یا الہی یہ ماجرا کیا ہے؟؟؟؟
تحریر نوجوان لکھاری بلال سانول جنجوعہ
کچھ نہیں بولنا، کچھ نہیں کہنا، نہ لفظ ہیں نہ حروف….
کوئی ایسا جملہ نہیں جس کی ادائیگی سے موت کا لگا زخم مرہم بن سکے….
بات صرف ایک ہے اور وہ ہے…
انا للہ وانا الیہ راجعون….
بس یہ جملہ بس یہ بات اور ہاتھ میں کچھ نہیں بھیا….
ملکِ خداداد میں کچھ قوانین ہیں موت کے جو بھی ہو اسے اِن قوانین کے اندر رہتے ہوئے مرنا ہوگا، کوئی طبعی موت کا حقدار نہیں سب کو کسی نہ کسی کی غلطی کی بھینٹ چڑھنا ہے.
پہلا منظر :
موت کا بورڈ آویزاں ہوا کرونا پھیلنے لگا 300 کیسز ہوۓ تو پوری قوم کو خدا یاد آگیا ببانگِ دہل چھتوں دیواروں پہ کھڑے فرزندانِ ملت نے اذان پیکج دیا…. جب کیسز 40 ہزار سے زیادہ ہوۓ تو ٹرین، بس، پبلک ٹرانسپورٹ، بازار، حجام شاپ، شاپنگ مال اور کفن تقسیم کرتا ہوا چھ مرلے کا موتی بازار سب کچھ کھول دیا گیا…..
کیوں؟؟؟؟ ؟؟
خبردار کیوں، کیسے، کون کا صیغہ استعمال کیا….
ہم اہلیانِ جہالت نگر پسند نہیں کرتے ہمیں سمجھایا بھجایا جاۓ….
دوسرا منظر :
جہاز ایک سو لوگوں کو لے کر اڑے گا مطلب چھوٹی سی غلطی ایک سو گھرانے یتیم کردے گی…
اب جب کہ سائنس اس قدر ترقی کر چکی کہ کہیں غلطی کا امکان موجود نہیں رہ سکتا تو کیسے ممکن ہوا کہ جہاز موت کا اڑن کھٹولہ بنا…
کیا قومی ائیر لائن کے انجینیرز نے چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا ہوا تھا؟؟؟ کیا وہ طیارہ کلئیر نہیں تھا؟؟؟ کہیں کسی کو تو شک ہوا ہوگا یا کسی نے چیک ہی نہیں کیا ہوگا یہ کیسے ممکن ہوا کہ دونوں انجن خراب؟؟؟
اییکسکیوزمی آپ کو کس نے رائٹ دیا کہ آپ سوالات اٹھائیں؟؟؟ آج سے پہلے کسی طیارہ حادثہ پہ انوسٹیگیشن سامنے آئی ؟؟؟
نہیں سر مگر سر لوگ سوال کریں گے لوگ استعفیٰ مانگیں گے…
شٹ اپ کوئی سوال نہیں کرے گا نہ استعفیٰ مانگے گا…. ایک دن بعد سب ارتغرل بیگ کی ستائیسویں قسط میں مگن ہوں گے……
مگر سر….مگر…..؟؟؟؟ ؟؟؟؟
(بلال سانول)








