آسمان ہدایت کا روشن ستارہ
پیر طریقت حضرت اقدس مولانا عزیز الرحمان ہزاروی رحمہ
۔تحریر ۔۔خالد شریف ۔۔
پیر طریقت حضرت اقدس مولانا عزیز الرحمان ہزاروی رحمہ اللہ 23جون منگل کی عصر کے بعد غروب آفتاب سے کچھ قبل ہزاروں علماء ،محدثین مفسرین ،شیوخ الحدیث ،شیوخ القرآن ،قراء کرام ،حفاظ ، مبلغین ،واعظین اور نیک لوگوں کی موجودگی میں سفر آخرت پر روانہ ہوگئے ۔بٹگرام کے ایک گاؤں چھپر گرام سے علوم نبویہ سے اپنے سینے کو منور کرنے والے اسلام آباد کے علاقے ترنول کی بستی انوار مدینہ میں اپنی اماں جاں کے پہلو میں سپرد خاک ہوئے ۔
2 فروری 1948 کو پیدا ہوئے ، والد بزرگوار حضرت مولانا ایوب صاحب علاقے میں امامت ،درس وتدریس اور تجارت سے وابستہ تھے جبکہ دادا جان مولانا عبدالمنان صاحب سلسلہ نقشبندیہ کے ایک بزرگ سے مجاز تھے ۔پختون قوم کا صاحبزادہ قبیلہ تھا ۔
ابتدائی تعلیم و تربیت کا آغاز اپنے دادا جان کے زیر سایہ ہوا ،دادا جان طبیعت کے سخت تھے ۔اسلئے کڑی نگرانی میں بچپن گذارا ،داداکی وفات کے بعد والد صاحب کی تربیت میں آگئے ۔والد صاحب کی طبیعت میں بھی سختی تھی ،شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا رحمہ اللہ نے آپ بیتی میں اپنےبچپن کی تربیت کے حوالے سے اپنے والد رحمہ اللہ کے جو واقعات بیان کئے ہیں کچھ ایسے ہی حالات پیر صاحب کے بھی ملتے ہیں ،ہر کسی کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں تھی ، لہو ولعب سے سخت نفرت تبھی سے دل میں جاگزیں ہوگئی تھی
ابتدائی تعلیم کے لئے 1960 میں راولپنڈی کا سفر کیا ، چھوٹے بھائی قاری حبیب الرحمان صاحب ہمراہ تھے ، آپ کے ماموں جان عبدالستار صاحب نے مدرسہ امداد الاسلام میں داخل کرایا ، پیر صاحب نے درس نظامی میں داخلہ لیا اور یہاں راولپنڈی کے مختلف مدارس جامعہ فرقانیہ،جامعہ سراجیہ میں سابعہ تک تعلیم حاصل کی ۔ جامعہ فرقانیہ میں کئی سال زیر تعلیم رہے ۔اسلام آباد کے بزرگ عالم مولانا حبیب الرحمان فرماتے ہیں کہ مجھ سے جامعہ سراجیہ میں شرح وقایہ پڑھی ۔
دوران تعلیم ہی مجاہد ملت بابا ہزاروی رحمہ اللہ سے تعلق ہوا اور یہ تعلق باباب ہزاروی رحمہ اللہ کی وفات تک رہا ۔سفر ،حضر ، تحریکوں ،بیماری ،تندرستی غرضیکہ چودہ سالوں کے چوبیس گھنٹوں کا ساتھ رہا ۔بابا ہزاروی درویش ،فقیر منش، تحریکوں کے روح رواں ، بہادر اور دلیر ، عشق نبوی میں سراپا غرق ، فتنوں کے لیے نیام اور ختم نبوت کے محافظ تھے ۔پیر صاحب بابا ہزاروی کی زندگی کا پرتو تھے ۔بابا ہزاروی کے مشورہ سے1971 میں دارالعلوم حقانیہ دورہ حدیث کے لئے تشریف لے گئے ۔یہاں شیخ الحدیث مولانا عبدالحق رحمہ اللہ کی بھر پور توجہ حاصل رہی ۔مفتی اعظم مفتی فرید ، حضرت مولانا عبدالحلیم اور ڈاکٹر شیر علی شاہ رحمہ اللہ سے کسب فیض کیا ۔