غزوہ اُحد
اسلام اور کفر کے مابین بپا ہونے والا اہم ترین معرکہ
تحریر ۔حافظ محمد اقبال سحرؔ
غزوہ اُحد اسلام اور کفر کے مابین بپا ہونے والا اہم معرکہ ہے جو 12شوال 3ہجری کو پیش آیا۔ ”اُحد“ مدینہ منورہ کے ایک مشہور پہاڑ کا نام ہے جو مدینہ سے قریباً 2میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ غزوہئ بدر میں کفار کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ کفار کے ستّر بڑے بڑے سردار مارے گئے تھے۔تاہم ابوسفیان اپنا تجارتی کارواں بہ حفاظت لے کر مکہ پہنچ گیا تھا۔اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے ابوسفیان بن حرب، عبداللہ بن ابی ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، حارث بن ہشام، حویطب بن عبدالعزیٰ، صفوان بن امیہ اور دیگر سردارانِ قریش ایک مجلس میں جمع ہوئے اور فیصلہ کیا کہ کاروانِ تجارت کا زر منافع جس کی مقدار 50ہزار دینار تھی۔ مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔
اسی بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا۔ ترجمہ۔”تحقیق کافر اپنے مالوں کو خرچ کررہے ہیں تاکہ لوگوں کو خدا کے راستے سے روک دیں، پس اور بھی خرچ کریں گے اور پھر یہ سب ان پر حسرت اور افسوس ہوں گے، پھر آخر مغلوب ہوں گے۔“(سورۃ الانفال:36)
غزوۂ بدر میں ہی ابوسفیان کا بیٹا حنظلہ، عکرمہ کا باپ ابوجہل، حارث بن ہشام کا بھائی ابوجہل بن ہشام اور صفوان بن اُمیہ کا باپ امیہ قتل ہوئے تھے۔ زرقانی کے مطابق بعد میں آگے چل کر ابوسفیان، عبداللہ بن ربیعہ، عکرمہ بن ابی جہل، حارث بن ہشام، حویطب اور صفوان مسلمان ہوگئے تھے، رضی اللہ عنہم۔(زرقانی جلد 2، صفحہ20)
قریش نے جنگ کی تیاری کی، یہاں تک مردوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے عورتوں کو بھی ہمراہ لے لیا۔ کہاجاتا ہے۔”تین ہزار آدمیوں کا لشکر جمع ہوگیا، جن میں سے 700زرہ پوش تھے، 200گھوڑے تھے، 3000اونٹ اور 15عورتیں ہمراہ تھیں۔ یہ تین ہزار کا لشکر جرار نہایت کروفر سے ابوسفیان بن حرب کی سرکردگی میں 5شوال 3ھ کو مکہ سے روانہ ہوا۔“ (ابن سعد، الطبقات ج2:ص37، زرقانی شرح مواہب ج2ص20، طبری، تاریخ الامم ج3: ص9)
حضرت عباسؓ نے ایک قاصد کے ذریعے ان تمام حالات سے آگاہ کردیا۔ (دیکھئے ابن سعد، زرقانی) رسول اللہ ﷺ نے یہ خبر پاکر حضرت انسؓ اور حضرت مونسؓ کو قریش کی خبر لینے کے لیے روانہ فرمایا۔ انہوں نے آکر اطلاع دی کہ قریش کا لشکر مدینہ کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔یہ جمعہ کی رات تھی۔ تمام شب سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ، اسید بن حضیررضی اللہ عنہ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کا پہرہ دیا اور شہر کے اطراف و جوانب بھی پہرے بٹھلادیے گئے۔
صبح ہوئی، تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلاکر مشورہ کیا۔اکابر مہاجرین و انصار نے یہ مشورہ دیا کہ مدینہ ہی میں پناہ گزین ہوکر مقابلہ کیا جائے۔ لیکن جو نوجوان جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے اور شوقِ شہادت میں بے چین اور بے تاب تھے، ان کی یہ رائے ہوئی کہ مدینہ سے باہر نکل کر ان پر حملہ کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا۔”میں نے خواب دیکھا کہ میں ایک مضبوط زرہ میں ہوں اور ایک گائے ہے کہ ذبح کی جارہی ہے، جس کی تعبیر یہ ہے کہ مدینہ بمنزلہ مضبوط زرہ کے ہے اور ذبح گائے سے اس طرف اشارہ ہے کہ میرے اصحابؓ میں سے کچھ لوگ شہید ہوں گے، لہٰذا میری رائے میں مدینہ ہی میں قلعہ بند ہوکر مقابلہ کیا جائے۔“ (سیرت مصطفیﷺ جلد دوم ص182)
