خلافت فاروقی کے کارنامے
(قسط نمبر 25) تحریر و پیشکش محمد نوید
#حضرت_عمرؓ_اور_مساجد_ومکاتب
=======================
یہ تمام امور جن کا اوپر ذکر ہوا علمی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے۔ عملی صیغے پر بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت توجہ کیا اور ہر قسم کے ضروری انتظامات قائم کئے۔
*اماموں اور مؤذنوں کا تقرر:*
ہر شہر و قصبہ میں امام و مؤذن مقرر کئے اور بیت المال سے ان کی تنخواہیں مقرر کیں۔ علامہ ابن الجوزی سیرۃ العمر میں لکھتے ہیں۔
ان عمر بن الخطاب و عثمان بن عفان کان یرزقان المؤزنین والائمہ۔
موطا امام محمد سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی میں صفوں کے درست کرنے کے لیے خاص اشخاص مقرر تھے۔ (موطا امام محمد صفحہ 286)۔
حج کے زمانے میں اس کام پر لوگ مامور ہوتے تھے کہ حاجیوں کو مقام منی میں پہنچا کر آئیں۔ (موطا امام مالک صفحہ 140)۔ یہ اس غرض سے کہ اکثر لوگ ناواقفیت سے عقبہ کے اسی طرف ٹھہر جاتے تھے حالانکہ وہاں ٹھہرنا مناسک حج میں محسوب نہ تھا۔
چونکہ عہد خلافت میں متصل 10 حج کئے اس لئے امیر حجاج ہمیشہ خود ہوتے تھے اور حجاج کی خبر گیری کی خدمت خود انجام دیتے تھے۔
*مساجد کی تعمیر:*
تمام ممالک مفتوحہ میں نہایت کثرت سے مسجدیں تعمیر کرائیں۔ (موطا امام محمد صفحہ 229)۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو کوفہ کے حاکم تھے ، لکھا کہ بصرہ میں ایک جامع مسجد اور ہر قبیلہ کے لیے الگ الگ مسجدیں تعمیر کی جائیں۔
سعد بن ابی وقاص اور عمر بن العاص رضی اللہ عنہم کو بھی اسی قسم کے احکام بھیجے۔
شام کے تمام عمال کو لکھا کہ ہر شہر میں ایک ایک مسجد تعمیر کی جائے۔ چنانچہ یہ مسجدیں آج بھی جوامع عمری کے نام سے مشہور ہیں۔ گو ان کی اصلی عمارت اب باقی نہیں رہی۔ ایک جامع عمری میں، جو بیروت میں واقع ہے ۔ محدث جمال الدین نے روضۃ الاحباب میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں چار ہزار مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ یہ خاص تعداد گو قطعی نہ ہو لیکن کچھ شبہ نہیں کہ مساجد فاروقی کا شمار ہزاروں سے کم نہ تھا۔
*حرم کی وسعت:*
حرم محترم کی عمارت کو وسعت دی اور اس کی زیب و زینت پر توجہ کی۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اسلام کو جو روز افزوں وسعت ہوتی جاتی تھی۔ اس کے لحاظ سے حرم محترم کی عمارت کافی نہ تھی۔ اس لئے سنہ 17 ہجری میں گرد و پیش کے مکانات مول لے کر ڈھا دیئے اور ان کی زمین حرم کے صحن میں شامل کر دی۔ اس زمانے تک حرم کے گرد کوئی دیوار نہ تھی اور اس لئے اس کی حد عام مکانات سے ممتاز نہ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے احاطہ کی دیوار کھنچوائی اور اس سے یہ کام بھی لیا کہ اس پر رات کو چراغ جلائے جاتے تھے۔ (موطا امام محمد صفحہ 229)۔
