کپتان کی طاقت’ مولانا کے سامنے شکست خوردہ
( مینارہ نور پہلی قسط)
کالم نگار نوید مسعود ہاشمی

ایک دن میں دو نمازیں یعنی عصر اور مغرب ”مولانا” کی اقتداء میں پڑھنے کے بعد’ میں نے لمحے بھر کے لئے ان لوگوں کی سنگدلی کے بارے میں سوچا کہ جو… لوگ عمران خان یا کسی اور سیاسی لیڈر کی محبت میں مولانا فضل الرحمن کو منہ بھر’ بھر کر گالیاں بکتے ہیں..۔ یا سوشل میڈیا پر ان پر جھوٹے الزامات عائد کرتے ہیں۔ کیا ایسے لوگوں نے مرنا نہیں ہے؟ اختلاف کیجئے…ممکن ہے کہ مجھے بھی مولانا کی سیاست کے بعض پہلوئوں سے اختلاف ہو’ لیکن گالیاں’ بہتان تراشیاں اور جھوٹے الزامات تو عمران خان پربھی نہیں لگانے چاہئیں,چےجائیکہ مولانا فضل الرحمن جیسے صاحب علم و فضل پر۔۔۔ کہ ملک کے لاکھوں علماء جن کو اپنا امیر مانتے ہوں’ ذرا دل پہ ہاتھ رکھ کر سوچئیے کہ اس وقت ملک میں حقیقی اپوزیشن کا کردار کون ادا کر رہا ہے؟ کیا کوئی صاحب بصیرت مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو حقیقی اپوزیشن تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے؟ ہرگز نہیں’ بلکہ ڈرائینگ روم سے لے کر تھڑے پہ بیٹھے ہوئے ایک عام شخص تک’ ن لیگ اور زرداری پارٹی کو ”ڈیل پارٹیاں” قرار دیتے ہوئے کہتا ہے۔۔۔ کہ اگر آزادی مارچ کے دوران یہ دونوں بڑی پارٹیاں صاف نیت اور صاف دل کے ساتھ اسلام آباد دھرنے میں بھی ”مولانا” کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے اپنے کارکنوں کو اسلام آباد لے آتیں۔۔۔ تو آج ملک کا سیاسی نقشہ یقینا کچھ اور ہوتا۔
اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیوں نے ”مولانا” کے تاریخ ساز آزادی مارچ پر جی بھر کر مفادات سمیٹے’ کوئی جیل سے نکل کر لندن جا بیٹھا اور کوئی نیب کے شکنجے سے جان چھڑا کر کراچی منتقل ہوگیا’ جمعتہ المبارک کی شام مولانا فضل الرحمن سے تفصیلی ملاقات کے دوران اس خاکسار نے محسوس کیا کہ۔۔۔ اس بات کا ”مولانا” کو بھی بڑی شدت کے ساتھ احساس ہے’ بدھ کے دن رانا ثناء اللہ کی قیادت میں ن لیگی وفد جب ”مولانا” سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر پہنچا تو ”مولانا” نے اس وفد سے سیر حاصل گفتگو کے دوران یہ جملہ بھی کہا کہ ”اگر اسٹیبلشمنٹ کے کردار کی وجہ سے ایک نااہل شخص حکمران بنا۔۔۔ تو اپوزیشن لیڈروں کی غیر سنجیدگی کے سبب وہ نااہل شخص دو سال سے زائد عرصہ ہونے کو ہے …حکومت کے مزے اڑا رہا ہے۔۔۔۔ سچی بات ہے کہ ”مولانا” کے بس میں ہوتا یا اگر اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں ”ڈیل” کی دلدل میں گردن گردن تک نہ دھنسی ہوتیں تو۔۔۔ مولانا کپتان کو ایک منٹ کے لئے بھی حکومت نہ کرتے دیتے۔۔۔ ”مولانا” سیاست کے میدان کا ہیرو بھی ہے اور زبردست بہادر جرنیل بھی…مگر افسوس کے اس کی کچھار کے ”شیر” مصنوعی اور کمان کے تیر ٹوٹے ہوئے۔۔۔ جن کی زبانیں ”مولانا” کے ساتھ اور ”دل” ڈیل کی زنجیروں کے ساتھ جکڑے ہوئے۔۔۔ یہ ایسے ”نکے” ہیں کہ جو اپنی ہی کرپشن کے ہاتھوں بے بس’ اپنے خلاف بنی ہوئی فائلوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر ”ابا” سے رحم کی بھیک مانگ’ مانگ کر۔۔۔ ڈیل کی زنجیروں سے بندھی ہوئی لولی لنگڑی اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی ناکام کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
