علی امجد چوہدری مظلوم کی حقیقی آواز

تحریر غلام مصطفی بھٹہ احمد پور سیال

مثال مشہور ہے کہ خدا کسی سے رہنے کیلئے اس کی چھت نا کھینچے۔۔۔۔لیکن یہاں اس کے برعکس ہے فرعون صفت انسان جو خود کو خدا سمجھتے ہیں وہ یہاں عارضی طور جھونپڑیاں لگا کر رہنے والوں کو بھی ہنستا بستا خوش نہی دیکھ سکتے کیونکہ یہ محنت کش لوگ کسی کے ڈیرے پہ میزیں صاف نہی کرتے کسی کے حقہ تازہ نہی کرتے بے شک اپنی محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتے ہیں یقینا جب دو چک کی سرکاری زمین سے ان غریب اور محنت کش لوگوں کو خیمے اکھاڑ کے بے گھر کیا گیا تو علی امجد صاحب آپ ان فرعون صفت انسانوں کے آگے غریب کی حمایت میں موسی بن کر مظلوم کی آواز بنے بے شک آپ سے اختلاف سہی لیکن احمدپورسیال کی صحافت کی منڈیوں میں آپ واحد بیوپاری ہیں جو غریب کیلئے اپنی جان مال اور وقت سب کچھ لگا دیتے ہیں بے شک بدلے میں اپکو تنقید کے نشتر بھی سہنا پڑتے ہیں لیکن اس بات کو سر تسلیم خم کرتے ہوئے کہنا چاہتا ہون اللہ پاک نے اپکو بلند اخلاق ، بلند و بالا حوصلہ دیا ہے
👈کچھ دنوں پہلے غریب لوگوں کا ناجائز اور طاقت کی بنیاد پہ پانی بند کیا گیا یہ کوفہ مزاج لوگوں نے غریب عوام کے پانی کو چوری کیا ناجائز طور پہ وارا بندی کو بدلا لیکن آپ وہاں پہ بھی مشن حسین کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی چوری اور پانی کے بند کرنے اور پانی کے وارا کو ناجائز طریقے سے استعمال کرنے کے خلاف غریب کے حق میں آواز اٹھائی ۔۔۔

👈بلکل اسی طرح کہا جاتا ہے کاش کسی باپ کا کوئی جوان بیٹا جوانی میں قتل نا ہو بلکل آپ گڑھ مہاراجہ کے اس مظلوم باپ کی بھی آواز بنے جس کے ایک بیٹے کو جوانی میں مار دیا گیا اور دوسرے کی جان کے پیچھے وہ درندہ صفت انسان پڑے ہوئے ہیں
⁦🙏🏼⁩یقیناً آپ کے اب والی طرز صحافت پہ اختلاف ہے لیکن یہ بات بھی روز روشن کی طرح ایاں ہے کہ احمد پورسیال بلکہ ضلع جھنگ کی پوری صحافت کو اپکو نے ایک نیا رخ دیا اور جسطرح غریب کی حمایت میں اور مظلوم کی آواز کیلئے آپ نے پورے ضلع جھنگ میں آواز اٹھائی ہے کوئی اور صحافی ہے تو سامنے آئے خیر بہت سے واقعات ہیں جہاں آپ کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرنے کا دل کرتا ہے

🙋امید کرتا ہوں انشاء اللہ آپ اپنے پرانے طرز صحافت کو اپنائیں گے اور پھر سے ایک دفعہ اپنی ٹیم کے ساتھ ایک نئے اور اچھے انداز سے صحافت کے میدان کو ایک نیا رنگ دیں گے یقیناً جو کام کرتا ہے اسکی تعریف بھی ہوتی ہے اور تنقید بھی اسی کو سہنا پڑتی ہے

کیونکہ مثال مشہور اے اگر کوئی کلاس اچ ہووے وی کلا تے وت گھر آکے آکھے اماں میں آج کلاس اچ فرسٹ آیا😂😂 تو پھر یقیناً اسکی قابلیت کے کیا کہنے
لیکن ماشاءاللہ آپ کا تو مقابلہ ہی کسی سے نہی ہیں اگر اسطرح کہوں تو یقینا یہ بے جا نہی ہیں کہ کوئی آپکا مقابلہ کر ہی نہی سکتا

کیونکہ کبڈی دے میدان تو باہر کچھا پا کے تاڑیاں مارنا ہورگل اے تے کچھا پا کے میدان اچ کھیڈنا بہوں وڈی گل اے
تسی ماشاءاللہ اچھا کھیڈ رہے اس گل تے توانوں داد دیونڑا بنڑدی اے🌹🌹🌹🌹

بس تواڈا کم اے غریب تے مظلوم دی آواز بننا تے باقی حکمران جانڑن تے انتظامیہ۔۔۔۔۔

غلام مصطفیٰ جی ایم