کعبہ پر غلاف اگرچہ ہمیشہ سے چڑھایا جاتا تھا۔ چنانچہ جاہلیت میں بھی فطع کا غلاف چڑھاتے تھے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قباطی کا بنوایا جو نہایت عمدہ قسم کا کپڑا ہوتا ہے۔ (الاحکام السلطانیہ للماوردی 154 فتوح البلدان صفحہ 26)۔ اور مصر میں بنایا جاتا ہے ۔
حرم کی حدود سے (جو کسی طرف سے تین میل اور کسی طرف سے 7 میل اور 9 میل ہیں) چونکہ بہت سے شرعی احکام متعلق ہیں چنانچہ اسی غرض سے ہر طرف پتھر کھڑے کر دیے گئے تھے جو اطراف حرم کہلاتے تھے۔ اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سن 17 ہجری میں نہایت اہتمام اور احتیاط سے اس کی تجدید کی۔ صحابہ میں جو لوگ حدود حرم کے پورے واقف کار تھے یعنی مخزمہ بن نوفل، ازہر بن عبد عوف، جویطیب بن عبد العزی، سعید بن یربوع کو اس کام پر مامور کیا اور نہایت جانچ کے ساتھ پتھر نصب کئے گئے۔
*مسجد نبوی کی وسعت اور مرمت:*
مسجد نبوی کو بھی نہایت وسعت اور رونق دی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد میں جو عمارت تیار ہوئی تھی وہ اس عہد کے لئے کافی تھی۔ لیکن مدینہ کی آبادی روز بروز ترقی کرتی جاتی تھی۔ اور اس وجہ سے نمازیوں کی تعداد بڑھتی جاتی تھی۔ سنہ 17 ہجری میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو وسیع کرنا چاہا۔ گرد و پیش کے تمام مکانات قیمت دے کر خرید لئے۔ لیکن حضرت عباس نے اپنے مکان کے بیچنے سے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافی معاوضہ دیتے تھے۔ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔ آخر مقدمہ ابی بن کعب کے پاس گیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جبراً خریدنے کا کوئی حق نہیں۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اب میں بلا قیمت عامہ مسلمین کے لئے دے دیتا ہوں۔ غرض ازواج مطہرات کے مکانات کو چھوڑ کر باقی جس قدر عمارتیں تھیں گرا کر مسجد کو وسعت دی گئی۔ پہلے طول 100 گز تھا، انہوں نے 140 گز کر دیا۔ اسی طرح عرض میں جس قدر ستون وغیرہ لکڑی کے تھے اسی طرح رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کی تجدید کے ساتھ ایک گوشہ میں ایک چبوترہ بھی بنوایا۔ اور لوگوں سے کہا کہ جس کو بات چیت کرنی ہو یا شعر پڑھنا ہو اس کے لیے یہ جگہ ہے۔ (خلاصۃ الوفا باخبار دارالمصطفیٰ مطبوعہ مصر صفحہ 132، صفحہ 133)۔