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہنے کہا۔”قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی، میں اس وقت تک کھانا نہ کھاؤں گا جب تک مدینہ سے باہر نکل کر دشمنوں کا اپنی تلوار سے مقابلہ نہ کرلوں۔“ (ابن کثیر، البدایہ والنہایہ ج4:ص2، زرقانی شرح مواہب جلد2:ص23)
حضرت نعمان بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔”اے اللہ کے رسولﷺ! ہم کو جنت سے محروم نہ کیجیے، قسم ہے اس ذات پاک کی، جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، میں ضرور جنت میں داخل ہوکر رہوں گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا۔”کس بنا پر؟“ حضرت نعمانؓ نے عرض کیا۔”اس لیے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک آپ اللہ کے برحق رسول ہیں اور میں لڑائی میں کبھی بھاگتا نہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا۔”تونے سچ کہا۔“ (سیرت مصطفی ﷺ جلد2:ص184,183)
یہ جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز سے فارغ ہوکر وعظ فرمایا، جہاد و قتال کی ترغیب دی اور تیاری کا حکم دیا۔عصر کی نماز سے فارغ ہوکر آپﷺ حجرہ شریف میں تشریف لے گئے، حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی آپﷺ کے ہمراہ حجرہ میں چلے گئے۔ ابھی آپ ﷺ حجرہ سے باہر تشریف نہ لائے تھے کہ حضرت سعد بن معاذؓ اور اسید بن حضیرؓ نے لوگوں سے کہا۔”تم نے رسول اللہ ﷺ کو شہر سے باہر جاکر حملہ کرنے پر مجبور کیا، حالانکہ آپ پر وحی اُترتی رہتی ہے۔ مناسب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی رائے اور منشاء پر چھوڑ دیا جائے۔“ اتنے میں رسول اللہ ﷺ مسلح ہوکر باہر تشریف لے آئے۔صحابہؓ نے عرض کیا۔”یارسول اللہﷺ! ہم نے غلطی سے خلافِ مرضی اصرار کیا، جو ہمارے لیے کسی طرح مناسب نہ تھا، آپ صرف اپنی رائے پر عمل فرمائیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا۔”کسی نبی کے لیے یہ جائز نہیں کہ ہتھیار لگاکر اُتار دے یہاں تک کہ وہ اللہ کے دشمنوں سے جنگ کرے، اب اللہ کے نام پر چلو اور میں جو حکم دوں وہ کرو اور سمجھ لو کہ جب تک تم صابر اور ثابت قدم رہو گے، تو اللہ کی فتح اور نصرت تمہارے ہی لیے ہے۔“
11شوال یوم جمعہ بعد نمازِ عصر آپ ﷺ ایک ہزار جمعیت کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ گھوڑے پر سوار تھے اور سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ زرہ پہنے ہوئے آپ ﷺ کے آگے آگے تھے اور سب مسلمان آپ ﷺکے دائیں اور بائیں چلتے تھے۔ (ابن سعد، الطبقات ج2:ص39۔ زرقانی شرح مواہب ج2:ص23)
مدینہ سے باہر نکل کر جب مقام شیخین (دو ٹیلوں کا نام ہے، جو مدینہ اور اُحد کے مابین واقع ہے) پہنچے تو فوج کا جائزہ لیا۔ ان میں جو نو عمر اور کم سن تھے، ان کو واپس فرمایا، جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔”اسامہ بن زیدؓ، زید بن ثابتؓ، ابوسعید خدریؓ، عبداللہ بن عمرؓ، اُسید بن ظہیرؓ، عرابہؓ، براء بن عازبؓ، زید بن ارقمؓ۔“
