عہد خلافت راشدہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
(قسط نمبر 30) تحریر و پیشکش محمد نوید

حضرت_عمرؓ_نے_امیرالمؤمنین_کا_لقب_کیوں_اختیار_کیا:؟*
====================================

اس موقع پر یہ بتا دینا ضروری ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اصول مساوات کے ساتھ اپنے لئے امیر المومنین کا پُر فخر لقب کیوں ایجاد کیا۔ اصل یہ ہے کہ اس زمانے تک یہ لقب کوئی فخر کی بات نہیں سمجھی جاتی تھی۔ بلکہ اس سے صرف عہدہ اور خدمت کا اظہار ہوتا تھا۔ افسران فوج عموماً امیر کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ کفارِ عرب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو امیر مکہ کہا کرتے تھے۔ حضرت سعد بن وقاص کو عراق میں لوگوں نے امیر المومنین کہنا شروع کر دیا تھا (مقدمہ ابن خلدون فصل فی اللقب بامیر المومنین)۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس لقب کا خیال تک نہ تھا۔ اس کی ابتدا یوں ہوئی کہ ایک دفعہ لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم مدینہ میں آئے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہا۔ قاعدہ کے موافق اطلاع کرائی اور چونکہ کوفہ میں رہ کر امیر المومنین کا لفظ ان کی زبان پر چڑھا ہوا تھا، اطلاع کرتے وقت یہ کہا کہ امیر المومنین کو ہمارے آنے کی اطلاع کر دو۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے اطلاع کی اور یہی خطاب استعمال کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس خطاب کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے کیفیت واقعہ بیان کی۔ اس لقب کو پسند کیا اور اسی تاریخ سے اس کو شہرت عام ہو گئی (“ادب المفرد” امام بخاری مطبوعہ آرہ صفحہ 184 )

اس موقع پر ممکن ہے کہ کسی کوتاہ نظر کو یہ خیال ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت سے اگر کسی قسم کا جاہ و اعزاز مقصود نہ تھا تو انہوں نے خلافت اختیار کیوں کی؟ بے غرضی کا یہ اقتضا تھا کہ وہ اس خوان نعمت کو ہاتھ ہی نہ لگاتے لیکن یہ خیال محض عامیانہ ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے شبہ خلافت سے ہاتھ اٹھاتے لیکن دوسرا کون تھا جو اس کو سنبھال لیتا؟ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قطعی طور سے جانتے تھے کہ یہ بار گراں ان کے سوا کسی سے اٹھ نہیں سکتا! کیا ایسے وقت میں ان کی راست بازی کا یہ تقاضا تھا کہ وہ دیدہ دانستہ لوگوں کی بد گمانیوں کے خیال سے خلافت سے دستبردار ہو جاتے اگر وہ ایسا کرتے تو خدا کو کیا جواب دیتے ؟ انہوں نے اسی دن خطبہ میں کہہ دیا تھا کہ۔

*لو لا رجائی ان اکون خیر کم لکم و اقوا کم علیکم و اشد کم اطلاعاً بماینوب من مھم امر کم ماتولیت ذلک منکم۔*

*یعنی ” اگر مجھ کو یہ امید نہ ہوتی کہ میں تم لوگوں کے لئے سب سے زیادہ کارآمد سب سے زیادہ قومی اور مہمات امور کے لئے سب سے زیادہ قوی بازو ہوں تو میں اس منصب کو قبول نہ کرتا۔ “*

اس سے زیادہ صاف وہ الفاظ ہیں جو امام محمد نے مؤطا میں روایت کئے ہیں۔

*او علمت ان احداً اقوی علیٰ ھذا الا مرمنی لکان ان اقدم فیضرب عنقی اھون علی۔*
(کتاب مذکور مطبوعہ مصطفائی صفحہ 164)۔

*یعنی ” اگر میں جانتا کہ کوئی شخص اس کام (خلافت) کے لئے مجھ سے زیادہ قوت رکھتا ہے تو خلافت قبول کرنے کی بہ نسبت میرے نزدیک زیادہ آسان تھا کہ میری گردن مار دی جائے۔ “*

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ان الفاظ پر غور کریں اور دیکھیں کہ اس کا ایک حرف بھی صحت اور واقعیت سے ہٹا ہوا ہے ؟