*مسجد میں فرش اور روشنی کا انتظام:*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پہلے مسجد میں روشنی کا کچھ سامان نہیں تھا۔ اس کی ابتداء بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں ہوئی۔ یعنی ان کی اجازت سے تمیم داری نے مسجد میں چراغ جلائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد میں خوشبو اور بخور کا انتظام بھی کیا جس کی ابتداء یوں ہوئی کہ ایک دفعہ مال غنیمت میں عود کا ایک بنڈل آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کو تقسیم کرنا چاہا۔ لیکن وہ کافی نہ تھا۔ حکم دیا کہ مسجد میں صرف کیا جائے کہ تمام مسلمانوں کے کام آئے۔ چنانچہ مؤذن کے حوالہ کیا۔ وہ ہمیشہ جمعہ کے دن انگیٹھی میں جلا کر نمازیوں کے سامنے پھرتا تھا۔ اور ان کے کپڑے بساتا تھا۔ (خلاصۃ الوفا صفحہ 174)۔ فرش کا انتظام بھی اول حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی کیا۔ لیکن یہ کوئی پر تکلف قالین اور شطرنجی دری کا فرش نہ تھا بلکہ اسلام کی سادگی یہاں بھی قائم تھی یعنی چٹائی کا فرش تھا جس سے مقصود یہ تھا کہ نمازیوں کے کپڑے گرد و خاک میں آلودہ نہ ہوں۔
*اسلامی کیلنڈر کی ابتداء:*
=================
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت سے پہلے ان چیزوں کا وجود نہ تھا۔ عام واقعات کے یاد رکھنے کے لئے جاہلیت میں بعض واقعات سے سنہ کا حساب کرتے تھے۔ مثلاً ایک زمانے تک کعب بن لُوی کی وفات سے سال کا شمار ہوتا تھا۔ پھر عام الفیل قائم ہوا۔ یعنی سال ابراہۃ الاشرم نے کعبہ پر حملہ کیا تھا، پھر عام الفجار اور اس کے بعد اور مختلف سنہ قائم ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مستقل سنہ (سنہ ہجری) قائم کیا جو آج تک جاری ہے۔
ایک مرتبہ عراق کے گورنر حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کوامیر المومنین کا ایک خط پہنچا، اس پر کوئی تاریخ نہ تھی۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے حضرت امیرالمومنینؓ کو اس امرِ عظیم کی طرف توجہ دلائی، اس زمانہ میں حضرت عیسیٰؑ کا سنِ ولادت چل رہا تھا۔ جب شوریٰ (مشاورتی کونسل) میں مسئلہ پیش ہوا تو اس وقت تین رائی قائم ہوئیں۔ ایک رائے یہ تھی کہ حادثۂ فیل سے سنہ وسال شروع کیا جائے۔ جب کہ دوسری رائے یہ تھی کہ بعثت رسالت سے( ۴۰ میلاد نبویؐ سے )، تیسری رائے یہ تھی کہ ہجرت مدینہ کے عظیم الشان اور عمیم الاثر واقعہ سے سنہ کا آغاز کیا جائے۔
چونکہ ہجرت مدینہ کے نتیجہ خیز سفر نے اسلام کو سر بلند کیا تھا اورفتح مکہ معظمہ بھی اسی ہجرت کبریٰ کا مبارک نتیجہ تھا۔ اس لئے صحابہ کرامؓ آخری تجویز پر متفق ہوگئے اور اس طرح ہجرت کے پہلے سال کو سنہ ۱ ھ قرار دے کر سرکاری تحریروں کو اس سے مزین کیا جانے لگا چونکہ حضور رسول معظم ﷺ ۱۶؍جولائی ۶۲۲ء کو مدینہ منورہ پہنچے تھے۔ اس لئے بحکم امیر المومنین حضرت سیدنا عمرفاروقؓ اسلامی تقویم مقرر ہوکر ۱۶؍ جولائی ۶۲۲ء کو سنہ ہجری رائج ہوا ۔