جب آپ ﷺ اُحد کے قریب پہنچے، تو رأس المنافقین عبداللہ بن ابی جو 300آدمیوں کی جمعیت اپنے ہمراہ لایا تھا، یہ کہہ کر واپس ہوگیا کہ آپ نے میری رائے نہیں مانی، ہم بے وجہ کیوں اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈالیں۔ یہ جنگ نہیں ہے، اگر ہم اس کو جنگ سمجھتے تو تمہارا ساتھ دیتے۔“ اب نبی کریم ﷺ کے ساتھ صرف 700صحابہؓ رہ گئے۔ جن میں سے صرف 200آدمی زرہ پوش تھے۔ سارے لشکر میں صرف دو گھوڑے تھے۔ ایک آپ ﷺ کا اورایک ابوبردہ ہانی بن نیار حارثی کا۔ (زرقانی جلد2:ص26)
قبیلہ خزرج میں سے بنی سلمہ اور قبیلہ اوس میں سے بنی حارثہ نے بھی ابن ابی کی طرح کچھ واپسی کا ارادہ کیا اور یہ دونوں قبیلے لشکر کے دونوں طرف تھے۔ توفیق خداوندی نے ان کی دست گیری کی۔ خدا نے ان کو بچا لیا اور واپس نہیں ہوئے۔ (سیرت مصطفی ﷺ جلد2:ص187) ان ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ترجمہ۔”یاد کرو اس وقت کو جب ہمت ہار دی تم میں سے دو گروہوں نے اور اللہ ان کا مددگار تھا، اس لیے وہ واپسی سے محفوظ رہے اور تمام مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔“ (آل عمران:122)
مسلمانوں کا لشکر ابھی مقام شیخین ہی میں تھا کہ آفتاب غروب ہوگیا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی۔ آپ ﷺ نے مغرب کی نماز پڑھائی، یہیں شب کو قیام فرمایا۔ محمد بن مسلمہؓ نے تمام لشکر کی پاسبانی کی۔ وقتاً فوقتاً لشکر کا ایک چکر لگاتے اور واپس آکر آپ ﷺ کے خیمہ مبارک کا پہرہ دیتے۔رات کے آخری حصہ میں آپ ﷺ نے کوچ فرمایا۔ اُحد کے قریب پہنچے، تو صبح کی نماز کا وقت آگیا۔ حضرت بلالؓ نے اذان اور اقامت کہی اور آپ ﷺ نے اپنے تمام اصحابؓ کو نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہوکر لشکر کی جانب متوجہ ہوئے۔ مدینہ کو سامنے اور اُحد کو پشت پر رکھ کر صفوں کو مرتب فرمایا۔براء بن عازبؓ فرماتے ہیں۔”رسول اللہ ﷺ نے پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ جبل اُحد کے پیچھے بٹھلادیا تاکہ قریش پشت سے حملہ نہ کرسکیں اور عبداللہ بن جبیررضی اللہ عنہ کو اس کا امیر مقرر فرمایا اور یہ حکم دیا کہ اگر ہم کو مشرکین پر غالب ہوتے ہوئے دیکھو تب بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور اگر مشرکین کو ہم پر غالب ہوتے دیکھو تب بھی اس جگہ سے نہ سرکنا اور نہ ہماری مدد کے لیے آنا۔“ (بخاری، الجامع الصحیح ج2 غزوہ اُحد)
قریش کا لشکر چہار شنبہ ہی کو مدینہ پہنچ کر اُحد کے دامن میں پڑاؤ ڈال چکا تھا۔ قریش نے اپنے لشکر کے میمنہ پر خالد بن ولید کو، میسرہ پر عکرمہ بن ابی جہل کواور پیادوں پر صفوان بن اُمیہ بعض کے مطابق عمروبن العاص کو اور تیر اندازوں پر عبداللہ بن ابی ربیعہ کو مقرر کیا۔مگر بعد میں چل کر قریش کے یہ پانچوں امرائے لشکر مشرف باسلام ہوئے۔
فریقین کی صفیں مرتب ہوئیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک تلوار کو ہاتھ میں لے کر فرمایا۔”کون ہے جو اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لے۔“ یہ سن کر بہت سے ہاتھ یہ سعادت حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھے، ان میں ابودجانہؓ تھے، انہوں نے کہا۔”یارسول اللہﷺ! میں اس کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فوراً وہ تلوار ابودجانہؓ کو عنایت فرمادی۔
