نفع پہنچائیے ،مگر……
تحریر ، محمد توصیف خالد
ہم اپنے گردو پیش سینکڑوں چیزوں کا مشاہدہ و معائنہ کرتے ہیں۔ کسی بھی چیز کے دیکھنے کے بعد ہم اپنی علمی و عملی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس سے مستفید ہونے کی تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ ہمارا مقصود اپنی ذات ہی کے فائدے تک محدود رہتا ہے۔ شاید اسی لیے ہماری صلاحیتیں مخصوص دائرے تک ہی محدود ہوکر رہ جاتی ہیں۔
سڑک پر رکھے ہوئے کانٹے کے قریب سے تو ہر کوئ گزرتا یے مگر تکلیف دہ چیز کو ہٹا کر کوئ ایک ہی نفع کماتا ہے۔ مقابلہ کے اس دور میں ہر کوئ پرفیکٹ بننے کے لیے اپنا سب کچھ قربان کررہا ہے ، لیکن مزکی اعظم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بہترین انسان کا کچھ اور ہی معیار مقرر کیا ہے؛ “خیر الناس من ینفع الناس۔ ” مخلوق خدا کی نفع رسانی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہی بہترین انسان کی نشانی و علامت ہے۔
موجودہ نفاق و بدامنی کا محرک_ اول مخلوق سے بے اعتنائ و خود نمائ ہے۔ انسانیت کی نفع رسانی کے لیے وقف بالذات کرنا قابل تحسین ہے۔ خلق اللہ کو نفع محض رضائے الہی کے حصول کے لیے پہنچانا چاہیے۔ دنیاوی طمع و لالچ ، ناموری و طلب جاہ سے پرہیز کرنا چاہیے۔ وگرنہ ضیاع و خسران کے علاوہ کچھ ہاتھ آنے کا امکان نہیں۔