*تقویم کی تحقیق اوراس کی ضرورت:*
گزشتہ زمانے کے واقعات وحادثات وغیرہ کو محفوظ رکھنے کے لیے اور آئندہ زمانہ کے لین دین، معاملات وغیرہ کی تاریخ متعین کرنے کے لیے کیلنڈر کی نہایت ضرورت ہے، کیوں کہ کیلنڈر کے بغیر ماضی کی تاریخ معلوم ہو سکتی ہے، نہ مستقبل کی تاریخ کا تعین کیا جاسکتا ہے۔
*تقویم کی اقسام:*
واضح ہو کہ دنیا میں کئی قسم کی تقاویم چلتی ہیں، جن کا دار ومدار تین چیزیں ہیں ۔ سورج، چاند، ستارے۔ اس لیے بنیادی تقاویم تین ہیں: شمسی، قمری، نجومی۔ پھر شمسی کیلنڈر کی تین قسمیں ہیں۔ ایک عیسوی، جس کو انگریزی اور میلادی بھی کہتے ہیں، دوم بکرمی جس کو ہندی بھی کہتے ہیں، سوم تاریخ فصلی۔ ان کے علاوہ اور بھی تقاویم ہیں ،جیسے تاریخ رومی، تاریخ الہٰی۔
*تاریخ عیسوی:*
تاریخ عیسوی ( جس کو تاریخ انگریزی اور میلادی بھی کہتے ہیں) شمسی ہے۔ یہ تاریخ حضرت عیسیٰ کی ولادت سے رائج ہے یا نصاریٰ کے بزعم باطل حضرت عیسیٰ کے مصلوب ہونے سے شروع ہوتی ہے، اس کی ابتدا جنوری اور انتہا دسمبر پر ہوتی ہے۔
*تاریخ ہندی:*
ہندی سال کو بسنت کہتے ہیں۔ اس تاریخ کا دوسرا نام بکرمی ہے۔ مہینے یہ ہیں ، چیت، بیساکھ، جیٹھ، اساڑھ، ساون، بھادوں، کنوار، کاتک، اگہن، پوس، ماگھ، پھاگن۔ کہا جاتا ہے کہ یہ سن ہجری سے تقریبا ً637 سال پہلے اور سن عیسوی سے 57 سال پہلے سے گجرات کاٹھیاواڑ میں رائج تھی۔
*تاریخ فصلی:*
یہ بنیادی طور پر سال شمسی ہے، یہ سن اکبر بادشاہ کے زمانے میں مال گزاری کی وصولیابی اور دوسرے دفتری انتظامات کے لیے وضع کیا گیا تھا۔
*نجومی:*
جنتری شاکھا کے نام سے مشہور ہے ، مہینے یہ ہیں: حمل، ثور، جوزا، سرطان ،اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔
*تاریخ رومی، تاریخ اسکندری اور تاریخ الہیٰ:*
تاریخ رومی اسکندر کے عہد سے مروج ہے، جس پر 1975ء میں 2286ء سال شمسی گزر چکے ہیں، اس کا دوسرا نام تاریخ اسکندری ہے یہ 282 قبل المسیح سے شروع ہوتی ہے ۔
تاریخ رومی کے مہینے ( جن کی ابتداء مہرجان یعنی کا تک سے ہوتی ہے) یہ ہیں: تشرین اول، تشرین آخر، کانون اول، کانون آخر، شباط ، اذار، نیسان، ابار، حزیران، تموز، اب، ایلول۔ رومیوں کا سال 1-4-365 دن کا ہوتا ہے۔ تشرین آخر، نیسان، حزیران، ایلول یہ چار مہینے 30 دن کے باقی سب 31 کے ہوتے ہیں، سوائے شباط کے، جو 28 دن کا ہوتا ہے اور ہر چوتھے سال 29 دن کا ہوتا ہے ۔
تاریخ الہیٰ کے مہینے یہ ہیں : فروردین ، اردی، بہشت ،خورداد، تیر،ا مرداد، شہر پو،مہر، آبان ذے، بہمن، اسفندار۔یہ سن جلال الدین اکبر بادشاہ کے جلوس کی تاریخ ( یعنی3 ربیع الثانی992ھ) سے شروع ہوا، اس میں حقیقی شمسی سال ہوتے ہیں۔
*تاریخ قمری:*
تاریخ قمری کی ابتداء محرم الحرام سے ہوتی ہے، یہ اسلامی تاریخ ہے ،جو دیگر تقاویم سے ہر لحاظ سے ممتاز ہے۔
