لاہور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں نئے مالی سال 2020- 21 کے لیے بجٹ تجاویز کی منظوری دے دی گئی ہے۔‘اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام 2020-21 کی بھی منظوری دی گئی ہے جبکہ ضمنی بجٹ مالی سال 20-2019 کی بھی منظوری دے دی گئی ہے.

وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزرا، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی‘خیال رہے کہ پنجاب حکومت مالی سال 2020-21 کا بجٹ آج 2 بجے پیش کرے گی پنجاب کے آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ کا حجم 22 کھرب 40 ارب روپے ہوگا اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا جب کہ ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائے گی بجٹ میں 23 شعبوں کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجویز ہے جب کہ 13 شعبوں کو براہ راست ٹیکس ریلیف ملے گا، بجٹ میں پراپرٹی ٹیکس 2 اقساط میں لینے کی بھی تجویز زیرغورہے.
پنجاب کے مالی سال 2020-21 کے بجٹ میں ڈاکٹرز کی خدمات اور ہسپتال روم چارجزپرعائد 16 فی صد ٹیکس ختم ہوگا جب کہ ہیلتھ انشورنس پرعائد 16 فی صد ٹیکس بھی ختم کرنے کی تجویز دی جائے گی بجٹ میں 20 کمروں تک کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاﺅسز پر ٹیکس 16 فی صد سے کم کر کے 5 فی صد رہ جائے گا. میرج ہالز، تقریبات کےلان اورپنڈال پر بھی ٹیکس 5 فی صد عائد کرنے کی تجویز ہے جب کہ جم، فٹنس سنٹر، پراپرٹی ڈیلر اور رینٹ اے کار سروسز پر بھی ٹیکس 5 فی صدعائد ہوگا پنجاب کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کیبل آپریٹرز، آٹو موبائل ڈیلرزسے بھی 5 فی صد ٹیکس کی تجویز ہے، از خود ٹیکس نیٹ میں آنے والے پراپرٹی بلڈرز اینڈ ڈویلپرز پر بھی ٹیکس 5 فی صد ہوگا بجٹ میں سکن و لیزر کلینکس پر بھی ٹیکس 5 فی صد عائد کرنے کی تجویز ہے.
بتایا گیا ہے کہ پنجاب بجٹ میں بڑا ریلیف دینے کے اقدامات تجویز کر دئیے گئے، کورونا اثرات کم کرنے کے لئے 23 شعبوں کو ٹیکس ریلیف دینے کی تجاویز دی جائیں گی، 13 شعبوں کو براہ راست ٹیکس ریلیف ملے گا، دس شعبے از خود ٹیکس نیٹ میں آنے پر ٹیکس ریلیف سے فائدہ اٹھائیں گے. پی آر اے کے تحت وصول کئے جانے والی خدمات پر سیلز ٹیکس میں ریکارڈ کمی کی تجاویز تیار کی گئی ہیں جبکہ پراپرٹی ٹیکس دو اقساط میں لینے کی بھی تجویز دی جا رہی ہے ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں کی خدمات اور ہسپتال کے بیڈ روم چارجز پر اور ہیلتھ انشورنس پر عائد 16 فیصد ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی جائے گی جبکہ 20 کمروں تک کے ہوٹلز اور گیسٹ ہاﺅسز پر ٹیکس 16 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد اور میرج ہالز، تقریبات کے لان اور پنڈال پر بھی ٹیکس 5 فیصد کرنے کی تجویز دی جائے گی ہیلتھ کیئر جم، فٹنس سنٹر، پراپرٹی ڈیلر اور رینٹ اے کار سروسز، کیبل آپریٹرز، آٹو موبائیل ڈیلرز، اپارٹمنٹ مینجمنٹ سے بھی 5 فیصد ٹیکس وصولی کی تجویز ہے.