قریش کی طرف سے سب سے پہلے میدانِ کارزار میں ابوعامر نکلااور کہا۔”اے گروہِ اوس! میں ابوعامر ہوں۔“ قبیلہ اوس نے جواب دیا۔”اے خدا کے فاسق اور نافرمان! خدا کبھی تیری آنکھ ٹھنڈی نہ کرے۔“ ابوعامر یہ جواب سن کر خائب و خاسر واپس ہوا اور جاکر کہا۔”میرے بعد میری قوم کی حالت بدل گئی۔“(شرح مواہب۔ سیرت النبی ﷺ از ابن ہشام۔ تاریخ الامم۔ عیون الاثر۔ البدایہ والنہایہ) بعد ازاں مشرکین کا علمبردار طلحہ بن ابی طلحہ میدان میں آیا، حضرت علیؓ اس کے مقابلہ کے لیے نکلے، تلوار چلائی، جس سے اس کا پیر کٹ گیا اور منہ کے بل گرااور اس کا ستر کھل گیا۔ حضرت علیؓ شرماکر پیچھے ہٹ گئے۔ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا۔”اے علیؓ کیوں ہٹے؟“ عرض کیا۔”مجھ کو اس کا ستر کھل جانے سے شرم آگئی۔“ (شرح مواہب۔ تاریخ الامم) ابن سعد کہتے ہیں۔”حضرت علیؓ نے اس کے سر پر تلوار چلائی، جس سے سر کے دو حصے ہوگئے۔“ رسول اللہ ﷺ مسرور ہوئے اوراللہ اکبر کہا۔ مسلمانوں نے بھی اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔(ابن سعد، الطبقات ج2:ص40) پھر عثمان بن ابی طلحہ میدان میں آیا۔ حضرت حمزہؓ نے بڑھ کر حملہ کیا اور اس کا کام تمام کردیا۔ اس کے بعد ابوسعد بن ابی طلحہ نے جھنڈا ہاتھ میں لے لیا۔ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے فوراً ہی ایک تیر تاک کر اس کے حلق پر مارا، جس سے اس کی زبان باہر نکل آئی۔ آگے بڑھ کر فوراً قتل کردیا۔پھر مسافع بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا اُٹھایا۔ عاصم بن ثابتؓ نے ایک ہی وار میں قتل کردیا۔اس کے بعد حارث بن طلحہ بن ابی طلحہ نے جھنڈا تھام لیا۔ اس کو بھی عاصم بن ثابتؓ نے ایک ہی وار میں قتل کردیا۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت زبیرؓ نے اس کو قتل کیا۔ پھر ارطاۃ بن شرحبیل نے جھنڈا تھام لیا۔ حضرت علیؓ نے اس کا کام تمام کردیا۔اس کے بعد شریح بن قارظ جھنڈا لے کر آگے بڑھا۔اس کا بھی کام تمام کردیا گیا، اس کے قاتل کا نام معلوم نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد اس کا غلام صواب جھنڈا لے کر آگے آیا۔ مختلف اقوال کے مطابق حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت حمزہؓ یا حضرت علیؓ میں سے کسی ایک نے اس کا بھی کام تمام کردیا۔ (دیکھئے زرقانی، شرح مواہب۔ ج2:ص31۔ ابن سعد، الطبقات جلد2، 28) اس طرح قریش کے 22سردار مارے گئے۔ جن کے نام علامہ ابن ہشام نے اپنی کتاب سیرت النبیﷺ میں ذکر کیے ہیں۔
حضرت ابودجانہؓ جن کو رسول اللہ ﷺ نے اپنی تلوار عطا فرمائی تھی، انہوں نے اپنا سرخ عمامہ نکال لیا، سر پر باندھا اور اکڑتے ہوئے میدان میں نکلے۔ رسول اللہ ﷺ نے ابودجانہؓ کو اکڑتے ہوئے دیکھا تو فرمایا۔”یہ چال اللہ کو سخت ناپسند ہے، مگر ایسے وقت میں نہیں۔“ ابودجانہؓ صفوں کو چیرتے جاتے تھے، جو سامنے آگیا، اس کی لاش زمین پر ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ ابوسفیان کی بیوی ہند بالکل سامنے آگئی، ابودجانہؓ نے اس پر تلوار اُٹھائی، مگر فوراً ہی ہاتھ روک لیا کہ یہ کسی طرح زیبا نہیں کہ خاص رسول اللہ ﷺ کی تلوار کو ایک عورت پر چلایا جائے۔