*سنہ شمسی اور قمری میں فرق:*
جاننا چاہیے کہ سنہ شمسی تین سو پینسٹھ دن اور ربع یوم کا ہوتا ہے، چار سال میں ایک دن کا اضافہ ہو کر ہر چوتھے سال 366 دن کا سال ہو جائے گا۔ سنہ قمری سے سنہ شمسی میں دس دن اکیس گھنٹے زائد ہوتے ہیں۔
*سنہ ہجری میں ہفتے اور مہینے کا تعین:*
==========================
*سنہ ہجری میں ہفتہ کاتعین:*
اسلامی کیلنڈر میں بھی ہر ہفتہ کے سات دن مقرر ہیں۔ پہلے دن کو الاحد (یکشنبہ) کہتے ہیں اسے اوہدؔ بھی کہتے تھے‘ دوسرے دن کو الاثنین (دوشنبہ) اور اہونؔ بھی کہتے‘ تیسرا دن الثلاثاء (سہ شنبہ) اور جُبارؔ بھی کہتے ‘ چوتھے دن کو الاربعاء (چہارشنبہ) اور دُبارؔ بھی کہتے ‘پانچویں دن کو الخمیس (پنجشنبہ) اورمؤنس ؔ بھی کہتے‘چھٹے دن کو الجمعہ(جمعہ) اورعروبہؔ بھی کہتے ‘ اورساتویں دن کو السبت(شنبہ) اورشیارؔ بھی کہتے۔ اور ان کا یہ خیال ہے کہ جمعہ کانام عروبہ کعب بن لوی نے رکھا تھا اور کہا گیا ہے کہ عروبہ سریانی زبان میں جمعہ کے دن کا نام ہے پھر اس کو معرب کرلیاگیا ۔ ایک شاعر نے ان سات دنوں کو اس قطعہ میں جمع کردیاہے
علمت بان اموت وان موتی
باوہدؔ او باہونؔ او جبارؔ
اذا التالی دیارا و باوفی
بمؤنسؔ او عروبہؔ او شیارؔ
مشہور ہے کہ عہدِ عتیق میں فارس اور مصری ہفتوں کا استعمال نہیں جانتے تھے سب سے پہلے ہفتوں کا استعمال اہالیؔ شام اور اس کے اطراف واکناف والوں نے کیا کیوں کہ حضرت موسیٰؑ نے توریت میں خبر دی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو ۶روز میں پیدا کیا اور پھر اس کا استعمال تمام اقوام عالم میں رائج ہوگیا اورعربوں نے بھی اس کو اپنے پڑوسی ملک والوں اور اہل شام سے سیکھا اور استعمال کیا اور کررہے ہیں ۔
شرعی احکام میں رویت ہلال کا اعتبار کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کا سنہ محرم سے شروع ہوتا ہے اور سال کے مہینے کچھ تو کامل ہوتے ہیں یعنی پورے تیس دن اور کچھ کم ہوتے ہیں یعنی انتیس دن تاکہ قمری سال پورا ہوجائے اورقمری سال کے کل دنوں کی تعداد ۵/۱ ۔۳۵۴ یا ۶/۱ ۔۳۵۴ ہوتی ہے ۔
*سنہ ہجری میں مہینوں کا تعین :*
ہرماہِ نو ہلالی یعنی چاند دیکھنے پر شروع ہوتا ہے اور پھر نیا چاند نظر آتے ہی ختم ہوجاتا ہے ۔ اسلامی قمری سال کے بھی بارہ مہینے مقرر ہیں کیونکہ حضورِ اکرم ﷺ نے ایک مرتبہ عید الاضحی کے خطبہ کے موقع پر فرمایا کہ ایک سال صرف بارہ مہینے کا ہوتا ہے جیسا کہ کائنات کی تخلیق کے وقت تھا (مشکوٰۃ) ۔
*اسلامی قمری سال کے بارہ مہینے یہ ہیں :*
محرم ٗ صفر ٗ ربیع الاوّل ٗربیع الآخر ٗ جمادی الاولیٰ ٗ جمادی الاخریٰ ٗرجب ٗ شعبان ‘رمضان ٗ شوال ٗ ذوالقعدہ ٗ ذوالحجہ ۔
