*درختوں پر چھلانگیں*
*ایک کہانی ہے کہ کسی جنگل کا بادشاہ شیر انتقال کرگیا . اب مزید جنگل میں کوئی شیر نہیں تھا ، تو سب جانوروں نے بادشاہ کے لیے فیصلہ کیا کہ بادشاہ ایسا ہونا چاھئے ۔ جو تیز چلاک ہوشیار اور سمجھدار ہو ۔ پھرتیلا اور جوشیلا ہو ۔ جب تلاش کیا گیا تو سب جانوروں کو یہ خوبیاں ایک بندر میں نظر آئیں ۔ لہذہ بندر کو بادشاہ بنادیا گیا ۔*

*جب ساتھ والے جنگل کے شیروں کو معلوم ہوا کہ یہاں تو ایک بندر کی حکومت ہے ، تو انہوں نے جنگل پر حملے کا پروگرام بنالیا ۔ مکار لومڑی نے آکر بندر کو رپوٹ دی کہ تمھاری رعایا پر ساتھ والے جنگل کے شیروں نے حملے کا پروگرام بنالیا ہے ۔ تم کچھ کرو ۔ اس نے ایک درخت سے دوسرے درخت تک اور دوسرے سے تیسرے درخت چھلانگیں لگائیں ۔ پھر بندر کو بتایا گیا کہ شیر حملے کے لیے آرہے ہیں ۔ اس نے پھر ادھر سے ادھر خوب چھلانگیں لگائیں ۔ آخرکار شیر حملہ آور ہوئے اور بہت سے جانور زخمی ہوئے اور بہت سے ہلاک ہوگئے ۔ بادشاہ سلامت کو پھر اطلاع کی گئی ۔ انہوں نے پھر ایک سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے اور چوتھے درخت پے چھلانگیں لگائیں ۔ سب جانوروں نے مل کر بندر بادشاہ سے گزارش کی کہ حضور والا کوئی عملی اقدام فرمائیں ، تو بادشاہ سلامت نے کہا تم دیکھتے نہیں میں تمھارے لیے کتنی بھاگ دوڑ کر رہا ہوں ۔ اب تم کیا چاھتے ہو کہ میں شیروں پر حملہ کر دوں ؟*

*کچھ اسی قسم کی صورتحال آج مملکت خدا داد پاکستان کو بھی درپیش ہے اور بادشاہ سلامت بھی کچھ اسی ذوق کے ہیں ۔ جب اسے بتایا گیا کہ بھارت نے اپنے آئین کو تبدیل کرکے کشمیر کو اپنا حصہ بنالیا ہے اور وادی میں فوج بڑھادی ہے تو موصوف پاکستان سے امریکہ کے دورے پر چلے گئے ، پھر امریکہ سے سعودیہ ، پھر سعودیہ سے چین ، پھر چین سے ایران ، پھر ایران سے پاکستان ۔ پھر پاکستان سے سعودیہ ، پھر وہاں سے امریکہ ، پھر امریکہ سے سعودیہ ، پھر پاکستان ، پھر پاکستان سے چین ۔*

*پھر بادشاہ سلامت کو ایجنسیوں نے اطلاع دی کہ بھارت نے کشمیر میں کرفیو لگا دیا ہے اور خوراک ادویات بند کردیں ہیں ، تو موصوف نے پھر پانچ سات بیرونی دورے اور کئے ۔ اقوام متحدہ کی اسمبلی میں دھواں دھار تقریر کر ڈالی ۔ آزاد کشمیر میں جاکر جلسے کر ڈالے ۔ آدھا گھنٹہ لوگوں کو دھوپ میں کھڑا کیا اور جمعہ بھی نہ پڑھنے دیا ۔ پھر ہاتھوں کی زنجیر بنا ڈالی ۔ لیکن سب بے سود ۔*

*مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی*

*کے مصداق جیسے جیسے وزیراعظم کی چھلانگیں بڑھتی گئیں ، کشمیریوں پر ظلم بڑھتا گیا اور روزانہ لاشیں گرنے لگیں ۔ اب لوگوں نے دہائی دینی شروع کردی ہے کہ بادشاہ سلامت کوئی عملی اقدام فرمائیں ، تو وہ فرماتے ہیں :*

*کیا تم دیکھتے نہیں میں تمھارے لیے کتنی بھاگ دوڑ کر رہا ہوں ۔ اب تم کیا چاھتے ہو کہ میں بھارت پر حملہ کر دوں ؟*

*حقیقت یہ ہے کہ ہمارے وزیراعظم کی چھلانگیں بندر کی چھلانگوں سے زیادہ مختلف نہیں ۔موصوف بادشاہ بننے سے پہلے بھی چھلانگیں لگانے میں ماسٹر تھے ۔ اور ہمارے بادشاہ سلامت بھی بادشاہ بننے سے پہلے بھی اکثر بیرونی دوروں پر رہتے تھے ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے کرکٹ کھیلنے اور حسینوں سے ملاقاتیں کرنے جایا کرتے تھے اور اب مختلف ممالک کے صدور اور ان کی بیگمات سے ملنے ۔ باقی کشمیر جہاد سے ہی آزاد ہوگا اور اس کے لیے حکومتی سیٹ آپ تبدیل کیا جانا چاہیئے۔
___