کپتان کی طاقت’ مولانا کے سامنے شکست خوردہ
(مینارہ نور
آخری قسط) کالم نگار نویدمسعود ہاشمی
آخری قسط
میرا وزیراعظم عمران خان کو مشورہ ہے کہ اگر وہ اپنی حکومت کے دوران بھی ”مولانا” کے خلاف ”کرپشن” کے ثبوت عدالت میں پیش نہیں کر سکتے تو انہیں چاہیے۔۔۔ کہ وہ جو اپنی تقریروں کے دوران مولانا فضل الرحمن پر کرپشن کے الزامات لگایا کرتے تھے۔۔۔ اب انہیں وہ الزامات واپس لے کر ”مولانا” سے معذرت کرلینی چاہیے۔۔۔ اس سے یقینا جمعیت علماء اسلام اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے درمیان نفرتیں کم ہوں گی۔۔۔ اور ملک میں محبت و مودت اور احترام کی سیاست کا رواج پڑے گا۔۔۔ دوران مجلس مولانا فضل الرحمن نے میرے بیٹے وقار الٰہی ہاشمی سے سورة الضحیٰ کی تلاوت سنی۔۔۔ تلاوت کے بعد آپ نے نہایت شفقت کے ساتھ’ غنہ’ شد’ مد کے حوالے سے وقار کی اصلاح بھی فرمائی۔۔۔ جس وقت وہ بچے کی تجویدی اصلاح فرما رہے تھے …میں سوچ رہا تھا کہ واقعی مولانانے اپنا بچپن’ لڑکپن اور جوانی کھیل’ کود میں ضائع نہیں کی۔۔۔ بلکہ جس وقت عمران خان اپنے بچپن’ لڑکپن اور جوانی میں گیند’ بلے کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔۔۔ اس وقت مولانا فضل الرحمن پڑھا کرتے تھے’ اور ”اعلیٰ تعلیم” اور مثالی تربیت کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ آج ”مولانا” علماء و شیوخ کی محفل میں موجود ہو’ عالمی لیڈروں’ سیاست دانوں’ حکمرانوں کے ساتھ بیٹھا ہوا ہو…یا صحافت کے ٹارزنوں کے ساتھ۔۔۔ وہ سب میں ممتاز اور منفرد نظر آتا ہے…مولانا کی قرآن و سنت کی اعلیٰ تعلیم نے نہ انہیں ”سیاست” کی بھول’ بھیلیوں میں گم ہونے دیا اور نہ اقتدار کی راہداریوں میں… آج بھی اگر کوئی سیاسی میدان میں عالمی طاغوت کی آنکھوں میں کھٹکھتا ہے۔۔۔ یا امریکہ کے حکمرانوں کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کا ہنر جانتا ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن ہی ہے۔
اللہ مفتی اعظم مفتی محمود کی قبر پر کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے۔۔۔ کہ جنہوں نے وزیراعلیٰ سرحد اور ملک کے چوٹی کے سیاست دان ہونے کے باوجود۔۔۔ اپنے ہونہار فرزند ”فضل الرحمن” کو کسی آکسفورڈ یا لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کے حوالے کرنے کی بجائے…مدارس میں پڑھائے جانے والے قرآن و سنت کے نظام تعلیم کے حوالے کیا۔۔۔ یہ قرآن و سنت کے نظام تعلیم ہی کی برکت ہے کہ سربلند باپ کی طرح بیٹے کا دامن بھی کرپشن کی آلودگیوں سے محفوظ نظر آرہا ہے۔۔۔”مولانا” سے میں نے عالمی مبلغ مولانا طارق جمیل کے حوالے سے بھی سوال کیا’ مولانا فضل الرحمن نے ترنت جواب دیتے ہوئے کہا کہ۔۔۔ ”کل ہی میں نے فون کرکے ان کی عیادت کی ہے’ مولانا طارق جمیل گر گئے تھے’ گرنے کی وجہ سے کافی خون بہہ گیا’ جس کی وجہ سے کمزوری ہو گئی تھی۔” مولانا فضل الرحمن جب یہ باتیں کر رہے تھے تو میں ان کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا ۔۔۔کہ کہیں طارق جمیل کے حوالے سے کوئی شکوہ’ کوئی شکایت یا کوئی ہلکی سی بھی ناراضگی کی جھلک ہی نظر آجائے’ مگر وہاں مولانا طارق جمیل کی صحت کے حوالے سے فکر مندی تو نظر آئی’ لیکن ناراضگی کا شائبہ تک نہ تھا۔
