خلافت فاروقی کے کارنامے
(قسط نمبر 24) تحریر و پیشکش محمد نوید
اشاعت_قرآن_کے_وسائل
================
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قرآن مجید کی زیادہ اشاعت کے لئے ان تدبیروں کے ساتھ اور بہت سے وسائل اختیار کئے۔ ضروری سورتوں یعنی بقرہ، نساء، مائدہ اور نور کی نسبت یہ حکم دیا کہ سب لوگ اس قدر قرآن ضرور سیکھیں کیونکہ ان میں احکام و فرائض مذکور ہیں (کنز العمال جلد اول صفحہ 224)۔
عمال کو لکھ بھیجا کہ جو لوگ قرآن سیکھیں ان کی تنخواہیں مقرر کر دی جائیں۔ (کنز العمال جلد اول صفحہ 217)۔ (بعد میں جب ضرورت نہ رہی تھی تو یہ حکم منسوغ کر دیا)۔ اہل فوج کو جو ضروری ہدایتیں لکھ کر بھیجا کرتے تھے ان میں یہ بھی ہوتا تھا کہ قرآن مجید پڑھنا سیکھیں۔ وقتاً فوقتاً قرآن خوانوں کا رجسٹر منگواتے رہتے تھے۔ ان تدبیروں کا یہ نتیجہ ہوا کہ بیشمار آدمی پڑھ گئے۔
*حفاظ کی تعداد:*
ناظرہ خوانوں کا شمار تو نہ تھا۔ لیکن حافظوں کی تعداد سینکڑوں ہزاروں تک پہنچ گئی۔ فوجی افسروں کو جب اس مضمون کا خط لکھا کہ حفاظان قرآن کو میرے پاس بھیج دو تا کہ میں ان کو قرآن کی تعلیم کے لیے جا بجا بھیجو، تو حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے جواب میں لکھا کہ صرف میری فوج میں تین سو حفاظ موجود ہیں۔ (کنز العمال جلد اول صفحہ 28)
*صحت اعراب کی تدبیریں:*
تیسرا امر یعنی صحتِ اعراب و صحت تلفظ، اس کے لیے بھی نہایت اہتمام کیا۔ اور درحقیقت یہ سب سے مقدم تھا۔ قرآن مجید جب مرتب و مدون ہوا تھا تو اعراب کے ساتھ نہیں ہوا تھا۔ اس لئے قرآن مجید کا شائع ہونا کچھ زیادہ مفید نہ تھا۔ اگر صحت اعراب و تلفظ کا اہتمام نہ کیا جاتا تو اسلام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے لئے مختلف تدبیریں اختیار کیں۔
سب سے اول یہ کہ ہر جگہ تاکیدی احکام بھیجے کہ قرآن مجید کے ساتھ صحت الفاظ و صحت اعراب کی بھی تعلیم دی جائے۔ ان کے خاص الفاظ حسب روایت ابن الابناری یہ ہیں:
” تعلموا اعراب القران کما تعلمون حفظہ” اور مسند دارمی میں یہ الفاظ ہیں ” تعلمون الفرائض واللحن والسنن کما تعلمون القرآن”۔
*ادب اور عربیت کی تعلیم:*
دوسرے یہ کہ قرآن کی تعلیم کے ساتھ ادب اور عربیت کی تعلیم بھی لازمی کر دی تا کہ خود لوگ اعراب کی صحت و غلطی کی تمیز کر سکیں۔ تیسرے یہ حکم دیا کہ کوئی شخص جو لغت کا عالم نہ ہو قرآن نہ پڑھانے پائے۔ (کنز العمال جلد اول صفحہ 28)۔
*حضرت عمر اور حدیث کی تعلیم:*
قرآن مجید کے بعد حدیث کا درجہ آتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اگرچہ حدیث کی ترویج میں نہایت کوشش کی۔ لیکن احتیاط کو ملحوظ رکھا اور یہ ان کی دقیقہ سنجی کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ وہ بجز مخصوص صحابہ کے عام لوگوں کو روایت حدیث کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے روایت حدیث کے متعلق جو اصول قائم کئے تھے وہ ان کی نکتہ سنجی کا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ لیکن اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ ان کے ذاتی حالات میں ان کے فضل و کمال کا جہاں ذکر آئے گا ہم اس کے متعلق نہایت تفصیل سے کام لیں گے۔
*حضرت عمر اور فقہ کی تعلیم وتربیت:*
==========================