مولانا فضل الرحمن کا کمال یہ ہے کہ وہ اس لولی لنگڑی اپوزیشن کی مرہم پٹی کرکے دوبارہ سے اسے ”خان” کے مقابلے میں کھڑا کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔۔۔ کوئی یہ مت سمجھے کہ میرا مولانا کی جماعت سے کوئی تعلق ہے…ہرگز نہیں’ میرا مولانا کی جماعت’ جمعیت علمائے اسلام سمیت تمام سیاسی اور قوم پرست جماعتوں پر یکساں نظر رہتی ہے’ صرف جماعتوں پر ہی نہیں بلکہ سیاسی لیڈروں کی حرکیات پر بھی’ اس لئے میں یہ لکھے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔۔ کہ سیاسی میدان میں ”مولانا” کا ہم پلہ دور’ دور تک کوئی نہیں۔
کان کھول کر سن لو…یہاں اگر وزیراعظم بننا مشکل ہوتا۔۔۔ تو کم از کم معین قریشی اور شوکت عزیز مرتے دم تک پاکستان کے وزیراعظم نہ بن سکتے؟ جس دور میں لوگوں کے ”شر” سے بچنے کے لئے ان کی عزت کی جائے…اس دور میں ”مولانا” وزیراعظم تو دور کی بات قومی اسمبلی کا چاہے رکن بھی نہ بنے…تب بھی سیاسی آسمان کے اس ”چاند” کی کرنیں باکردار’ اجلی اور علم و فضل کی سیاست کو منور رکھیں گی۔
مولانا فضل الرحمن سے کئی ماہ بعد میری ملاقات ہوئی’ لیکن میں نے محسوس کیا کہ عمران خان کے حوالے سے ان کا مئوقف پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا’ ملک میں بڑھتی ہوئی قادیانی سرگرمیاں وہ عمران خان اقتدار کی ”سوغات” قرار دیتے ہیں’ جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ خاکسار’ سیاست دانوں’ حکمرانوں اور جرنیلوں کے قرب سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ ”مولانا” کی بات مگر دوسری ہے …”مولانا” کا علم و فضل مجھے اپنی جانب کھینچتا ہے۔
میری عادت ان صحافیوں اور کالم نگاروں کی طرح نہیں ہے کہ جو پہلے پگڑیاں اچھالتے۔۔۔ اور پھر قدموں میں جا بیٹھتے ہیں’ بلکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جو جتنی عزت کا حقدار ہو’ اس کو اتنی ہی عزت دینا آزاد صحافت کی شان ہے’ میرا ”مولانا” سے نوے کی دہائی سے تعلق ہے۔۔۔1991ء میں خوست کے گورنر ہائوس میں کہ جب روسی اسکڈ میزائل نے پہاڑوں پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔۔۔ اس خاکسار کو ”مولانا” کا پہلا انٹرویو کرنے کا شرف حاصل ہوا’ پھر کابل کی فتح کے بعد سیروبی میں۔۔۔ گلبدین حکمت یار کو سمجھانے’ بجھانے کے بعد کابل میں احمد شاہ مسعود ‘ پروفیسر برہان الدین ربانی اور پروفیسر صبغت اللہ مجددی کی میزبانی کا لطف اٹھانے اور انہیں حکمت یار کے ساتھ جنگ و جدل سے روکنے کی بے انتہاء کوششوں کے دوران ۔۔۔اس خاکسار کو کابل میں ”مولانا” کا دوسرا انٹرویو کرنے کی سعادت حاصل ہوئی’ تب سے لے کر آج تک’ میں نے مولانا فضل الرحمن کی ”سیاست” کو ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ہی دیکھا۔۔۔ عمران خان کی حکومت قائم ہوئی تو یہ خاکسار خوش تھا کہ چلو اب ”مولانا” کے سب سے بڑے مخالف کی حکومت آچکی۔
اب تو مولانا فضل الرحمن پر لگائے جانے والے… ڈیزل اور کرپشن وغیرہ کے الزامات کے ثبوت عدالتوں میں پیش کرکے ”مولانا” کو جیل روانہ کر دیا جائے گا’ مگر دو سال سے زائد عرصہ بیت گیا’ عمران خان حکومت کو قائم ہوئے ”مولانا” کا دندناتہ ہوا وجود اور مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر مجھے عمران خان حکومت کی طاقت’ مولانا فضل الرحمن کے ”کردار” کے سامنے شکست خوردہ سی نظر آتی ہے۔

(جاری ہے)