۔۔۔
==================> جاری ہے

*عہدہ دارانِ سلطنت کا عمدہ انتخاب:*
=========================

یہ بات عموماً مسلم ہے کہ جوہر شناسی کی صفت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں سب سے بڑھ کر تھی۔ اس کے ذریعہ سے انہوں نے تمام عزت کے قابل آدمیوں اور ان کی مختلف قابلیتوں سے واقفیت پیدا کی تھی اور انہی قابلیتوں کے لحاظ سے ان کو مناسب عہدے دیئے تھے۔ سیاست و انتظام کے فن میں تمام عرب میں چار شخص اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔ حضرت امیر معاویہؓ، حضرت عمرو بن العاصؓ، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ، زیاد بن سمیہ۔ چنانچہ ان سب کو بڑی بڑی ملکی خدمتیں سپرد کیں اور درحقیقت ان لوگوں کے سوا شام و کوفہ و مصر پر اور کوئی شخص قابو نہیں رکھ سکتا تھا۔

جنگی مہمات کے لئے عیاض بن غنم، سعد بن وقاص، حضرت خالد، نعمان بن مقرن وغیرہ کو انتخاب کیا۔ عمرو بن معدی کرب اور طلحہ بن خالد اگرچہ پہلوانی اور سپہ گری میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے لیکن فوج کو لڑا نہیں سکتے تھے۔ اس لئے ان دونوں کی نسبت حکم دے دیا کہ ان کو کسی حصہ فوج کی افسری نہ دی جائے۔ زید بن ثابت و عبد اللہ بن ارقم انشاء و تحریر میں مستثنیٰ تھے۔ ان کو میر منشی مقرر کیا۔ قاضی شریح، کعب بن سور، سلمان بن ربیعہ، عبد اللہ بن مسعود فصل قضایا میں ممتاز تھے۔ ان کو قضا کی خدمت دی۔

غرض یہ کہ جس کو جس کام پر مقرر کیا وہ گویا اسی کے لئے پیدا ہوا تھا۔ اس امر کا اعتراف دیگر قوموں کے مؤرخوں نے بھی کیا ہے۔ ایک مشہور عیسائی مؤرخ لکھتا ہے کہ ” عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فوج کے سرداروں اور گورنروں کا انتخاب بلا رد و رعایت کیا اور مغیرہ و عمار کو چھوڑ کر باقی سب کا تقرر نہایت مناسب اور موزوں ہوا۔ ”

سیاست اور پالیٹکس حکومت اور سلطنت کا لازمہ ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس باب میں تمام دنیا پر جو امتیاز حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اور بادشاہوں نے پالیٹکس کی ضرورت سے جو جو کام کیے ان کا نام واقعی خدع، مکر، فریب، ظاہر داری اور نفاق تھا۔ بادشاہوں پر موقوف نہیں بڑے بڑے رفارمر اس شائبہ سے خالی نہیں ہوتے تھے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کسی کارروائی پر فریب اور حکمت عملی کا نقاب نہیں ہوتا تھا۔ وہ جو کچھ کرتے تھے اعلانیہ کرتے تھے۔ اور لوگوں کو صاف صاف اس کی مصلحت سے واقف کر دیتے تھے۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو معزول کیا تو تمام اضلاع میں فرمان بھیج دیا کہ ؛

انی لم اعزل خالد اعن سخطۃ ولا خیانۃ ولکن الناس فتنوابہ فخفت ان یو کلوا الیہ۔

یعنی ” میں نے خالد کو ناراضی یا خیانت کے جرم میں نہیں موقوف کیا بلکہ اس وجہ سے کہ لوگ ان کی طرف زیادہ مائل ہوتے تھے، اس لئے میں ڈرا کہ ان پر بھروسہ نہ کر لیں۔ ”

مثنیٰ کی معزولی کے وقت بھی ایسے ہی خیالات ظاہر کئے اور فرمایا :

لم اعزلھما عن ربیۃ ولکن الناس عظمو ھمافخشیت ان یو کلوا الیھما۔ (طبری صفحہ 2538)۔

بنو ہاشم کو جس وجہ سے ملکی خدمتیں نہیں دیں، حضرت عبد اللہ بن عباس سے صاف اس کی وجہ بیان کر دی۔ چنانچہ ایک دوسرے موقع پر اس کی تفصیل آئے گی۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حسن سیاست کا ایک بڑا کارنامہ اور ان کی کامیابی کا بہت بڑا سبب یہ ہے کہ انہوں نے حکومت و انتظام کی کل میں نہایت موزوں پرزے استعمال کئے تھے۔

