ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رض “”
تحریر محمد راحیل معاویہ
عائشہ نام تھا-اپنے بھانجے عبداللہ بن زبیر کے تعلق سے ام عبداللہ کنیت تھی- اپنی کوئی اولاد نا تھی اس وجہ سے کنیت آپ رض کے بھانجے سے منسلک تھی –
ماں کا نام زینب اور ام رومان کنیت تھی –
بعثت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے چار برس بعد پیدا ہوئیں –
سن10نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح ہوا -اس وقت آپ رض کی عمر چھ سال تھی- آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جبیر بن مطعم کے صاحبزادے سے منسوب تھیں، حضرت خدیجہ رض کے انتقال پرملال کے بعد خولہ بنت حکیم نے نکاح کی تحریک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رضامندی ظاہر فرمائی، خولہ نے ام رومان سے کہا-
انہوں نے حضرت ابوبکر رض سے بات کی وہ بولے کہ میں جبیر بن مطعم سے وعدہ کرچکا ہوں اور میں “صدیق” وعدہ خلافی نہیں کرتا، لیکن جبیر بن مطعم نے خود انکار کردیا کہ اگر ان کے گھر صدیق کی بیٹی آگئی تو ان کے گھر اسلام کامظبوط قدم آجائے گا –
بعدازاں حضرت ابوبکر رض نے خولہ کے ذریعہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکاح کردیا، چار سو درہم حق مہر قرار پایا لیکن مسلم شریف میں سیدہ عائشہ صدیقہ رض سے روایت ہے کہ ازواج مطہرات کا مہر پانچ سو درہم ہوتا تھا-
9 برس کی عمر میں سہیلیوں کے ساتھ جھولا جھول رہی تھیں کہ ام رومان نے پاس بلایا منہ ہاتھ دھویا بال درست کیے –
چاشت کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور رسم عروسی ادا ہوئی –
شوال میں ہی نکاح اور شوال میں ہی رخصتی سے قدیم مکروہ خیال کو خیال کو مٹانے کے لیے کی گئی، قدیم زمانہ میں اس مہینہ میں طاعون آیا تھا اس لیے لوگ اس مہینہ میں شادی کرنا معیوب سمجھتے تھے –
سیدہ، طیبہ، طاہرہ، عفیفہ کائنات حضرت عائشہ صدیقہ رض کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کی پاکیزگی، طہارت و برات کے لیے اللہ پاک نے 17 آیات نازل فرما کر قرآن کا حصہ بنا دیں-
اور آپ رض کے بستر پر بھی وحی نازل ہوئی –
یہ اعزاز سیدہ عائشہ رض کو سب سے منفرد حاصل ہیں –
حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب تر تھیں، لیکن عام انسانوں جیسے اسباب محبت نا تھے، حسن و صورت میں حضرت صفیہ رض ان سے بڑھ کر تھیں اور کم سن بھی مگر حضرت عائشہ رض کی قابلیت’ذہانت ‘ قوت اجتہاد ‘ دقت نظر ‘ وسعت معلومات اور حاضر دماغی ایسے اوصاف تھے جو ان کی ترجیح کا اصلی سبب تھے –
بچپن میں حضرت عائشہ رض اپنی سہیلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پاس سے گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا عائشہ! ہاتھ میں کیا ہے؟
آپ رض نے بتایا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ گھوڑا ہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے کے تو پر نہیں ہوتے،
حضرت عائشہ رض نے فورا فرمایا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو سلیمان علیہ السلام والے گھوڑے کے بھی تھے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب سن کر مسکرا دیے اور حاضر دماغی کی داد دیے بناء نا رہ سکے-
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لائے اور فرمایا کہ عائشہ! تو مجھے ثرید سے زیادہ محبوب ہے،
حضرت عائشہ رض نے فورا جواب میں فرمایا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے مکھن میں شہد ملا کر کھانے سے زیادہ محبوب ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب سن کر مسکرا دیے اور فرمایا عائشہ تمہارا جواب مجھ سے بہتر ہے –
ایک دفعہ چند ازواج نے حضرت فاطمہ رض کو سفیر بنا کر بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جان پدر! کیا تم نہیں چاہتی کہ جسے میں چاہتا ہوں؟
آپ رض نے نے واپس جا کر فرمایا کہ میں ازواج مطہرات کے معاملہ میں دخل نا دوں گی،
اب اس سفارت کے لیے حضرت زینب رض منتخب کی گئیں کیونکہ انہیں خصوصیات کے ساتھ حضرت عائشہ رض کی ہمسری کا دعوی تھا،
انہوں نے یہ پیغام بڑی دلیری کے ساتھ ادا کیا اور بڑے زور و شور سے یہ ثابت کرنا چاہا کہ حضرت عائشہ رض اس رتبہ کی مستحق نہیں ہیں،
حضرت عائشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کی طرف خاموشی سے تکتی رہیں،
حضرت زینب رض جب تقریر کر چکیں تو حضرت عائشہ رض نے موقعہ پاکر اس قدر شاندار اور دلائل سے مزین گفتگو کی کی حضرت زینب رض لاجواب ہوگئیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نا ہو ابوبکر کی بیٹی ہے –
حضرت عمرو بن العاص رض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اے محبوب دو جہاں! آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا فرمایا کہ عائشہ رض-
