خلافت فاروقی کے کارنامے
(قسط نمبر 28) تحریر و پیشکش محمد نوید
ذمیوں_کے_حقوق_اعتراضات_کا_جائزہ
===========================
اس مسئلے کو مخالف اس طرح بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذمیوں کے حق میں یہ حکم دیا کہ وضع اور لباس وغیرہ میں کسی طرح مسلمانوں کی تشبہ نہ کرنے پائیں۔ کمر میں زنار باندھیں۔ لمبی لمبی ٹوپیاں پہنیں۔ گھوڑوں پر کاٹھی نہ کسیں۔ نئی عبادت گاہیں نہ بنائیں، شراب اور سور نہ بیچیں، ناقوس نہ بجائیں۔ صلیب نہ نکالیں۔ بنو تغلب کو یہ بھی حکم تھا کہ اپنی اولاد کو اصطباغ نہ دینے پائیں۔ ان سب باتوں پر یہ مستزاد کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرب کی وسیع آبادی میں ایک یہودی یا عیسائی کو نہ رہنے دیا اور بڑے بڑے قدیم خاندان جو سینکڑوں برس سے عرب میں آباد تھے، جلا وطن کر دیئے۔ بلا شبہ یہ اعتراضات نہایت توجہ کے حامل ہیں اور ہم ان کے جواب دینے میں کسی قدر تفصیل سے کام لیں گے۔ کیونکہ ایک زمانہ دراز کے تعصب اور اندھی تقلید نے واقعیت کے چہرے پر بہت سے پردے ڈال دیئے ہیں۔
*لباس:*
یہ سچ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسلمانوں کو غیر قوموں کی مشابہت اور غیر قوموں کو مسلمانوں کی مشابہت سے روکتے تھے۔ لیکن اس سے فقط قومی خصوصیتوں کو قائم رکھنا مقصود تھا۔ لباس کی بحث میں تحقیق طلب امر یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذمیوں کو جس لباس کی پابندی کی تاکید کی تھی وہی لباس ذمیوں کا قدیم لباس تھا یا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کوئی نیا لباس بطور علامت تحقیر کے تجویز کیا تھا۔ جس شخص نے عجم کی تاریخ پڑھی ہے وہ یقیناً جان سکتا ہے کہ جس لباس کا یہاں ذکر ہے وہ عجم کا قدیم لباس تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا معاہدہ کنز العمال وغیرہ میں نقل کیا گیا ہے۔ اگرچہ راویوں نے اس کو بہت کچھ کم و بیش کر دیا ہے۔ تاہم جہاں ذمیوں کی طرف سے یہ اقرار مذکور ہے کہ ہم فلاں فلاں لباس نہ پہنیں گے، وہاں یہ الفاظ بھی ہیں ” و ان نلزم زینا حیث ما کنا (کنز العمال جلد 2 صفحہ 302) یعنی ہم وہی لباس پہنیں گے جو ہمیشہ سے پہنتے آئے ہیں۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ جس لباس کا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا وہ عجم کا قدیم لباس تھا۔
*زنار:*
زنار جس کا ذکر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان میں ہے اس کی نسبت اکثر نے غلطیاں کی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ انگلی برابر موٹا ایک قسم کا جنیو ہوتا تھا اور اس سے ذمیوں کی تحقیر مقصود تھی لیکن یہ سخت غلطی ہے۔ زنار کے معنی پیٹی کے ہیں۔ اور عرب میں یہ لفظ آج کل بھی اس معنی میں مستعمل ہے۔ پیٹی کو عربی میں منطقہ بھی کہتے ہیں۔ اور اس لحاظ سے زنار اور منطقہ مترادف الفاظ ہیں۔ ان دونوں الفاظ کا مترادف ہونا کتب حدیث سے ثابت ہے۔
کنز العمال میں بیہقی وغیرہ سے روایت منقول ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سردارن فوج کو یہ تحریری حکم بھیجا و تلزموھم المناطق یعنی الزنار۔ نیز اسی زنار کو کستچ بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ جامع صغیرہ وغیرہ میں بجائے زنار کے کستچ ہی لکھا ہے اور غالب خیال یہ ہے کہ یہ لفظ عجمی ہے۔ بہر حال اہل عجم قدیم سے کمر پر پیٹی لگاتے تھے۔
