پیر عزیز الرحمان ہزاروی رح کی قبر کی مٹی سے خوشبو کا اٹھنا.
یہ کوئ اچنبہ کی بات نہیں ہے امام بخاری رح کے مرقد مبارک سے خوشبو کا واقعہ بہت مشہور ہے. پاکستان میں اللہ والوں کی قبور سے خوشبو اٹھنے کا سب سے مشور معاملہ شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رح کا ہوا جس کے گواہ خال خال شاذ شاذ آج بھی موجود ہیں جن میں سے ایک میری والدہ ماجدہ اور آدھا میں خود , یعنی سید سلمان گیلانی. حضرت لاہوری کا سِن وصال ۱۹۶۲ ہے میں گیارہ سال کا بچہ تھا اچھابھلا ہوشمند بچہ.اسوقت ہماری گلی کے بابا حبیب اللہ مرحوم و مغفور جو اس وقت اسی نوےسال کے سِن رسیدہ بزرگ تھے وہ یہ شہرت سن کر کہ حضرت کی قبرسےخوشبو پُھوٹ پڑی ہے حق ا لیقین حاصل کرنے کے لیئے شیخوپورہ سے لاہور میانی صاحب آئےمٹی سے خوشبو سونگھی اورتھوڑی سی خاک لحد ایک کاغذ میں لپیٹ کر جیب میں ڈال کرشیخوپورہ بس سے اتر کرسیدھا ہماری دکان مکتبہ احباب پر پہنچے اور جب دکان سے ابھی دورہی تھے کہ ایک عجیب سی خوشبو جو قبل ازیں کبھی نہیں سونگھی تھی محسوس ہوئ. بابا حبیب اللہ جوں جوں قریب آتے گئے خوشبو تیز ہوتی گئ.
جب دکان میں ہانپتے کانپتے داخل ہوئے تو سبحان اللہ سبحان اللہ کہتے زبان نہیں تھکتی تھی . والد صاحب نے پانی کا گلاس پیش کیا بابا نے سنت کے مطابق بسم اللہ پڑھ کر تین سانسوں میں پی کرالحمد للہ کہا اوربولے شاہ صاحب آپ کو علم ہے میں ذرا وہابی خیال کا ہوں. سُنی سنائ کرامات کاقائل نہیں ہوں اس لیئے آج میں خود میانی صاحب گیا اور وہاں سےحضرت لاہوری کی قبر کی مٹی لایا ہوں جس سے واقعی جنت کی خوشبو آرہی ہے اورساتھ ہی یہ اخبار کا صفحہ ہے جس پر یہ خبر درج ہے کہ حضرت احمد علی لاہوری کے مرقد کی خاک کا اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور کی میڈیکل لیباٹری میں کیمیکل ایگزامن کیاگیا مگر اس میں کسی دنیاوی خوشبوکی آمیزش نہیں پائ گئ. بابا جی نے اس خاک میں سے ابا جی کو بھی حصہ عطا کیا.
والد صاحب خود حضرت لاہوری رح کے مرید تھے کافی دن تک میری امی جی کے صندوق میں وہ پُڑیا رکھی رہی اور اس جنت کی خوشبو سے سارا گھر مہکتا رہا.
اُدھر حضرت کی لحد مبارک کی بےحُرمتی شروع ہو گئ یارلوگوں نے خاکِ لحد اٹھا کے لے جانا مشغلہ بنا لیا باہر سے مٹی لا لا کر قبر پر ڈالنا پڑتی. آخر حضرت کے خلفاء نے مل کر دعا کی یا اللہ تیری شان کا, تیری قدرت کا مشاہدہ ہو چکا اب اس امر کا مظاہرہ ختم فرما دے.
آہستہ آہستہ وہ خوشبوجاتی رہی جب قبر مبارک سے چلی گئ توگھر ٹرنک میں رکھی پُڑیا سے بھی غائب ہو گئ. مولانا موسی خان روحانی بازی رح جب حضرت لاہوری والے احاطہ میں مدفون ہوئ۔
اللہ حافظ.
دعا جو
سیدسلان گیلانی لاہور پاکستان.
قبرسے خوشبو۔بہارآئی بہاراندر۔۔۔تفصیلات سٹار نیوزپر
675