علوم کی تکمیل ہوئی ،میدان عمل میں قدم رکھا وہی درویشی ، جائز حدود میں بھی آسائش سے دور ، عشق نبوی میں ہر دم ڈوبے ہوئے ، فتنوں سے کھلم کھلی نفرت ، نا صرف نفرت بلکہ سر کچلنے کے لئے تیار ، مدارس کے بہترین محافظ ، ختم نبوت کا تحفظ زندگی کا مقصد اولیں ، دفاع صحابہ کے بے لوث اور صف اوّل کے مجاہد ، درود شریف خود بھی پڑھتے اوروں کو بھی تلقین فرماتے ، ہر وقت جیب میں درود شریف خصوصا درود تنجینا کے کارڈ موجود ہوتے اور تقسیم فرماتے ، خانقاہی سلسلہ ، ذکر واذکار کی مجالس ، جہادی سرگرمیاں ، تبلیغی خدمات ، تدریسی مصروفیت ، تصنیف کی طرف توجہ ، مریدین کی تربیت ، سیاسی زندگی اور خصوصا انتخابات میں ملک بھر کا دورہ ، جلسوں ، جلوسوں میں شرکت سب آپکی تابناک زندگی کے روشن پہلو ہیں ۔
بنیادی طور پر پیر صاحب کی طبیعت میں عشق و جنوں تھا ۔یہ عشق اللہ سےتھا اور نبی کریم کے مجنوں تھے ۔ یہ عشق و جنوں اپنی انتہاء کو پہنچاہوا تھا ۔ اسی عشق و جنوں کی بدولت ہر میدان میں خدمات نظر آتی ہیں ۔دارالعلوم زکریا انکی دینی علوم کی اشاعت وتر ویج میں خدمت کا شاہکار ہے ۔جہاں ہزاروں طلباء علوم نبویہ سے اپنے سینوں کا منور کرتے ہیں ۔دارالعلوم زکریا کی مسجد کو دیکھیں جہاں حضرت کی شعبہ تصوف میں گرانقدر خدمات کی جھلک نظر آئے گی ، مریدین اور متوسلین ہر دم اللہ اللہ کی صدا بلند کرتے ہیں ، درود سلام کی محفلیں سجتی ہیں اور رمضان میں تو گویا حرم نبوی کا سا منظر ہوتا ہے ۔ مسجد صدیق اکبر آلہ آباد کا منبر و محراب حضرت کی خطیبانہ آہنگ کا گواہ ہے جہاں پنتالیس تک حق کی دعوت دی ، باطل کو للکارا ، فتنوں کا قلع قمع کیا ، جابر حکمرانوں کا مقابلہ کیا ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا سٹیج روز قیامت شہادت دے گا کہ حضرت ہزاروی نہ جب تک کٹ مروں خواجہ یثرب کی عزت پر ،خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا ایسے اشعار پر حقیقی معنوں میں عمل کرنے والے تھے اور خواجہ یثرب کے ناموس کے تحفظ کے لئے جاں سے گذرنے کا شوق رکھتے تھے ۔افغانستان کے سنگلاخ پہاڑ اور طالبان قیادت پیر صاحب کے جذبہ جہاد اور شوق شہادت کے واقعات سناتے ہیں تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔دین کے قریب سبھی شعبہ جات میں خدمات کے باوجود کبھی اس فریضے سے پہلو تہی اختیار نہیں کی بلکہ جہاد عملا بھی کرتے رہے بالمال بھی کرتے رہے اور ہمیشہ طالبان قیادت کے پشتیبان رہے ۔
بابا ہزاروی کی خدمات میں سالہا سال رہنے والے حضرت ہزاروی سیاست سے کیسے کنارہ کش رہ سکتے تھے ۔چنانچہ بھر پور سیاسی زندگی گذاری ، سیاسی حوالے سے جمعیت علماء اور اس کی قیادت پر آنکھیں بند کرکے اعتماد فرماتے تھے ۔پالیسیوں سے مکمل اتفاق تھا ۔انتخابات کے دنوں میں انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیتے ۔مریدوں کو سختی سے جمعیت علماء کے ساتھ وابستگی کی تلقین کرتے اور قائد جمعیت بارے کوئی بھی منفی کمنٹس طبیعت پر ناگوار گذرتا ۔منفی بات کرنے والوں کو علی الاعلان کہا کہ اپنے لئے کوئی اور پیر ڈھونڈ لو میں کسی ایسے شخص کا پیر نہیں بن سکتا ۔