علامہ مسعودی نے کتاب التنبیہ والاشراف میں لکھا ہے کہ عجم کی اس قدیم عادت کی وجہ میں نے کتاب مروج الذہب میں لکھی ہے۔ ایک قطعی دلیل اس بات کی ہے کہ یہ لباس ذمیوں کا قدیم لباس تھا۔ خلیفہ منصور نے اپنے دربار کے لیے جو لباس قرار دیا تھا وہ قریب قریب یہی لباس تھا۔ لمبی ٹوپیاں جو نرسل کی ہوتی تھیں۔ وہی عجم کی ٹوپیاں تھیں۔ جس کا نمونہ پارسیوں کے سروں پر آج بھی موجود ہے۔ اس درباری لباس میں پیٹی بھی داخل تھی۔ اور یہ وہی زنار یا منطقہ یا کستچ ہے جو عجم کی قدیم وضع تھی۔ منصور کے اس مجوزہ لباس کی نسبت تمام مؤرخین عرب نے تصریح کی ہے کہ یہ عجم کی تقلید تھی۔ اب ہر شخص یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جس لباس کی نسبت تمام مؤرخین نے تصریح کی ہے وہ اگر کوئی جدید لباس تھا، اور ان کی تحقیر کے لیے ایجاد کیا گیا تھا تو خلیفہ منصور اس کو اپنا اور اپنے درباریوں کا لباس کیونکر قرار دے سکتا تھا۔
*صلیب اور ناقوس کی بحث:*
ذمیوں کو نئی عبادت گاہیں بنانے اور شراب بیچنے ، صلیب نکالنے ، ناقوس پھونکنے ، اصطباغ دینے سے روکنا بے شبہ مذہبی دست اندازی ہے لیکن میں بیباکانہ اس راز کی پردہ دری کرتا ہوں کہ یہ احکام جن قیود کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ و عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جاری کئے تھے وہ بالکل مناسب تھے لیکن زمانہ ما بعد کے مؤرخوں نے ان قیود کا ذکر چھوڑ دیا۔ اس وجہ سے ایک عالمگیر غلط فہمی پھیل گئی۔
صلیب کی نسبت معاہدے میں جو الفاظ تھے اس میں یہ قید تھی۔
ولا یرفعوا فی نادی اھل الاسلام صلیباً (کتاب الخراج صفحہ 80)۔
“یعنی مسلمانوں کی مجلس میں صلیب نہ نکالیں۔ ”
ناقوس کی نسبت یہ تصریح تھی یضربوا نواقیسھم فی ایۃ ساعۃ شائووا من الیل او نھار الا فی اوقات الصلوۃ (کتاب الخراج صفحہ 84)۔
یعنی ذمی رات دن میں جس وقت چاہیں ناقوس بجائے ، بجز نماز کے اوقات کے۔
سور کی نسبت یہ الفاظ تھے۔
ولا یخرجوا خنزیرا من منازلھم الہ افنیۃ المسلمین
یعنی ذمی سور کو مسلمان کے احاطے میں نہ لے جائیں۔
ان تصریحات کے بعد کس کو شبہ رہ سکتا ہے کہ صلیب نکالنا یا ناقوس بجانا عموماً منع نہ تھا۔ بلکہ خاص حالات میں ممانعت تھی اور ان خاص حالات میں آج بھی ایسی ممانعت خلاف انصاف نہیں کہی جا سکتی۔
*اصطباغ دینا:*
سب سے زیادہ قابل لحاظ امر بنی تغلب کے عیسائیوں کی اولاد کا اصطباغ دینا تھا اور یہ گویا اس بات کی حفاظت ہے کہ آئندہ وہ کوئی اور مذہب قبول نہ کرنے پائے۔ بے شبہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عام طور پر اس رسم کو روکنے کا کچھ حق نہ تھا۔ لیکن اس زمانے میں ایک نیا سوال پیدا ہوتا تھا۔ یعنی یہ کہ اگر عیسائی خاندان میں سے کوئی شخص مسلمان ہو جائے اور نابالغ اولاد چھوڑ کر مرے تو اس کی اولاد کس مذہب پر پرورش پائے گی؟ یعنی وہ مسلمان سمجھی جائے گی یا ان کے خاندان والوں کو جو عیسائی مذہب رکھتے ہیں یہ حق حاصل ہو گا۔ کہ اس کو اصطباغ دے کر عیسائی بنا لیں۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس صورت خاص کے لیے یہ قرار دیا کہ خاندان والے اس کو اصطباغ نہ دیں اور عیسائی نہ بنائیں اور یہ حکم بالکل قرین انصاف ہے۔ کیونکہ جب اس کا باپ مسلمان ہو گیا تو اس کی نابالغ اولاد بھی بظاہر مسلمان قرار پائے گی۔
