خلافت فاروقی ؓ کے کارنامے
قسط نمبر 29 تحریر و پیشکش محمد نوید
*عام غلاموں کو دی گئی مراعات اور اس کے اثرات:*
=================================
یہ تو وہ کارنامے تھے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غلامی کو روکنے کے لیے کئے لیکن جو لوگ غلام بنائے گئے تھے ان کے حق میں وہ مراعاتیں قائم کیں کہ غلامی ہمسری کے درجے تک پہنچ گئی۔ فوجی انتظامات کے بیان میں آپ نے پڑھا ہو گا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بدر وغیرہ کے مجاہدین کی جب تنخواہیں مقرر کیں تو ان کے غلاموں کی بھی انہی کے برابر تنخواہ مقرر کی۔ بعد کی تمام کاروائیوں میں بھی انہوں نے یہ اصول ملحوظ رکھا۔ اضلاع کے جو عمال تھے ان کی نسبت وہ اور باتوں کے ساتھ ہمیشہ یہ بھی دریافت کرتے رہتے تھے کہ غلاموں کے ساتھ ان کا برتاؤ کیسا ہے۔ چنانچہ اگر یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ غلاموں کی عیادت کو نہیں جاتے تو صرف اسی جرم پر ان کو معزول و موقوف کر دیتے تھے۔ (طبری صفحہ 2775)۔
اکثر غلاموں کو بلا کر ساتھ کھانا کھلایا کرتے تھے اور حاضرین کو سنا کر کہتے تھے کہ خدا ان لوگوں پر لعنت کرے جن کو غلاموں کے ساتھ کھانے سے عار ہے۔ سرداران فوج کو لکھ بھیجا کہ تمہارا کوئی غلام کسی قوم کو امان دے تو وہ امان تمام مسلمانوں کی طرف سے سمجھی جائے گی۔ اور فوج کو اس کا پابند ہونا ہو گا۔ چنانچہ ایک سردار کو یہ الفاظ لکھے۔
ان عبد المسلمین من المسلمین و ذمتہ من ذمتھم یجوز امانہ۔ (کتاب الخراج صفحہ 126)۔
*غلاموں کو اپنے عزیز و اقارب سے جدا نہ کیا جانا:*
غلاموں کے لیے بڑی تکلیف کی بات یہ تھی کہ وہ اپنے عزیز و اقارب سے جدا کر دیئے جاتے تھے۔ بیٹا باپ سے چھٹ جاتا تھا۔ بیٹی ماں سے بچھڑ جاتی تھی۔ آج جو لوگ غلامی کی برائیوں پر مضامین لکھتے ہیں وہ اسی واقعہ کو درد انگیز صورت میں دکھاتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ قاعدہ مقرر کیا کہ کوئی غلام اپنے عزیز و اقارب سے جدا نہ کیا جائے، یعنی یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ بیٹا کسی کے ہاتھ آئے اور باپ کسی اور کی غلامی میں رہے۔ باپ، بیٹے ، بھائی، بہن، ماں، بیٹیاں بکتی تھیں تو ساتھ بکتی تھیں اور جن کی غلامی میں رہتی تھیں ساتھ رہتی تھیں۔ اس باب میں ان کے جو احکام ہیں ان کو کنز العمال میں مستدرک حاکم بیہقی مصنف بن ابی شیبہ وغیرہ کے حوالے سے نقل کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے :
لا یفوق بین اخوین اذا یبعا لا یفرق ابین الام و ولدھا لا یفرق بین السبایا و اولادھن۔
” یعنی جب دو بھائی بیچے جائیں تو ایک دوسرے سے جدا نہ بیچا جائے یعنی بچہ ماں سے الگ نہ کیا جائے یعنی لونڈی غلام جو گرفتار ہو کر آئیں تو بچے ماں سے علیحدہ نہ کئے جائیں۔ ”