مہینوں کے نام کسی دیوی یا دیوتا کے نام پرنہیں بلکہ کچھ تو لغوی اعتبار سے ہیں اور کچھ واقعات سے متعلق ہیں۔ الغرض عربوں کو بعض اسباب اور اتفاقات پیش آتے تھے مہینوں کے موجودہ مشہور اور معروف ناموں سے موسوم ہوگئے ۔ ہر مہینہ کی وجہ تسمیہ :
*۱۔محرم الحرام:*
محرم کے لغوی معنی حرمت والا ٗ حرام کیا گیا ٗ ممنوع وغیرہ ہیں ۔ اسلامی قمری مہینوں میں یہ پہلا مہینہ ہے ۔ایامِ جاہلیت میں اس مہینہ کا نام موجود نہ تھا اس کی جگہ صفر الاولیٰ تھا ۔ یاد رہے کہ اسلامی مہینوں کے نام قدیم عربوں کے رکھے ہوئے ہیں سوائے محرم کے اور قمری کیلنڈر میں اس کی جگہ پہلے صفر الاولیٰ ہوا کرتا تھا اسلام کی روشنی پھیلنے کے بعدمحرام الحرام سے بدل گیا ۔محرم کانام اس لئے محرم ہوا کہ اس میں قتال کو حرام سمجھا گیا ۔ یہ مہینہ ۴ متبرک مہینوں میں سے ایک ہے ۔ اسلام سے پہلے بھی اور بعد میں بھی یہ مہینہ متبرک سمجھا جاتا رہا ہے اس مہینے میں جنگ وغیرہ ممنوع تھی۔
*۲۔ صفرالمظفر:*
صفرالمظفر لغوی اعتبار سے معنی خالی یا زرد کے ہیں ۔ ایامِ جاہلیت میں اس نام کے دو مہینے تھے صفر الاولیٰ اور صفر الآخرہ ۔ اسلامی کیلنڈر کا آغاز ہوا تو صفر الاولیٰ کی جگہ محرم نے لے لی اور صفر الآخرہ صفرالمظفر بن گیا ۔ صفر کو صفر اس لئے کہا گیا کہ عرب اس ماہ میں قتل و غارت گری کرتے تھے اور ان کے گھر خالی رہتے تھے ۔ یہ بھی روایت ہے کہ جب ابتداء میں یہ نام وجود میں آیا تو یہ مہینہ موسمِ خزاں میں آتا تھا اور درختوں کے پتے زرد ہوجاتے تھے۔ صفر کے ایک اور معنی عربی میں پیٹ کے وہ کیڑے ہیں جو بھوک لگنے پر آنتوں کو کاٹتے ہیں ۔
*۳‘۴۔ربیع الاوّل وربیع الآخر:*
یہ اسلامی کیلنڈر کے بالترتیب تیسرے اور چوتھے مہینوں کے نام ہیں۔ لفظ ’’ربیع‘‘ کے لغوی معنی موسمِ بہار کی بارش کے ہیں ۔ البیرونی کاخیال ہے کہ ربیع کے معنی موسمِ خزاں (خریف)کے بھی ہیں ۔ ربیع کا مطلب موسمِ بہار بھی ہے ۔ دوسرا یہ کہ عرب جو بھی مال لوٹ کرلاتے تھے اسی مہینہ میں تقسیم کرلیتے تھے ۔ وہ مال چارحصوں میں تقسیم کیاجاتا تھا جسے عربی میں تربیع کہا جاتا ہے ۔ یہی لفظ ’’ربیع‘‘ کا منبع خیال کیا جاتا ہے ۔ یہ بھی روایت ہے کہ دونوں مہینوں کا نام ربیع اس لئے رکھا گیا کہ یہ اس وقت موسمِ ربیع (بہار) میں واقع ہوئے تھے ۔
*۶‘ ۵ ۔ جمادی الاولٰی وجمادی الاخریٰ:*
یہ اسلامی کیلنڈر کے بالترتیب پانچویں اورچھٹے مہینے ہیں ۔ جمادی کا مطلب منجمد ہوجانا ہے ۔ اس زمانے میں یہ مہینے سخت سردیوں میں آتے تھے جس کی وجہ سے پانی منجمد ہوجاتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی روایت ہے کہ یہ دونوں مہینے ایسے موسم میں آتے جبکہ بارش نہ ہونے سے زمین خشک اور پیاسی ہوجاتی۔ لہٰذا جمادی زمین کی اس حالت کو بیان کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہو۔ اور لغوی معنی جمادی کے ’’آنکھ بے آنسو‘‘ لکھے جاتے ہیں ‘ اگر زمین کو آنکھ تصور کریں تو مطلب واضح ہوجاتا ہے ۔