علامہ طبری نے جہاں بنو تغلب کے واقعہ کا ذکر کیا ہے ، شرائط صلح میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں۔
علی ان لا ینصروا ولیداً ممن اسلم آباء ھم (طبری صفحہ 2423)
یعنی بنو تغلب کو اختیار نہ ہو گا کہ جن کے باپ مسلمان ہو چکے ہیں اس کو عیسائی بنا سکیں۔ ایک اور موقع پر یہ الفاظ ہیں۔ ان لا ینصروا اولادھم اذا اسلم ابائھم (طبری صفحہ 35)۔
یہاں شاید یہ اعتراض ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک فرضی صورت قائم کر کے معاہدہ کو سخت کیوں کیا۔ لیکن جواب یہ ہے یہ فرضی صورت نہ تھی بلکہ بنو تغلب میں بہت سے لوگ اسلام قبول کر چکے تھے، اس لیے ان کی خاص حالت کے لحاظ سے اس صورت کا ذکر ضروری تھا۔ بلکہ علامہ طبری نے صاف تصریح کی ہے کہ تغلب میں سے جو لوگ اسلام لا چکے تھے خود انہوں نے معاہدہ کے لیے یہ شرائط پیش کی تھیں۔
اب ہر شخص انصاف کر سکتا ہے کہ امن عام میں خلل نہ واقع ہونے کے لیے عیسائیوں کو اگرچہ یہ حکم دیا جائے کہ وہ مسلمانوں کی مجلس میں صلیب اور سور نہ لائیں۔ خاص نماز کے وقت ناقوس نہ بجائیں، نو مسلم کی اولاد کو اصطباغ نہ دیں تو کیا کوئی شخص اس کو تعصب مذہبی سے تعبیر کر سکتا ہے۔
*عیسائیوں کے جلاوطن کرنے اور جزیے کی بحث:*
================================
عیسائیوں اور یہودیوں کے جلا وطن کرنے کے معاملے میں حقیقت یہ ہے کہ یہودی کسی زمانہ میں مسلمانوں کی طرف سے صاف نہیں ہوئے۔ خیبر جب فتح ہوا، ان سے کہہ دیا گیا کہ جس وقت مناسب ہو گا تم کو یہاں سے نکال دیا جائے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ان کی شرارتیں زیادہ ظاہر ہوئیں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک دفعہ بالا خانہ سے دھکیل دیا۔ جس سے ان کے ہاتھ میں زخم آیا۔ مجبوراً حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عام مجمع میں کھڑے ہو کر ان کی شرارتیں بیان کیں۔ اور پھر ان کو عرب سے نکال دیا۔ چنانچہ صحیح بخاری، کتاب الشروط میں یہ واقعہ کسی قدر تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
نجران کے عیسائی یمن اور اس کے اطراف میں رہتے تھے۔ اور ان سے کچھ تعرض نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن انہوں نے چپکے چپکے جنگی تیاریاں شروع کیں۔ اور بہت سے گھوڑے اور ہتھیار مہیا کئے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صرف اس وقت ان کو حکم دیا کہ یمن چھوڑ کر عراق چلے جائیں۔ (کتاب الخراج صفحہ 42)۔
غرض یہ امر تمام شہادتوں سے قطعاً ثابت ہے کہ عیسائی اور یہودی پولیٹیکل ضرورتوں کی وجہ سے جلاوطن کئے گئے اور اس وجہ سے یہ امر کسی طرح اعتراض کے قابل نہیں ہو سکتا۔ البتہ لحاظ کے قابل یہ بات ہے کہ اس حالت میں بھی کس قسم کی رعایت ان کے ساتھ ملحوظ رکھی گئی۔ فدک کے یہودی جب نکالے گئے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک واقف کار شخص کو بھیجا کہ ان کی زمین اور باغوں کے قیمت کا تخمینہ کرے۔ چنانچہ متعینہ قیمت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیت المال سے ان کو دلوا دی۔ اسی طرح حجاز کے یہودیوں کو بھی ان کی زمین کی قیمت دلا دی۔ (فتوح البلدان صفحہ 29)۔