ازخود ٹیکس نیٹ میں آنے والے یا پہلے سے ٹیکس نیٹ میں موجود پراپرٹی بلڈرز اینڈ ڈویلپرز پر بھی ٹیکس 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے ٹیکس نیٹ میں آنے والے سکن و لیزر کلینکس ازخود ٹیکس نیٹ میں آنے والے ایجوکیشن فرنچا ئز اور آئی ٹی سیکٹر پر بھی ٹیکس 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے. ریسٹورنٹس، بیوٹی پارلرز اور سیلونز جن پر ڈیبٹ کارڈ یا کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی ہو ان پر بھی سیلز ٹیکس 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے پراپرٹی ٹیکس بھی یکمشت کی بجائے دو اقساط میں لینے کی تجویز دی جائے گی ذرائع کے مطابق یہ ٹیکس ریلیف پیکیج 15 ارب روپے کا ہو گا.
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا کے باعث ہونے والے نقصانات میں ریلیف دینے کیلئے فکسڈ ٹیکس اور صوبائی سیلرز ٹیکس کو ختم کر کے ان کو آئندہ مالی سال کے بجٹ 2020-21 میں کم شرح پر دوبارہ بحال کرنے کی تجویز دی جائے گی کیٹرنگ سروس، پکوان سنٹرز اور تزئین و آرائش کی خدمات پر عائد سالانہ ٹیکس دوبارہ عائد کر دیئے جائیں گے جوکہ رواں مالی سال میں معطل کئے گئے ہیں ذرائع نے بتایا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرح پنجاب حکومت بھی تعمیراتی صنعت کے مختلف سیکٹرز کو ریلیف دے گی.
رواں مالی سال کے بجٹ 2019-20 میں حکومت کی جانب سے تعمیراتی صنعت اور سامان کرائے پر دینے والوں پر 16 فیصد سالانہ ٹیکس عائد کیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں ان خدمات کو ریلیف ملنے کا امکان ہے اسی طرح جائیداد کی خریدو فروخت پر عائد سٹیمپ ڈیوٹیز اور ٹرانسفرفیس کی شرح میں بھی کمی کرنے کی تجویز دی جائے گی. کورونا وبا کے باعث معیشت پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر 10 سے زائد ملازمین کی حامل فیکٹریوں پر عائد سالانہ ٹیکسز اور 50 لاکھ روپے سے لیکر 10 کروڑ روپے تک کیپٹل یا سرمایہ رکھنے والے کاروباری اداروں پر عائد 10 ہزار روپے سے 1 لاکھ روپے تک کے سالانہ ٹیکسز کو بھی کم کرنے کی تجاویز دی جائیں گی.
رواں مالی سال کے سالانہ بجٹ 2019-20 میں ہومیو پیتھک ، ڈاکٹرز اور حکیموں پر عائد سالانہ صوبائی ٹیکسز پر بھی نظر ثانی کی جائے گی موٹرسائیکل ڈیلرز پر عائد سالانہ فکسڈ ٹیکس بھی کم کرنے کی تجویز دی جائے گی حکومت کی جانب سے محکمہ ٹرانسپورٹ کیلئے 42 ارب 33 کروڑ روپے مختص کئے جانے کا امکان ہے. رواں مالی سال کی نسبت آئندہ مالی سال ٹرانسپورٹ کے بجٹ میں 28 ارب 83 کروڑ روپے اضافے کی تجویز دی گئی آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کا 96 فیصد حصہ صرف اورنج لائن ٹرین پر خرچ ہوگا نئے بجٹ میں اورنج لائن کی سات ترقیاتی سکیموں کے لیے 42 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز بھی دی گئی.
محکمہ ٹرانسپورٹ کی جاری ترقیاتی سکیموں کی مد میں 32 کروڑ مختص کرنے کی تجویز شامل ہے نئے مالی سال کے بجٹ میں کوئی بھی نئی ترقیاتی سکیم شامل نہیں کی گئی نئے بجٹ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے منصوبے بھی نظر انداز کرتے ہوئے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا گیانئے بجٹ میں اورنج لائن ٹرین کے لیے 42 ارب مختص کرنے، نو مستقل ویٹ سٹیشن کی تنصیب کے لیے 18 کروڑ مختص کرنے اور وہیکل انفارمیشن سرٹیفیکیشن سسٹم تھرڈ پارٹی آڈٹ کے لیے دو کروڑ 50 لاکھ مختص کرنے کی تجویز شامل ہے.