جو بچپن’ لڑکپن’ جوانی کھیل کود میں گزار دیں۔۔۔ وہ بڑھاپے میں وزیراعظم بھی بن جائیں توبھی۔۔۔قوم کو سوائے آنسوئوں کے کچھ اور دینے سے قاصر رہتے ہیں۔۔۔ اگر کسی کو یقین نہ آئے تو اسے چاہیے کہ موجودہ حکومت میں عوام کی دگر گوں ہوتی حالت زار پر ایک نظر ڈال لے…میں عمران خان کا مخالف نہیں ہوں، یقین کریں کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ پاکستان کو کامیابیوں اور ترقی کی شاہراہ پر ڈال دیں۔۔۔ لیکن جب ”ترقی” کی بجائے ”تنزلی” ہی تبدیلی سرکار کا معیار ٹھہرے… جب روتے’ روتے عوام کے آنسو بھی خشک ہو جائیں’ جب آٹا’ چینی چور ملک سے باآسانی فرار ہو جائیں۔۔۔ جب احتساب’ ”انتقام” کا چولہ پہن کر مذاق بن جائے, اپنی دو سالہ حکومتی بیڈ گورننس’ ناکامیوں’ نااہلیوں کو پہلے سابق حکمرانوں اور اب ”کورونا وائرس” کے کھاتے میں ڈال کر نتھیا گلی میں ”موسم” کے ساتھ ”اٹھکیلیاں” کرنا صاحب بہادر کا محبوب مشغلہ بن جائے۔۔۔ تو پھر سوالات جنم بھی لیں گے اور پوری جرات کے ساتھی اٹھائے بھی جائیں گے’ مولانا فضل الرحمن گھنی ڈاڑھی اور بھاری پگڑی میں مولویانہ حلیئے کے ساتھ… اس ”فریم” میں فٹ نہیں بیٹھتے۔۔۔ کہ وزیراعظم بننے کے لئے جو مخصوص فریم عالمی طاغوتی طاقتوں نے بنا رکھا ہے۔۔۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ”مولانا” یہ سب جانتے ہوئے بھی اسی حلیئے کے ساتھ ہوائوں کا رخ موڑنے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے’ کوئی یہ مت سمجھے کہ میں عمران خان کی تعریف میں کچھ لکھنا نہیں چاہتا۔۔۔ یہ بات غلط ہے … مکمل غلط’ یہ خاکسار کپتان کی تعریف میں لکھنا چاہتا ہے۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ لکھوں کیا؟ ورلڈ کپ تو وہی تھا جو مدتوں پہلے جیت لیا گیا’ شوکت خانم کینسر ہسپتال کو یہ قوم آج بھی اپنے خون پسینے کی کمائی سے چلا رہی ہے۔۔۔۔ آب اگر حکومت کی دو’ ڈھائی سالہ کارکردگی میں کہیں غریب عوام کی ”فلاح” کا معمولی سا عنصر بھی نظر آرہا ہوتا… تو یہ خاکسار عمران خان کی تعریف میں کالم’لکھ لکھ کر ”مولویوں” کو پا ”وخت” دیتا’ لیکن شومئی قسمت ایسا کچھ بھی تو نہیں ہے…طورخم بارڈر سے لے کر کراچی اور نانگا پربت کی چوٹیوں لے کر مکران کے ساحلوں تک ‘ عوام کی آنکھوں میں آنسو’ ہی آنسو ہیں’ عوام کی چیخیں ہیں’ کراہیں ہیں آہ و بکا ہے’ نالے ہیں’ واللہ’ اگر یہ ن لیگ’ پیپلزپارٹی یا مولانا نے مجھے بتایا ہوتا… تو میں کبھی یہ بات نہ لکھتا’ میں نے تو خود عوام کی آنکھوں میں وہ آنسو دیکھے ہیں۔۔۔ عوام کی چیخیں اپنے کانوں سے سنی ہیں۔۔۔ میں اس ”دنیا” کی خاطر جھوٹ کیوں لکھوں… کہ جو ساری دنیا مل کے بھی ”کورونا” جیسے معمولی وائرس کا مقابلہ کرنے سے قاصر نظر آرہی ہے۔۔۔۔ میری محبت بھی اللہ کے لئے ہے اور بغض بھی اللہ کے لئے…عمران خان اس ملک کی معیشت اور معاشرے کو کیا درست کرتے’ الٹا سیاسی نفرتیں اس عروج پر پہنچا دی گئیں ۔۔۔کہ جہاں سے آگے تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں’ پاکستانی سیاست ابھی اتنی بھی بانجھ نہیں ہوئی، زندگی کی 68بہاریں گزارنے کے بعد مولانا فضل الرحمن کی شکل میں صاف’ ستھری اور شاندار روایات پر مبنی ”سیاست” ابھی زندہ ہے۔
اگر قائداعظم کے اسلامی پاکستان کا نظریاتی کمیٹڈ اور خالص پاکستانیت کا شہکار سیاست دان کسی کو قرار دیا جاسکتا ہے… تو وہ ”مولانا” ہی ہے۔۔۔ جو آیات مبارکہ کے ” غنہ’ شد اور مد کا لحاظ رکھتا ہو’ اس سے بڑھ کر اسلامی نظریاتی مملکت کی سیاست کی باریک بینیوں سے اور کون واقف ہوسکتا ہے؟۔
(وما توفیقی الاباللہ)