حدیث کے بعد فقہ کا رتبہ ہے اور چونکہ مسائل فقہیہ سے ہر شخص کو ہر روز کام پڑتا ہے، اس لئے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو اس قدر اشاعت دی کہ آج باوجود بہت سے نئے وسائل پیدا ہو جانے کے یہ نشر و اشاعت ممکن نہیں۔ مسائل فقہیہ کی ترویج کے لیے یہ تدبیریں اختیار کیں۔
*مسائلِ فقہ کی اشاعت:*
جہاں تک وقت و فرصت مساعدت کر سکتی تھی خود بالمشافہ احکام مذہبی کی تعلیم کرتے تھے۔ جمعہ کے دن جو خطبہ پڑھتے تھے اس میں تمام ضروری احکام اور مسائل بیان کرتے تھے۔ حج کے خطبے میں حج کے مناسک اور احکام بیان فرماتے تھے۔ موطاء امام محمد میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرفات میں خطبہ پڑھا اور حج کے تمام مسائل تعلیم کئے۔ اسی طرح شام و بیت المقدس وغیرہ کے سفر میں وقتاً فوقتاً جو مشہور اور پر اثر خطبے پڑھے ان میں اسلام کے تمام مہماتِ اصول اور ارکان بیان کئے اور چونکہ ان موقعوں پر بے انتہا مجمع ہوتا تھا اس لئے ان مسائل کا اس قدر اعلان ہو جاتا تھا کہ کسی اور تدبیر سے ممکن نہ تھا۔ دمشق میں بمقام جلبیہ جو مشہور خطبہ پڑھا، فقہا نے اس کو بہت سے مسائل فقہیہ کے حوالے سے جا بجا نقل کیا ہے۔
وقتاً فوقتاً عمال اور افسروں کو مذہبی احکام اور مسائل لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔ مثلاً نماز پنجگانہ کے اوقات کے متعلق جس کے تعین میں مجتہدین آج تک مختلف ہیں۔ تمام عمال کو ایک مفصل ہدایت نامہ بھیجا۔ امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب مؤطا میں بعینہ اس کی عبارت نقل کی ہے۔ اسی مسئلہ کے متعلق ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو تحریر بھیجی اس کو بھی امام مالک نے بالفاظہا نقل کیا ہے۔ وہ نمازوں کے جمع کرنے کی نسبت تمام ممالک مفتوحہ میں تحریری اطلاع بھیجی کہ جائز ہے (موطا امام محمد صفحہ 129)۔
سن 14 ہجری میں جب نماز تراویح جماعت کے ساتھ قائم کی، تمام اضلاع کے افسروں کو لکھا کہ ہر جگہ اس کے مطابق عمل کیا جائے۔ زکوٰۃ کے متعلق تمام احکام مفصل لکھ کر ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر افسران ملک کے پاس بھیجے۔ اس تحریر کا عنوان جیسا کہ شاہ ولی اللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے نقل کیا ہے یہ تھا۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ھذا کتاب الصدقہ الخ
قضا اور شہادت کے متعلق ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جو تحریر بھیجی تھی اس کو ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ مہمات مسائل کے علاوہ فقہ کے مسائل جزیہ بھی عمال کو لکھ لکھ کر بھیجا کرتے تھے۔
حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دفعہ ایک خط لکھا کہ میں نے سنا ہے کہ مسلمان عورتیں حماموں میں جا کر عیسائی عورتوں کے سامنے بے پردہ نہاتی ہیں۔ لیکن مسلمان عورت کو کسی غیر مذہب والی عورت کے سامنے بے پردہ ہونا جائز نہیں۔
روزہ کے متعلق تمام عمال کو تحریری حکم بھیجا کہ: لا تکونوا من المسرفین لفطر کم۔
زید وہب کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہم لوگوں کے پاس آیا کہ:
ان المراۃ لا تصوم تطوعا الا باذن زوجھا۔
ابو وائل کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہم لوگوں کو لکھا کہ:
ان لا ھلۃ بعضھا اکبر من بعض۔ اسی طرح کی اور بہت سے بے شمار مثالیں ہیں۔
*مسائل فقہیہ میں اجماع:*