*۷۔ رجب المرجب:*
رجب کے معنی وسط کے ہیں اور لغوی معنی تعظیم کرنا ہے ۔ اسلامی کیلنڈر کا یہ ساتواں مہینہ ہے ۔ یہ چار حرمت والے مہینوں میں سے بھی ہے ۔ رجب میں اہل عرب جنگ و جدال چھوڑ دیتے تھے۔ وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ لوگ کہتے تھے ’’ارجبو‘‘ اپنی جنگ و جدال سے باز رہو ۔ ایام جاہلیت میں اس ماہ کی بڑی تعظیم تھی۔ حضور ؐ نے ایک بار فرمایا کہ رجب ایک ٹھنڈے پانی کے چشمہ کی مانند ہے جو کہ آسمان سے بہہ رہا ہو ۔
*۸۔ شعبان المعظّم:*
شعبان لفظ شعب سے ہے جس کے لغوی معنی علیحدہ کرنا ہے ۔ یہ اسلامی کیلنڈر کا آٹھواں مہینہ ہے ۔ عرب اس ماہ میں پانی کی تلاش کے لئے نکل جاتے تھے انھیں ایک دوسرے سے علیحدہ ہونا پڑتا تھا اس لئے اس ماہ کا نام شعبان پڑگیا ۔
*۹۔ رمضان المبارک:*
رمضان لفظ رمض سے نکلا ہے جس کے معنی موسم گرما کے ہیں یہ اس وقت موسم گرما میں واقع ہوتا تھا یہ اسلامی کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے رمض کا مطلب جلانا بھی ہے اس ماہ اتنی سخت گرمی ہوتی تھی کہ پیروں کے تلوے جلتے تھے ۔ روایت ہے کہ روزوں کی وجہ سے روزہ داروں کے گناہ جلادیئے جاتے ہیں۔
*۱۰۔شوال المُکرّم:*
اسلامی کیلنڈر کا دسواں مہینہ ہے ۔ اس کا چاند ’’ماہِ نو‘‘ دیکھنے پر عیدالفطر ہوتی ہے ۔لفظ شوال شائلہ سے نکلاہے شائلہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو سات آٹھ ماہ کے حمل کے دوران اپنا دودھ دینا بند کردیتی ہے، ایام جاہلیت میں یہ ایسے موسم میں آتا تھاجب کہ اونٹنیوں کا دودھ اٹھ جاتا تھا لہٰذا شوال نام رکھاگیا ۔
*۱۱۔ ذوالقعدۃالحرام:*
ذوالقعدہ اسلامی کیلنڈر کا گیارہواں مہینہ ہے ۔ اس کا نام ذوالقعدہ اس لئے ہوا کہ عرب اُس زمانہ میں اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے تھے ۔ ذوالقعدہ لفظ قعود سے نکلا ہے جس کے معنی بیٹھنے کے ہیں ۔ یہ مہینہ بھی ان چار مہینوں میں سے ایک ہے جو حرمت والے اور متبرک ہیں ۔ عرب ان چار مہینوں میں جنگ سے سخت پرہیز کرتے تھے اور اگر کہیں جنگ ہورہی ہوتی تب بھی اسے ملتوی کرکے عارضی صلح کرلی جاتی تھی اور تمام چیزوں کو چھوڑ چھاڑ کر امن پسندی کے ساتھ اپنے اپنے گھروں میں قیام کرتے تھے اس لئے اسے بیٹھے رہنے والا مہینہ قرار دیاگیا
*۱۲۔ ذوالحجۃ:*
ذوالحجہ اسلامی کلینڈر کا آخری اور بارہواں مہینہ ہے ۔ ذوالحجہ نام اس لئے ہوا کہ اس میں حج ہوتا تھا اور تاقیامت ہوتا رہے گا۔ ذو کا مطلب مالک ہے اوریہ مہینہ حج کا مالک ہے ۔
==================> جاری ہے ۔۔۔