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس باب میں تمام مہاجرین اور انصار کو جمع کر کے قرآن مجید کی اس آیت سے استدلال کیا ” و تقطعوا ارحامکم” اور کہا کہ اس سے بڑھ کر قطع رحم کیا ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ حاکم اور بیہقی نے نقل کیا ہے۔ (کنزالعمال جلد 2 صفحہ 622)۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسمط ابن اسود ایک افسر کو شام کی مہمات پر بھیجا اور ان کے بیٹے شرجیل کو کوفہ میں کسی کام پر مامور کیا تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شکایت کی کہ آپ جب غلام کو اپنے عزیزوں سے جدا نہیں ہونے دیتے تو مجھ کو کیوں بیٹے سے دور پھینک دیا؟ (فتوح البلدان صفحہ 138)۔
*غلاموں میں اہل کمال کا پیدا ہونا:*
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غلاموں کا جو رتبہ قائم کیا اور عرب کو جو نمونے دکھلائے اس کا یہ اثر ہوا کہ غلاموں کے گروہ میں بڑے بڑے صاحب کمال لوگ پیدا ہوئے جن کی تمام ملک عزت و توقیر کرتا تھا۔ عکرمہ جو ائمہ حدیث میں شمار کئے جاتے تھے اور جن کو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فتویٰ کی اجازت دی تھی۔ نافع جو امام مالک کے استاد تھے اور جن کی روایت کے سلسلے کو محدثین سلسلۃ الذہب یعنی سونے کی زنجیر سے تعبیر کرتے ہیں، یہ دونوں بزرگ غلام تھے اور اسی عہد کی تربیت یافتہ تھے۔
علامہ ابن خلکان نے حضرت امام زین العابدین کے حال میں لکھا ہے کہ مدینہ منورہ میں لوگ کنیزوں اور کنیز زادیوں کو حقیر سمجھتے تھے لیکن جب قاسم (حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے ) اور سالم (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے ) اور امام زین العابدین سن رشد کو پہنچے اور علم و فضل میں تمام مدینہ والوں سے بڑھ گئے تو خیالات بدل گئے اور لونڈی غلاموں کی قدر بڑھ گئی، لیکن ہمارے نزدیک اس قبول اور عزت کا اصل سبب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کا طریق عمل تھا۔ بے شبہ قاسم و سالم (امام زین العابدین کا نام اس سلسلے میں لینا بے ادبی خیال کرتا ہوں) کے فضل و کمال نے اس مسئلے پر اثر کیا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امہات اولاد کا وہ رتبہ قائم نہ کیا ہوتا تو ان بزرگوں کو فضل و کمال حاصل کرنے کا موقع کیونکر ہاتھ آتا۔
ان سب باتوں کے ساتھ اس موقع پر یہ بتا دینا ضروری ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ کوئی نیا مسئلہ ایجاد کیا تھا اور نہ خدانخواستہ ان کو یہ حق تھا۔ غلامی کا گھٹانا اور غلاموں کے ساتھ مساویانہ برتاؤ کرنا خود پیغمبر اسلام کا مقصد تھا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو کچھ کیا وہ اسی مقصد کی تعمیل تھی۔ امام بخاری نے کتاب المنفرد میں غلاموں کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے جو افعال اور اقوال لکھے ہیں ان سے اس دعویٰ کی کافی تصدیق ہوتی ہے۔
*عام بادشاہوں اور حضرت عمرؓ کے طریق سیاست میں فرق:*
====================================
