بلڈپریشر شوگرکے مریض کو کروناقراردیکرمعصوم بچوں کا سہارا چھیننے والے ڈاکٹراسفندیارایم ایس اور ڈی سی جھنگ جواب دیں۔۔
صدرپریس کلب گڑھ مہاراجہ اور دنیااخبار کے رپورٹرشیخ محمد حسین کے کزن حافظ نیازاحمد ولد گلزاراحمد سکنہ جھنگ کو چندروزقبل معمولی بخار اور بلڈپریشرکم ہونے اور شوگرلیول زیادہ ہونے کے باعث سول ہسپتال جھنگ لے جایاگیا۔ڈاکٹرزحضرات نے مبینہ علامتوں کے نتیجے میں مریض کا فورا کرونا نمونہ لیکر لیبارٹری سینڈ کردیا اوررزلٹ سے پہلے ہی مریض کو کرونا ڈکلیر کرکے عکاج شروع کردیا اور ایک کمرہ میں بند کرکے مبینہ طور پر شدید بھاپ دی گئی اور مریض کی حالت مزید غیر ہونے پرمریض کو میو ہسپتال ریفرکردیاگیا مگر بیس منٹ کی مسافت کے مریض اللہ کو پیارا ہوگیا ۔محکمہ سوشل ایجوکیشن جھنگ میں اس مریض استاد مکرم کے چار کم سن معصوم بچے والد کیساتھ محکمہ صحت جھنگ کی بے حسی اور غفلت و نااہلی سے بے خبر اپنی ہی دھن میں مگن تھے اور بستراستراحت پہ خواب خرگوش کے مزے لینے کے بارے تیاریوں میں۔مصروف تھے۔کہ بچوں کے والد کے وفات کی خبر بچوں سے زیادہ بچوں کی والدہ پر بجلی بن کر گری۔ بیوہ کی کیا آہ و پکار میں کتنادرد ہوگا الفاظ میں بیاں ممکن نہیں۔۔ہسپتال عملے کا مزید ملاحظہ کریں کہ مبینہ طور پر مریض کو کرونا دیکرغسل میت سے اجتناب کیاگیا اورصرف تیمم پر اکتفا کرکےدفن کی تیاری کتلی گئی مگربعدازاں شدیداحتجاج پر اور ورلڈصحت کی رپورٹ کا حوالہ دیکر اور کرونارزلٹ موصول نہ ہونےپر غسل میت دلوایاگیا اور عجلت میں گنتی کے چند لوگوں کا جنازہ پڑھادیاگیا۔اور ہمیشہ کیلیے سپردخاک کردیاگیا۔۔دودن بعد رپورٹ آئی مگر لواحقین کو مطلع نہ کیا گیا بلکہ کہاگیا کہ ورثااحتیاطی کو یقینی بنائیں اور ہم نے مریض کو کرونا کہہ کر حکام بالا کو رپورٹ سینڈ کردی ہے۔۔اب جبکہ رپورٹ موصول ہوئی تو یقینا آسمان بھی نوحہ کناں ہوگا کہ کس قوم کےڈاکٹرز کے پلے پڑا ہوں۔رپورٹ نیگیٹو ہے کرونا کا نام ونشان نہیں۔۔معصوم بچے کس سے والد کے قتل کا حساب مانگیں۔کن ڈاکٹر کی نااہلی کےلیے سربازار احتجاج کریں۔بیوہ بچوںبکی پرورش اوران کی تعلیم وتربیت کیلیے کس سے سوال دراز کرے۔۔کوئی ہے جو ان بے لگاموں کو لگام دے۔کوئی ہے جو ان سے حساب کی جرات کرے۔۔لاہور کے متعددہسپتالوں کی اطلاعات میں ڈاکٹرز کی مبینہ غفلت یا اندھیرنگری یا پیسے کا لالچ کی داستانیں زبان زدعام ہیں۔کہ جن کے نتیجے میں زبردستی کرونا کا مریض بناکر لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔۔۔سرزمین جھنگ کے مندرجہ بالا واقعہ نے لوگوں کو حکمرانوں اور ڈاکٹروں سے انتہائی مایوس کیا ہے ۔حکومت کی احتیاطی تدابیرصرف مساجد و دفاتر کیلیے قابل عمل رہ گئی ہیں۔منڈیاں اور بازار اس سے مثتثنی ہیں۔حافظ نیاز کی موت سوالیہ نشان رہے گی۔۔مقتدر طبقات جھنگ جواب کی جسارت کریں گے۔۔۔؟؟؟؟
جھنگ۔حافظ نیاز کی موت۔ ذمہ دار کون ؟ڈی سی جھنگ۔ڈاکٹراسفندیارایم ایس۔۔۔جواب دیا جائے۔۔۔تفصیلات لنک میں۔
612