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عائشہ! جب تو مجھ سے ناراض ہوتی ہے تو میں سمجھ جاتا ہوں،
آپ رض نے پوچھا وہ کیونکر؟ ارشاد ہوا جب تو خوش رہتی ہے اور قسم کھاتی ہے تو کہتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا کی قسم اور جب ناراض ہوجاتی ہے تو کہتی ہے کہ ابراہیم کے خدا کی قسم،
حضرت عائشہ رض نے فرمایا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں آپکو نہیں –
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش مبارک پر رخسار رکھ کر دیر تک کھیل دیکھتی رہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے کھڑے رہے،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا عائشہ ابھی تک سیر نہیں ہوئی؟
آپ رض نے فرمایا نہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تب تک آگے کھڑے رہے جب تک حضرت عائشہ رض تھک کر خود ہی نا ہٹ گئیں –
ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عائشہ! آو دوڑ میں مقابلہ کریں-
حضرت عائشہ رض دبلی پتلی تھیں آگے نکل گئیں پھر اگلی دور میں وزن زیادہ ہوگیا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے نکل گئے اور فرمایا کہ یہ اس دن کا جواب ہے-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رض کے ساتھ کھانا تناول فرماتے تھے
پیالہ کے جس حصہ سے حضرت عائشہ رض منہ لگا کر پانی پیتیں اسی حصہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم منہ لگا کر پانی نوش فرماتے-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے حضرت عائشہ رض کو آٹا گوندھنا سیکھایا تھا اور اکثر گھر کے کام میں آپ رض کا ہاتھ بٹاتے تھے-
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر کام میں سب سے مقدم دین اسلام تھا –
اس وجہ سے ازواج مطہرات میں بھی سب سے زیادہ منظور نظر وہی ہوتی تھی جو دین کی خدمت زیادہ سے زیادہ کرسکے –
ازواج مطہرات کو باریابی کا زیادہ موقعہ ملتا تھا وہ خلوت و خلوت کی شریک صحبت تھیں –
اس وجہ سے مذھبی احکام و مسائل کے علم و اطلاع کا بھی انہیں سب سے زیادہ موقعہ مل سکتا تھا-
لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ مسائل کو سمجھنے اور نکات شریعت کی تہ تک پہنچنے کی قابلیت جس قدر ہوگی اسی قدر دین کے سمندر میں غوطہ زن ہونا آسان بات تھی –
حضرت عائشہ رض مجتہدانہ دل و دماغ رکھتیں تھیں اسی لیے قربت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اس قدر فائدہ اٹھا سکیں کہ بڑے بڑے نازک اوردقیق مسائل میں اکابر صحابہ سے مخالفت کرتی تھیں اور انصاف بالائے اطاعت است اکثر مسائل میں ان کی فہم ودقت نظر کا پلہ بھاری نظر آتا تھا-
خلفاء راشدین کے زمانہ میں فتوی دیتی تھیں اکابر صحابہ پر انہوں نے دقیق اعتراضات کیے ہیں جن کو علامہ سیوطی رح نے ایک رسالہ میں جمع کیا ہے –
آپ رض سے 2210 روایات مروی ہیں –
ایک قول کے مطابق احکام شرعیہ کا چوتھائی حصہ ان سے منقول ہے-
صحابہ اکرام رض کے مشکل ترین مسائل حضرت عائشہ رض حل فرمایا کرتی تھیں –
ان کے شاگردوں کا بیان ہے کہ ہم نے ان سے زیادہ خوش تقریر نہیں دیکھا –
تفسیر، حدیث، اسرار شریعت، خطابت اور ادب و انساب میں ان کو کمال حاصل تھا-
شعراء کے بڑے بڑے قصیدے ان کو زبانی یاد تھے –
آپ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں حضرت عائشہ رض کے گھر تشریف لے گئے-
زندگی کی آخری چیز جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک میں گئی وہ عائشہ رض کی چبائی ہوئی لعاب زدہ مسواک تھی جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال فرمایا اور حضرت عائشہ رض کی گود میں سر رکھے رفیق اعلی کے پاس جا پہنچے-
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رض کے حجرہ میں دفن کیے گئے جو جنت کا ٹکڑا ٹھہرا-
حضرت عائشہ رض نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نو برس زندگی بسر کی –
نو سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رحلت فرمائی تو حضرت عائشہ رض کی عمر 18 سال تھی –
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عائشہ رض تقریبا 48 سال تک زندہ رہیں –
17 رمضان المبارک سن 56 ھجری میں وفات پائی اس وقت آپ رض کی عمر مبارک 66 سال تھی-
آپ رض کو آپ کی وصیت کے مطابق جنت البقیع میں رات کے وقت دفن کیا گیا-
مدینہ کے حاکم سیدنا ابوھریرہ رض نے نماز جنازہ پڑھائی-
قاسم بن محمد، عبداللہ بن عبدالرحمان، عبداللہ بن ابی عتیق، عبداللہ بن زبیر رض اور عروہ بن زبیر رض نے قبر میں اتارا-
سلام لاتے ہیں ہزاروں نوری تیرے ہی در پر اے امی عائشہ رض
تیرے مقدر کا تاقیامت نہیں کوئی کوئی ہمسر اے امی عائشہ رض –