پنجاب اسمبلی کے نئے مالی سال 2020-21 کے بجٹ اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق مالی سال 2020-21 بجٹ کے ساتھ سپلیمنٹری بجٹ بھی آج اجلاس میں پیش کیا جائے گا پنجاب اسمبلی بجٹ اجلاس میں دی پنجاب فنانس بل 2020 ءپیش کیا جائے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے دی پنجاب فنانس بل 2020 میں ٹیکسز کے متعلق ترمیم کر لی ہے. صوبائی وزیر ہاشم جواں بخت بجٹ اجلاس میں فنانس بل 2020 پیش کریں گے ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق کی طرح صوبائی سرکاری ملازمین کو سابقہ تنخواہوں پر گزارا کرنا ہوگا تحریک انصاف کے دوسرے سالانہ بجٹ میں پنجاب کے بیشتر محکموں میں کٹ لگایا گیا ہے‘ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ محکمہ صحت کے کیلئے فنڈز میں 40 فیصد اضافہ کیا گیا ہے بجٹ اجلاس کے متعلق اسمبلی سیکرٹریٹ نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں بجٹ اجلاس کی صدارت سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کریں گے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کو بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کر دی گئی ہے.
صوبائی حکومت کی طرف سے گزشتہ برس بجٹ کے روز کئے گئے دعوے اور وعدے شدید مالی بحران کی آندھی میں دھول بن کر اڑ گئے ہیں پنجاب حکومت کی دستاویز کے مطابق رواں مالی سال 2019-20ءکے اعلان کردہ 350 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ پر 24 فیصد کا کٹ لگا دیا گیا ہے جس کے تحت اس پروگرام کا حجم 266 ارب روپے تک سکڑ گیا ہے جبکہ دوسری طرف 350 ارب کے مجموعی حجم کے مقابلے میں رواں سال کے پہلے 10 ماہ یعنی جولائی 19ءسے اپریل 20ءتک صرف 181 اب روپے خرچ کئے جاسکے ہیں.
زراعت، تعلیم، صحت، لائیو سٹاک، جیسے شعبوں کے لئے مختص 255 ارب روپے کے بجٹ پر 83 ارب روپے یعنی 32 اعشاریہ 5 فیصد کا ریکارڈ کٹ لگایاگیا بجٹ دستاویز سے پتہ چلا ہے کہ پنجاب کے 36 اضلاع میں سے 52 فیصد کا سب سے بڑا اضافہ وزیر اعظم عمران خان کے ضلع انتخاب میانوالی میں کیا گیا جس کا بجٹ 9 ارب 16 کروڑ سے بڑھا کر 13 ارب 92 کروڑ روپے کر دیا گیا وزیر اعلیٰ عثمان بزادر کے ضلع ڈیرہ غازی خان کا بجٹ 25 اعشاریہ 86 فیصد بڑھا دیا گیا ہے.
محکمہ زراعت پنجاب کا آئندہ مالی سال کیلئے بجٹ 32 ارب 75 کروڑ روپے مختص کئے جانے کا امکان ہے، جو رواں سال سے 7.75 ارب روپے کم ہے رواں مالی سال 2020-2019 میں محکمہ زراعت کا بجٹ 40 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیا گیا، جس میں ترقیاتی بجٹ کیلئے 15 ارب 50 کروڑ اور غیر ترقیاتی کیلئے 25 ارب روپے رکھے کئے گئے تھے. آئندہ مالی سال کیلئے 32 ارب 75 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے 7 ارب 75 کروڑ اور غیر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 25 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے‘ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی منصوبوں کا بجٹ کم کر دیا گیا ہے کیونکہ رواں سال میں 15 ارب میں سے 7 ارب 70 کروڑ روپے خرچ کئے گئے تھے.
رواں مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے محکمہ زراعت کو 8 ارب روپے جاری ہوئے جبکہ 7 ارب 70 کروڑ روپے خرچ ہوئے جن ترقیاتی منصوبوں پر رقم خرچ کی گئی ہے ان میں کھالوں کی پختگی، لیز لینڈ لیولر ، کینولہ سورج مکھی ،گندم کے بیج پر سبسڈی ، زرعی آلات ، ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ راجن پور ، 750 ایکڑ زیتون کے پودے ، 50 افراد کی فارن ڈگری ، یونیورسٹی آف ایگریکلچر ملتان سمیت دیگر منصوبے شامل ہیں.