حضرت حمزہؓ کے حملوں سے کفار سخت پریشان تھے، جس پر تلوار اُٹھاتے، اس کی لاش زمین پر نظر آتی۔ وحشی بن حرب جو جبیر بن مطعم کا حبشی غلام تھا، غزوہئ بدر میں جبیر کا چچا طعیمہ بن عدی حضرت حمزہؓ کے ہاتھوں مارا گیا تھا، جبیر کو اس کا بہت صدمہ تھا۔ جبیر نے وحشی سے کہا۔”اگر میرے چچا کے بدلہ میں حمزہ کو قتل کردے تو تُو آزاد ہے۔“ وحشی حضرت حمزہؓ کی تاک میں ایک پتھر کے نیچے چھپا بیٹھا تھا، جب حضرت حمزہؓ ادھر سے گزرے تو وحشی نے پیچھے سے ناف پر نیزہ ماراجو پار ہوگیا۔ حضرت حمزہؓ چند قدم چلے مگر لڑکھڑاکر گر پڑے اور شہید ہوگئے۔وحشی نے حضرت حمزہؓ کو قتل کیا اور علیحدہ جاکر بیٹھ گیا۔ وحشی کا بیان ہے۔”صرف آزاد ہونے کی خاطر حضرت حمزہؓ کو قتل کیا۔“ (ابن ہشام)
فتح مکہ کے بعد وحشی نے اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے۔”ایک شخص کا مسلمان ہونا میرے نزدیک ہزار کافروں کے قتل سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔“
مسلمانوں کے دلیرانہ حملوں سے قریش کے پاؤں اکھڑ گئے اور پشت دکھاکر بھاگنے لگے۔ عورتیں بھی بدحواسی کا شکار ہوگئیں۔ مسلمان مال غنیمت جمع کرنے لگے۔ اسی دوران میں تیر اندازوں کے اس دستے نے جو درہ کی حفاظت پر تعینات تھا، دیکھا کہ مسلمان مالِ غنیمت میں مشغول ہیں۔یہ دستہ بھی اس طر ف بڑھنے لگا۔ ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیرؓ نے انہیں بہت روکا کہ رسول اللہ ﷺ نے تاکید فرمائی تھی کہ تم اپنی جگہ سے نہ ٹلنا۔ مگر ان لوگوں نے نہ مانا اور غنیمت جمع کرنے والوں میں جا ملے۔پیچھے عبداللہ بن جبیرؓ اور دس آدمی رہ گئے۔ مسلمانوں کی اس لغزش سے فتح شکست میں تبدیل ہونے لگی۔خالد بن ولید جو اس وقت مشرکین کے میمنہ پر تھے، درہ کو خالی دیکھ کر پشت سے حملہ کردیا۔ عبداللہ بن جبیرؓ مع اپنے ساتھیوں کے شہید ہوگئے۔ (زرقانی، شرح مواہب) مشرکوں کے اس اچانک حملے سے مسلمانوں کی صفیں درہم برہم ہوگئیں۔ مشرکین رسول اللہ ﷺ کے قریب آپہنچے۔ مسلمانوں کے علمبردار مصعب بن عمیر ؓرسول اللہ ﷺ کے قریب تھے، انہوں نے کافروں کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔ ان کے بعد جھنڈا حضرت علیؓ کے سپرد فرمایا۔(دیکھئے ابن ہشام) حضرت مصعب بن عمیرؓ رسول اللہ ﷺ کے مشابہ تھے، اس لیے کافروں نے افواہ اُڑادی کہ رسول اللہ ﷺ شہید ہوگئے۔اس سے مسلمانوں میں اضطراب پھیل گیا۔ دوست و دشمن کا امتیاز نہ رہا۔ اسی دوران حضرت حذیفہؓ کے والد یمانؓ بھی مسلمانوں کے ہاتھوں شہید ہوگئے۔ حضور اکرم ﷺ کے پائے ثبات میں ذرہ برابر تزلزل نہیں آیا۔ ابن سعد کے مطابق چودہ اصحابؓ سات مہاجرین اور سات انصار میں سے نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہے۔ساتوں انصاری باری باری لڑکر شہید ہوگئے۔ اس کے بعد زیاد بن سکنؓ اور پانچ انصار کھڑے ہوگئے اور انہوں نے بھی جان نثاری کے جوہر دکھلائے یہاں تک شہید ہوگئے۔ عتبہ بن ابی وقاص نے موقع پاکر رسول اللہ ﷺ پر ایک پتھر پھینکا، جس سے نیچے کا دندان مبارک شہید اور نیچے کا لب زخمی ہوا۔ عبداللہ بن قمیۂ نے آپ ﷺ پر اس زور سے حملہ کیا کہ رخسار مبارک زخمی ہوا اور خود کے دو حلقے رُخسار مبارک میں گھس گئے۔ ابن حجر اور زرقانی کہتے ہیں۔”چند روز نہ گزرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پرا یک پہاڑی بکرا مسلط کیا، جس نے اپنے سینگوں سے ابن قیمۂ کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔“(ابن حجر، فتح الباری۔ زرقانی، شرح مواہب)