نجران کے عیسائیوں کو جب عرب کی آبادی سے نکال کر شام و عراق میں آباد کیا تو ان کے ساتھ نہایت فیاضانہ رعایتیں کیں۔ ان کو امن کا جو پروانہ دی اس میں یہ شرطیں لکھیں۔
1 – عراق یا شام جہاں بھی یہ لوگ جائیں وہاں کے افسر ان کی آبادی اور زراعت کے لیے ان کو زمین دیں۔
2 – جس مسلمان کے پاس یہ کوئی فریاد لے کر جائیں وہ ان کی مدد کرے۔ 24 مہینے تک ان سے مطلقاً جزیہ نہ لیا جائے۔
اس معاہدے پر احتیاط اور تاکید کے لحاظ سے بڑے بڑے صحابہ کے دستخط ثبت کرائے۔ چنانچہ قاضی ابو یوسف صاحب نے کتاب الخراج میں اس معاہدے کو بالفاظہا نقل کیا ہے۔ (کتاب مذکور صفحہ 41)۔
ایک ایسی قوم جس کی نسبت بغاوت اور سازش کے ثبوت موجود ہوں، اس کے ساتھ اس سے بڑھ کر اور کیا رعایت کی جا سکتی ہے۔ اب صرف جزیہ کا معاملہ رہ جاتا ہے۔ ہم نے اس بحث پر اگرچہ ایک مستقل رسالہ لکھا ہے اور وہ تینوں زبانوں (اردو، عربی، انگریزی) میں چھپ کر شائع ہو چکا ہے تاہم مختصر طور پر یہاں بھی لکھنا ضروری ہے۔
*جزیہ کی بحث:*
جزیہ کا موضوع اور مقصد، اگرچہ شروع اسلام ہی میں ظاہر کر دیا گیا تھا کہ وہ حفاظت کا معاوضہ ہے لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں یہ مسئلہ ایسا صاف ہو گیا ہے کہ احتمال کی بھی گنجائش نہیں رہی۔ اولاً تو انہوں نے نوشیروان کی طرح جزیہ کی مختلف شرحیں قائم کیں اور اس طریقہ سے گویا صاف بتا دیا کہ یہ کوئی نئی چیز نہیں بلکہ وہی نوشیروانی محصول ہے۔ اس کے علاوہ موقع بہ موقع عملی طور پر اس بات کو ظاہر کیا کہ وہ صرف حفاظت کا معاوضہ ہے۔ ہم پہلے پڑھ آئے ہیں کہ جب یرموک کے پرخطر معرکہ کے پیش آنے کی وجہ سے اسلامی فوجیں شام کے مغربی حصوں سے ہٹ آئیں۔ اور ان کو یقین ہو گیا کہ جن شہروں سے وہ جزیہ وصول کر چکے تھے یعنی حمص و دمشق وغیرہ، وہاں کے باشندوں کی حفاظت کا اب وہ ذمہ نہیں اٹھا سکتے تو جزیہ سے جس قدر رقم وصول ہوئی تھی سب واپس کر دی اور صاف کہہ دیا کہ اس وقت ہم تمہارے جان و مال کی حفاظت کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے۔ اس لیے جزیہ لینے کا بھی ہم کو کوئی حق نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ قطعی شہادت یہ ہے کہ جن لوگوں سے کبھی کسی قسم کی فوجی خدمت لی گئی ان کو باوجود ان کے مذہب پر قائم رہنے کے جزیہ معاف کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود سنہ 17 ہجری میں عراق کے افسروں کو لکھ بھیجا کہ۔
یستعینوا بمن احتاجوا الیہ من الا ساورۃ و یرفعوا عنھم الجزاء (طبری صفحہ 2497)۔
“یعنی فوجی سواروں میں سے جس سے مدد لینے کی ضرورت ہو اس سے مدد لے لو اور ان کا جزیہ چھوڑ دو۔ ”
یہاں تک کہ اگر کسی قوم نے صرف ایک دفعہ مسلمانوں کے ساتھ جنگ میں شرکت کی تو اس سال کا جزیہ اس کے لیے معاف کر دیا گیا۔ 22 ہجری میں جب آذربائیجان فتح ہوا تو اہل شہر کو یہ فرمان لکھ دیا گیا۔
و من حشر منھم فی سنۃ وضع عنہ جزاء تلک السنۃ
“یعنی جو لوگ کسی سال فوج کے ساتھ کام دیں گے، اس سال کا جزیہ ان سے نہیں لیا جائے گا۔ ”
