اقامتِ دین جماعت اسلامی کی جدوجہد
تحریر: لیاقت بلوچ
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان
جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی و جہد کا مقصد عملاً اقامتِ دین اور حقیقتاً رضائے الٰہی اور آخرت کی کامیابی کا حصول ہے یہی حکومتِ الٰہیہ اور اسلامی نظامِ زندگی کا قیام ہے۔قرآن مجید نے اپنے مفہوم و احکامات میں حکومتِ الٰہیہ اور اسلامی نظامِ زندگی کے لیے اقامتِ دین کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔جماعت اسلامی کے پیشِ نظر اقامت دین کی تگ ودو، اسلام کی حکمرانی اور اسلامی نظام زندگی کا قیام ہے۔اقامتِ دین ،حکومت الٰہیہ،اسلامی نظام زندگی،اسلام کی حکمرانی اِن سب کا جماعت اسلامی کے نزدیک ایک ہی مطلب ہے کہ انسانی زندگی کے جس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے اُس میں نیک نیتی کے ساتھ اللہ کی حاکمیت کو قبول کرے اور اللہ کے احکامات کے مطابق حاکمیت الٰہیہ کو تسلیم کرے۔اللہ کی اِس تشریعی حکومت کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینے سے انسان میں جو طریق زندگی رونما ہوتا ہے وہی ”الدین“ ہے وہی حکومت الٰہیہ اور وہی اسلامی زندگی ہے ۔
اقامتِ دین کا مقصد کسی خاص کام کی اقامت نہیں بلکہ پورے دین، دینِ فطرت کی اقامت ہےیہ انسانی زندگی کے انفرادی اور اجتماعی زندگی سے متعلق ہے کہ نماز،روزہ، حج،زکوٰة کی ادائیگی ہو یا معیشت،معاشرت،تمدن و سیاست ہو۔اسلام کی تعلیمات کا کوئی حصہ بھی غیر ضروری نہیں پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔بندہ مومن کی ذمہ داری ہے کہ اس پورے اسلام کو ذاتی پسند و ناپسند،تجزیہ و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی کوشش کرے،جدوجہد کرے۔اسلام کے حکم کا جو تعلق فرد کی انفرادی زندگی سے ہے اُسے اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور وہ احکامات جِن کا نفاذ اجتماعی ہے اِس کے لیے اہل ایمان مِل کر اسلام کے اجتماعی نظام کے قیام کی سعی اور جدوجہد کریں۔
اہل ایمان کا اصل مقصد اللہ کو راضی کرناہے،آخرت کی فلاح،جنت کی طلب اور رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کا حق دار بننا ہے۔ لیکن اِن مقاصد کا حصول اِس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں اللہ کے دین کوقائم کرنے کی کوشش کی جائے،اس لیے مومن کا عملی نصب العین وہ رضائے الٰہی ہے جو اقامتِ دین کی سعی کے نتیجے میں حاصل ہوگی۔(دستورجماعت:دفعہ:4)
اقامتِ دین کی جدوجہد کے خوش نصیب کارکنان کے لیے لائحہ عمل یہی ہے کہ اخلاصِ نیت،رضائے الٰہی،جنت کی طلب،جھوٹ، حسد،غیبت وفریب سے اپنے آپ کو بچا کر بگڑے معاشرہ،سسکتی انسانیت کو آزمائش ، ظلم و جبر سے نجات دلائی جائے ۔مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی فکر کا تقاضا ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکن کج بحثی سے نجات پائیں اور حقیقی معنوں میں مرجع الخلائق بن جائیں۔