سب سے بڑی چیز جس نے ان کی حکومت کو مقبول عام بنایا اور جس کی وجہ سے اہل عرب ان کے سخت احکام کو بھی گوارا کر لیتے تھے ، یہ تھی کہ ان کا عدل و انصاف ہمیشہ بے لاگ رہا۔ جس میں دوست دشمن کی کچھ تمیز نہ تھی۔ ممکن تھا کہ لوگ اس بات سے ناراض ہوتے کہ وہ جرائم کی پاداش میں کسی کی عظمت و شان کا مطلق پاس نہیں کرتے لیکن جب وہ دیکھتے تھے کہ خاص اپنی آل و اولاد اور عزیز و اقارب کے ساتھ بھی ان کا یہی برتاؤ ہے تو لوگوں کو صبر آ جاتا تھا۔
ان کے بیٹے ابو شحمہ نے جب شراب پی تو خود اپنے ہاتھ سے اسے 80/ کوڑے مارے۔(ابو شحمہ کے قصے میں واعظوں نے بڑی رنگ آمیزیاں کی ہیں۔ لیکن اس قدر صحیح ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو شرعی سزا دی ۔ (دیکھو معارف قتیبہ ذکر اولاد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ)۔ قدامۃ بن مظعون جو ان کے سالے اور بڑے رتبے کے صحابی تھے۔ جب اسی جرم میں ماخوذ ہوئے تو علانیہ ان کو 80/ درے لگوائے۔

*اپنی اور قدیم سلطنتوں کے حالات وانتظامات سے واقفیت:*
=======================================

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیاست کا ایک بڑا اصول یہ تھا کہ قدیم سلطنتوں اور حکمرانوں کے قواعد اور انتظامات سے واقفیت پیدا کرتے تھے اور ان میں جو چیزیں پسند کے قابل ہوتی تھیں، اس کو اختیار کرتے تھے۔ خراج عشور، دفتر رسد، کاغذات، حساب ان تمام انتظامات میں انہوں نے ایران اور شام کے قدیم قواعد پر عمل کیا۔ البتہ جہاں کوئی نقص پایا اس کی اصلاح کر دی۔

عراق کے بندوبست کا جب ارادہ کیا تو حذیفہ اور عثمان بن حنیف کے نام حکم بھیجا کہ عراق کے دو بڑے زمینداروں کو میرے پاس بھیج دو۔ چنانچہ یہ زمیندار مع مترجم کے ان کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ سلاطین عجم کے ہاں مال گزاری کی تشخیص کا کیا طریقہ تھا۔ (کتاب الخراج صفحہ 21)۔

جزیہ حالانکہ بظاہر مذہبی لگاؤ رکھتا تھا۔ تاہم اس کی تشخیص میں وہی اصول ملحوظ رکھے جو نوشیرواں نے اپنی حکومت میں قائم کئے تھے۔ علامہ ابو جعفر محمد بن جریر طبری نے جہاں نوشیرواں کے انتظامات اور بالخصوص جزیہ کا ذکر کیا ہے وہاں لکھا ہے کہ:

و ھی الوضائع التی اقتدیٰ بھا عمر بن الخطاب حین افتتح بلا دالفرس۔

” یعنی یہ وہی قاعدے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب فارس کا ملک فتح کیا تو ان کی اقتداء کی۔ ”

اس سے زیادہ صاف اور مصرح، علامہ ابن مسکویہ نے اس مضمون کو لکھا ہے ، علامہ موصوف نے جو حکیم اور فلسفی اور شیخ بو علی سینا کے معاصر و ہم پایہ تھے تاریخ میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ” تجار الامم ہے (تاریخ طبری صفحہ 122) (یہ کتاب قسطنسنیہ کے کتب خانہ مسجد اما صوفیا میں موجود ہے اور میں نے اسی نسخہ سے نقل کیا ہے )۔ اس میں جہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتظامات ملکی کا ذکر کیا، لکھا ہے کہ :

و کان عمر یکثر الخلوۃ بقوم من الفرس یقرئون علیہ سیاسات الملوک ولا سیما ملوک العجم الفضلا ولا سیما النوشروان و انۃ کان معجا بھا کثیر الاقتدا بھا۔