یہ بات بھی لحاظ کے قابل ہے کہ جو فقہی احکام حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرامین کے ذریعہ شائع کرتے تھے ، چونکہ شاہی دستور العمل کی حیثیت رکھتے تھے ، اس لئے یہ احتیاط ہمیشہ ملحوظ رہتی تھی کہ وہ مسائل اجماعی اور متفق علیہ ہوں۔ چنانچہ بہت سے مسائل جن میں صحابہ کا اختلاف تھا ان کو مجمع صحابہ میں پیش کر کے پہلے طے کرا لیا۔ مثلاً چور کی سزا جس کی نسبت قاضی ابو یوسف کتاب الخراج میں لکھتے ہیں۔
ان عمر استشار فی السارق فاجمعوا الخ (کتاب مذکور صفحہ 106)۔
غسل جنابت کی نسبت جب اختلاف ہوا تو تمام مہاجرین اور انصار کو جمع کیا اور یہ مسئلہ پیش کر کے سب سے رائے طلب کی۔ لوگوں نے مختلف رائے دیں۔ اس وقت فرمایا:
انتم اصحاب بدر وقدا خلفتم فمن بعد کم اشد اختلافاً۔
یعنی جب آپ لوگ اصحاب بدر میں ہو کر آپس میں مختلف الرائے ہیں تو آئندہ آنے والی نسلوں میں اور سخت اختلاف ہو گا۔ چنانچہ ازواج مطہرات سے یہ مسئلہ دریافت کیا گیا۔ اور ان کی رائے قطعی پا کر شائع کی گئی۔ (ازالۃ الخفاء صفحہ 88)۔
جنازہ کی تکبیر میں نہایت اختلاف تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کو جمع کیا اور متفق بات طے ہو گئی یعنی چار تکبیر پر اتفاق ہو گیا۔
اضلاع کے عمال اور افسر جو مقرر کرتے تھے ان کی یہ حیثیت بھی ملحوظ رکھتے تھے کہ عالم اور فقہیہ ہوں، چنانچہ بہت سے مختلف موقعوں پر اس کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
ایک دفعہ مجمع عام میں خطبہ دیا، جس میں یہ الفاظ تھے۔
الی اشھد کم علی امر الا مصار الی لم ابعثھم الا لیفقھوا الناس فی دینھم”
یعنی تم لوگوں کو گواہ کرتا ہوں کہ میں نے افسروں کو اس لیے بھیجا ہے کہ لوگوں کو مسائل اور احکام بتائیں”۔ یہ التزام ملکی افسروں تک محدود نہ تھا بلکہ فوجی افسروں میں بھی اس کا لحاظ کیا جاتا تھا۔ قاضی ابو یوسف لکھتے ہیں:
ان عمر بن الخطاب کان اذا جعمع الیہ جیش من اھل الایمان بعث علیھم رجلاً من اھل الفقہ والعلم۔ (کتاب الخراج صفحہ 67)۔
یہی نکتہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد کے فوجی اور ملکی افسروں میں ہم حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ وغیرہ کا نام پاتے ہیں جو ملکی اور فوجی قابلیت کے ساتھ علم و فضل میں بھی ممتاز تھے۔ اور حدیث و فقہ میں اکثر ان کا نام آتا ہے۔
تمام ممالک محروسہ میں فقہا اور معلم متعین کئے کہ لوگوں کو مذہبی احکام کی تعلیم دیں، مؤرخین نے اگرچہ اس امر کو کسی خاص عنوان کے تحت نہیں لکھا اور اس وجہ سے ان معلموں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہو سکتی۔
*فقہ کی تعلیم کا انتظام:*
================
جستہ جستہ تصریحات سے اندازہ ہو سکتا ہے ہر شہر میں متعدد فقہاٗ اس کام پر مامور تھے۔ مثلاً عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات میں صاحب اسد الغابہ نے لکھا ہے کہ ” یہ منجملہ ان دس بزرگوں کے ہیں جن کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بصرہ بھیجا تھا کہ فقہ کی تعلیم دیں۔ (اصل عبارت یہ ہے کان احد العشرۃ الذین بعثھم عمر الی البصرۃ یفقھون الناس 14)۔
عمران بن الحصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو بہت بڑے رتبہ کے صحابی تھے، ان کی نسبت علامہ ذہبی طبقات الحفاظ میں لکھتے ہیں۔
