بلا امتیاز شخصیت
شیخ امتیاز احمد رحمانی

تحریر محمد عمر فاروق

ُپیشہ معلمی سے وابستہ اورسرزمین سلطان الاولیا حضرت سلطان باہو رحمة اللہ علیہ کی نگری گڑھ مہاراجہ جیسے چھوٹے گاوں میں جنم لینے والے یہ چشم وچراغ میدان علم وادب میں اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ جہاں موصوف ادبی حلقوں اور شعراکی سرپرستی اور ان کی بلا امتیازخدمت کو اعزازسمجھتے ہیں وہاں پر صحافتی میدان میں قلم کے زور پر ظالموں کیلیے نکیل اور مستحق لوگوں کیلیے دادرسی کا سلسلہ بھی دراز کیئے ہوئے ہیں۔۔جی میری مراد اخلاص ومروت کے پیکر اور گفتگو میں قلوب و اذہان کوفتح کرنے والے یہ شخص جناب شیخ امتیاز احمد رحمانی ہیں۔موصوف نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے ایجوکیشن،ایم اے پولیٹیکل سائنس اور ایم اے ہسٹری کی تعلیم حاصل کی ہے۔ابتدائی تعلیمی دور سے یونیورسٹی تک تقریر وتحریری مقابلوں میں متعدد انعامی و ٹیلنٹ ایوارڈذ اپنے نام کر چکے ہیں۔پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ تعلیم و تحقیق میں اس کے سالانہ ادبی مجلہ”تعلیم و تحقیق”کیلیے اپنی تحریروں میں پختگی سمیٹنے والے متعدداخبارات روزنامہ نوائے وقت’روزنامہ خبریں’روزنامہ انصاف اور روزنامہ ٩٢نیوز میں اپنی قلمی صلاحیتوں کا لوہا منواچکے ہیں۔اپنی اختراعی اورجدت کے فکری پہلووں کی تکمیل کیلیے سوشل میڈیا کو بھی میدان علم ادب کے چاہنے والوں کیلیے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا اور معروف روحانی علمی میدان میں میں معروف روحانی بزرگ اور تصوف اور شاعری میں کمال و باجمال مقام کے مالک حضرت سلطان باہو کے نام سے “سلطان نیوز آن لائین”کے نام سے اور بعد ازاں “سٹارنیوز آن لائین” ویب سائیٹ کی بنیاد رکھی اور بطوربانی سلطان نیوزاور چیف ایگزیگٹو سٹار نیوز”عوام الناس کیلیےعلمی کاوشوں کیلیے راستہ فراہم کیا۔ قلمی قبیلہ “بزم دریچہ ادب” کی تحصیل احمدپورسیال ضلع جھنگ کی ذمہ داری ادا کرنے والے اپنی ادبی خدمات کے نتیجے میں “ادبی ایوارڈز کے ساتھ شعبہ صحافت میں گراں قدر کارہائے نمایاں کی بدولت متعدد اچیومنٹ اور بیسٹ پرفارمنس ایوارڈز بھی ان کے نام ریے ہیں۔۔دعا ئے بارگاہ رب لم یذل ہے کہ ان کی قلمی و سوشل ویلفیئر کی خدمات کو شرف قبولیت عطا ہو کر ذخیرہ آخرت اور فوز و فلاح کا باعث بنے۔۔۔
دوستوں کے دکھ سکھ میں ہرحال ساتھ نبھانے والے بے لوث شخصیت کے مالک شیخ امتیاز احمد رحمانی کو اللہ تعالی نے بے پناہ صلاحیت سے نوازا ہے ۔شیخ امتیاز کی ایک نظم کا مقطع ہی ان کی شخصیت کا عکاس ہے کہ
“امتیاز کی تمنا و خواہش یہی ہے
معاشرے میں الفتوں کو پروان چڑھانا۔”