اسی سال آرمینیہ کے رئیس شہزبزاز سے جو معاہدہ ہوا اس میں یہ الفاظ تھے :
و علی اھل آرمینیۃ ان ینفروا لکل غارۃ و ینفذو الکل امر ناب اولم ینب راہ الو الی صلاحا علی ان توضع الجزاء (طبری صفحہ 265)۔
اسی سنہ میں جرجان فتح ہوا اور فرمان میں یہ عبارت لکھی گئی :
ان لکم الذمۃ و علینا المنعۃ علی ان علیکم من الجزاء فی کل سنۃ علی قدر طاقتکم ومن استعنا بہ منکم فلہ جزاۂ فی معونۃ عوضا عن جزاۂ (ایضاً)۔
“یعنی ہم پر تمہاری حفاظت ہے اس شرط پر کہ ہر سال بقدر طاقت جزیہ ادا کرنا ہو گا۔ اور اگر تم سے اعانت لیں گے تو اس اعانت کے بدلہ جزیہ معاف ہو جائے گا۔ ”
غرض حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اقوال سے، معاہدوں سے، طرز عمل سے روز روشن کی طرح ظاہر ہو گیا ہے کہ جزیہ کا موضوع کیا تھا اور وہ کس غرض سے مقرر کیا تھا۔
جزیہ کا صرف فوجی مصارف پر محدود تھا۔ یعنی اس رقم سے صرف اہل فوج کے لیے خوراک لباس اور دیگر ضروریات مہیا کی جاتی تھیں۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جہاں جہاں جزیہ مقرر کیا اس کے ساتھ جنس اور غلہ بھی شامل کیا۔ مصر میں فی کس جزیہ کی تعداد دراصل چار دینار تھی۔ لیکن دو نقد اور باقی کے عوض گیہوں، روغن، زیتون، شہد، سرکہ لیا جاتا تھا۔ اور یہی اہل فوج کی خوراک تھی۔ البتہ آگے چل کر جب رسد کا انتظام مستقل طور پر ہو گیا تو کل جزیہ کی مقدار نقد کر دی گئی اور جنس کی بجائے چار دینار لیے جانے لگے۔ (فتوح البلدان صفحہ 216)۔
*غلامی کا رواج کم کرنا:*
================
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اگرچہ غلامی کو معدوم نہیں کیا اور شاید اگر کرنا بھی چاہتے تو نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اس میں شبہ نہیں کہ انہوں نے مختلف طریقوں سے اس کے رواج کو کم کر دیا۔ اور جس قدر قائم رکھا اس خوبی سے رکھا کہ غلامی غلامی نہیں بلکہ برادری اور ہمسری رہ گئی۔ عرب میں تو انہوں نے سرے سے اس کا استیصال کر دیا۔ اور اس میں ان کو اس قدر اہتمام تھا کہ عنان حکومت ہاتھ میں لینے کے ساتھ ہی پہلا کام جو کیا وہ یہ تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں قبائل مرتدہ میں جو لوگ لونڈی اور غلام بنائے گئے تھے سب آزاد کر دیئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ اصول قائم کر دیا کہ اہل عرب کبھی کسی کے غلام نہیں ہو سکتے۔ ان کا یہ قول منقول ہے : لایشترق عربی”۔یعنی عرب کا کوئی آدمی غلام نہیں ہو سکتا (کنز العمال میں امام شافعی کی روایت سے یہ قول منقول ہے۔ دیکھو کتاب مذکور صفحہ 312، جلد دوم)۔ اگرچہ بہت سے مجتہدین اور ائمہ فن نے ان کے اس اصول کو تسلیم نہیں کیا۔ (منتقی الاخبار لابن تیمیہ)۔
غیر قوموں کی نسبت وہ کوئی قاعدہ عام نہیں قائم کر سکے۔ جب کوئی ملک فتح ہوتا تھا تو اہل فوج ہمیشہ اصرار کرتے تھے کہ ملک کے ساتھ تمام رعایا ان کی غلامی میں دے دی جائے۔ ملک کی تقسیم میں تو جیسا کہ ہم اوپر لکھ آئے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے؛ قرآن مجید کے استدلال سے لوگوں کی زبان بندی کی لیکن غلامی کے لیے کوئی ایسا استدلال موجود نہ تھا۔ اس لیے وہ تمام اہل فوج کے خلاف نہیں کر سکتے تھے۔ تاہم اتنا کیا کہ عملاً غلامی کو نہایت کم کر دیا۔
