساتھ محاصل ملکی کے بیان میں لکھ آئے ہیں۔
==================> جاری ہے ۔۔۔