*و کان ممن بعثھم عمر بن الخطاب الی احل البصرۃ لیفقھھم*
یعنی ان لوگوں میں ہیں جن کو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بصرہ میں فقہ کی تعلیم کے لیے شام بھیجا تھا۔
عبد الرحمنٰ بن غنم رضی اللہ تعالیٰ کے حال میں “طبقات الحفاظ” میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو تعلیم فقہ کے لیے شام بھیجا تھا اور صاحب اسد الغابہ نے انہی کے حالات میں لکھا ہے “یہی وہ شخص ہیں کہ جنہوں نے شام میں تابعین کو فقہ سکھائی۔
عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حال میں لکھا ہے کہ جب شام فتح ہوا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابو درداء کو شام میں بھیجا تا کہ لوگوں کو قرآن پڑھائیں اور فقہ سکھائیں۔
جلال الدین سیوطی نے حسن المحاضرہ فی اخبار المصر والقاہرہ میں حسان بن ابی جبلۃ کی نسبت لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو مصر میں فقہ کی تعلیم پر مامور کیا تھا۔ ان فقہا کے درس کا طریقہ یہ تھا کہ مساجد کے صحن میں ایک طرف بیٹھ جاتے تھے۔ اور شائقین نہایت کثرت سے ان کے گرد حلقے کی صورت میں جمع ہو کر فقہی مسائل پوچھتے جاتے تھے۔ اور وہ جواب دیتے جاتے تھے۔
ابو مسلم خولانی کا بیان ہے کہ میں حمص کی مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا کہ 30 بڑے بڑے صحابہ وہاں تشریف رکھتے تھے۔ اور مسائل پر گفتگو کرتے تھے۔ لیکن جب ان کو کسی مسئلہ میں شک پڑتا تو ایک نوجوان شخص کی طرف رجوع کرتے تھے۔ میں نے لوگوں سے اس نوجوان کا نام پوچھا تو پتہ چلا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔
لیث بن سعد کا بیان ہے کہ ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب مسجد میں آتے تھے تو ان کے ساتھ لوگوں کا اس قدر ہجوم ہوتا تھا جیسے بادشاہ کے ساتھ ہوتا ہے اور یہ سب لوگ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔ (تذکرہ الحفاظ ترجمتہ معاذ بن جبل 12)۔
*فقہا کی تنخواہیں:*
امام ابن جوزی کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان فقہاء کی تنخواہیں بھی مقرر کی تھیں۔ اور درحقیقت تعلیم کا مرتب اور منظم سلسلہ بغیر اس کے قائم نہیں ہو سکتا تھا۔
*معلمین فقہ کی رفعت شان:*
یہ بات خاص طور پر ذکر کے قابل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن لوگوں کو تعلیم فقہ کے لیے انتخاب کیا تھا، مثلاً معاذ بن جبل، ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبادہ بن الصامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ، عبد الرحمنٰ بن غنم، عمران بن حصین اور عبد اللہ بن مغفل تمام جماعت اسلام میں منتخب تھے۔ اس کی تصدیق کے لئے اسد الغابہ اور اصابہ وغیرہ میں ان لوگوں کے حالات دیکھنے چاہییں۔ (تذکرۃ الحفاظ کراچی درداء)۔
*ہر شخص فقہ کی تعلیم کا مجاز نہ تھا:*
ایک بات اور بھی لحاظ کے قابل ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس بات کی بڑی احتیاط کی کہ ہر شخص فقہ کے مسائل بیان کرنے کا مجاز نہ ہو۔ مسائل بھی خاص کر وہ تعلیم دیئے جاتے تھے جن پر صحابہ کا اتفاق رائے ہو چکا تھا۔ یا جو مجمع صحابہ میں پیش ہو کر طے کر لئے جاتے تھے۔ چنانچہ اس کی پوری تفصیل شاہ ولی اللہ صاحب نے نہایت خوبی سے لکھی ہے۔ دیکھیے ازالۃ الخلفاء جلد دوم صفحہ 140۔
==================> جاری ہے ۔۔۔