جس قدر ممالک ان کے زمانے میں فتح ہوئے ان کی وسعت کئی ہزار میل تھی جس میں کروڑوں آدمی بستے تھے ، لیکن غلامی کا جہاں جہاں پتہ چلتا تھا وہ نہایت محدود اور گنتی کے ہیں جو بجائے خود مستقل مملکتیں ہیں۔ باوجود فوج کے اصرار کے ایک شخص بھی غلام نہیں بنایا گیا۔ یہاں تک کہ جب مصر کے بعض دیہات کے آدمی جو مسلمانوں سے لڑے تھے غلام بنا کر عرب میں بھیج دیئے گئے ، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کو جا بجا سے جمع کر کے مصر واپس بھیج دیا کہ ان کو غلام بنانا جائز نہ تھا۔ چنانچہ مؤرخ مقریزی نے ان دیہات کے نام اور اس واقعہ کو تفصیل سے لکھا ہے۔ شام کے شہروں میں بصریٰ، محل، طبریہ، دمشق، حمص، حمدان، عسقلان، انطاکیہ وغیرہ جہاں عیسائی بڑے زور و شور سے لڑے، غلامی کا بہت کم پتہ چلتا ہے۔ شاید شام میں صرف قیساریہ ایک جگہ ہے جہاں اسیران جنگ غلام بنائے گئے۔ فارس، خورستان، کرمان، جزیرہ وغیرہ میں خود معاہدہ صلح میں یہ الفاظ لکھ دیئے گے تھے کہ لوگوں کے جان و مال سے تعرض نہ ہو گا۔ صامغان، جندی، سابور، شیراز وغیرہ میں اس سے زیادہ صاف الفاظ تھے کہ: وہ لوگ گرفتار ہو کر لونڈی غلام نہ بنائے جائیں گے۔
مناذر میں باوجود اس کے کہ فوج نے اسیران جنگ کو غلام بنا کر ان پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حکم پہنچا کہ ان کو چھوڑ دو۔ اور خراج و جزیہ مقرر کر دو۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ حکم بھیجا کہ کوئی کاشتکار یا پیشہ ور غلام نہ بنایا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک اور طریقہ سے بھی اس رواج کو گھٹایا۔ یعنی یہ قاعدہ بنا دیا کہ جس لونڈی سے اولاد ہو جائے وہ خریدی اور بیچی نہیں جا سکتی جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ لونڈی نہیں رہتی۔ یہ قاعدہ خاص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایجاد ہے۔ ان سے پہلے اس قسم کی لونڈیوں کی برابر خرید و فروخت ہوتی تھی۔ چنانچہ مؤرخین نے محدثین نے جہاں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اولیات لکھے ہیں، اس قاعدے کو بھی لکھا ہے۔
غلاموں کی آزادی کا ایک اور طریقہ تھا۔ جس کو مکاتبہ کہتے ہیں یعنی غلام ایک معاہدہ لکھ دے کہ میں اتنی مدت میں اس قدر رقم ادا کروں گا۔ جب وہ زر معینہ ادا کر دیتا ہے تو وہ بالکل آزاد ہو جاتا ہے۔ یہ قاعدہ خود قرآن میں موجود ہے۔ فکاتبوھم ان علمتم فیھم خیراً۔ لیکن فقہاء اس حکم کو وجوبی نہیں قرار دیتے۔ یعنی آقا کو اختیار ہے کہ معاہدے کو قبول کرے یا نہ کرے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو وجوبی قرار دی۔ صحیح بخاری کتاب المکاتب میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے غلام سیرین نے مکاتبت کی درخواست کی۔ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار کیا۔ سیرین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کو درے لگائے۔ اور مذکورہ بالا آیت سند میں پیش کی۔ آخر انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مجبوراً ماننا پڑا۔