مسلمانوں کی بے چینی کی وجہ رسول اللہ ﷺ کا نظروں سے اوجھل ہونا تھا۔ جب صحابہؓ کو معلوم ہوا کہ آپ کہاں ہیں تو دیوانہ وار آپﷺ کے گرد جمع ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے پہاڑ پر چڑھنے کا ارادہ فرمایا، ضعف کی وجہ سے پہاڑ پر چڑھنا مشکل ہورہا تھا۔ اس وقت حضرت طلحہؓ آپ کے نیچے بیٹھ گئے، آپ ﷺ ان پر اپنا پاؤں رکھ کر اوپر چڑھے۔ حضرت زبیرؓ فرماتے ہیں کہ میں نے اس وقت نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے سنا۔”طلحہؓ نے اپنے لیے جنت واجب کرلی ہے۔“ (زرقانی، شرح مواہب) اتنے میں ابی خلف گھوڑا دوڑا تا ہوا آ پہنچا۔ صحابہؓ نے اجازت چاہی کہ اس کا کام تمام کردیں۔ فرمایا اس کو قریب آنے دو۔ جب آگیا تو آپ ﷺ نے حارث بن صمہؓ سے نیزہ لے کر اس کی گردن میں ایک کچوکہ دیا، جس سے وہ چِلاتا ہوا واپس ہوا کہ خدا کی قسم! مجھ کو محمد (ﷺ) نے مار ڈالا۔ اسی طرح بلبلاتا رہا اور مقام سرف میں پہنچ ک مرگیا۔ (دیکھئے ابن کثیر، البدایہ والنہایہ)
حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ اپنے چہرہ انور سے خون پونچھتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے۔”وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جس نے اپنے پیغمبر کا چہرہ خون آلود کیا اور وہ ان کو ان کے پروردگار کی طرف بلاتا ہے۔“ (احمد بن حنبل، مسند) جب آپ ﷺ گھاٹی پر پہنچے، تو لڑائی ختم ہوچکی تھی، وہاں جاکر بیٹھ گئے۔ حضرت علیؓ پانی لائے اور چہرہ انور سے خون کو دھویا اور کچھ پانی سر پر ڈالا۔ بعد ازاں آپ ﷺ نے وضو کیا اور بیٹھ کر ظہر کی نماز پڑھائی۔ صحابہؓنے بھی بیٹھ کر ہی اقتداء کی۔ (سیرت مصطفی ﷺ)
قریش نے واپسی کا ارادہ کیا، تو ابوسفیان نے پہاڑ پر چڑھ کر پکارا۔”کیا تم لوگوں میں محمد (ﷺ) زندہ ہیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی جواب نہ دے۔اس نے تین بار پکارا اور پھرباری باری حضرت ابوبکرصدیقؓ اور حضرت عمرفاروقؓ کا نام بھی تین تین بار لیا۔ جب اسے جواب نہ ملا تو اس نے کہا۔”یہ سب قتل ہوگئے۔اگر زندہ ہوتے تو ضرور جواب دیتے۔“ حضرت عمرؓ سے رہا نہ گیا، جواب دیا۔”اے اللہ کے دشمن! اللہ کی قسم! تونے بالکل غلط کہا۔“ اس کے بعد اس نے ہبل کا نعرہ بلند کیا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا کہ جواب دو۔”اللہ ہی سب سے اعلیٰ، ارفع اور بزرگ و برتر ہے۔“ بہرحال کچھ اور باتیں بھی ہوئیں۔ پھر ابوسفیان نے حضرت عمرؓ کو آواز دی۔”اے عمرؓ! میرے قریب آؤ۔“ رسول اللہ ﷺ کے حکم پر حضرت عمرؓ اس کے پاس گئے، تو اس نے کہا۔”اے عمر! تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، سچ بتاؤ، کیا ہم نے محمد (ﷺ) کو قتل کیا؟“ حضرت عمرؓ نے فرمایا۔”اللہ کی قسم! ہرگز نہیں اور البتہ تحقیق وہ تیرے کلام کو اس وقت سن رہے ہیں۔“ کچھ اور باتیں بھی ہوئیں۔
پھر چلتے ہوئے ابوسفیان نے کہا۔”سال آئندہ بدر پر تم سے لڑائی کا وعدہ ہے۔“ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو حکم دیا کہ کہہ دیں۔”ہاں! ہمارا اور تمھارا یہ وعدہ ہے، اِن شاء اللہ۔“ غزوہئ اُحد میں 70صحابہ کرام ؓنے جام شہادت نوش کیا۔
٭٭…………٭٭