خلافت فاروقی بسیط عالم میں کہاں سے کہاں تک پھیلی ہے اور کس قدر مختلف ملک، مختلف مذاہب، مختلف قومیں، اس کے دائرے میں داخل ہیں۔ لیکن اس سرے سے اس سرے تک ہر طرف امن و امان اور سکون و اطمینان چھایا ہوا ہے۔ دنیا میں اور بھی ایسے صاحب جاہ جلال سربراہان حکومت گزرے ہیں جن کی حکومت میں کوئی شخص سر نہیں اٹھا سکتا تھا۔ لیکن ان کو یہ بات اس سیاست کی بدولت حاصل ہوتی تھی جس کے اصول یہ تھے کہ بغاوت کے ذرا سے احتمال پر دفعتاً انصاف کا قانون بالکل الٹ دیا جائے۔ ایک شخص کے جرم میں تمام خاندان پکڑا جائے۔ واقعات کے ثبوت میں یقین کے بجائے صرف قیاس سے کام لیا جائے، وحشیانہ سزائیں دی جائیں، آبادیاں جلا کر برباد کر دی جائیں۔ یہ اصول قدیم زمانے تک محدود نہ تھے۔ اب بھی یورپ کو باوجود اس تمدن و تہذیب کے انہی قاعدوں سے کام لینا پڑتا ہے۔
لیکن خلافت فاروقی میں کبھی بال برابر انصاف سے تجاوز نہیں ہو سکتا تھا۔ عمر بوس والوں نے بار بار عہد شکنی کی، تو ان کو جلا وطن کیا۔ لیکن اس طرح کہ ان کے جائیداد، مال و اسباب کے مفصل فہرست تیار کرا کے ایک ایک چیز کی دوگنی قیمت ادا کر دی۔ نجران کے عیسائیوں نے خود مختاری اور سرکشی کی تیاریاں کیں اور 40 ہزار آدمی بہم پہنچائے تو ان کو عرب سے نکال کر دوسرے ممالک میں آباد کرایا۔ مگر اس رعایت کے ساتھ کہ ان کی جائیداد وغیرہ کی قیمت دے دی۔
اور عاملوں کو لکھ بھیجا کہ راہ میں جدھر سے ان کا گزر ہو ان کے آرام کے سامان بہم پہنچائے جائیں اور جب یہ کہیں مستقل قیام کر لیں تو چوبیس مہینے تک ان سے جزیہ نہ لیا جائے۔ (ان تمام واقعات کو ہم ذمیوں کے حقوق میں اوپر لکھ آئے ہیں اور وہاں کتابوں کا حوالہ بھی دیا ہے )۔
شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسی رعایا ہاتھ آئی تھی جس میں زیادہ تر اطاعت و انقیاد کا مادہ تھا اس لئے ان کو جابرانہ سیاست کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی لیکن یہ خیال صحیح نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو درحقیقت دونوں طرح کی مشکلات کا سامنا تھا۔ غیر قومیں جو حلقہ اطاعت میں آئی تھیں، پارسی یا عیسائی تھیں جو مدت تک شاہنشاہی کے لقب سے ممتاز رہی تھیں۔ اس لئے ان کو رعیت بننا مشکل سے گوارہ ہو سکتا تھا۔ اندرونی حالت یہ تھی کہ عرب میں بہت سے صاحب ادعا موجود تھے۔ جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ مثلاً ایک مؤلفۃ القلوب کا گروہ تھا۔ جن کا قول تھا کہ خلافت بنو ہاشم یا بنو امیہ کا حق ہے اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی میں سے نہیں۔
حضرت عمرو بن العاص جو مصر کے گورنر تھے ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو خراج کے معاملے میں سختی کی تو انہوں نے نہایت حسرت سے کہا کہ خدا کی قدرت ہے ! جاہلیت میں میرا باپ جب کمخواب کی قبا زیب تن کرتا تھا تو خطاب (حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والد) سر پر لکڑی کا گٹھا لادے پھرتے تھے۔ آج اسی خطاب کا بیٹا مجھ پر حکومت جتا رہا ہے۔ بنو ہاشم ہمیشہ استعجاب کی نگاہ سے دیکھتے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے تیمی اور عدوی خلافت پر کیونکر قبضہ کر بیٹھے ہیں اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کا علانیہ نقض خلافت کے مشورے ہوتے رہے۔ چنانچہ شاہ ولی اللہ صاحب ازالۃ الخلفاء میں لکھتے ہیں کہ “زبیر و جمعے از بنو ہاشم درخانہ حضرت فاطمہ جمع شدہ درباب نقض خلافت مشورہا بکاری بروند۔ ” (ازالۃ الخلفاء حصہ دوم صفحہ 29)۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سطوت نے بنو ہاشم کے ادعا کو اگرچہ دبا دیا لیکن بالکل مٹ کیونکر سکتا تھا، اس کے علاوہ عرب کا فطری مذاق آزادی اور خود سری تھا اور یہی وجہ ہے کہ کبھی کسی فرمانروا کی حکومت کے نیچے نہیں آئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اگر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرح اس آزادی اور خود سری کو مٹا کر حکومت کا رعب و داب قائم رکھتے تو چنداں قابل تعجب نہ تھا لیکن وہ عرب کے اس جوہر کو کسی طرح مٹانا نہیں چاہتے تھے بلکہ اور چمکاتے تھے۔ بارہا مجامع عام میں لوگ ان پر نہایت آزادانہ بلکہ گستاخانہ نکتہ تنقید کرتے تھے اور وہ گوارا کرتے تھے۔ شام کے سفر میں جب انہوں نے مجمع عام میں حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معزولی کی وجہ اور اپنی برات بیان کی تو ایک شخص نے وہیں اٹھ کر کہا : یعنی ” اے عمر! خدا کی قسم تو نے انصاف نہیں کیا۔ تو نے رسول اللہ کے عامل کو موقوف کر دیا۔ تو نے رسول کی کھینچی ہوئی تلوار کو نیام میں ڈال دیا۔ تو نے قطع رحم کیا، تو نے اپنے چچیرے بھائی سے حسد کیا۔ ” (اسد الغابہ تذکرہ احمد بن حفص الحرومی)
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سب سن کر کہا کہ تم کو اپنے بھائی کی حمایت میں غصہ آ گیا۔ ان حالات کے ساتھ یہ رعب و داب کہ حضرت خالد کو عین اس وقت جب تمام عراق و شام میں لوگ ان کا کلمہ پڑھنے لگے تھے ، معزول کر دیا تو کسی نے دم نہ مارا اور خود حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی قسم کا خیال دل میں نہ لا سکے۔ امیر معاویہ اور عمرو بن العاص کی شان و شوکت محتاج بیان نہیں۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام سے ان کو لرزہ آتا تھا۔ عمرو بن العاص کے بیٹے عبد اللہ نے ایک شخص کو بے وجہ مارا پیٹا تھا۔ عمرو بن العاص کے سامنے ان کو اسی مضروب کے ہاتھ سے کوڑے لگوائے اور باپ بیٹے دونوں عبرت کا تماشا دیکھتے رہے ۔ سعد بن ابی وقاص فاتح ایران کو معمولی شکایت پر جواب دہی میں طلب کیا تو ان کے بے عذر حاضر ہونا پڑا۔
ان واقعات سے ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سیاست و تدبیر کے فن میں جو کمال حاصل تھا۔ کسی مدبر اور فرمانروا کے حالات میں اس کی نظیر نہیں مل سکتی۔ ان کی حکومت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی۔ آئین حکومت میں شاہ و گدا، شریف و رذیل، عزیز و بیگانہ سب کا ایک رتبہ تھا۔
*عدل وانصاف ۔ چند واقعات:*
==================
جبلہ بن الایہم غسانی، شام کا مشہور رئیس بلکہ بادشاہ تھا اور مسلمان ہو گیا۔ کعبہ کے طواف میں اس کی چادر کا گوشہ ایک شخص کے پاؤں کے نیچے آ گیا۔ جبلہ نے اس کے منہ پر تھپڑ کھینچ مارا۔ اس نے بھی برابر جواب دیا۔ جبلہ غصے سے بے تاب ہو گیا اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی شکایت سن کر کہا ” تم نے جو کچھ کیا اس کی سزا پائی” اس کو سخت حیرت ہوئی اور کہا کہ “ہم اس رتبہ کے لوگ ہیں کہ کوئی ہمارے آگے گستاخی سے پیش ہو تو قتل کا مستحق ہوتا ہے۔ ”