عام طور پر یہ مشہور ہے کہ جب فارس فتح ہوا تو یزد گرد شہنشاہ فارس کی بیٹیاں گرفتار ہو کر مدینہ میں آئیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عام لونڈیوں کی طرح بازار میں ان کے بیچنے کا حکم دیا لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے منع کیا کہ خاندان شاہی کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہیں۔ ان لڑکیوں کی قیمت کا اندازہ کرایا جائے۔ پھر یہ لڑکیاں کسی کے اہتمام اور سپردگی میں دی جائیں، اور اس سے ان کی قیمت اعلیٰ سے اعلیٰ شرح پر لی جائے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کو اپنے اہتمام میں لیا اور ایک امین کو، ایک محمد بن ابی بکر کو، ایک عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ کو عنایت کی۔
ربیع الابرار میں اس کو لکھا اور ابن خلقان نے امام زین العابدین کے حال میں یہ روایت اس کے حوالہ سے نقل کر دی لیکن یہ محض غلط ہے۔ اولاً توز مخشری کے سوا طبری ابن الاثیر، یعقوبی، بلاذری، ابن قتیبہ وغیرہ کسی نے اس واقعہ کو نہیں لکھا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں یزدگر اور خاندان شاہی پر مسلمانوں کو مطلق قابو نہیں ہوا۔ مدائن کے معرکے میں یزدگرد مع تمام اہل و عیال کے دارالسلطنت سے نکلا اور حلوان پہنچا۔ جب مسلمان حلوان پر بڑھے تو اصفہان بھاگ گیا اور پھر کرمان وغیرہ میں پھرتا رہا۔ مرو میں پہنچ کر سنہ 30 ہجری میں جو حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا زمانہ ہے مارا گیا۔ اس کی آل اولاد اگر گرفتار ہوئے ہوں گے تو اسی وقت گرفتار ہوئے ہوں گے۔ علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ مجھے یہ شبہ ہے کہ زمخشری کو یہ بھی معلوم تھا یا نہیں کہ یزدگرد کا قتل کس عہد میں ہوا۔
اس کے علاوہ جس وقت کا یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے اس وقت حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر 12 برس تھی۔ کیونکہ جناب ممدوح ہجرت کے پانچویں سال کے بعد پیدا ہوئے اور فارس سنہ 17 ہجری میں فتح ہوا۔ اس لیے یہ امر بھی کسی قدر مستبعد ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کی نابالغی میں ان پر اس قسم کی عنایت کی ہو گی۔
اس کے علاوہ ایک شہنشاہ کی اولاد کی قیمت نہایت گراں قرار پائی ہو گی اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت زاہدانہ اور فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے ، غرضیکہ کسی حیثیت سے اس واقعہ کی صحت کا گمان تک نہیں ہو سکتا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ میں اس قسم کا واقعہ جو مسلم طور پر ثابت ہے اس میں وہی برتاؤ کیا گیا۔ جو تہذیب و انسانیت کا مقتضا تھا اور جو آج بھی تمام مہذب ملکوں میں جاری ہے۔ عمرو بن العاص نے جب مصر پر چڑھائی کی تو اول بلیس پر حملہ ہوا۔ سخت لڑائی کے بعد مسلمانوں کو فتح ہوئی اور تین ہزار عیسائی گرفتار ہوئے۔ اتفاق سے مقوقس بادشاہ مصر کی بیٹی جس کا نام ارمانوسہ تھا یہیں مقیم تھی، وہ بھی گرفتار ہوئی۔
عمرو بن العاص نے اس کو نہایت عزت و احترام سے مقوقس کے پاس بھیج دیا اور مزید احتیاط کے لیے اپنے ایک سردار کو جس کا نام قیس بن ابی تھا ساتھ کر دیا کہ حفاظت کے ساتھ پہنچا آئے۔ (مقریزی جلد اول صفحہ 184)۔
==================> جاری ہے ۔۔۔