” یعنی عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فارس کے چند آدمیوں کو صحبت خاص میں رکھتے تھے ، یہ لوگ ان کو بادشاہوں کے آئین حکومت پڑھ کر سنایا کرتے تھے۔ خصوصاً شاہان عجم اور ان میں بھی خاص کر نوشیروان کے اس لئے کہ ان کو نوشیروان کے آئین بہت پسند تھے اور وہ ان کی بہت پیروی کرتے تھے۔ ”
علامہ موصوف کے بیان کی تصدیق اس سے بھی ہوتی ہے کہ عموماً مؤرخوں نے لکھا ہے کہ جب فارس کا رئیس ہرمزان اسلام لایا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو اپنے خاص درباریوں میں داخل کر لیا اور انتظامات ملکی کے متعلق اس سے اکثر مشورہ لیتے رہتے تھے۔

*واقفیت حالات کے لئے پرچہ نویس اور واقعہ نگار:*

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بڑی کوشش اس بات پر مبذول رہتی تھی کہ ملک کا کوئی واقعہ ان سے مخفی نہ رہنے پائے۔ انہوں نے انتظامات ملکی کے ہر صیغہ میں پرچہ نویس اور واقعہ نگار مقرر کر رکھے تھے۔ جس کی وجہ سے ملک کا ایک ایک جزئی واقعہ ان تک پہنچتا تھا۔ امام طبری لکھتے ہیں۔

و کان عمر لا یخفی علیہ شی فی عملہ کتب الیہ من العراق بخروج من خرج و من الشام بجایزۃ من اجیز فیھا۔

“یعنی عمر پر کوئی بات مخفی نہیں رہتی تھی۔ عراق میں جن لوگوں نے خروج کیا اور شام میں جن لوگوں کو انعام دیئے گئے سب تحریری اطلاعیں ان کو پہنچیں۔ ”

عراق کے ایک معرکہ میں سردار لشکر نے عمرو بن معدی کرب کو دوسرا حصہ نہیں دیا۔ عمرو معدی کرب نے وجہ پوچھی۔ انہوں نے کہا کہ تمہارا گھوڑا دوغلا ہے اس لئے اس کا حصہ کم ہو گیا۔ معدی کرب کو اپنی پہلوانی کا غرور تھا۔ بولے کہ ہاں، دوغلا ہی دوغلے کو پہچان بھی سکتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فوراً خبر ہوئی۔ عمرو معدی کرب کو سخت تنبیہ کی جس کی وجہ سے ان کو آئندہ پھر ایسی گستاخی کی جرات نہیں ہوئی۔ نعمان بن عدی میسان کے حاکم تھے۔ دولت و نعمت کے مزے میں پڑ کر انہوں نے اپنی بی بی کو ایک خط لکھا جس میں یہ شعر بھی تھا۔
لعل امیر المومنین یسوؤہ تنادمنا الجوسق المتھدم
“غالباً امیر المومنین کو خبر پہنچے گی تو وہ برا مانیں گے کہ ہم لوگ محلوں میں رندانہ صحبتیں رکھتے ہیں۔ ”
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فوراً خبر ہوئی اور ان کو معزول کر کے لکھا کہ ہاں مجھ کو تمہاری یہ حرکت ناگوار گزری۔ (اسد البالغہ ذکر نعمام بن عدی)۔

صحابہ میں حضرت حذیفہ بن الیمانؓ ایک بزرگ تھے جس کو اکثر مخفی باتوں کا پتہ لگ جاتا تھا۔ عہد نبوت میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے محرم راز تھے اور اسی وجہ سے صاحب السر کہلاتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دن ان سے پوچھا کہ منافقین کا جو گروہ ہے ان میں سے کوئی شخص میرے عمالوں اور عہدہ داروں میں بھی ہے ، انہوں نے کہا، ہاں ایک شخص ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نام پوچھا لیکن انہوں نے راز داری کے لحاظ سے نام نہیں بتایا۔ حضرت حذیفہ کا بیان ہے کہ اس واقع کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کو معزول کر دیا۔ جس سے میں نے قیاس کیا کہ انہوں نے خود پتہ لگا لیا۔ (اسد الغابہ ذکر حذیفہ بن الیمان)۔ اسی تفحص اور بیدار مغزی کا اثر تھا کہ تمام افسر اور عمال ان کے مشورہ کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتے تھے۔ علامہ طبری لکھتے ہیں۔

و کانو کاید عون شیئا ولا یاتونہ الاوامر وہ ففہ (طبری صفحہ 2487)۔

“یعنی لوگ کوئی کام ان سے بغیر دریافت کئے نہیں کرتے تھے۔ ”

==================> جاری ہے ۔۔۔