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا “جاہلیت میں ایسا ہی تھا لیکن اسلام نے پست و بلند کو ایک کر دیا” اگر اسلام ایسا مذہب ہے جس میں شریف و رذیل کی کچھ تمیز نہیں، تو میں اسلام سے باز آتا ہوں۔ غرض وہ چھپ کر قسطنطنیہ چلا گیا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی خاطر سے قانون انصاف کو بدلنا گوارا نہیں کیا۔
ایک دفعہ ملک کے عہدیداروں کو حج کے زمانے میں طلب کیا، اور مجمع عام میں کھڑے ہو کر کہا کہ جس کو ان لوگوں سے شکایت ہو پیش کرے۔ اس مجمع میں عمرو بن العاص گورنر مصر اور بڑے بڑے مرتبہ کے حکام اور عمال موجود تھے۔ ایک شخص نے اٹھ کر کہا کہ فلاں عامل نے بے وجہ مجھ کو سو درے مارے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اٹھ اور اپنا بدلہ لے۔ عمرو بن العاص نے کہا امیر المومنین اس طریق عمل سے تمام عمال بے دل ہو جائیں گے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ” تاہم ایسا ضرور ہو گا” یہ کہہ کر پھر مستغیث کی طرف متوجہ ہوئے کہ ” اپنا کام کر “۔ آخر عمرو بن العاص نے مستغیث کو اس بات پر راضی کیا کہ وہ دو سو دینار لے لے اور اپنے دعویٰ سے باز آ جائے۔
ایک دفعہ سرداران قریش ان سے ملاقات کو آئے۔ اتفاق سے ان لوگوں سے پہلے صہیب، بلال، عمار وغیرہ بھی ملاقات کے منتظر تھے۔ جن میں اکثر آزاد شدہ غلام تھے اور دنیاوی حیثیت سے معمولی درجہ کے لوگ سمجھے جاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اول انہی لوگوں کو بلایا اور سرداران قریش باہر بیٹھے رہے۔ ابو سفیان جو زمانہ جاہلیت میں تمام قریش کے سردار تھے۔ ان کو یہ امر سخت ناگوار گزرا اور ساتھیوں سے خطاب کر کے کہا کہ ” کیا خدا کی قدرت ہے۔ غلاموں کو دربار میں جانے کی اجازت ملتی ہے اور ہم لوگ باہر بیٹھے انتظار کر رہے ہیں۔ ابو سفیان کی یہ حسرت اگرچہ ان کے اقران کے مذاق کے مناسب تھی تاہم ان میں کچھ حق شناس بھی تھے۔ ایک نے کہا ” بھائیو سچ یہ ہے کہ ہم کو عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نہیں بلکہ اپنی شکایت کرنی چاہیے۔ اسلام نے سب کو ایک آواز سے بلایا۔ لیکن جو اپنی شامت سے پیچھے پہنچے وہ آج بھی پیچھے رہنے کے مستحق ہیں (کتاب الخراج صفحہ 66)۔
قادسیہ کے بعد جب تمام قبائل عرب اور صحابہ کی تنخواہیں مقرر کیں تو بڑے رشک و منافرت کا موقع پیش آیا۔ سرداران قریش اور معزز قبائل کے لوگ جو ہر موقع پر امتیاز کے خوگر تھے بڑے دعوے کے ساتھ منتظر رہے کہ تنخواہ کے تقرر میں حفظ مراتب کا خیال کیا جائے گا اور فہرست میں ان کے نام سب سے پہلے نظر آئیں گے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے تمام خیالات غلط کر دیئے۔ انہوں نے دولت و جاہ، زور قوت، ناموری و شہرت، اعزاز و امتیاز کی تمام خصوصیتوں کو مٹا کر صرف اسلامی خصوصیت قائم کی اور اسی اعتبار سے تنخواہ کم و بیش مقرر کیں۔ جو لوگ اول اسلام لائے تھے یا جہاد میں کارہائے نمایاں کئے تھے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ خصوصیت رکھتے تھے ان کو غیروں پر ترجیح دی جو ان خصوصیتوں میں برابر درجے پر تھے۔ ان کی تنخواہیں برابر مقرر کیں۔ یہاں تک کہ غلام اور آقا میں کچھ فرق نہ رکھا۔ حالانکہ عرب میں غلام سے بڑھ کر کوئی گروہ خوار و ذلیل نہ تھا۔ اسی موقع پر اسامہ بن زید کی تنخواہ جب اپنے بیٹے سے زیادہ مقرر کی تو انہوں نے عذر کیا کہ واللہ کسی موقع پر مجھ سے آگے نہیں رہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، ہاں! لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اسامہ کو تجھ سے زیادہ عزیز رکھتے تھے۔
اہل عرب کا شعار تھا کہ لڑائیوں میں فخریہ اپنے اپنے قبیلہ کی جے پکارا کرتے تھے۔ اس فخر کو مٹانے کے لئے تمام فوجی افسروں کو لکھ بھیجا کہ جو لوگ ایسا کریں ان کو سخت سزا دی جائے ” ایک دفعہ ایک شخص نے جو ضبہ کے قبیلہ سے تھا لڑائی میں یا آل ضبہ کا نعرہ لگایا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر ہوئی تو سال بھر کے لئے اس کی تنخواہ بند کر دی۔ اس قسم کے اور بہت سے واقعات تاریخوں میں ملتے ہیں (فتوح البلدان صفحہ 456)۔
اسی اصول مساوات کی بنا پر وہ کسی شخص کے لئے کسی قسم کا امتیاز پسند نہیں کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے مصر کی جامع مسجد میں منبر بنایا تو لکھ بھیجا کہ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ اور مسلمان نیچے بیٹھے ہوں اور تم اوپر بیٹھو۔ ” عمال کو ہمیشہ تاکیدی احکام بھیجتے رہتے تھے کہ کسی طرح کا امتیاز اور نمود اختیار نہ کریں۔
ایک دفعہ ابی بن کعب ؓ سے کچھ نزاع ہوئی۔ زید بن ثابتؓ کے ہاں مقدمہ پیش ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس گئے تو انہوں نے تعظیم کے لئے جگہ خالی کر دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یہ پہلی نا انصافی ہے جو تم نے اس مقدمہ میں کی۔ ” یہ کہہ کر اپنے فریق کے برابر بیٹھ گئے۔
یہی بھید تھا کہ طرز معاشرت نہایت سادہ اور غریبانہ رکھی تھی۔ سفر و حضر میں جلوت و خلوت میں مکان اور بازار میں کوئی شخص ان کو کسی علامت سے پہچان نہیں سکتا تھا کہ یہ خلیفہ وقت ہیں۔ قیصر و کسریٰ کے ایلچی مسجد نبوی میں آ کر ڈھونڈتے رہے کہ شاہنشاہ اسلام کہاں ہیں۔ حالانکہ شاہنشاہ وہیں پیوند لگے کپڑے پہنے کسی ایک گوشہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے عمال ان کو اسی برابر کے القاب سے خط لکھتے جس طرح وہ عمال کو لکھا کرتے تھے۔
اس اصول انصاف سے اگرچہ کچھ خاص آدمی جن کے ادعائے شان کو صدمہ پہنچتا تھا۔ دل میں مکدر ہوتے تھے۔ لیکن چونکہ یہ عرب کا اصلی مذاق تھا۔ اس لئے عام ملک پر اس کا نہایت عمدہ اثر ہوا اور تھوڑے ہی دنوں میں تمام عرب گرویدہ ہو گیا۔ خواص میں بھی جو حق شناس تھے وہ روز بروز معترف ہوتے گئے اور جو بالکل خود پرست تھے وہ بھی میلان عام کے مقابلے میں اپنی خود رائی کے اظہار کی جرات نہ کر سکے۔
اس اصول کے عمل میں لانے سے بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قبائل عرب میں جو انہی بے ہودہ مفاخر کی بناء پر آپس میں لڑتے رہتے تھے اور جس کی وجہ سے عرب کا سارا خطہ ایک میدان کارزار بن گیا تھا، ان کی باہمی رقابت اور مفاخرت کا زور بالکل گھٹ گیا۔
جاری ہے…