قائد جمعیت اور پیر صاحب کا دو طرفہ قلبی تعلق تھا، ملاقاتوں میں دونوں حضرات کی طبیعتیں ہشاش بشاش ہوجاتیں ، اسلام آباد آزادی مارچ پر خوش ہوتے کہ اہل حق کا سٹیج ہے اور کوئی ایسی جماعت کا یا تنظیم شامل نہیں جو راہ حق کے بیانیے سے الگ سوچ رکھتے ہیں ۔روز تشریف لاتے ، مغرب کے بعد دھرنے کے شرکاء کو ذکر کرواتے ، دعاؤں کا اہتمام فرماتے ،اپنے ادارے کو شرکاء کے لئے ہر وقت کھلا رکھتے ۔
حضرت کے موقف میں یکسانیت تھی مجلس اور جلسے میں الگ الگ موقف نہیں رکھتے تھے ۔اداروں کے ساتھ اعلی سطحی مجلسوں میں بات چیت کا موقع ملتا تو کوئی نرمی روا نا رکھتے ۔ایسی مجلسوں میں ہونے والی گفتگو میں معذرت خواہانہ رویوں کے قائل نہیں تھے ۔ عام طور پر اداروں کے افسران کو اپنی حیثیت کا گھمنڈ ہوتا ہے اور پیوند لگے لباس ، سر پر بڑی پگڑی دیکھ کر انکے مزاج میں سرکشی آجاتی ہے لیکن حضرت کا جلال ایسے سرکشوں کے سامنے اور بھی زیادہ ہوجاتا ۔
رفاہی میدان بھی حضرت کی خدمات کا ہمیشہ معترف رہے گا ۔زلزلہ ہو سیلاب یا اب کی موجودہ وبائی مرض کورونا ۔آپنے اپنے شیخ حضرت زکریا کے نام سے منسوب زکریا ٹرسٹ کے زیر اہتمام ہر موقع پر بھر پور خدمت کی ۔حال میں لاکھوں نادار اور مستحق گھرانوں کے لئے راشن کا اہتمام کیا اور ملک کے طول وعرض میں اپنی خدمات کا لوہا منوایا ۔
باطل فرقوں ، فتنوں اور جماعتوں کے خلاف ہمیشہ برسر بیکار رہے ۔بابا ہزاروی کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ ایسی کسی تنظیم ،جماعت ،گروہ یا موقف کو برداشت نہیں کرتے جہاں اہل سنت والجماعت کے عقائد سے ایک انچ انحراف پایا جاتا ۔ان کا اپنا صرف وہ تھا جس کا عقیدہ اہل سنت کے عقیدے کے موافق ہو اگر عقیدے میں لغزش ہوئی تو اسے کسی صورت کوئی رواداری نا رکھتے ۔حضرت کی وفات پر ایسے فتنہ گروں نے خوب اودھم مچایا لیکن حضرت کی حقانیت پر انکا جنازہ تاقیامت گواہ رہے گا اور ایسے فتنہ گروں کی گمراہی کے خلاف یہی جنازہ بطور ثبوت کافی ہے ۔
ان گوناگوں مصروفیات کے باوجود آپ فاذا فرغت فانصب پر عمل پیرا تھے ۔تہجد گذار ،دعائے نیم شبی اور دیگر نفلی معمولات کےاہتمام کے ساتھ سنت نبوی پر خوب خوب عمل کرنے والے ۔اپنی آل اولاد متعلقین کو اس کی نصیحت کرنے والے ۔
رمضان المبارک میں اپنے پوتوں نواسوں سے خود قرآن کریم سنتے ۔آپکی اولاد میں آپکی تربیت کے اثرات خوب واضح ہیں ۔ پیر مختار الدین شاہ صاحب دامت برکاتہم کے ساتھ خصوصی تعلق تھا تبھی اپنے تمام دینی امور انکی سرپرستی میں جاری رکھنے کی وصیت فرمائی ۔
اللہ کریم حضرت کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ۔اور ہم سب کو انکے مشن اور کاز کے ساتھ وابستہ رکھے اور آپکے صاحبزادگان کی مدد فرمائے ۔جیسے حضرت موفق من اللہ تھے ۔انکے صاحبزادگان کے ہر قدم پر اللہ کریم کی توفیق شامل ہو ۔
وصلی اللہ علی النبی الکریم
(حضرت رحمہ اللہ کے جامعہ کے نورانی ماحول میں چند ٹوٹے پھوٹے الفاظ )












